چپ ہوں کے مگر بات اشاروں میں کریں گے - سعید الرحمن سعید

چپ ہوں گے مگر بات اشاروں میں کریں گے
دم گھٹ کے نہ ہم عشق کے بیمار مریں گے


وہ وقت قریب آیا ہے جب شہرِ بتاں میں
سب اہل ِ وفا اپنے ہی سائے سے ڈریں گے


پیراہن ِ صد چاک چھپائیں گے جہاں سے
دنیا میں تری ، فقر کو عریاں نہ کریں گے


اس باغ کے ہر پھول نے یہ عزم کیا ہے
کانٹوں کے دہن شبنم و خوشبو سے بھریں گے


رکھتے ہیں اسی واسطے ہم شمع کو روشن
پروانہ صفت شعلے سے لپٹیں گے مریں گے


پھر دشت ِ محبت میں سعید اہل ِ جفا بھی
آئیں گے نظر ہم جو قدم اپنا دھریں گے


سعید الرحمن سعید
 
آخری تدوین:
کیا کہنے سعید بھائی، بہت خوب
وہ وقت قریب آیا ہے جب شہرِ بتاں میں
سب اہل ِ وفا اپنے ہی سائے سے ڈریں گے

پیراہن ِ صد چاک چھپائیں گے جہاں سے
دنیا میں تری ، فقر کو عریاں نہ کریں گے

اس باغ کے ہر پھول نے یہ عزم کیا ہے
کانٹوں کے دہن شبنم و خوشبو سے بھریں گے

رکھتے ہیں اسی واسطے ہم شمع کو روشن
پروانہ صفت شعلے سے لپٹیں گے مریں گے
 
چپ ہوں گے مگر بات اشاروں میں کریں گے
دم گھٹ کے نہ ہم عشق کے بیمار مریں گے


وہ وقت قریب آیا ہے جب شہرِ بتاں میں
سب اہل ِ وفا اپنے ہی سائے سے ڈریں گے


پیراہن ِ صد چاک چھپائیں گے جہاں سے
دنیا میں تری ، فقر کو عریاں نہ کریں گے


اس باغ کے ہر پھول نے یہ عزم کیا ہے
کانٹوں کے دہن شبنم و خوشبو سے بھریں گے


رکھتے ہیں اسی واسطے ہم شمع کو روشن
پروانہ صفت شعلے سے لپٹیں گے مریں گے


پھر دشت ِ محبت میں سعید اہل ِ جفا بھی
آئیں گے نظر ہم جو قدم اپنا دھریں گے


سعید الرحمن سعید
اس باغ کے ہر پھول نے یہ عزم کیا ہے
کانٹوں کے دہن شبنم و خوشبو سے بھریں گے



کیا کہنے بہت عمدہ سعید بھائی
 
Top