کتابِ زیست کےہر باب کے عنوان میں تم ہو (نعیم قیصر)

​
کتابِ زیست کےہر باب کے عنوان میں تم ہو​
ہے یہ تحریر سے ظاہر میرے وجدان میں تم ہو​
​
اماوس ہے تیرا کاجل، جبیں ہے نور کا پرتو​
چمن کی ہر کلی سے پھوٹتی مسکان میں تم ہو​
​
کوئی اجڑا ہوا مندر، اٹی ہو گرد سے مورت​
کچھ ایسے ہی میری جان اس دلِ ویران میں تم ہو​
​
مجھے زندہ لیے پھرتا ہے یہ احساس کہ اب تک​
تیری پہچان میں مَیں ہوں، میری پہچان میں تم ہو​
​
میرے خوابو! اداسی ہے مری آنکھوں میں بعد ان کے​
اگرچہ رت جگے مغوی ہیں، پر تاوان میں تم ہو​
​
یہی کافی ہے بتلانا فقط اک دل ہے سینے میں​
بہت ارمان ہیں دل میں، ہر اک ارمان میں تم ہو​
​
تو کیا غم ہے جو حاوی ہو گیا ہے لشکرِ اعداء​
تمہاری جیت ہے قیصرؔ ابھی میدان میں تم ہو​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top