چند سوالات

مزمل حسین

محفلین
السلام علیکم کے بعد عرض ہے کہ لفظ "قدر" کا استعمال د مفتوح اور د ساکن کے ساتھ مشاہدے میں آیا ہے. دونوں کا فرق واضح کر دیں.جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں "قدر" د مفتوح کے ساتھ کسی چیز کی مقدار کو ظاہر کرتا ہے (تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں) اور د ساکن کے ساتھ کسی شے کی سگنیفیکنس/اہمیت کے لیے استعمال ہوتا ہے. برائے کرم یہ کنفیوژن دور کردیں. اور "گسل" کا وزن و صحیح تلفظ بھی بتا دیں. نیز "مزمل" جس کا وزن ز پر تشدید کے ساتھ 222 ہے، کیا اسے بغیر تشدید یعنی فعولن پر وزن کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
 
قدر جہاں تک میں سمجھا ہوں تو ایک تو مقدار کی صورت ہے گویا اس قدر جس میں دال ساکن نہیں ہوتی
دوسری جیسے کہ قدر مشترک اس میں دال ساکن ہوتی ہے صورت اقدار یعنی کیسی ایک خاصیت کا مشترک ہونا
''گسل'' جیسا کہ جاں گسل میں ہے تو ''مفا''
مزمل 221 کے وزن پر ہوتا

یاد رکھیے مزمل صاحب کہ میں صرف اپنی مشق کے لیے یہاں اُلٹی سیدھی باتیں لکھتا رہتا ہوں ، اُستاد محترم تشریف لاتے ہی ہوں گے ، جواب اُنہی سے ملے گا
شاد رہیے
 

محمد وارث

لائبریرین
السلام علیکم کے بعد عرض ہے کہ لفظ "قدر" کا استعمال د مفتوح اور د ساکن کے ساتھ مشاہدے میں آیا ہے. دونوں کا فرق واضح کر دیں.جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں "قدر" د مفتوح کے ساتھ کسی چیز کی مقدار کو ظاہر کرتا ہے (تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں) اور د ساکن کے ساتھ کسی شے کی سگنیفیکنس/اہمیت کے لیے استعمال ہوتا ہے. برائے کرم یہ کنفیوژن دور کردیں. اور "گسل" کا وزن و صحیح تلفظ بھی بتا دیں. نیز "مزمل" جس کا وزن ز پر تشدید کے ساتھ 222 ہے، کیا اسے بغیر تشدید یعنی فعولن پر وزن کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

قدر کے بارے میں آپ نے درست کہا، یہ دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔

قدر، دال ساکن کے ساتھ عزت، بزرگی، خوبی، اہمیت وغیرہ کیلیے ہے، جیسے کہ سورة القدر میں دال ساکن کے ساتھ ہے۔

قدَر، دال متحرک کے ساتھ، مقدار، اندازہ، تقدیر، وغیرہ کیلیے مستعمل ہے، مثال آپ نے خود لکھ دی۔

گسل کا وزن، 1 2 یا فَعِل یا مفا یا فعو ہے جہسے غالب

ع - غم اگرچہ جاں گسل ہے، پہ کہاں بچیں کہ دل ہے

مزمل جیسا کہ سورة مزمل میں ہے، مز زم مِل ہے یعنی زے اور میم دونوں پر تشدید ہے سو اسکا صحیح وزن مفعولن یا 2 2 2 ہے۔ میرے نزدیک م زم مل یا فعولن یا 1 2 2 صحیح نہیں ہے۔
 

مزمل حسین

محفلین
استاد محترم میں آپ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں آپ نے تفصیلی جواب سے نوازا.
محمد اظہرنذیر صاحب آپ کا بھی شکریہ
 

مزمل حسین

محفلین
استاد محترم ایک اور مشکل آسان کر دیجیے.
خضر اور خضر پر روشی ڈال دیں.
ایک تو ہوا حضرت خضر علیہ السلام کا اسم گرامی (کیا کیا خضر نے سکندر سے) جو خ ساکن کے ساتھ مستعمل ہے جبکہ خ مفتوح کے ساتھ جو خضر ہے اس کا مطلب میری عقل دبیز کے مطابق 'سبز' بنتا ہے (اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت). اس خضر کامطلب ذرا تفصیل سے بتا دیں کہ ایک اورصاحب نے یہ قافیہ باندھا ہے جس شعر کی مجھے سمجھ نہیں آئی (رہنما تو بہت سے گزرے ہیں....رہنمائی خضر نہیں ہوتی) اس غزل کے دوسرے قوافی سحر ،بسر، نظر،خبر ہیں.
اس شعر کا مطلب بھی سمجھا دیں.
اللہ پاک آپ کو دنیاو آخرت میں بھلائی عطا فرمائے. آمین
 

محمد وارث

لائبریرین
لغت نامہ دہخدا کے مطابق خِضر اور خِضَر یعنی خ کی کسرہ اور ض ساکن یا متحرک کے ساتھ دونوں پیغمبر ع کے نام ہیں، شاعری سے مثالیں آپ نے خود ہی لکھ دی ہیں اور اسی طرح مستعمل ہیں۔ غالب کے مصرعے کیا کیا خضر نے۔۔۔۔۔میں ض ساکن اور حالی کے مصرعے اک بزرگ آتے ہیں۔۔۔۔۔۔میں یہی پیغمبر ع کا نام ہے اور ض متحرک ہے اور حالی کی غزل میں بھی یہی قافیہ ہے۔

خَضَر، خ کی فتح کے ساتھ کا مطلب سبز ہے جیسے گنبد خضرا میں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
استاد گرامی
کیا "لڑنا" اور "بڑھنا" کسی مطلع کے قوافی بندھ سکتے ہیں؟

بن سکتے ہیں لیکن اس شکل میں ڑ قافیہ کا حصہ بن جائے گی اور اس سے پہلے زبر کی حرکت اور پھر باقی غزل میں اس قید کو نبھانا پڑے گا اور ایسے ہی قوافی لانے ہونگے جیسے اڑنا، سڑنا۔ ظاہر ہے تنگ قافیہ ہے،اور شاعر کو ایسے پانچ سات قوافی ڈھونڈنے کیلیے بہت مشقت اٹھانی پڑے گی۔
 

مزمل حسین

محفلین
اساتذہ کرام سے گذارش ہے کہ "مزین" کا وزن و تلفظ بتا دیں. میں اسے فعولن پر وزن کرتا ہوں لیکن دل میں کھٹکا سا ہوا کہ یہ مفعولن یا مزمل کے وزن پر تو نہیں؟
اور کیا "لڑنا" اور "بڑھنا" قوافی ہو سکتے ہیں؟
 

مزمل حسین

محفلین
شکریہ استاد گرامی
میں نے سوچا آپ کی نظر کرم اب اس دھاگے پر شاید نہ پڑے
اس لیے انتظار کے بعد ایک نیا دھاگہ تخلیق کر دیا جس کے معذرت خواہ ہو.
ڑ کی شرط اور اس سے پہلے حرف پر زبر کی قید کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی پوچھا تھا. بڑھنا میں اگرچہ ھ لا وزن ہے پھر بھی پوچھنا مناسب لگا کہ اس کا کوئی ایفیکٹ تو نہیں.
 

الف عین

لائبریرین
اس م
بن سکتے ہیں لیکن اس شکل میں ڑ قافیہ کا حصہ بن جائے گی اور اس سے پہلے زبر کی حرکت اور پھر باقی غزل میں اس قید کو نبھانا پڑے گا اور ایسے ہی قوافی لانے ہونگے جیسے اڑنا، سڑنا۔ ظاہر ہے تنگ قافیہ ہے،اور شاعر کو ایسے پانچ سات قوافی ڈھونڈنے کیلیے بہت مشقت اٹھانی پڑے گی۔
اس میں بھی ‘بڑھنا‘ قافیہ میں درست نہیں سمجھتا۔ تو چڑھنا وغیرہ بھی برادری باہر ہو جائیں گے۔
کس سے تنگیِ قوافی کی شکایت کیجے؟
 

محمد وارث

لائبریرین
اس م

اس میں بھی ‘بڑھنا‘ قافیہ میں درست نہیں سمجھتا۔ تو چڑھنا وغیرہ بھی برادری باہر ہو جائیں گے۔
کس سے تنگیِ قوافی کی شکایت کیجے؟

واقعی اعجاز صاحب تنگیِ قوافی کی شکایت بھلا کس سے کیجیے :)

ویسے آپ کی اس بات نے مجھے شک میں ڈال دیا تھا سو بحر الفصاحت سے رجوع کیا اور خوش قسمتی سے شروع ہی میں دو تین اشعار مل گئے جن میں دو چشمی ھ قافیہ تھی

انشاء اللہ خان انشاء

پی آب حیات عیش کے گھونٹ
یک بارگی ناچنے لگے اونٹ

اور مرزا اختر خان شباب

رہ گیا میں پی کے لوہو کا سا گھونٹ
یعنی دیکھوں بیٹھے ہے کس کل یہ اونٹ

اور سودا

مال صندوق میں رہے کس بھانت
تن کے کپڑوں پہ چوروں کا ہے دانت

ویسے یہ آخری شعر تو پاکستانی حالات اور یہاں کے سیاستدانوں پر صادق آتا ہے :)
 
Top