ڈاکٹر پرویز ہودبھائی: عصر حاضر کے سقراط

جاسم محمد نے 'سائنس اور ٹیکنالوجی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 29, 2020

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    22,189
    ڈاکٹر پرویز ہودبھائی: عصر حاضر کے سقراط
    28/07/2020 خوشبخت صدیقی

    جیسا کہ اس ملک کا رواج ہے کوئی بھی شعور رکھنے والا شخص یہاں سکون کی زندگی نہیں گزار سکتا اگر حکومت آپ پر غداری کا فتویٰ نہ بھی عائد کرے تو بھی یہ فرض عوام پوری تندہی سے انجام دے دیتی ہے۔ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ علمی اور ادبی حوالے سے ان کا تعارف لکھنا سورج کے آگے دیا رکھنے کے مترادف ہے لیکن پھر مختصراً بیان کرتی چلوں کہ ڈاکٹر صاحب دنیا کی بہترین یونیورسٹی ایم آئی ٹی سے الیکڑریکل انجینئرنگ، حساب اور نیوکلیئر فزکس کے مضامین میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور نیوکلیئر فزکس میں باقاعدہ پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں۔

    عالمی درجہ بندی کے مطابق پاکستان کی بہترین جامعہ، قائد اعظم یونیورسٹی اور کرسچن کالج فارمین میں سالوں سے درس و تدریس کے فرائض نبھا رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو ویسے تو کئی بین الاقوامی اعزازات حاصل ہیں البتہ پاکستان میں کسی قومی اعزاز سے ان کو تاحال نہیں نوازا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مشرف کے دور میں ان کو ستارہ امتیاز سے نوازنے کی پیشکش ہوئی تو ڈاکٹر صاحب نے آمریت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس اعزاز کو قبول نہ کیا جو کہ ان کی بہادری اور ملک سے خلوص کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    مگر افسوس کہ اس ملک نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو کہ ان سے پہلے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ کیا تھا۔ کچھ دن پہلے ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے کرسچن کالج فارمین سے استعفیٰ دے دیا جس کی وجہ بقول خود ڈاکٹر صاحب کے کہ کالج کی انتظامیہ کے مطابق ان کو ایک سال کے بعد مزید کنٹریکٹ پر نہیں رکھا جائے گا کیونکہ ان کا معیار تعلیم کالج کے لیے غیر موزوں ہے۔ ذرا سوچیے اگر ایم آئی ٹی کا فارغ التحصیل پی ایچ ڈی ہولڈر پروفیسر کا طریقہ تدریس بھی غیر موزوں ہے تو اب آسمان سے فرشتے نازل ہو کر تو فزکس پڑھابے سے رہے۔

    ڈاکٹر صاحب نے بیان کیا کہ ان کے مطابق ان کو کالج سے ہٹانے کی اصل وجہ ڈان میں لکھا جانے والا وہ کالم ہے جس میں انھوں نے کالج اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں ہونے والی بدعنوانیوں پر اصلاح کے لیے تنقید کی تھی جس کے نتیجے میں بجائے حقائق پر توجہ دی جاتی راتوں رات ان کو ہی نوکری سے ہٹانے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا۔

    ڈاکٹر صاحب ایک بہت بڑے سماجی تجزیہ کار بھی ہیں۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں جن میں اسلام، پاکستانی معاشرہ اور یورپ کا سائنسی حوالے سے تقابلی جائزہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ڈاکٹر پرویز ہود بھائی ٹیلی۔ ویژن پروگرامز اور یوٹیوب پر پاکستانی سماجی مسائل پر فکر انگیز گفتگو کرتے ہیں اور محض سوال نہیں اٹھاتے بلکہ کیے گئے سوالات پر عقلی دلائل سے بھرپور جواب بھی پیش کرتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ تنقید کا شکار بھی رہتے ہیں۔

    [​IMG]

    ڈاکٹر پرویز ہود بھائی پر اکثر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ وہ کوئی ایجاد کیوں نہیں کر سکے۔ اس عقل سے عاری، احمقانہ سوال کا کوئی کیا جواب دے۔ یہ وہ دور تو ہے نہیں کہ پہیہ یا پنکھا ایجاد کر کے واہ واہ سمیٹ لی جائے۔ انسان کی جستجو ان بنیادی اشیاء سے بہت آگے نکل چکی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مقالے پر کام کیا ہے اور اہنے مضمون پر عبور رکھتے ہیں ویسے ہی جیسے باقی علوم کا ماہر یا استاد اپنے مضمون پر رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک عام تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ پرویز ہود بھائی صاحب ایک سائنسدان ہیں لہٰذا انھیں معاشرتی و سماجی مسائل پر بولنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ کیوں بھئی؟ سائنسدان بننے کے بعد انسانی حقوق کا خاتمہ ہوجاتا ہے؟ کون سے ملک کا قانون ہے جہاں انسان سائنسدان بننے کے بعد اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کر سکتا؟

    دراصل تالا لگے دماغوں پر جب دلائل کی ضرب پڑتی ہے تو وہ اس کو برداشت نہیں کر پاتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک عالمی شہرت یافتہ سائنسدان کو ملک نے وہ مقام نہیں دیا جس کا وہ حقدار تھا۔ اس گھٹن زدہ معاشرے میں جہاں ذہنوں پر جان بوجھ کر قدغن لگائے گئے ہوں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کی عقل، شعور اور قابلیت ہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ان کو استعفیٰ دینا پڑا۔ ڈاکٹر صاحب جیسے صاحب علم شخصیت کے ساتھ اس منافق، کھوکھلی بنیادوں والے معاشرے کے سلوک کو دیکھ کر سمجھ آتا ہے کہ جہالت سے لڑنا کتنا کٹھن ہے۔

    صدیوں پہلے سقراط جیسے عظیم دانشور کو اسی جہالت سے لڑنے کی پاداش میں زہر کا پیالہ دیا گیا تھا۔ کیوں کہ اس کا جرم بھی یہی تھا کہ وہ سوچتا ہی نہیں تھا بلکہ سوچنا سکھاتا بھی تھا۔ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی بھی نہ صرف خود سوال کرتے ہیں بلکہ اپنے علم کی طاقت سے ذہنوں میں سوال کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں اور یہی وہ سنگین جرم ہے جس کی وجہ سے ان کو مستعفی ہونا پڑا۔

    سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب جیسی قد آور اور باصلاحیت شخصیت کو تو دنیا کے کسی کونے میں روزگار کی کمی نہیں ہوگی البتہ اگر ہم اپنے ہر قابل شخص اور دانشور کے ساتھ یہی سلوک رکھتے گئے تو ہم ایسے دولے شاہ کے چوہے نما انسان بن کر رہ جائیں گے جو سوال کرنا یا سوچنا تو دور، صحیح غلط کی تمیز بھی نہیں کر سکیں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 2
  2. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,821
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ڈان کا وہ مضمون کونسا ہے جس کا ذکر ہے اس میں؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    22,189
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  4. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    2,271
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
     
    • زبردست زبردست × 2
  5. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,821
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    کالج نے اپنے پیروں پر ایک نہیں دو کلہاڑیاں ماری ہیں۔ ایک تو اتنے مستند اور بہترین پروفیسر کو نکال کر اس سے محروم ہوئے دوسرا اس ویڈیو کے بعد کالج کے پلے اب کیا رہا۔ اب تو اس کالج میں کم از کم سائنس کی تعلیم کے لئے وہی داخلہ لے گا جسے صرف ڈگری درکار ہوگی۔ علم کے طالب شائد وہاں کا رخ نہ کریں۔
     
    • متفق متفق × 3
  6. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    دنیا کے بڑے بڑے فلاسفر مثلا والٹیئر ، بنجمین فرینکلین ، سقراط ، افلاطون وغیرہ جنہیں ہم عموما مذہب سے دور سمجھتے ہیں وہ سب دعا پر بہت firmly یقین رکھتے تھے۔ so much so سقراط کے خیالات اُس دور کے لوگوں کے لیے قابلِ قبول نہیں تھے کیوں کہ وہ عام انسان کے خیالات کی نسبت بہت بلند تھے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ نہ صرف سقراط کے خلاف ہو گئے بلکہ اس مخالفت کی وجہ سے اسے زہر کا پیالا بھی پینا پڑا۔ زہر کا وہ پیالہ پینے سے پہلےسقراط نے دعا کی۔
    (سید سرفراز شاہ ، نوائے فقیر ، صفحہ 139)
    اب ذرا اپنے نام نہاد سقراط سے دعا کی اہمیت کے بارے میں پوچھ لیجیے پھر اس کو سقراط کا ٹائٹل بھی بصد شوق دیجیے گا۔
     
    • غمناک غمناک × 1
  7. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,011
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    اس فہرست میں صرف والٹیئر ایسا شخص ہے جو شاید رائج مذاہب میں سے کسی کا پیروکار نہیں تھا۔ یہ سب روحانیت پر لکھنے والے ایسی ہوائی باتیں کرتے ہیں کہ بندہ دنگ رہ جاتا ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 1
  8. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    کالم نگار کے بقول ان کے سقراط نے پی ایچ ڈی نیوکلیر فزکس میں سماجی علوم پر سپیشلائزیشن کی تھی۔کیا ہی ہوائی بات ہے۔
     
    • غمناک غمناک × 1
  9. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    “I have never made but one prayer to God, a very short one: Oh Lord, make my enemies ridiculous. And God granted it."
    (Letter to Étienne Noël Damilaville, May 16, 1767)”


    ― Voltaire​
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
  10. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,011
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    اس سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ جن مذہب سے دور فلسفیوں کا انتخاب کیا گیا ہے وہ درحقیقت مذہب سے دور تھے ہی نہیں۔ والٹیر تاہم خود کو کسی رائج مذہب کا پیروکار نہیں گنواتا۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  11. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    جاسم محمد
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,011
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    مضحکہ خیز کی ریٹنگ سے حقیقت تو تبدیل نہیں ہو جاتی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ سرفراز شاہ سمیت دیگر کئی روحانیت کا کاروبار کرنے والے ایسے ایسے موضوعات پر تبصرےکر رہے ہوتے ہیں جن کا انھیں کچھ علم نہیں ہوتا۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    حصولِ علم کی ابتدا میں شدت پسندی کا رنگ غالب ہوتا ہے اور علم راسخ ہونے کی بعد فکری رنگ جھلکتا ہے اور عجلت میں فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا۔
    لیجیے ریٹنگ ریٹنگ نہیں کھیلتے آپ کی قریشی نسبت نے ہمیں شرمندہ کردیا۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  14. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    22,189
    ہود بھائی اگر اتنا پڑھ لکھ کر بھی شدید لبرل رویہ اپنائیں گے تو اس سے اپنا ہی نقصان کریں گے۔ کل ایک پروگرام میں اختلاف رائے پر مخالف ڈاکٹر کو طالبان جیسا فسادی کہنے پر ان کو سخت تنقید کا سامنا ہے

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,011
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    کوئی گستاخی سرزد ہوئی ہو تو درگزر فرمائیے گا۔ آپ کو ہمیشہ علم دوست پایا ہے. ایک عمومی سوال کرنا چاہوں گا۔ تصوف پر تاریخ میں کشف المحجوب، مکتوباتِ مجدد الف ثانی، عوارف المعارف وغیرہ جیسی شاہکار تصانیف موجود ہیں، یقیناً آپ کی نظر سے گزری ہوں گی۔ ان کے مقابلے آج کے دور کے صوفی رائٹرز کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    اس حوالےسے رائے دینے کے لائق نہیں ہوں کیوں کہ رائے دینے کا اہل وہ ہے کہ جس پر رائے دے رہا ہو اس سے زیادہ استعداد کا حامل ہو۔
    مکتوبات اور عوارف المعارف میری نظرسےنہیں گزریں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  17. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,710
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    جناب واصف علی واصف کی میں اس لیے معترف ہوں کہ اپنی حیات میں سائلین کے پاس خود چلے جایا کرتے. ان کی اک یا دو کتابیں وہ بھی اصرار پر ان کی زندگی میں شائع ہوئیں بصورت دیگر ان کا کلام اور کام آجکل ان کے بعد کاروبار سا بن گیا ہے. سرفراز صاحب اک اچھے انسان ہیں جو کہ یقینا کاروبار بھی کر رہے ہیں ...... کہیں نہ کہیں سچائی موجود ہے جس کی ہمیں خبر نہیں ہے ...
    باقی سب کاروبار ہے اسی وجہ سے ان کتابوں سے اعلی کتاب ہے ...، "قران پاک ہے" اور جن کتابوں کا ذکر آپ نے کیا وہ ان سے مطابقت رکھتی ہیں. سچ ہے موجود آجکل، بس دلوں میں پوشیدہ!،
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر