کبھی ان خوش پرندوں کو۔۔۔۔۔غزل برائے اصلاح

چلیں جان چھوٹی ویسے بھی اسے تلف کرنےلگا تھا۔۔۔ بہت نوازش۔۔۔ ۔۔اس کا قافیہ تبدیل کرنا کافی مشکل ہے ۔۔۔ !!!
بے شک اسے تلف نہ کریں۔۔۔
مگر جان چھڑانے کے بجائے قافیے اور حرف روی کو ضرور سمجھیں تاکہ آپ کا آیندہ کا کلام اس ”معمولی عیب“ سے خالی ہوسکے۔:)
 

الف عین

لائبریرین
مکمل طور پر تلف کرنے کی ضرورت نہیں۔ بہت سے مستند شعرا نے بھی اس قسم کی شاعری کی ہے۔ بشیر بدر کی مشہور غزل میں بھی یہی عیب ہے۔
آنکھیں آنسو بھری، پلکیں بوجھل گھنی، جیسے جھیلیں بھی ہوں نرم سائے بھی ہوں
وہ تو کہئے کہ ان کو ہنسی آ گئی، بچ گئے آج ہم ڈوبتے ڈوبتے
مطلع یاد نہیں آ رہا، لیکن غزل کے قوافی اسی طرح ہیں، دیکھتے دیکھتے، سوچتے سوچتے وغیرہ
 

شیرازخان

محفلین
برائے صلاح و اصلاح؟

اس مصرے کو تبدیل کیا ہے

نہیں ہے خواب دنیا کے کسی بھی رنگ کا دیکھا



ترے خوابوں نے تجھ کو تو ابھی سے کر دیا بوڑھا

ابھی بھی تتلیاں خود کو پکڑتے میں نے دیکھا ہے



یا پھر



کسی بھی شیش محل کا نہیں ہے خواب مجھ کو تو

وہی بس تتلیاں خود کو پکڑتے میں نے دیکھا ہے
 

الف عین

لائبریرین
ارے، مرے خیال میں میں یہ جواب دے چکا تھا کہ یہ شعر بہتر ہے، اور اب بھی اسی رائے پر قائم ہوں۔
ترے خوابوں نے تجھ کو تو ابھی سے کر دیا بوڑھا
ابھی بھی تتلیاں خود کو پکڑتے میں نے دیکھا ہے
 
Top