کتاب البدعۃ - ڈاکٹرمحمدطاہرالقادری

ڈاکٹرمحمدطاہرالقادری کی اب تک 425 سے زائد اردو، انگریزی اور عربی تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں سے متعدد تصانیف کا دنیا کی دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ مختلف موضوعات پر آپ کی 575 سے زائد کتابوں کے مسودات طباعت کے مختلف مراحل میں ہیں۔

http://www.minhajbooks.com/urdu/boo...aykh-ul-Islam-Dr-Muhammad-Tahir-ul-Qadri.html

ہر وہ نیا کام جس کی کوئی شرعی دلیل، شرعی اصل مثال یا نظیر پہلے سے کتاب و سنت اور آثارِ صحابہ میں موجود نہ ہو وہ ’’بدعت‘‘ ہے لیکن ہر بدعت غیر پسندیدہ یا ناجائز و حرام نہیں ہوتی بلکہ صرف وہی بدعت ناجائز ہوگی جو کتاب و سنت کے واضح احکامات سے متعارض و متناقص (contradictory) ہو۔دوسرے لفظوں میں بدعتِ سیئہ یا بدعتِ ضلالہ صرف اُس عمل کو کہیں گے جو واضح طور پر کسی متعین سنت کے ترک کا باعث بنے اور جس عمل سے کوئی سنت متروک نہ ہو وہ نا جائز نہیں بلکہ مباح ہے۔ اِسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے معروف غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان بھوپالی (1307ھ) لکھتے ہیں کہ ہر نئے کام کو بدعت کہہ کرمطعون نہیں کیا جائے گا بلکہ بدعت صرف اس کام کو کہا جائے گا جس سے کوئی سنت متروک ہو۔ جو نیا کام کسی امرِ شریعت سے متناقص نہ ہو وہ بدعت نہیں بلکہ مباح اور جائز ہے۔ شیخ وحید الزماں اپنی کتاب ’’ہدیۃ المہدی‘‘ کے صفحہ نمبر 117 پر بدعت کے حوالے سے علامہ بھوپالی کا یہ قول نقل کرتے ہیں :
البدعة الضّلالة المحرّمة هی التی ترفع السّنة مثلها والتی لا ترفع شيئا منها فليست هی من البدعة بل هی مباح الاصل.
’’بدعت وہ ہے جس سے اس کے بدلہ میں کوئی سنت متروک ہو جائے اور جس بدعت سے کسی سنت کا ترک نہ ہو وہ بدعت نہیں ہے بلکہ وہ اپنی اصل میں مباح ہے۔‘‘
رہی وہ بدعت جو مستحسن اُمور کے تحت داخل ہے اور وہ قرآن و حدیث کے کسی حکم سے ٹکراتی بھی نہیں تو وہ مشروع، مباح اور جائز ہے، اسے محض بدعت یعنی نیا کام ہونے کی بنا پر مکروہ یا حرام قرار دینا کتاب و سنت کے ساتھ نا اِنصافی ہے۔
 

آبی ٹوکول

محفلین
بہت عمدہ کتاب ہے اسکی خاص بات یہ ہے کہ بدعت کے موضوع پر جتنا بھی اردو میں لٹریچر ملتا ہے ان سب میں سے یہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں انتہائی آسان انداز میں بدعت کہ تمام اختلافی امور و تصورات کا احاطہ کیا گیا ہے ایک پڑھنے کے قابل کتاب ہے ۔۔۔والسلام
 

قیصرانی

لائبریرین
575 کتب جو ابھی اشاعت کے مراحل سے بیک وقت گذر رہی ہیں؟ یہ تو بہت زیادہ مقدار نہیں؟
 

آبی ٹوکول

محفلین
575 کتب جو ابھی اشاعت کے مراحل سے بیک وقت گذر رہی ہیں؟ یہ تو بہت زیادہ مقدار نہیں؟
درست عبارت یوں ہوسکتی ہے کہ طباعت۔ کے " مختلف " مراحل سے گزر رہی ہیں۔۔ لفظ " مختلف " اس عبارت کے ابہام کا مؤثر جواب ہوسکتا ہے
 

قیصرانی

لائبریرین
There is no strict definiton of booklet , so may be many small books also include, but this statement is from his website .
درست عبارت یوں ہوسکتی ہے کہ طباعت۔ کے " مختلف " مراحل سے گزر رہی ہیں۔۔ لفظ " مختلف " اس عبارت کے ابہام کا مؤثر جواب ہوسکتا ہے
جیسا کہ ناصر علی مرزا نے بتایا، کتب اور کتابچے دونوں ہی شامل ہوں گے :)
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
طاہر القادری = ہارون یحیٰی یا ٹام کلانسی

اس دعوی سے یہ ثابت ہے کہ یہ صاحب خود نہیں لکھتے
575 کے عدد میں موصوف کی کتابوں کے متعدد زبانوں میں ہوئے تراجم بھی شامل ہیں۔
نیز اگر آپ کتابوں کا بغور مطالعہ فرمائیں تو یہ بھی ہوا ہے کہ کتاب التوحید اور دہشت گردی کی مخالفت والے فتویٰ جیسی موصوف کی ضخیم کتابوں کو کئی حصوں میں منقسم کر کے از سر نو بھی شائع کیا گیا ہے۔ ایسی کتابیں بھی اس عدد میں شامل ہیں۔علاوہ ازیں ان کی تقاریر اور بیانات (جن کی تعداد آن ریکارڈچھ ہزار سے متجاوز کر چکی ہے)کو بھی کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ علامہ موصوف کے بیانات اور تقاریر کو کتابی شکل میں منتقل کرنے کا کام موصوف خود نہیں کرتے ہیں،ان کے چاہنے والے کرتے ہیں۔
آج آپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ صاحب خود نہیں لکھتے کل تو آپ یہ بھی کہیں گے کہ یہ صاحب خود بیان نہیں کرتے۔
جب کہ علامہ موصوف کے چھ ہزار سے زائد بیانات کے ویڈیوز کی ڈی۔وی۔ڈیز۔ عالمی بازاروں میں دستیاب ہیں۔
قبلہ محترم ! علمی ہستی اس کا تعلق خواہ کسی مسلک ومذہب سے ہو اس کے بارے میں اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیان دینے سے پرہیز کیجیے۔
 
آخری تدوین:

قیصرانی

لائبریرین
ڈاکٹر صاحب کی کتب جو شائع ہو چکی ہیں اور جو شائع ہونے والی ہیں، کی فہرست درکار ہے۔ اگر ساتھ صفحات کی تعداد بھی مل جائے تو جزاک اللہ :)
 

زیک

مسافر
Top