کاجل دھلا تو زخم بھی کرنے لگے کلام۔اس عنوان کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟

اقراء خلیل نے 'لکھنے پڑھنے میں مدد' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 1, 2020

  1. اقراء خلیل

    اقراء خلیل محفلین

    مراسلے:
    7
    مجھے اس عنوان پہ تقریر لکھنی ہے۔مگرسمجھ نہیں آ رہا کہ عنوان کا مقصد کیا ہے اور مقرر کو حاضرین کی توجہ کس جانب دلانی چاہئے۔
    برائے مہربانی اپنی آراء سے مستفید کیجئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,833
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    اردو محفل پر خوش آمدید !!!

    ہماری رائے میں شاعر جب زخموں کا تذکرہ کرتا ہے ، اس کی مراد ان دکھوں سے ہوتی ہے جو وہ سہہ رہا ہے۔ ان دکھوں کا اظہار کہہ کر کیا جاسکتا ہے، لکھ کر کیا جاسکتا ہے یا آنسو بہا کر ۔ ان تینوں اظہار کے طریقوں میں آنسو بہانا شاید موثر ترین ہوگا۔

    کاجل دھلنے سے مراد آنسوؤں کا بہنا ہے، جن سے آنکھوں کا کاجل بہہ کر گویا دھل جاتا ہے۔ رونے سے یا آنسو بہانے سے اپنے زخموں یا دکھوں کا اظہار بآسانی کیا جا سکتا ہے۔ قدرت نے انسان کو رونے کا تحفہ ایک بہت بڑی نعمت کے طور پر دیا ہے۔ آنسو بہاکر انسان نہ صرف اپنے دکھوں ، غموں کا اظہار کرسکتا ہے، بلکہ کئی اور جذبوں کا اظہار بھی آسانی کے ساتھ کرسکتا ہے، مثلاً، غم، غصہ، پشیمانی وغیرہ۔ رونے سے انسان کے اندر کا غم و غصہ باہر آجاتا ہے اور اس کی طبعیت ہلکی بھی ہوجاتی۔ علیٰ ھٰذا القیاس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 3
  3. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    550
    موڈ:
    Breezy
  4. اقراء خلیل

    اقراء خلیل محفلین

    مراسلے:
    7
    آپ کا بہت شکریہ!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. اقراء خلیل

    اقراء خلیل محفلین

    مراسلے:
    7
    زخموں کے کلام کرنے کے کیا معنی اخذ ہو گے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,833
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    یہی کہ زخموں کو آنسوؤں کے ذریعے قوتِ گویائی مل گئی۔ انسان نے آنسوؤں کی مدد سے اپنے دکھوں کا اظہار کرنا سیکھ لیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  7. اقراء خلیل

    اقراء خلیل محفلین

    مراسلے:
    7
    آپکی تشریح سے مجھے کافی مدد ملی۔شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    550
    موڈ:
    Breezy
    میرا طالبعلمانہ سا خیال ہے کہ زخم کا وجود ہی تو ناظرین کیلئے ایک طرح کا خاموش لیکن بلیغ تکلم ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. اقراء خلیل

    اقراء خلیل محفلین

    مراسلے:
    7
    آپ درست کہ رہے ہیں ۔مقرر کو ان زخموں کی تمہید باندھنی ہوگی جسکی وجہ سے آنسو آئے۔وہ زخم جو حاضرین بھی محسوس کر سکیں۔
    آپ کے خیال میں قومی سطح کے مسائل اور انکی وجہ سے لوگوں کو ملنے والے زخم کا تذکرہ ہو گا یا پھر ڈومیسٹک وائلینس کی طرح کے زخم؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    550
    موڈ:
    Breezy
    طالب علم کے نزدیک قومی سطح کے مسائل ہی بہتر ہیں لیکن اگر انہیں کسی جاندار پیرائیے میں سامنے لایا جائے کیونکہ روایتی پیرایہ نہ صرف لوگو ں کو بیزار کر چکا ہے بلکہ اپنے اندر کافی ساری قباحتوں کو سموئے ہوئے ہے۔
    باقی اگر تخیل کی تان پر الفاظ کی دھمال ڈلوائیں تو سماعتوں کی بھوک کا اچھا انتظام ہو سکتا ہے۔لیکن بہتر یہی ہے جب آپ اپنا قیمتی وقت کسی مضمون کی تشکیل کیلئے نکال رہے ہیں تو مضمون کی روح اور مدعا حقیقت ہونا چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. اقراء خلیل

    اقراء خلیل محفلین

    مراسلے:
    7
    روائتی پیرائے سے آپ کی کیا مراد ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,183
    واہ، خلیل بھیا! کیا بات ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,183
    تقریر کس موقع کی مناسبت سے ہے؛ یہ معلوم ہو جائے تو معاملہ کھلے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  14. اقراء خلیل

    اقراء خلیل محفلین

    مراسلے:
    7
    یہ معلوم نہیں ہے۔اس عنوان کو کس جانب کھینچنا ہے یہ مقرر پر منحصر ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  15. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    550
    موڈ:
    Breezy
    وہ پیرایہ جو ہماری معاشرتی محفلوں میں اختیار کیا جاتا جسمیں تنقید اتنی پیور ہوتی ہے کہ نستعلیق طبائع اس کی سڑانڈ سے بدکتی پھرتی ہیں ۔ پیرایہ اتنا نفیس ہونا چاہیے کہ تنقید سننے والا مسکرا اٹھے لیکن جب مسکراہٹ کے بادل چھٹیں تو آنکھوں میں کوئی تکلیف چوٹ کی نہیں اعتراف کی تیر رہی ہو۔
     
    آخری تدوین: ‏فروری 2, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  16. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,678
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    واہ! یہ تو نثری شاعری ہے۔ :)
    طبائع کو مؤنث نہ ہونا چاہیے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 2
  17. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,702
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    یہ تو یاقوتی نثر ہے
    :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,702
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    بہت عمدہ لکھا ہے۔ واہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  19. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    550
    موڈ:
    Breezy
    محفل کے سارے پیران مغان ""ذمہ دار "" ہیں اسکے۔ہا ہاہاہاہاہا ہاہا ہا
     
    آخری تدوین: ‏فروری 2, 2020
    • پر مزاح پر مزاح × 5
  20. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,271
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    میری ناقص رائے میں تو یہ موضوع "خواتین کے مسائل" کے بارے میں ہے ۔ کاجل کا اشارہ موجود ہے ۔ اس مصرع کا مطلب تو خلیل بھائی نے بہت ہی بلیغ اندازسے اوپر بتا ہی دیا ہے ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر