1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

چھَٹنا ضرور مکھ پہ ہے زلفِ سیاہ کا ۔ سودا

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 5, 2012

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,631
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    چھَٹنا ضرور مکھ پہ ہے زلفِ سیاہ کا
    روشن بغیر شام نہ چہرہ ہو ماہ کا

    جل کر تُو اے پتنگ گرا پائے شمع پر
    ہوں داغ، عذر دیکھ کے تیرے گناہ کا

    جوں سایہ اس چمن میں پھرا میں تمام عمر
    شرمندہ پا نہیں مرا برگِ گیاہ کا

    تاراج چشمِ ترکِ بتاں کیوں نہ ہو یہ دل
    غارت کرے ہے ملک کو فرقہ سپاہ کا

    اے آہِ شعلہ بار ترا کیا کہوں اثر
    رتبہ رکھے نہ کوہ ترے آگے کاہ کا

    حاضر ہے تیرے سامنے سودا کر اس کو قتل
    مجرم یہ سب طرح سے ہے پر اِک نگاہ کا

    (مرزا رفیع سودا)
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,929
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اے آہِ شعلہ بار ترا کیا کہوں اثر
    رتبہ رکھے نہ کوہ ترے آگے کاہ کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  3. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,610
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    فرخ صاحب!
    غزل اُس زمانے میں رائج زبان اور طریقتِ گفتن یا بستگی کا بہت خوب نمونہ ہے!
    پیش کرنے پر بہت سی داد قبول کیجئے
    تاہم
    تشریحِ شعر یا کچھ معاونت سے اشعار سے صحیح لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے

    جل کر تُو اے پتنگ گرا پائے شمع پر
    ہوں داغ، عذر دیکھ کے تیرے گناہ کا
    داغ ، شاید بہ معنی رقابت ، جلن یا حسد کے ہے یہاں ؟

    جوں سایہ اس چمن میں بھرا میں تمام عمر
    شرمندہ پا نہیں مِرا، برگِ گیاہ کا

    برگ = پتی، پتہ یا پتے
    گیاہ = گھاس، مخملی سبزہ

    معنی کے تناظر میں یہ خیال بھی آتا ہے کہ شاید 'برگ و گیاہ کا ' ہوگا ؟


    تاراجِ چشمِ ترکِ بُتاں کیوں نہ ہو یہ دل!
    غارت کرے ہے ملک کو فرقہ سپاہ کا

    مِلک = ملکیت
    یا
    مُلک = ریاست

    ایک بار پھر سے تشکّر اور داد آپ کے لئے
    بہت خوش رہیں
     
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,631
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    طارق شاہ صاحب مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے غزل اور اشعار کے مفاہیم پر بات کرنا چاہی اور میرے خیال میں اس فورم کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ ادبی مباحث ہوں اور ادب پاروں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے نہ کہ بیکار کے مباحث ۔ بہرحال، سب سے پہلے معذرت کہ ایک شعر میں ٹائپنگ کی غلطی تھی کیونکہ آج کل بجلی کا بہت ڈر لگا رہتا ہے اور رات وہی ہوا تھا کہ ادھر میں نے غزل پوسٹ کی اور ادھر بجلی گُل ۔ اس شعر میں "بھرا" کی بجائے "پھرا" ہے۔
    جوں سایہ اس چمن میں پھرا میں تمام عمر
    شرمندہ پا نہیں مِرا، برگِ گیاہ کا

    اور آپ کا متذکرہ پہلے شعر میں داغ بمعنی دکھ کے ہیں۔ بہت مشہور شعر ہے اور اس شعر میں بھی داغ بمعنی دکھ ہی استعمال ہوا ہے۔
    دل کے پھپھولے دل اٹھے سینے کے داغ سے
    اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

    یا غالب کا یہ شعر
    داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
    اِک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے

    اور آپ کے دوسرے متذکرہ شعر میں۔
    جوں سایہ اس چمن میں پھرا میں تمام عمر
    شرمندہ پا نہیں مِرا، برگِ گیاہ کا
    برگِ گیاہ یعنی گھاس کی پتی ۔ شاعر کہہ رہا ہے کہ میں چمن میں سایے کی طرح پھرا ہوں اس لئے ایک برگِ گیاہ سے بھی میرا پاؤں شرمندہ نہیں ہے۔ یعنی اس دنیا میں، میں بغیر کسی کو تکلیف دیے زندہ رہا ہوں اور ایک برگِ گیاہ تک کو مجھ سے شکایت نہیں ہے۔
    تاراجِ چشمِ ترکِ بُتاں کیوں نہ ہو یہ دل!​
    غارت کرے ہے ملک کو فرقہ سپاہ کا

    اس شعر میں ملک بمعنی ریاست ہی استعمال ہوا ہے۔ اس زمانے میں ترک سپاہی بہت جنگجو ہوتے تھے اور خوبرو بھی بہت۔ سو جس طرح کسی ملک کو کوئی سپاہ تباہ و برباد کر دیتی ہے اسی طرح اے تُرکِ بتاں تیری چشمِ مست نے میرے دل کو تباہ و برباد کر رکھا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. سید زبیر

    سید زبیر محفلین

    مراسلے:
    4,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت خوب
    حاضر ہے تیرے سامنے سودا ،کر اس کو قتل
    مجرم یہ سب طرح سے ہے پر اِک نگاہ کا
    تشریح سے لطف دو چند ہو گیا
    جزاک اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,631
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ زبیر صاحب!
     
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,631
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    محمد خلیل الرحمٰن صاحب، براہِ مہربانی اس غزل کے ساتھ "سودا" کے ٹیگ کا اضافہ کر دیجیے۔ بہت شکریہ!
     
  8. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,610
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    فرخ صاحب جواب کے لئے ممنون ہوں
    شاعری میں سخن فہمی یا شعر فہمی ہمیشہ سے ہی دلچسپ رہا ہے
    خوبی اس میں یہ ہے کہ ہر قاری اپنی سمجھ اور فہم سے مفہومِ شعراخذ کرتا ہے

    تاراجِ چشمِ ترکِ بُتاں کیوں نہ ہو یہ دل!​
    غارت کرے ہے ملک کو فرقہ سپاہ کا
    میں نے بالا شعر کو یوں لیا کہ:​
    تاراج (برباد) یہ دل ! حسینوں کی نظر نہ کرنے (ترک کرنے ) سے کیوں نہ ہو کہ
    اِسے ( یعنی اس دل یا میری دید کے ملک کو) جب تباہ (غارت) گروہِ (فرقہ) سپاہ (رکھوالے،پہریدار یا چوکیدار) کریں ہیں
    اسی طرح دوسرے اشعار سے ، جن کا ذکر میں نے کیا، میرے ذہن نے کچھ اور معنی اخذ کے :)
    خیر جیسا کہ میں نے لکھا یہ میری فہم کا ہی اختراع ہو سکتا ہے
    ایک بار پھر سے جواب کے لئے تشکّر​
    بہت خوش رہیں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر