پھول، بہار اور گلستان پر اشعار

رباب واسطی نے 'اشعار اور گانوں کے کھیل' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 6, 2018

  1. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,080
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    نظر عذابوں میں گھر گئی ہے سخن سرابوں میں آ گیا ہے
    سنا ہے اب کے بہار موسم خزاں کی باتوں میں آ گیا ہے

    یہ کیا غضب ہے کہ جس نے عہد بہار چاہا نہ عشق دیکھا
    نظام ہجر و وصال سارا اسی کے ہاتھوں میں آ گیا ہے

    بہار تو اک مغالطہ ہے خزاں کی روپوش حیرتوں کا
    جو اس طلسم جہاں سے گزرا وہ داستانوں میں آ گیا ہے

    وہ جس کے دامن میں شاعری تھی بہار لہجے کی لٹ لٹا کر
    اے رب لفظ و بیاں وہ شاعر تری پناہوں میں آ گیا ہے

    بہار کیا اب خزاں بھی دیکھے غرور حسن سخنوری میں
    جو آسمانوں میں جا بسا تھا زمیں کے قدموں میں آ گیا ہے

    بہار رت میں بچھڑ کے تجھ سے جو دل پہ گزری وہ دل ہی جانے
    ہمیں تو اتنا پتا ہے یارو لہو تک آنکھوں میں آ گیا ہے

    منور جمیل
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. عاکف آزاد

    عاکف آزاد محفلین

    مراسلے:
    12
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
     

اس صفحے کی تشہیر