پیاس کہتی تھی کہ مجھ سے کوئی دریا نکلے

نوید ناظم

محفلین
پیاس کہتی تھی کہ مجھ سے کوئی دریا نکلے
لیکن ایسا نہ ہوا، پھر وہی صحرا نکلے

مجھ کو معلوم ہے رشتوں کا تقدس لیکن
اب تو اللہ کرے کوئی نہ اپنا نکلے

گھر بلندی پہ بنانے سے نہیں ہوتا کچھ
کوئی انسان جب اندر سے ہی بونا نکلے

وہ مجھےچھوڑ کے جاتا ہے تو بے شک جائے
جو لگا رہتا ہے دل کو، وہ تو کھٹکا نکلے!

پیچھے فرعون ہے اور نیل پہ پہنچا ہوں میں
آگے موسیٰؑ بھی نہیں ہیں کہ جو رستہ نکلے
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
واہ واہ! نوید بھائی اچھی غزل ہے!
حشو و زوائد سے پاک اور زبان و بیان کی پختگی نظر آرہی ہے۔
نوید بھائی ، بس آخری شعر کے نفسِ مضمون کو دیکھ لیجئے ۔ یہاں توکل علی اللہ کے بجائے کوئی اور معاملہ نظر آرہا ہے جو آپ کا مقصود نہیں ۔
یا پھر میں ہی شعر تک نہین پہنچ پارہا ؟!
 

الف عین

لائبریرین
جو لگا رہتا ہے دل کو، وہ تو کھٹکا نکلے
وہ تو محض وَتَ تقطیع ہو رہا ہے جس سے روانی متاثر ہو رہی ہے
وہ جو دل کو لگا رہتا ہے، وہ دھڑکا نکلے
کیسا رہے گا. ویسے 'تو' سے مفہوم زیادہ واضح ہوتا ہے
باقی مجھے سب درست لگ رہا ہے
 

یاسر شاہ

محفلین
عزیزم نوید السلام علیکم !

امید ہے بخیر و عافیت ہونگے - میں کسی دردناک غزل کہنے والے سے یہ پوچھ لیا کرتا ہوں -
مان نہ مان میں تیرا مہمان کی مصداق کچھ میری بھی گزارشات پیش خدمت ہیں- امید ہے گراں نہ گزرینگی :

پیاس کہتی تھی کہ مجھ سے کوئی دریا نکلے
لیکن ایسا نہ ہوا، پھر وہی صحرا نکلے


مصرعہ اولیٰ میں غلو زیادہ محسوس ہوا -
ایک متبادل تجویز :

پیاس کہتی تھی کہیں سے کوئی دریا نکلے
نہ ہوا یوں مگر آگے کئی صحرا نکلے

---------

مجھ کو معلوم ہے رشتوں کا تقدس لیکن
اب تو اللہ کرے کوئی نہ اپنا نکلے

طنز کی شدید چوٹ ہے -اس قدر بھی نہ چاہیے -
--------
گھر بلندی پہ بنانے سے نہیں ہوتا کچھ
کوئی انسان جب اندر سے ہی بونا نکلے

واہ صاحب واہ -بہت خوب
-------
وہ مجھےچھوڑ کے جاتا ہے تو بے شک جائے
جو لگا رہتا ہے دل کو، وہ تو کھٹکا نکلے!

جیسا کہ الف عین صاحب نے فرمایا " کو وہ تو " ایک ساتھ بندش کو سست کر رہے ہیں جبکہ شروع میں "جو "بھی ہے -ایک تجویز میری بھی حاضر ہے :

وہ مجھےچھوڑ کے جاتا ہے تو بے شک جائے
یہ جو اک دل کو لگا رہتا ہے کھٹکا ' نکلے

----------

پیچھے فرعون ہے اور نیل پہ پہنچا ہوں میں
آگے موسیٰؑ بھی نہیں ہیں کہ جو رستہ نکلے

یہ شعر آپ کا مجھے پسند آیا تھا -آج کل کے حالات کا بھی بالکل صحیح ترجمان ہے کہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہو جب حضرت مہدی آئیں گے تو دیکھا جا ئے گا -

مگر ظہیر صاحب نے نہایت پیارا نکتہ اٹھایا ہے جو اس تخیّل کی اصلاح بھی ہے -

خطبات حکیم الامّت (از مولانا اشرف علی تھانوی )میں ایک حکایت بھی پڑھی تھی اس مفہوم کی کہ ایک بڑھیا کسی بزرگ کے پاس اندھا نومولود بچہ لائی کہ اس کی بینائی کا کچھ کریں -حضرت نے اس بڑھیا کو سختی سے جھڑک دیا کہ میں کوئی عیسیٰ علیہ السلام ہوں -بڑھیا منہ لٹکائے واپس روانہ ہوئی تو فوراً بزرگ کو کشف میں تنبہ ہوا اور بار بار یہی وجد میں آ کر کہتے "ما کنیم -ما کنیم -ما کنیم ...."- بڑھیا واپس آ گئی کہ حضرت فرما رہے ہیں ہم کریں گے -بہرحال بزرگ نے بچے کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر دعا فرمائی جس سے بچہ ٹھیک ہوگیا -بعد میں مریدوں نے پوچھا کہ حضرت آپ یہ کیا فرما رہے تھے "ما کنیم -ما کنیم -ما کنیم ...."-فرمایا یہ مجھے غیبی ڈانٹ پڑی تھی -اب لطف یہ ہے کہ "ما کنیم " فارسی عبارت کے د ومطلب ہیں یعنی ہم [ہی] کرتے ہیں اور ہم [ہی] کریں گے -مراد یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت بھی ہم نے کیا تھا اور اب بھی ہم ہی کریں گے -مقصد حکایت کا یہ ہے کہ مؤثر حقیقی تو اللہ جلّ جلالہ کی ذات ہے -

چناچہ صحابہ کی شان میں جو اقبال نے کہا ہے :

دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

یہ جنگ بھی صحابہؓ نے غالباً حضورﷺ کے وصال کے بعد لڑی تھی -

لکھتے رہیے - خوب اشعار کہتے ہیں آپ -اللہ کرے زور قلم اور زیادہ-


یاسر
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
اب لطف یہ ہے کہ "ما کردیم " فارسی عبارت کے تین مطلب ہیں یعنی ہم نے [ہی]کیا 'ہم [ہی] کرتے ہیں اور ہم [ہی] کریں گے -
"ما کردیم" کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ "ہم نے کیا"۔

"کردن" مصدر سے "کردیم" ماضی مطلق متکلم جمع کا صیغہ ہے۔ کردن سے مضارع کا صیغہ (جس میں حال اور مستقبل دونوں کے مطلب ہوتے ہیں) "کُن" ہے اور ہم کرتے ہیں یا ہم کریں گے کے لیے یہ الفاظ "ما کنیم" ہوتے۔
 

نوید ناظم

محفلین
واہ واہ! نوید بھائی اچھی غزل ہے!
حشو و زوائد سے پاک اور زبان و بیان کی پختگی نظر آرہی ہے۔
نوید بھائی ، بس آخری شعر کے نفسِ مضمون کو دیکھ لیجئے ۔ یہاں توکل علی اللہ کے بجائے کوئی اور معاملہ نظر آرہا ہے جو آپ کا مقصود نہیں ۔
یا پھر میں ہی شعر تک نہین پہنچ پارہا ؟!
زہے نصیب، بہت شکریہ ۔۔۔ جی شاید مجھ سے بات واضح نہ ہو سکی شعر میں، اسے دیکھوں گا۔
 

نوید ناظم

محفلین
جو لگا رہتا ہے دل کو، وہ تو کھٹکا نکلے
وہ تو محض وَتَ تقطیع ہو رہا ہے جس سے روانی متاثر ہو رہی ہے
وہ جو دل کو لگا رہتا ہے، وہ دھڑکا نکلے
کیسا رہے گا. ویسے 'تو' سے مفہوم زیادہ واضح ہوتا ہے
باقی مجھے سب درست لگ رہا ہے
بہت شکریہ سر،
آپ کا تجویز کردہ مصرع لے لیتا ہوں۔
 

نوید ناظم

محفلین
عزیزم نوید السلام علیکم !

امید ہے بخیر و عافیت ہونگے - میں کسی دردناک غزل کہنے والے سے یہ پوچھ لیا کرتا ہوں -
مان نہ مان میں تیرا مہمان کی مصداق کچھ میری بھی گزارشات پیش خدمت ہیں- امید ہے گراں نہ گزرینگی :

پیاس کہتی تھی کہ مجھ سے کوئی دریا نکلے
لیکن ایسا نہ ہوا، پھر وہی صحرا نکلے


مصرعہ اولیٰ میں غلو زیادہ محسوس ہوا -
ایک متبادل تجویز :

پیاس کہتی تھی کہیں سے کوئی دریا نکلے
نہ ہوا یوں مگر آگے کئی صحرا نکلے

---------

مجھ کو معلوم ہے رشتوں کا تقدس لیکن
اب تو اللہ کرے کوئی نہ اپنا نکلے

طنز کی شدید چوٹ ہے -اس قدر بھی نہ چاہیے -
--------
گھر بلندی پہ بنانے سے نہیں ہوتا کچھ
کوئی انسان جب اندر سے ہی بونا نکلے

واہ صاحب واہ -بہت خوب
-------
وہ مجھےچھوڑ کے جاتا ہے تو بے شک جائے
جو لگا رہتا ہے دل کو، وہ تو کھٹکا نکلے!

جیسا کہ الف عین صاحب نے فرمایا " کو وہ تو " ایک ساتھ بندش کو سست کر رہے ہیں جبکہ شروع میں "جو "بھی ہے -ایک تجویز میری بھی حاضر ہے :

وہ مجھےچھوڑ کے جاتا ہے تو بے شک جائے
یہ جو اک دل کو لگا رہتا ہے کھٹکا ' نکلے

----------

پیچھے فرعون ہے اور نیل پہ پہنچا ہوں میں
آگے موسیٰؑ بھی نہیں ہیں کہ جو رستہ نکلے

یہ شعر آپ کا مجھے پسند آیا تھا -آج کل کے حالات کا بھی بالکل صحیح ترجمان ہے کہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہو جب حضرت مہدی آئیں گے تو دیکھا جا ئے گا -

مگر ظہیر صاحب نے نہایت پیارا نکتہ اٹھایا ہے جو اس تخیّل کی اصلاح بھی ہے -

خطبات حکیم الامّت (از مولانا اشرف علی تھانوی )میں ایک حکایت بھی پڑھی تھی اس مفہوم کی کہ ایک بڑھیا کسی بزرگ کے پاس اپنا اندھا نومولود بچہ لائی کہ اس کی بینائی کا کچھ کریں -حضرت نے اس بڑھیا کو سختی سے جھڑک دیا کہ میں کوئی عیسیٰ علیہ السلام ہوں -بڑھیا منہ لٹکائے واپس روانہ ہوئی تو فوراً بزرگ کو کشف میں تنبہ ہوا اور بار بار یہی وجد میں آ کر کہتے "ما کردیم -ما کردیم -ما کردیم ...."- بڑھیا واپس آ گئی کہ حضرت فرما رہے ہیں ہم کریں گے -بہرحال بزرگ نے بچے کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر دعا فرمائی جس سے بچہ ٹھیک ہوگیا -بعد میں مریدوں نے پوچھا کہ حضرت آپ یہ کیا فرما رہے تھے "ما کردیم -ما کردیم -ما کردیم ...."-فرمایا یہ مجھے غیبی ڈانٹ پڑی تھی -اب لطف یہ ہے کہ "ما کردیم " فارسی عبارت کے تین مطلب ہیں یعنی ہم نے [ہی]کیا 'ہم [ہی] کرتے ہیں اور ہم [ہی] کریں گے -مراد یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت بھی ہم نے کیا تھا اور اب بھی ہم ہی کریں گے -مقصد حکایت کا یہ ہے کہ مؤثر حقیقی تو اللہ جلّ جلالہ کی ذات ہے -

چناچہ صحابہ کی شان میں جو اقبال نے کہا ہے :

دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

یہ جنگ بھی صحابہؓ نے غالباً حضورﷺ کے وصال کے بعد لڑی تھی -

لکھتے رہیے - خوب اشعار کہتے ہیں آپ -اللہ کرے زور قلم اور زیادہ-


یاسر
آپ کے تبصرے اور تجاویز کے لیے سپاس گزار ہوں۔ بہت شکریہ۔
 

نوید ناظم

محفلین
"ما کردیم" کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ "ہم نے کیا"۔

"کردن" مصدر سے "کردیم" ماضی مطلق متکلم جمع کا صیغہ ہے۔ کردن سے مضارع کا صیغہ (جس میں حال اور مستقبل دونوں کے مطلب ہوتے ہیں) "کُن" ہے اور ہم کرتے ہیں یا ہم کریں گے کے لیے یہ الفاظ "ما کنیم" ہوتے۔
جی "ہم کریں گے" کے لیے "خواھیم کرد" بھی درست شمار ہو گا کیا؟
 

یاسر شاہ

محفلین
"ما کردیم" کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ "ہم نے کیا"۔

"کردن" مصدر سے "کردیم" ماضی مطلق متکلم جمع کا صیغہ ہے۔ کردن سے مضارع کا صیغہ (جس میں حال اور مستقبل دونوں کے مطلب ہوتے ہیں) "کُن" ہے اور ہم کرتے ہیں یا ہم کریں گے کے لیے یہ الفاظ "ما کنیم" ہوتے۔

جی وارث صاحب جزاک اللہ خیرا - عرض کیا تھا کہ حکایت کا مفہوم پیش کر رہا ہوں چونکہ حافظے کی بنیاد پہ لکھ رہا تھا - خطبات کی بھی تقریباً ٢٠ سے زاید ضخیم جلدیں ہیں -سخت دشوار ہے مذکورہ حکایت تلاش کرنا لہٰذا آپ کی بات تسلیم کئے بنا چارہ نہیں کہ میں فارسی سے کورا ہوں اور آپ فارسی دان -

اس بہانے آپ کی زیارت سے مشرف بھی ہوگئے -

تدوین کر دی-
 

الف عین

لائبریرین
یاسر کا تجویز کردہ مصرع بہتر ہے یعنی وہ کی جگہ یہ
یہ جو اک دل کو لگا رہتا ہے دھڑکا/کھٹکا نکلے
 
Top