ڈاکٹر کا شکوہ: اجر میں تجھ سے مانگتا ہی نہیں

عاطف ملک

محفلین
موجودہ حالات کے تناظر میں ایک ڈاکٹر کا شکوہ:

اجر میں تجھ سے مانگتا ہی نہیں
پاس تیرے مری جزا ہی نہیں

جو حقیقت عیاں کرے تجھ پہ
کیا کوئی ایسا آئنہ ہی نہیں؟

تُو وہ نادان ہے جسے معلوم
آپ اپنا برا بھلا ہی نہیں

جس نے گُل کر دیے ہیں لاکھوں چراغ
ہے فریبِ نظر، بلا ہی نہیں؟

خوب طعنے دیے تھے کل جس نے
آج وہ "عدل" بولتا ہی نہیں

اپنی لغزش کا اعتراف کریں
آپ میں اتنا حوصلہ ہی نہیں

ظلم سہہ کر جو چپ ہُوں،ظرف ہے یہ
تُو سمجھتا ہے کچھ ہوا ہی نہیں

آج خود ہو گیا ہے اس کا شکار
وہ جو کہتا تھا کل، "وبا ہی نہیں"

مانگتے کس لیے ہو تم مجھ سے
پاس میرے اگر شفا ہی نہیں

اپنی جان اور عیال وار چکا
اب لٹانے کو کچھ بچا ہی نہیں

ہر مرض کا علاج ہے عاطفؔ
خودسِری کی مگر دوا ہی نہیں


عاطفؔ ملک
جون ۲۰۲۰​

احباب کی آرا کا منتظر ہوں۔
 
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں عاطف بھائی !
"موجودہ حالات کے تناظر میں ایک ڈاکٹر کا شکوہ" اچھا پیش لفظ ہے ۔ اس سے اشعار کا مطلب پوری طرح واضح ہوجاتا ہے ۔ ورنہ قاری سوچ میں ہی پڑا رہتا کہ اپنی جان کے ساتھ عیال وارنے کا ذکر کیوں کیا گیا ۔
 

عاطف ملک

محفلین
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں عاطف بھائی !
"موجودہ حالات کے تناظر میں ایک ڈاکٹر کا شکوہ" اچھا پیش لفظ ہے ۔ اس سے اشعار کا مطلب پوری طرح واضح ہوجاتا ہے ۔ ورنہ قاری سوچ میں ہی پڑا رہتا کہ اپنی جان کے ساتھ عیال وارنے کا ذکر کیوں کیا گیا ۔
شکریہ ظہیر بھائی۔۔۔۔بس عوام اور حکومت کا رویہ دیکھ کر رہا نہیں گیا۔۔۔۔حالانکہ سوچا تھا کہ اب کوئی شکوہ نہیں کروں گا۔
 
Top