چیف جسٹس بلال اسلام آباد ہائیکورٹ بے نقاب سکینڈل

فخرنوید

محفلین
چیف جسٹس بلال اسلام آباد ہائیکورٹ بے نقاب سکینڈل​


سکینڈل کا منہ بولتا ثبوت یہ ویڈیو ہے۔
سورس: پاک گلیکسی نیوز



وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2009, 08:44 GMT 13:44 PST


یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
صحافی، توہین عدالت کا مقدمہ

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور



لاہور ہائی کورٹ
رپورٹ میں جج کے خلاف الزامات لگائے گئے تھے
لاہور ہائی کورٹ نے ایک سینیئر جج کے انڈرورلڈ سے مبینہ تعلقات کی رپورٹ شائع کرنے پر توہین عدالت کا مقدمہ باقاعدہ سماعت کے منظور کر لیا ہے۔

اس سلسلے میں گوجرانوالہ کے ریجنل پولیس افسرذوالفقار چیمہ، مقامی اخبار کے صحافی انصار عباسی اور اسی اخبار کے چیف ایڈیٹر کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔

گوجرانوالہ کی پولیس نے کچھ عرصے پہلے انٹرپول کی مدد سے ملائیشیا سے پنجاب پولیس کو مطلوب ایک ٹاپ ٹین ملزم ننھو گورایہ کو گرفتار کیا۔ گوجرانوالہ پولیس کے مطابق ملزم نے گرفتاری کے بعد مبینہ بیان میں ایک اعلی عدالتی افسر سے تعلقات کا اعتراف کیا تھا۔

یہ ملزم چند دن کے بعد ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارا بھی گیا لیکن گوجرانوالہ کے ریجنل پولیس افسرنے مبینہ اعترافی بیان پر مبنی ایک رپورٹ بنا کر رجسٹرار ہائی کورٹ کو بھجوادی تھی۔ بعد ازاں اسی مبینہ رپورٹ کو بنیاد بنا کر دو قومی اخبارات دی نیوز اور روزنامہ جنگ میں خبر شائع کی گئی۔

بیرسٹر ظفراللہ خان نے اس معاملے پرتوہین عدالت کی ایک درخواست دائر کی تھی۔اس درخواست میں کہا گیا کہ ایک ایسے بدنام زمانہ ملزم ننھوگورایہ کے بیان پر جج کو بدنام کیا گیا جو پولیس مقابلے میں مارا بھی جا چکا تھا۔

ان کے بقول پولیس کودیے گئے اس بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی اس لیے یہ خبر مدلل ثبوت کے بغیر ہے۔ بیرسٹر ظفراللہ نے کہا کہ یہ رپورٹ گوجرانوالہ کے ریجنل پولیس افسر ذوالفقار چیمہ نے جاری کی اوراسے تصدیق کے بغیر شائع کیا گیا جس سے عدلیہ کی توہین ہوئی۔

درخواست دہندہ نے صحافی، چیف ایڈیٹر اور گوجرانوالہ کے ریجنل پولیس افسر کے علاوہ رجسٹرار ہائی کورٹ اور وفاق کو بھی فریق بنایا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس نجم الزمان نے جمعہ کو ابتدائی سماعت کے بعد مقدمہ باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرلیا اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے سفارش کی ہے کہ اس کیس کی سماعت کے لیے ایک بڑا بنچ بنایا جائے۔

عدالت نے میڈیا کو ہدایت کی ہے کہ اعلی عدلیہ کے ججوں کے بارے میں کوئی ایسے بیانات یا ریمارکس شائع یا نشر نہ کیے جائیں جن میں ان کی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔
 

فخرنوید

محفلین
یارو سب دعا کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے حال پہ زرداری اب رحم کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معزول عدلیہ اب آزاد کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجرم جج اب بند کرو


دیکھو کہیں ایجنسیوں کے ہاتھوں اب میری گمشدگی کی رپورٹ نہ بن جائے۔ شکر ہے اب گوانتا نامو بے بھی بند ہو گئی ہے۔ اب دیکھو کس ملک کی پر تشدد سیر کا موقع ملے ،،،،، ہورے نا وی ملے
 

ساجداقبال

محفلین
حوصلہ رکھیں اب خفیہ والے اتنے فارغ نہیں ہوئے کہ ایک ویڈیو ایمبیڈ کرنے پر آپکی چھترول کر دیں۔ :grin:
 

محمدصابر

محفلین
1057.gif
 
Top