پہلی قسط: چائے
دوسری: پہلوانی
یہاں اپنے بچوں کو چائے پلانے میں تو لوگ پیش پیش ہیں۔ لیکن دریں اثناء اِسی معاملے میں زیر و زبر بھی ہیں۔ اگر تو دوسری قسط میں چچا افیون کھا کر نہیں آئے ہوئے تھے تو کچھ نہ کچھ تو تھا ہی۔ صرف چائے اتنے کمالات کیسے پیدا کر سکتی ہے جو کہ خود چھے گھنٹے لیتی ہے ہضم ہونے میں۔ میں منوں کے حساب سے چائے پینے کے بعد اسے جاری بھی رکھنا چاہتا ہوں صرف اپنی ذات تک۔ اور اس کے خلاف مہم بھی چلانا چاہتا ہوں۔ عوام کو بچاؤ کے لیے۔ کیونکہ یہ چچا جیسے پہلوان تشکیل دینے میں حکومت کی طرح ناکام اور بلور کی طرح (ریل گاڑیاں) اجسام کو خستہ اور ختم شد کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اللہ کرے اویس لوڈ شیڈنگ کی رفتار سے تازہ ، شگفتہ، سلیس ۔ عام فہم اور دل بہلانے والا ادب لکھتے رہیں۔ اور ہم ان کی تحریریں پڑھنے کے لیے یو۔پی۔ایس لگا کر سرمایہ داروں (جو کہ سیاست دان یا ان کے گھر والے ہوتے ہیں) کی آمدنی بڑھائیں۔ اور پڑھ پڑھ کر لطف اندوز ہوں۔ تب چاہے محترمہ برق نہ بھی آئے لیکن ذہنی فرار تو ممکن ہو گا ناں!
ورنہ برقیات کے محکمے سے رسد تو آئے گی نہیں۔ اور ہم یو۔پی۔ایس کے بغیر مکھیاں مارتے رہیں گے۔
 
چچا ڈھکن جہاں ایک مستند اور معتبر پہلوان تھے، وہاں وہ ایک ناکام و نامراد شوہر بھی تھے۔​
ان کی ازدواجی زندگی ہمیشہ اٹھک بیٹھک کا شکار رہی ۔ ان کی بیگم ان کیلئے مسلسل دردِ سر بنی رہیں ۔​
بات بات پر انہیں روئی کی طرح دھنک کر رکھ دیتیں ۔​
چچا سے ان کے چھ بلونگڑے پیدا ہوئےجن میں تین نر اور تین مادہ تھے۔​
اس سے تو بہتر تھا کہ وہ اینٹ پیدا کر دیتے وہ کم از کم دیوار بنانے کے کام تو آ جاتی۔​
"جب گھوڑے کو تھان پر گھاس نہ ملےتو وہ مجبور ہو کر ادھر ادھر منہ مارنے لگتا ہے۔"​
ان کی بیگم بھی کچی گولیاں نہ کھیلی ہوئی تھی بلکہ اخروٹ کھیلی ہوئی تھی،​
مارچ پاسٹ کرتی ہوئی وہاں سے رخصت ہوئیں اور میکے جا کر گوشہ نشین ہو گئیں ۔​
شاید صبح کے بھولے ہوئے کی طرح شام کو واپس آجائیں مگر وہ بھی گدھی کی طرح ضد کی پختہ تھیں​
انہوں نے بذریعہ موبائل متعدد پیغامات بھجوائے کہ مہاریں موڑ لیں اور پویلین واپس آ جائیں مگر اس اللہ کی بندی پر کوئی اثر نہیں ہوا​
اتنی ذلت و خواری تو انہوں نےکبھی کشتی لڑتےوقت بھی نہیں اٹھائی تھی جتنی کہ انہیں بیگم کے باغی ہوجانے پر اٹھانی پڑی تھی۔​
ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے، جبکہ بیگم بچوں کی ماں ہوتی ہے،​
بچے ان کی سائیکل کے ساتھ ساتھ دوڑتے رہے۔​
کس جملے کو چھوڑوں اور کس کو کیا قرار دوں۔ حالانکہ قرار دینے کے لیے بھی مشتاق یوسفی ہی ہونا چاہیے۔ آج مجھے ایسے ہی لگا جیسا کہ بخاری، مشتاق یوسفی یا ابن انشاء کو پڑھ رہا ہوں۔ مزید پختگی آ جائے گی۔ اگر یہ آپ کی تازہ ترین اور آخری تحریر نہیں تو پختگی آ چکی جناب۔ اب اگر آپ کی تخلیقی تحریروں کی رفتار لوڈ شیڈنگ سے کم ہو جائے تو آپ ایک بہترین نقاد یا محقق بننے کے اہل ہیں۔ اور یہ آخری کیل ہو گا۔
 
ورنہ شفقت چیمہ بن جاتا ہے۔۔۔ ۔۔​
ان کے انگ انگ سے شرافت یوں ٹپکتی تھی کہ جیسے پھلوں سے رس ٹپکتا ہےمگر کچھ دنوں سے ان میں تبدیلیاں نظر آنے لگیں ۔ انہوں نے نہ صرف موالیوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا بلکہ ان کے اڈوں پر بھی آنے جانے لگے۔ کبھی وہ بھنگ کیلئے سائیں مٹھو کے دربار پر چلے جاتے تو کبھی چرس کے دم لگانےسائیں سکھو کے دربار کا رخ کرتے۔​
آخر رقص کرتےکرتے امراؤ جان ادا کی طرح لڑکھڑا کر زمین پر گرے اور انٹاغفیل ہو گئے۔۔​
انہوں نے نہائی ہوئی بھینس کی طرح سر کو دو تین جھٹکے دئیےاور اٹھ کھڑے ہوئے۔​
اس موقع پر بیگم نے انہیں خوب لعن طعن کی اور انہیں کچھ غیرت کھانے کو کہا ۔​
ہ بیگم کے سامنے تو رستم کی بھی چوہے جیسی حیثیت نہیں ہوتی​
بلکہ حقہ پانی اور بجلی گیس بھی بند کر دی جائے گی۔​
اگر پھٹکیں تو بے شک رنڈوے ہو جائیں۔۔۔ ۔۔​
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ بیگم کی بدعا انہیں لے ڈوبی ہے جبکہ کچھ دیندار بزرگوں کا خیال تھا کہ ان کا وقت پورا ہو گیا تھا ۔​
کیونکہ ایسے نادر نمونے صدیوں بعد تولد ہوتے ہیں ۔​
حق مغفرت کرے ، عجب آزاد پہلوان تھا
وہی ہوا ناں! صرف چائے پر تکیہ نہ بلکہ بزم آرائیاں اور جگہوں پر بھی تھیں۔
پھر شاید وہ کہیں پھٹکی ہوں گی جو یہ نتائج اس طرح سے سامنے آئے۔
حق نُصرت کرے ، عجب آزاد مصنف ہے
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
وہی ہوا ناں! صرف چائے پر تکیہ نہ بلکہ بزم آرائیاں اور جگہوں پر بھی تھیں۔
پھر شاید وہ کہیں پھٹکی ہوں گی جو یہ نتائج اس طرح سے سامنے آئے۔
حق نُصرت کرے ، عجب آزاد مصنف ہے
کیا بات ہے جناب آپ کی
چھا گئے ہو رزاق بھائی جان چھا گئے ہو
میری تحریر کی تعریف تو سبھی کرتے ہیں ، مگر میری تحریر پر تبصرہ اور وہ بھی نہایت اعلی تبصرہ صرف آپ ہی کرتے ہیں
جزاک اللہ جناب جزاک اللہ
میں سبھی سے یہی کہتا ہوں اکثر کے میری تحریر کی خوبیوں خامیوں کی نشاندہی کریں ، تاکہ مجھے معلوم ہو کہ میں نے کہاں زیادہ اچھا لکھا اور کہاں خامی رہ گئی۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے بھائی جان ، اللہ آپ کو بہترین جزادے
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
یہ تو ہونا ہی تھا۔ آپ نے سمجھا کہ آپ کا خاکہ بنانے کے لیے سارہ خان کو بھی اتنے سینکڑوں الفاظ اختراع کرنا پڑیں گے۔ جبکہ آپ تو ایک چابی کی مار تھے۔ جس سے پیپسی کا چھوٹا سا ڈھکن کھولا جاتا ہے۔
:laugh::laugh::laugh::laugh::laugh::laugh:
پھبتیاں کسنے کے تمہی استاد نہیں ہو چھوٹے غالبؔ
کہتے ہیں اردو محفل میں کوئی عبدالرزاق قادری بھی ہے
 
غالب بھائی! آپ بھی فرانسیسی مصنف "الیگذینڈر ڈوما" نکلے۔
آپ اب اپنا نام "چھوٹا الیگذینڈر ڈوما" بھی رکھ سکتے ہیں۔ :)
ایک بات بتائیے چچا ڈھکن کوئی حقیقی کردار تھے یا افسانوی۔ اس کے بعد تبصرہ وکروں گا۔
 
جناب چھوٹاغالبؔ
بھائی ! آپ کتنا پڑھتے ہوں گے؟ کیا ہم اندازہ کرنے کے قابل ہیں؟
کیونکہ ایک دو کتاب پرھ کر تو ایک دو صفحہ ہی تشکیل دیا جا سکتا ہے!
وہ بھی پھر تخلیقی اور تخلیقی بھی پُر مزاح اور عرق ریزی والے کردار؟
منتظر
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
تصیح کروں گا بھائی جان۔ مداری کے ہیرو کا نام ناصر ادیب نہیں بلکہ ناصر عظیم تھا۔
ادیب عظیم ہی ہوتا ہے۔ ویسے بھی اب ہم عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں اپنا نام بھی مکمل یاد رکھنا عذاب ہے۔ :) مذاق برطرف شکریہ تصحیح کا :)
 
یار چھوٹاغالبؔ ۔۔۔۔۔! ایک تو مجھے "ملکوں ملکوں ڈھونڈنے سے" وہ سمائیلیز نہیں ملیں۔ جنہیں مَیں ناپسند کر گیا تھا۔ چڑیا گھر کے بندر کو دوسرے دن سمجھ آتی ہے تو مجھے کئی دنوں کے بعد احساس ہوا کہ "ناپسند" کرنا یا "غیر متفق" ہونا ہتک تھی۔ لیکن"جدوں عشقے دا ول سانوں آیا" تے سمائیلیز پردیسی ہو گیاں والی مثال صادق (سٹینڈرڈ چارٹرڈ صادق پاکستان) آتی ہے۔ شاید ٹی وی والوں کی طرح ریٹنگ کے چکروں میں سمائیلیز کا جنازہ نکلوا دیا۔ جس طرح اخلاقیات کا نکلتا جا رہا ہے۔ مزید برآں شکوہ ہے کہ مجھے ٹیگ کرنا ہی چھوڑ دیا۔ مَیں نے تو کبھی فورمز کو خود چیک ہی نہیں کیا۔ جب دنیا کے دیگر دھندوں سے اُکتا گیا تو سرِ شام آپ کی یاد آئی اور آپ کے دھاگوں میں جھانکا۔ چچا نیک اختر کے اور ایک دوسرے دھاگے میں آپ کو جا ڈھونڈا۔ اگر اب بھی ہمارے دکھی دلوں کو بہلانے کا سامان کرنے والا ہمیں ٹیگ نہیں کرے گا تو ہم شکوہ لکھ ماریں گے۔
 
Top