کراچی حلوہ اور بدایوں کے پیڑے سے اقتباس۔ کھلونا دہلی کی یاد

ابھی لکھنے کو اور بہت کچھ رہ گیا ہے۔ مثلآ بدایوں میں شمع دہلی والوں کا بچوں کا رسالہ ’’کھلونا‘‘ اور میری اس کے ساتھ جذباتی وابستگی۔ ’’کھلونا‘‘ ہمارے گھر ہر مہینے آتا تھا۔ وہ ہمارے بچپن کا بہترین ساتھی تھا۔ اردو پڑھنا ہمیں نہیں آتی تھی، اردو سن کرہی خوش ہوا کرتے۔ جو کوئی بڑا مل جاتا، اسے پکڑ کر بیٹھ جاتے اور ’’کھلونا‘‘ کی کہانیاں ، لطیفے، سفرنامہ، نسطور کی کہانی، میاں فولادی کے کارنامے، رومی کی شرارتیں، اور گھسیٹا کی بھتنا شاہی، سنتے اور ہنس ہنس کر دوہرے ہوجاتے۔ ہندوستان میں ہندی زبان نے زور پکڑلیا ، اردو پڑھنے والے کم رہ گئے، اور کھلونا بھی شایع ہونا بند ہوگیا۔ ’’کھلونا‘‘ دہلی سے شایع ہونا بند تو ہوگیا لیکن میرے ذہن میں ہمیشہ پرنٹ ہوتا رہا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب گھر بار سے ذرا فرصت ملی، اپنے بچے بڑے ہوگئے تو میرا بچپن میرے پاس واپس آگیا۔ دل نے کہا کہ پاکستان کے بچوں کے لیے بھی ایک اسی معیار کا خوبصورت رنگارنگ رسالہ ہونا چاہیے۔ چنانچہ میں نے ’’سنترہ‘‘ پر کام کرنا شروع کردیا۔ اور دیکھتے دیکھتے اللہ کی مہربانی سے یہ تمام پاکستان کے بچوں کا ہردل عزیز رسالہ بن گیا۔ جب ان بچوں کے ماں باپ مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ آپ کے ’’سنترہ‘‘ نے ہمارے بچوں میں اردو پڑھنے کا شوق بیدار کیا ہے تو دل میں سوچتی ہوں کہ ’’سنترہ‘‘ نہیں، اصل میں تو کھلونا کی یہ مہربانی ہے۔ نہ میں کھلونا کو ابھی تک یاد رکھتی، اور نہ ’’سنترہ‘‘ نکالنے کا خیال ہی ذہن میں آتا۔ ہر مہینے جب سنترہ کا نیا شمارہ میرے ہاتھ میں آتا ہے تو میں دوبارہ اپنے بچپن میں چلی جاتی ہوں۔ ہر کہانی کئی کئی مرتبہ پڑھتی ہوں اور دل ہی دل میں ’’کھلونا‘‘ کا شکریہ ادا کرتی ہوں ۔
از عامرہ عالم ( کراچی حلوہ اور بدایوں کے پیڑے)

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ زندہ باد عامرہ آپا۔آپ کی تحریر نے ہمیں بھی کھلونا کی یاد دلادی۔
 

سید زبیر

محفلین
سر @محمدخلیل الرحمٰن ، بہت شکریہ ، بچپن کی یادیں تازہ ہوگئیں ۔۔ کھلونا ، نونہال ، بچوں کی دنیا ، غنچہ ،تعلیم وتربیت ۔۔۔ کیسے کیسے عمدہ عمدہ رسالے تھے ۔ اور پھر آنہ لائبریری ، جہاں سے عمران سیریز ، کے علاوہ بے شمار بچوں کے ناول مل جایا کرتے تھے ۔ بہر حال یہی زمانے کا ارتقا ہے ۔ 1970 میں انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کی سولہ جلدیں بتیس ہزار میں ملا کرتی تھی جو ہرسال نیا شائع ہوتا تھا آج اس کی ہر سال کی سی ڈی مل جاتی ہے ۔ اک تغیر ہے زمانے کو
 

الف عین

لائبریرین
کھلونا کے ساتھ ہی میرا بچپن گزرا۔ 1956 سے اس کے بند ہونے تک۔ افسوس کہ اس کے شمارے جو 1968 تک محفوظ تھے، بعد میں علی گڑھ ہجرت میں خورد برد ہو گئے۔ اس کے علاوہ کھلونا بک ڈپو کی کتابیں بھی ہماری لائبریری کا حصہ تھیں۔ چھوٹے چھوٹے سائز کی کتابیں، لیکن باریک پرنٹ کی۔ بیس تیس پیسے میں ملتی تھیں۔ ہر دو تین ماہ میں اپنے والد کے ساتھ ضد کر کے جاتے تھے اور آٹھ دس خرید کر لاتے تھے۔ کرشن چندر، عصمت چغتائی کے بڑے بڑے ناول البتہ مہنگے تھے۔ کرشن چندر کا ’ستاروں کی سیر‘، عصمت آپا کا ’تین اناڑی‘ اور سراج انور کے کالی دنیا وغیرہ۔
شاید اس دور میں پاکستان میں بھی ان رسالوں کی پہنچ تھی جو پاکستانی بزرگ دوستوں کو بھی یاد ہیں۔
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
کھلونا ، نونہال ،نور، کلیاں، بچوں کی دنیا ، غنچہ ،تعلیم وتربیت ۔۔۔۔ہمارے بچپن کی یادیں بھی ان ہی سے وابستہ ہیں۔​
اعلیٰ سے اعلی تحریریں، عمدہ سے عمدہ نظمیں، کارٹون، سبق آموز کہانیاں ۔ ۔ ۔ ان کہانیوں نے ہمارے ذہن میں اردو زبان کا​
Structure کب فٹ کر دیا ہمیں کچھ پتا ہی نہیں چلا۔ ان کہانیوں نے ذہن کی کچھ ایسی تربیت کر دی کہ جب اردو - گجراتی لغت کی تیاری کا کام ہمارے ذمہ آیا، تب ہمارے ساتھ کام کرنے والوں میں کسی لفظ کی تذکیر و تانیث یا کسی بھی صرفی و نحوی پہلو میں اختلاف ہوتا اور ہماری راے طلب کی جاتی تو ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اندازے سے دیا گیا ہمارا جواب غلط ثابت ہوا ہو۔ تحقیق کرنے پر نتیجہ وہی برآمد ہوتا جو ہم کہہ چکے ہوتے۔
قبلہ خلیل صآحب! بچپن کی یادیں تازہ کروانے کے لیے آپ کا شکریہ۔
 

راشد اشرف

محفلین
ابھی لکھنے کو اور بہت کچھ رہ گیا ہے۔ مثلآ بدایوں میں شمع دہلی والوں کا بچوں کا رسالہ ’’کھلونا‘‘ اور میری اس کے ساتھ جذباتی وابستگی۔ ’’کھلونا‘‘ ہمارے گھر ہر مہینے آتا تھا۔ وہ ہمارے بچپن کا بہترین ساتھی تھا۔ اردو پڑھنا ہمیں نہیں آتی تھی، اردو سن کرہی خوش ہوا کرتے۔ جو کوئی بڑا مل جاتا، اسے پکڑ کر بیٹھ جاتے اور ’’کھلونا‘‘ کی کہانیاں ، لطیفے، سفرنامہ، نسطور کی کہانی، میاں فولادی کے کارنامے، رومی کی شرارتیں، اور گھسیٹا کی بھتنا شاہی، سنتے اور ہنس ہنس کر دوہرے ہوجاتے۔ ہندوستان میں ہندی زبان نے زور پکڑلیا ، اردو پڑھنے والے کم رہ گئے، اور کھلونا بھی شایع ہونا بند ہوگیا۔ ’’کھلونا‘‘ دہلی سے شایع ہونا بند تو ہوگیا لیکن میرے ذہن میں ہمیشہ پرنٹ ہوتا رہا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب گھر بار سے ذرا فرصت ملی، اپنے بچے بڑے ہوگئے تو میرا بچپن میرے پاس واپس آگیا۔ دل نے کہا کہ پاکستان کے بچوں کے لیے بھی ایک اسی معیار کا خوبصورت رنگارنگ رسالہ ہونا چاہیے۔ چنانچہ میں نے ’’سنترہ‘‘ پر کام کرنا شروع کردیا۔ اور دیکھتے دیکھتے اللہ کی مہربانی سے یہ تمام پاکستان کے بچوں کا ہردل عزیز رسالہ بن گیا۔ جب ان بچوں کے ماں باپ مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ آپ کے ’’سنترہ‘‘ نے ہمارے بچوں میں اردو پڑھنے کا شوق بیدار کیا ہے تو دل میں سوچتی ہوں کہ ’’سنترہ‘‘ نہیں، اصل میں تو کھلونا کی یہ مہربانی ہے۔ نہ میں کھلونا کو ابھی تک یاد رکھتی، اور نہ ’’سنترہ‘‘ نکالنے کا خیال ہی ذہن میں آتا۔ ہر مہینے جب سنترہ کا نیا شمارہ میرے ہاتھ میں آتا ہے تو میں دوبارہ اپنے بچپن میں چلی جاتی ہوں۔ ہر کہانی کئی کئی مرتبہ پڑھتی ہوں اور دل ہی دل میں ’’کھلونا‘‘ کا شکریہ ادا کرتی ہوں ۔
از عامرہ عالم ( کراچی حلوہ اور بدایوں کے پیڑے)

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ زندہ باد عامرہ آپا۔آپ کی تحریر نے ہمیں بھی کھلونا کی یاد دلادی۔

اس کتاب کو پڑھ کر ایک سخت قسم کا تبصرہ کردیا تھا، عامرہ صاحبہ نے برا نہ مانا اور اس کے بعد ان سے خوشگوار مراسم قائم ہوئے
ایک نئی کتاب کی اشاعت کی خبر دیتا چلوں، نوٹ کیجیے کہ جوش کی یادوں کی برات یا کہیے کہ 'براتوں کی یاد' کا دوسرا حصہ، قلمی نسخہ شائع ہوگیا ہے۔ قیمت 1000، صفحات 384، بڑے سائز میں
کل 101 وہ خاکے ہیں جو غیر مطبوعہ رہے اور ایک طویل عرصے کے بعد ایک جگہ سے اچانک بازیابی کے بعد مرتب یعنی ڈاکٹر ہلال نقوی کے پاس پہنچے
 
اس کتاب کو پڑھ کر ایک سخت قسم کا تبصرہ کردیا تھا، عامرہ صاحبہ نے برا نہ مانا اور اس کے بعد ان سے خوشگوار مراسم قائم ہوئے
ایک نئی کتاب کی اشاعت کی خبر دیتا چلوں، نوٹ کیجیے کہ جوش کی یادوں کی برات یا کہیے کہ 'براتوں کی یاد' کا دوسرا حصہ، قلمی نسخہ شائع ہوگیا ہے۔ قیمت 1000، صفحات 384، بڑے سائز میں
کل 101 وہ خاکے ہیں جو غیر مطبوعہ رہے اور ایک طویل عرصے کے بعد ایک جگہ سے اچانک بازیابی کے بعد مرتب یعنی ڈاکٹر ہلال نقوی کے پاس پہنچے

کل ہی ہم نے کتاب سے دیکھ کر عامرہ آپا کا ای۔ میل ایدریس نوٹ کیا اور انہیں ایک عدد ای میل لکھ مارا تھا کہ ہم نے آپ کی کتاب پڑھنی شروع کردی ہے، اور کھلونا پر آپ کے تاثرات کو اردو محفل پر پیش بھی کردیا ہے۔ ان کا جواب خاصا حوصلہ افزا آیا ہے۔ خوش ہوئیں اور فرمائش کی ہے کہ ان کی کتاب کو پڑھ کر بھی اس کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کریں۔ اب دیکھیے کب کتاب ختم ہوتی ہے اور کب انہیں دوبارہ ای میل لکھنے کا بہانا ہاتھ آتا ہے۔
 
Top