کالا پانی-اردو کی پہلی خودنوشت سوانح عمری

راشد اشرف نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 13, 2013

  1. راشد اشرف

    راشد اشرف محفلین

    مراسلے:
    1,420
    اردو کی پہلی خودنوشت سوانح عمری اور پہلی سیاسی خودنوشت سوانح عمری

    کالا پانی المعروف تواریخ عجائب
    مولانا جعفر تھانیسری کی داستان اسیری

    پہلا حصہ: تاریخ عجیب
    دوسرا حصہ: تواریخ عجیب
    کالا پانی کے نام سے ایک ہی جلد میں یکجا کی گئی۔



     
    • زبردست زبردست × 11
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    6,571
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    شریک محفل کرنے پر شکریہ قبول فرمائیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    • دوستانہ دوستانہ × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    شکریہ جناب، یہ کتاب میرے پاس موجود ہے۔ کئی سال پہلے خریدی تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    بہت خوب معلوماتی کتاب ہے
    بہت شکریہ بہت دعائیں شراکت پر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جزاک اللہ خیر راشد اشرف بھائی۔

    یہ آپ ہی کی ہمت ہے جو اتنی محنت کرتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  7. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    15,870
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    زبردست راشد صاحب۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. عبد الرحمن

    عبد الرحمن لائبریرین

    مراسلے:
    1,943
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    جزاکم اللہ خیرا راشد بھائی!
    بہت مفید کتاب کی طرف رہنمائی کی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,797
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. راشد اشرف

    راشد اشرف محفلین

    مراسلے:
    1,420
    آپ سب کا شکریہ

    چند روز قبل علی گڑھ سے ایک خاتون نے شعبہ اردو کے سربراہ کے مشورے پر خاکسار سے رابطہ کیا تھا، وہ خواتین کی تحریر کردہ اردو خودنوشتوں پر پی ایچ ڈی کررہی ہیں اور ہمیں کہا گیا کہ ان کی مدد کی جائے۔ پہلے تو خیال آیا کہ ہم نے ایسا کون سا کام کیا ہے جس کی بنا پر مدد کا کہا گیا ہے۔
    یادش بخیر، ابن انشاء کے پاس ایک صاحب آئے اور کہا کہ نماز کی سورتیں سکھا دیجیے۔ انشاء جی نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ ہمیں خود چار سورتیں یاد ہیں، وہ تمہیں سکھا دیں تو ہمارے پلے کیا رہ جائے گا۔

    بہرکیف، خاتون کے مطالبات کی فہرست بہت طویل تھی، اتنی کہ خیال آیا کہ کیوں نہ اس موضوع پر ہم خود پی پی ایچ ڈی کرلیں یا کم از کم اتنا ہوجائے کہ خاتون کے مقالے میں شراکت داری کی صورت نکل آئے۔ زیر نظر کتاب کی اسکیننگ ان ہی کے لیے کی گئی تھی۔

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  11. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,659
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    بہت شکریہ اس شراکت پر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    کتاب چھاپنے والوں نے نجانے اصل متن(اگر وہ کہیں ہوا تو) کیوں نہیں چھاپا۔۔شروع میں بس یہ وجہ لکھی گئی ہے کہ اردو زبان کے محاورات اور تراکیب تبدیل ہونے کی وجہ سے اسے نئے پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔۔۔کتاب میں ایک جگہ اقبال کے مصرح کو جملے میں استعمال کیا گیا ہے جبکہ اس زمانے میں( 1885)اقبال شائد آٹھ نو سال کی عمر میں تھے۔۔۔واللہ اعلم :)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  13. راشد اشرف

    راشد اشرف محفلین

    مراسلے:
    1,420
    درست کہا آپ نے، کہیں کچھ ڈنڈی مار گئے ہیں لیکن مجموعی طور پر ترجمہ کی صحت کا کچھ نہ کچھ خیال رکھا ہی گیا ہے۔ اس کتاب کے ساتھ غریب کی جورو والا معاملہ ہوا ہے۔ کتنی مرتبہ شائع کی گئی، اس کا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔ اہل حدیث ٹرسٹ والوں کو بھی یہی خیال آیا ہوگا کہ مولانا تھانیسری پر ان سے زیادہ تو کسی کا حق ہے ہی نہیں۔ ویسے ایک نسخہ ایسا بھی ہے جس کا دیباچہ مولانا محمد اسمعیل صاحب خطیب مسجد اہلحدیث گوجرنوالہ کا تحریر کردہ ہے اور اس پر 3 ستمبر 1941 کی تاریخ موجود ہے۔
    آپ نے کہا کہ اس زمانے میں علامہ نو سال کے تھے، یہ بھی تو دیکھیے کہ نو سال کے علامہ بھی غضب رہے ہوں گے۔ کسی نوے سالہ شاعر پر بھی بھاری۔ :)۔


    راقم کی سائٹ پر موجود ایک سرورق یہ ملاحظہ ہو، یہ نسخہ 1962 میں شائع ہوا تھا:

    http://www.wadi-e-urdu.com/wp-content/uploads/2011/02/kala-pani-salman-academy-karachi-sept-1962.jpg

    کالا پانی کا پہلا حصہ اپریل 1879 اور دوسرا 1885 میں لکھا گیا تھا۔
    مولانا جعفر کو 2 مئی 1864 کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ سزا سے قبل قید میں ان پر تشدد بھی بے پناہ ہوا تھا مگر وہ برداشت کرگئے۔


    علامہ اقبال والی بات سے ملتی جلتی ایک بات اور سن لیجیے۔ اس کا ذکر ڈاکٹر پروازی نے کیا ہے۔ مولانا کی پھانسی کی سزا جب حسب دوام بہ عبور دریا شور میں تبدیل کی گئی تو اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مولانا کے پاس گیا اور کہا کہ تم لوگ پھانسی کو شہادت تصور کرکے خوش ہوتے ہو لہذا سزا میں یہ تبدیلی کی گئی ہے۔
    اس موقع پر مولانا محمد علی جوہر کا یہ شعر لکھا ہوا ہے:
    مستحق دار کو حکم نظر بندی ملا
    کیا کہوں کیسے رہائی ہوتے ہوتے رہ گئی

    لکھتے ہیں ‘‘ مگر میں حیران ہورہا ہوں کہ مولانا نے 1885 میں محمد علی جوہر کا یہ شعر کہاں سے سن لیا۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مرتب کرنے والے نے بعد کو موقعہ کی مناسبت سے یہ شعر متن میں زائد کردیا۔ عین ممکن ہے مرتب نے اور مواقع پر بھی کتاب کے اصل متن میں ایسی ترمیمت روا رکھی ہوں"
     
    • معلوماتی معلوماتی × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    @راشداشرف صاحب اگر ممکن ہو تو مندرجہ ذیل کتاب بھی سکین کر دیجیے ، بہت نوازش!
    [​IMG]

    عمر سیف : کیا آپ نے یہ کتاب ڈاون لوڈ کی ؟ اس میں آپ کے پردادا مولانا فضل الہی وزیر آبادی کا نام بھی نظر آیا ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 16, 2013
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  15. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,610
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    شکریہ الف بھائی ۔۔ ڈاؤنلوڈ کر رہا ہوں ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. راشد اشرف

    راشد اشرف محفلین

    مراسلے:
    1,420
    اس کتاب کا صرف سرورق ہی مجھے کسی نے تین برس پیشتر بھیجا تھا، سو آویزاں کردیا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر