کالاباغ ڈیم؛ ٹائم لائن

الف نظامی

لائبریرین
16 ستمبر 2014
جمعیت علمائے اسلام (س) کے مرکزی قائد سابق سینیٹر مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم تعمیر نہ ہونے سے اربوں روپے مالیت کا میٹھا پانی ضائع ہورہا ہے ، سیلابی صورتحال میں ہر سال کئی قیمتی جانیں سیلابی پانی کی نذر ہوجاتی ہیں ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرگودھا کے عہدیداران سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ جب تک مفاد پرستی کی سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی مفاد میں نہیں سوچا جائیگا اس وقت تک ملک دشمن بھارت ہم پر کبھی فوجی اور کبھی آبی جارحیت کرتا رہے گا ۔اس کا واحد حل یہ ہے کہ کالاباغ سمیت تمام ڈیمز ترجیح بنیادوں پر قائم کئے جائیں اور ڈیمز کے مسئلے پر کسی قسم کی سیاست کو خاطر میں نہ لایا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم سے نوشہرہ اور میرے آبائی شہر اکوڑہ خٹک کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا مگر ملکی مفاد میں ہم یہ برداشت کرنے کو تیار ہیں اس سے نہ صرف توانائی کا بحران ختم ہوگا بلکہ ملک میں معاشی خوشحالی بھی آئے گی
انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ سے میں واحد ممبر تھا جس نے اسمبلی فلور پر کالاباغ ڈیم بنانے کی حمایت کی اس موقع پر مولانا عبدالصمد درخواستی‘ شیخ الحدیث حبیب الرحمن درخواستی‘ مولانا محمد فاروق علوی‘ خواجہ محمد طارق‘ مولانا شاہین ودیگر مرکزی عہدیداران بھی موجود تھے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
16 ستمبر 2014
کالا باغ ڈیم میں 6.7 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا اور 3300 میگاواٹ بجلی بنے گی جوکہ پاکستان کی معیشت میں شہہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے ۔
3300 میگاواٹ ہائیڈل پاور پاکستان میں معاشی انقلاب لاسکتی ہے اور انڈسٹری کو سستی بجلی مہیا ہونے سے صنعتی انقلاب برپا ہوگا ۔
زراعت کو وافر پانی اور سستی بجلی سے پاکستان زرعی اجناس میں خودکفیل ہوسکتا ہے۔
سستی بجلی اور وافر پانی کی فراہمی سے ہی غربت‘ بے روزگاری‘ مہنگائی میں نمایاں کمی ہوسکتی ہے۔

کالا باغ ڈیم بنانے پر پاکستان کے سیاستدانوں نے بہت بددیانتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ خیبرپختونخواہ کے اعتراضات عبدالولی خان نے جنرل ضیاءالحق کے دور میں اٹھائے تھے اور مطالبہ کیا تھا کہ کالا باغ ڈیم کی اونچائی 925 فٹ سے 10 فٹ کم کرکے 915 فٹ کردی جائے لیکن ان کے اس مطالبے سے کالا باغ ڈیم سے پیدا ہونیوالی بجلی 300 میگاواٹ کم ہوگئی۔ کالا باغ ڈیم کے اصل منصوبے سے 3600 میگاواٹ بجلی پیدا ہونی تھی مگر اونچائی میں 10 فٹ کمی سے اب کالا باغ ڈیم سے 3300 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔

خیبرپختونخواہ کے ہموار میدانی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان‘ ٹانک‘ لکی مروت‘ بنوں اور کرک کو پانی دینے کا مطالبہ بھی عبدالولی خان نے کیا تھا اور کالا باغ ڈیم سے لیفٹ بینک کینال کے ذریعے ان علاقوں کو نہری پانی ملنا تھا اور عبدالولی خان کے مطالبے پر جنرل ضیاءالحق نے خیبرپختونخواہ کے ان علاقوں سے لیفٹ بینک کینال چلانے کے اخراجات وصولی بھی معاف کردی تھی یعنی کالا باغ ڈیم سے ڈیرہ اسماعیل خان‘ ٹانک‘ لکی مروت‘ بنوں اور کرک کو نکلنے والی نہر کا پانی مفت ان علاقوں کے زمینداروں کو ملتا۔

جنرل ضیاءالحق نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں دیر کردی تھی۔ افسوس کی بات ہے کہ تربیلہ ڈیم سے نوشہرہ اور پبی کا فاصلہ 25 کلومیٹر ہے لیکن آج تک نوشہرہ اور پبی کبھی بھی پانی میں نہیں ڈوبے حتٰی کہ 1929ءکے بدترین سیلاب میں بھی نوشہرہ اور پبی میں سیلاب نہیں آیا تھا۔ کالا باغ ڈیم تو نوشہرہ اور پبی سے تقریباً 185 کلومیٹر کے فاصلے پر تعمیر ہونا ہے تو اس ڈیم سے ان دونوں شہروں کے ڈوبنے کا مفروضہ بالکل ہی غلط بات ہے۔

جنرل ضیاءالحق کے دور میں جنرل صفدر بٹ واپڈا کے چیئرمین تھے۔ کالا باغ ڈیم یا کسی بھی ڈیم بنانے میں جو سب سے پہلا کام ہوتا ہے‘ وہ ڈیم کی تعمیر ہوتی ہے جبکہ آبادی کا انخلاءسب سے آخر میں ہوتا ہے مگر جنرل بٹ کے دور میں سب سے آخر میں ہونیوالا کام یعنی آبادی کے انخلاءکا کام‘ سب سے پہلے شروع کردیا گیا تھا۔ خیر آباد‘ جہانگیرہ‘ اکوڑہ خٹک تک ڈی مارکیشن کردی گئی تھی اور ریلوے لائن کی بھی ڈی مارکیشن ہوگئی تھی۔ واپڈا کا عملہ اور سرکاری افسران جب اکوڑہ خٹک میں ڈی مارکیشن کرکے گھروں پر نشان لگارہے تھے تو عوام نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کیلئے ان گھروں کو مسمار کرنا ہوگا۔ لوگوں نے اکٹھے ہوکر ڈنڈے اور کلہاڑیاں اٹھاکر واپڈا کے افسران کے خلاف کارروائی شروع کرکے انہیں بھگادیا۔ اس کے بعد خیبرپختونخواہ کے سیاستدانوں نے کالا باغ ڈیم کی پرزور مخالفت کی اور اس وقت جنرل فضل حق نے بھی مخالفت شروع کردی تھی جس سے اس اہم قومی مفاد کے بہترین منصوبے کو شدید نقصان پہنچا۔

صدر جنرل ضیاءالحق نے گورنر فضل حق سے کہا کہ آپ ایک میٹنگ رکھیں جس میں چیئرمین واپڈا جنرل بٹ اور آپ کے صوبے کے سابق چیئرمین واپڈا شاہنواز خان آپ کو بریفنگ دیں گے تاکہ کالا باغ ڈیم کا فیصلہ ہوسکے۔ جنرل فضل حق نے میٹنگ رکھی جس میں جنرل بٹ اور واپڈا کے سابق چیئرمین شاہنواز خان بھی شریک ہوئے چونکہ شاہنواز خان کا تعلق نوشہرہ سے ہے اور میری معلومات کے مطابق کالا باغ ڈیم کا ڈیزائن بھی شاہنواز خان نے بنایا تھا اس لئے اس کی شرکت میٹنگ میں ضروری بھی تھی۔ میٹنگ شروع ہوئی تو شاہنواز خان نے جنرل صفدر بٹ سے کہا کہ جنرل صاحب جو کام ڈیم بنانے میں سب سے آخر میں ہوتا ہے وہی کام آپ نے پہلے شروع کردیا تھا‘ یعنی آبادی کے انخلاءکا۔ اب آپ نے کالا باغ ڈیم کو متنازع بنادیا ہے۔

حالانکہ کالا باغ ڈیم سے سب سے زیادہ فائدہ خیبرپختونخواہ کے جنوبی اضلاع کو ہے۔ وہاں لاکھوں ایکڑ ہموار زمین ہے اور کالا باغ ڈیم بننے کے بعد خیبرپختونخواہ خوراک میں خودکفیل ہوجائیگا۔ شاہنواز خان نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے علاوہ کسی بھی اور طریقے سے ڈیرہ اسماعیل خان‘ ٹانک‘ لکی مروت‘ بنوں اور کرک کو پانی نہیں مل سکتا۔ خیبرپختونخواہ کے یہ اضلاع آدھے صوبے کے برابر ہیں یعنی سب سے زیادہ فائدہ ہی خیبرپختونخواہ کو ہوگا لیکن حیرت کی بات ہے کہ چند غیر ملکی ایجنٹ اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
16 ستمبر 2014
صدر آل پاکستان انجمن تاجران خالد پرویز نے کہا ہے کہ حکومت آئے روز معیشت کو بجلی ریٹ بڑھانے کا جھٹکا لگانے کے بجائے سستے یعنی ہائیڈل ذریعے سے زیادہ بجلی پیدا کرنے پر توجہ دے ۔ اس وقت بجلی کی زیادہ تر پیداوار آئی پی پیز سے آ رہی ہے جو آئل سےمہنگی بجلی تیار کرتے ہیں ۔
حکومت کالاباغ ڈیم بنانے کیلئےمخلصانہ کوشش کرے اور اس دوران بجلی چوری اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کی بد انتظامی پر قابو پائے ، بجلی بچت کی مہم چلائے اور اس کا آغاز خودا پنے دفاتر اور گھروں سے کرے۔ انہوں نے کہا کہ گیزر اور ٹیوب ویل سولر انرجی پر منتقل کرنے کیلئےآسان اقساط پر قرضے دیے جائیں اور چین کے تعاون سے سستی بجلی کے جن منصوبوں پر کام ہو رہا ہے انہیں ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
 

کاشفی

محفلین
شاید سندھیوں، پختونوں اور بلوچوں کے منتخب نمائندوں کو اس سلسلے میں کافی سارے تحفظات ہیں۔۔
اس کے حل کے لیئے حکومت کو اقوامِ متحدہ کی مدد لینی چاہیئے۔
 

x boy

محفلین
کالا باغ ڈیم بننا چاہیے اور وہاں کی آبادی جن کو نقصان ہونے کا خطرہ لاحق ہے انکے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے
 

الف نظامی

لائبریرین
شاید سندھیوں، پختونوں اور بلوچوں کے منتخب نمائندوں کو اس سلسلے میں کافی سارے تحفظات ہیں۔۔
اس کے حل کے لیئے حکومت کو اقوامِ متحدہ کی مدد لینی چاہیئے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ، پاکستان میں بڑے ڈیموں کے قیام کی مخالف نہیں ہے اور اس نے کالاباغ ڈیم کے قیام کی مخالفت، مخالفت برائے مخالفت کی بنیادپر نہیں کی بلکہ ایم کیوایم ،سندھ کے عوام میں پائے جانے والے تحفظات کی بنیاد پر کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ اگر حکومت ،کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے سندھ کے دانشوروں اورماہرین کو بلاکر انکے تحفظات دورکرنے کی کوشش کرے اور اس منصوبے سے عوام کو درپیش ممکنہ خطرات کے جوابات سے انہیں مطمئن کرسکتی ہے تو اسے اس قسم کے تجربے کرنے میں کسی قسم کی دیر نہیں کرنی چاہیے ۔ وگرنہ دوسری صورت میں حکومت کو چھوٹے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کا فی الفور آغاز کردینا چاہیے اس عمل سے ملک میں سیلاب کی صورتحال سے عوام کی جان ومال کے تحفظ، برساتی پانی کے ذخائر کے انتظامات اورملکی معیشت کو تحفظ دیا جاسکتا ہے۔
 

کاشفی

محفلین
جناب الطاف حسین نے پانچ سو فیصد درست باتیں کی ہیں۔ اللہ انہیں اجرِ عظیم عطا فرمائے۔آمین
 

صرف علی

محفلین
صرف ایک مسئلہ ہے ڈیم نہ بنے کا پنجاب بھارت سے پیسا لیتا ہے کہ بھارت میں ڈیم بنے اور یہ صرف دیکھتے رہے اور سندہ پیسا لیتا ہے کہ پاکستان میں ڈیم نہ بنے
 

کاشفی

محفلین
7074_702965029786285_3026504209117748527_n.jpg

ربط
 
Top