میں جب بچہ تھا​
تو اکثر​
کھلونے ٹوٹ جاتے تھے​
میرے رونے پہ​
ماں آکر کھلونے جوڑ دیتی تھی​
سنا ہے ماں سے بھی بڑھ کر​
تجھے الفت ہے بندوں سے​
تو​
آ کے جوڑ دے یا رب​
میں خود کو توڑ بیٹھا ہوں​

از قلم : ملک محمد اسد​
 
تیرا کُن سنوں کر معجزہ
تیری ذات سے کیا بعید ہے
تُو جو چاہے پل میں سدھار دے
میرا جتنا بگڑا نصیب ہے
میری بگڑی پل میں بنا دے نہ
مجھے پھر سے مجھ سے ملا دے نہ
فقط ایک کُن کا سوال ہے

محض ایک بھیک عطاء کرو
میرے چارہ گر میرے چارہ ساز
مجھے درد سے رہا کرو
تُو جو ماں سے بڑھ کے ہے چاہتا
رہوں کیوں میں پھر بھی بلکتا
تیرے بس میں ہے میرے مالکا
فقط ایک کُن کا سوال ہے

میرے لفظ بکھرے ہوئے سہی
میری بے ربط سی دعا سہی
تجھے دل کا حال پتہ تو ہے
تجھے میرے درد پتہ تو ہیں
کہ میں لاکھ بد، برا سہی
تیرے درد پہ آیا ہوں بھیک دے
فقط ایک کُن کا سوال ہے

از قلم: ملک محمد اسد
 
عالم عشق ہے یہ سوز و زیاں سے لبریز​
داستاں اسکی ہے بھنبھور و کنعاں سے لبریز​
یا تو ہے موت یا دیوانگی انجام اس کا​
کبھی منصور کی سولی، کبھی شوق تبریز​

طالب اصلاح​
ملک محمد اسد​
 
اور ایک غزل احباب کی خدمت میں​

تم نے سوچا ہی نہ تھا ہجر کے بارے پاگل​
ننگے پاوں ہیں اور تلوار کے دھارے، پاگل​

اس قدر تیرگی میں کیسے ٹھکانہ ڈھونڈیں؟​
کون دیتا ہے فقیروں کو سہارے پاگل​

عمر بھر کون بھلا ساتھ تمہارا دیتا؟​
تم تو بھولے ہو، دیوانے ہو، بیچارے پاگل​

نقد ڈھونڈے سے جہاں نیند میسر نہ ہوں​
واں تمہیں خواب ہیں درکار ادھادرے؟ پاگل!​

سانس دی، روح دی، دھڑکن دی، زندگی دی اسد​
کس قدر کم ہیں محبت کے خسارے، پاگل​

از قلم: ملک محمد اسد​
 
ماں مجھے نیند کیوں نہیں آتی؟​
ماں، مجھے چین کیوں نہیں ملتا؟​
ماں، مجھے خواب کیوں نہیں آتے؟​
باتیں کرتا ہوں رات بھر لیکن​
در و دیوار چپ کیوں رہتے ہیں؟​
یہ کوئی بات کیوں نہیں کرتے؟​
ماں​
عجب حال ہے مرا کہ مجھے​
دنیا بھر کی دوائیں کھا کر بھی​
کروٹیں بس نصیب ہوتی ہیں​
ماں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔​
مجھے اب تو ایسا لگتا ہے​
نیند لانے کو، چین پانے کو​
مجھَے اب بس دعاء کی حاجت ہے​
مجھ کو اس بیوفا کی حاجت ہے​

از قلم: ملک محمد اسد​
 

الف عین

لائبریرین
عزیزم ایک ایک کر کے پیش کریں تو ان پر گفتگو ہو سکے۔ یہ ایک ساتھ کئی تخلیقات پوسٹ کرنے سے سب کے لیے مسئلہ ہو گا۔
میں پہلی نظم پر ہی غور کر رہا تھا کہ اس کا عنوان ’چند عروض‘ سے کیا مراد ہے۔ بد میں پتہ چلا کہ نیچے مزید تخلیات بھی ہیں۔
پہلی نظم درست ہے، بحر میں بھی ہے۔ بس
’میرے رونے پہ‘
وزن میں نہیں آتا، ’مرے رونے پہ‘ آتا ہے۔ عروض میں ان باریکیوں کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔
باقی تخلیقات الگ الگ لڑیوں میں پوسٹ کریں۔
احباب بھی یہاں محض پہلی نظم پر اظہار خیال کریں۔
 
Top