پھر ہوئی "شین الف میم" خدا خیر کرے

شاکرالقادری

لائبریرین
لیجئے ایک اور ثبوت:
نظامی: هم قصه نانموده دانی هم نامه نانوشته خوانی
حافظ: که هم نادیده می‌بینی و هم ننوشته می‌خوانی
 
قافیہ

(تفصیلی مضمون کیلیے دیکھیئے قافیہ)
قافیہ کا لفظ 'قفا' یا 'قفو' سے مشتق ہے اور اسکے لغوی معنی 'پیچھے آنا والا' یا 'پیرو کار' کے ہیں، چونکہ عربی شاعری میں شعر کا اختتام قافیہ پر ہوتا ہے اسلیے اسے یہ نام دیا گیا، واضح رہے کہ فارسی اور اردو شاعری میں ضروری نہیں کہ شعر کا اختتام قافیے پر ہو، بلکہ زیادہ تر شعر کا اختتام ردیف پر ہوتا ہے جو کہ فارسی شاعروں کی ایجاد ہے اور عربی شاعری میں مستعمل نہیں۔
اصطلاح میں قافیہ حروف اور حرکات کے اس مجموعے کو کہتے ہیں جس کی تکرار مختلف الفاظ کے ساتھ شعر کے آخر یا ردیف سے پہلے آئے جیسے دمَن، چمَن، زمَن یا دِل، محفِل، قاتِل وغیرہ الفاظ کو ہم قافیہ کہا جائے گا۔
قافیہ شعر میں حسن و نغمگی و ترنم پیدا کرتا ہے اور اس سے شعر خوبصورت اور پُر لطف ہو جاتا ہے۔ عربی شاعری کے قدماء سے لیکر بیسویں صدی کے اوائل تک، قافیے کو شاعری کا جزوِ لاینفک سمجھا جاتا تھا اور جس شعر میں قافیہ نہیں ہوتا تھا اس کو سرے سے شعر ہی نہیں مانا جاتا تھا اور شعر کو شعر کہلوانے کیلیے اس میں قافیہ لانا لازم تھا جیسا کہ ہم اوپر شعر کی عروضی تعریف میں دیکھ چکے۔ اس سلسلے میں بو علی سیناکا یہ قول انتہائی مشہور ہے۔
جو مقفیٰ نہیں وہ ہمارے نزدیک شعر نہیں- بو علی سینا [16]
اور اسی طرح مشہور فارسی شاعر شیخ فرید الدین عطار کا قافیے کے متعلق یہ شعر
گر قوافی را رواجے نیست
برسرِ ہر خطبہ تاجے نیست [17]

اگر قافیے کا رواج نہ ہوتا تو کسی خطبے (کلام) کے سر پر تاج نہ ہوتا۔
اور یوں قدما اور کلاسیکی شعرا کے ہاں قافیہ شعر کا حصہ ٹھہرا، لیکن قصد کی طرح، قافیہ بھی جدید شعرا کی تنقید کی زد میں آیا، اور برِصغیر پاک و ہند میں سب سے پہلے مولانا الطاف حسین حالی نے اسکی طرف توجہ کی اور قافیے کو ادائے مطلب میں خلل انداز سمجھا اور یوں وہ ان جدید شعرا کے پیشرو ٹھہرے جو قافیے کو ایک قید سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ قافیے کی قید کی وجہ سے شاعر اپنے خیالات صحیح طور پر نظم نہیں کر سکتے ہیں اور قافیہ لانے کے چکر میں قافیے کی بھول بھلیوں میں کھو جاتے ہیں اور شعر کا مطلب فوت ہو جاتا ہے۔
ایک طرف تو قافیہ بحیثیت قید کے شعرا اور ناقدین کی تنقید کی زد میں آیا اور دوسری طرف قافیے پر قافیہ چڑھانے کی وجہ سے بھی تنقید کی زد میں آیا، بالخصوص لکھنؤ کے شعرا اور دہلی کے شعرا میں سے ابراہیم ذوق اس "قافیہ پیمائی" کیلیے خاص طور پر بدنام ہیں کہ ایک ایک غزل میں تیس تیس چالیس چالیس قافیے ہیں اور اس پر بھی بس نہیں بلکہ اسی غزل پر دو غزلہ اور سہ غزلہ لکھ ڈالا، اسلیے غالب کو کہنا پڑا تھا کہ "شاعری خیال آفرینی کا نام ہے نہ کہ قافیہ پیمائی کا"۔
بیسیوں صدی کے اوائل میں جب برصغیر میں انگریزی ادب کا زیادہ رجحان پیدا ہوا تو ہمارے شعرا کے سامنے Blank Verse یا نظمِ معّریٰ سامنے آئی جس میں قافیے سے آزادی تھی سو اردو میں نظمِ معری کہے جانے لگی جس میں وزن اور بحر کی تو پابندی کی جاتی تھی لیکن قافیے کو چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد اردو شاعری میں آزاد نظم کا چلن عام ہوا جس میں بھی وزن کی قید ہوتی ہے لیکن قافیے کی نہیں۔ نظمِ معری اور آزاد نظم میں یہ فرق ہے کہ معری میں بحر کے اراکین کو توڑا نہیں جاتا بلکہ جو معیار مقرر ہے اس کو قائم رکھا جاتا ہے لیکن آزاد نظم میں ایک شاعر بحر کے ارکان کو اپنی مرضی سے توڑ سکتا ہے اور یوں اس میں مصرعے بڑے چھوٹے ہو سکتے ہیں۔ نظم معریٰ کو تو کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی لیکن آزاد نظم اب اردو شاعری کا ایک اہم جزو ہے اور سبھی مشہور شعرا نے آزاد نظمیں کہی ہیں۔
گو جدید شعرا نے قافیے سے بے اعتنائی برتی لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ قافیہ اب بھی اسی طرح قائم ہے جیسے صدیوں پہلے قائم تھا، اردو غزل کا کوئی شعر قافیے کے بغیر شعر نہیں کہلوا سکتا اور اگر کسی شاعر کو قافیہ پسند نہیں تو وہ غزل یا رباعی یا قطعہ یا مثنوی یا قصیدہ یا پابند نظم نہیں کہہ سکتا بلکہ اسے آزاد نظم کہنی پڑے گی بلکہ اب تو آزاد نظم کے شاعر بھی آزاد نظم میں نغمگی اور ترنم کیلیے بالتزام قافیہ لاتے ہیں۔
http://ur.wikipedia.org/wiki/علم_عروض#.D9.82.D8.A7.D9.81.DB.8C.DB.81
 

فاتح

لائبریرین
فاتح میں یہاں کسی سے بحث نہیں کر رہا اپنا حاصل مطالعہ بیان کر رہا ہوں اور فی الحال میری تائید غالب کر رہا ہے :)

یہ غالب کی غیب سے مضامین کا خیال میں آنے سے کیا مراد ہے
یہاں غالب آپ کی تائید ہر گز نہیں کر رہے بلکہ آپ زبردستی ان کے شعر کو اپنا مویّد ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔۔۔ غالب نے غیب سے "مضامین" آنے کا کہا ہے نا کہ مقفی و مسجی دیوان کا نزول۔
اور یہ جوش ملیح آبادی کو کیا ہوا:
مشہور شاعر جوش ملیح آبادی اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں۔
شاعری کے باب میں بعض بزرگوں نے ایک خالص دینی مصلحت کی بناء پر، جسکی شرح کا یہاں موقع نہیں، یہ عجیب کلیہ وضع فرمایا ہے کہ صرف اس موزوں کلام پر شعر کا اطلاق ہوگا جو "بالقصد" کہا گیا ہو، اگر یہ کلیہ تسلیم کر لیا جائے تو چونکہ میں نے آج کی تاریخ تک، ایک مصرع بھی "بالقصد" موزوں کرنے کا ارتکاب نہیں کیا ہے، اس لئے آپ کو اختیارِ کامل حاصل ہے کہ میرے تمام کلام کو شاعری سے کلیۃ خارج فرما کر، میرے غیرِ شاعر ہونے کا اعلان فرما دیں، میں خوش میرا خدا خوش۔ [15]
جوش ملیح آبادی کو جو کچھ ہوا تھا اس کا اندازہ آپ ان کی اسی خود نوشت سوانح حیات "یادوں کی برات" کو پڑھ کر بحسن و خوبی لگا سکتے ہیں۔ ;)
رہی بات قصداً یا غیر قصداً موزوں (وزن میں) ہونے کی تو سالہا سال کی مشق تو انھیں اس قدر بھی قدرت بخش سکتی تھی کہ وہ اپنی عام زندگی میں بھی ادا کیا جانے والا ہر جملہ موزوں (وزن میں) ادا کرتے۔
 

فاتح

لائبریرین
لیجئے ایک اور ثبوت:
نظامی: هم قصه نانموده دانی هم نامه نانوشته خوانی
حافظ: که هم نادیده می‌بینی و هم ننوشته می‌خوانی
ایسے توارد کی تو سینکڑوں مثالیں مل جائیں گی اور صرف شاعری پر ہی کیا موقوف کہ ہم روزمرہ کی زندگی میں بھی جو جملے کہہ رہے ہوتے ہیں، ضروری تو نہیں کہ وہ جملے اس سے قبل کسی انسان نے کبھی نہ کہے ہوں۔
اس سے کیا ثابت ہوا کہ یہ الہامات یا آمد کا نزول ہے؟
 

فاتح

لائبریرین
میں کیا عرض کروں ادبیات عربی و فارسی کی تاریخ پر اگر نگاہ لطف ڈالیں تو شاید وہ ایسے کی واقعات آپ کے سامنے پیش کر دے
اور جہاں تک "مع ثبوت" کا تعلق ہے تو شاید تاریخ شعرو ادب سے متعلق کتابوں کے علاوہ کوئی ایسی شہادت میرے پاس موجود نہیں جس پر کوئی منصف فیصلہ دے سکے
ایک چھو ٹی ی ی ی ی ی ی سی مثال شاید ثبوت کے طور پر قبولیت پائے یا نہ پائے
خاقانی: کاین شبستان زحمت ما بر نتابد بیش از این
حافظ: خاک کویت زحمت ما برنتابد بیش از این
یہ تو ایک ایک مصرع کے توارد کی مثال دے رہے ہیں آپ اور اس میں بھی کئی کئی الفاظ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔۔۔ ہم نے تو آپ کے بیان پر حیران ہو کر ان "کئی کئی سو" اشعار کے قصیدوں کی بابت سوال کیا تھا جو دو شعرا پر سینکڑوں میلوں کی دوری پر ایک ہی رات میں نازل ہوئے اور ان میں ایک حرف کا بھی فرق نہیں تھا۔
 

فاتح

لائبریرین
اس کے لیے آپ کو ادبیات عربی کی تاریخ دیکھنا ہوگی میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں
چونکہ اس قصے کا ذکر دلیل کے طور ہر آپ نے کیا تھا اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے لہٰذا منطقی طور پر آپ جواب میں بجائے ہمیں ادبیاتِ عربی اور فارسی کی لاکھوں سال کی تاریخ کی راہ دکھانے کے ایسی ایک آدھ مثال پیش فرما دیتے تو احسان ہوتا۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
یہاں غالب آپ کی تائید ہر گز نہیں کر رہے بلکہ آپ زبردستی ان کے شعر کو اپنا مویّد ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔۔۔ غالب نے غیب سے "مضامین" آنے کا کہا ہے نا کہ مقفی و مسجی دیوان کا نزول۔

جوش ملیح آبادی کو جو کچھ ہوا تھا اس کا اندازہ آپ ان کی اسی خود نوشت سوانح حیات "یادوں کی برات" کو پڑھ کر بحسن و خوبی لگا سکتے ہیں۔ ;)
رہی بات قصداً یا غیر قصداً موزوں (وزن میں) ہونے کی تو سالہا سال کی مشق تو انھیں اس قدر بھی قدرت بخش سکتی تھی کہ وہ اپنی عام زندگی میں بھی ادا کیا جانے والا ہر جملہ موزوں (وزن میں) ادا کرتے۔

فاتح غیر موزوں طبیعت والے ترکھان کو اگر آپ صدیوں کی ریاضت اور مشقت بھی کرا لیں تو وہ ایک مصرعہ بھی موزوں نہیں کر سکے گا
جوش جیسے بھر پور شاعر کے لیے سالہا سال کی مشق کے بعد موزوں طبع ہو جانے کا فتوی آپ ہی صادر کر سکتے ہیں۔۔۔۔
حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں
 

شاکرالقادری

لائبریرین
چونکہ اس قصے کا ذکر دلیل کے طور ہر آپ نے کیا تھا اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے لہٰذا منطقی طور پر آپ جواب میں بجائے ہمیں ادبیاتِ عربی اور فارسی کی لاکھوں سال کی تاریخ کی راہ دکھانے کے ایسی ایک آدھ مثال پیش فرما دیتے تو احسان ہوتا۔
جی ضرور پیش کر دونگا اور پھر آپ کوئی اور عذر لنگ تراش لیجئے گا مجھے بھی ذرا اپنی لائبریری کو دیکھنا پڑے گا لیکن یہ اتمام حجت بھی میں کر ہی دونگا
 

فاتح

لائبریرین
فاتح غیر موزوں طبیعت والے ترکھان کو اگر آپ صدیوں کی ریاضت اور مشقت بھی کرا لیں تو وہ ایک مصرعہ بھی موزوں نہیں کر سکے گا
جوش جیسے بھر پور شاعر کے لیے سالہا سال کی مشق کے بعد موزوں طبع ہو جانے کا فتوی آپ ہی صادر کر سکتے ہیں۔۔۔ ۔
حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں
شاید آپ نے عجلت میں پڑھا ہے ہمارا مراسلہ ورنہ ہم نے سالہا سال کی مشق سے "موزوں طبع ہو جانے" کا فتویٰ صادر نہیں کیا تھا بلکہ عرض یہ کی تھی کہ جوش جیسا قادر الکلام شاعر اس قدر اشعار کہنے یعنی مشق کے بعد اگر چاہتا تو روزمرہ کی زندگی میں ادا کیا جانے والا ہر جملہ بھی موزوں (وزن میں) کہہ سکتا تھا۔
 

فاتح

لائبریرین
جی ضرور پیش کر دونگا اور پھر آپ کوئی اور عذر لنگ تراش لیجئے گا مجھے بھی ذرا اپنی لائبریری کو دیکھنا پڑے گا لیکن یہ اتمام حجت بھی میں کر ہی دونگا
ممنونِ احسان ہوں گا۔۔۔
جہاں تک عذر "لنگ" تراشے کی بات ہے تو میرے خیال میں مجھے اپنا وہ مراسلہ دوبارہ یہاں کاپی کر دینا چاہیے تا کہ میں آپ کے "ثبوت" پر جو بھی کہوں وہ اسی مراسلے سے لگا کھاتا ہوا ہو نا کہ کوئی اور عذر "لنگ"۔
یہ ہے وہ مراسلہ جہاں ہم نے آپ سے ایسے واقعے کے مع ثبوت عطا فرمانے کی درخواست کی تھی:
شعور ہو، تحت الشعور یا لا شعور۔۔۔ یہ سب "دماغ" کی ہی کارستانیاں ہیں۔ اور جو شے انسان کے دماغ میں ہی پرورش پا کر اس کے ایک حصے "لا شعور" سے دوسرے حصے "شعور" میں منتقل ہوئی وہ "اتری" کہاں؟
اور جہاں تک سینکڑوں میلوں کے فاصلہ پر رہنے والے دو شعرا پر ایک ہی رات میں کئی کئی سو اشعار کے ایک بھی حرف کے فرق کے بغیر قصیدے اترنے کا واقعہ ہے تو یہ مجھ لا علم کے علم میں تو نہیں۔۔۔ یہ شاید سنی سنائی کہانیاں ہیں جن کو عقل کی کسوٹی پر پرکھے بغیر دیگر ماورائی و جناتی قصوں کی طرح پھیلا دیا گیا ہے۔ ایسا کوئی واقعہ ہے تو "مع ثبوت" ہمیں بھی بتا دیں۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
فوری طور پر ایک حوالہ دے رہا ہوں ۔۔۔تاریخ غور ۔۔۔ میں احمد کافی نامی شاعر کے حالات پڑھیئے جن کے بارے میں صاحب مجمع الفصحا تحریر فرماتے ہیں کہ ان کے قصیدے کے اشعار منصوراوزجندی سے توارد رکھتے ہیں
مزید بھی پیش کرونگا فی الحال اتنا ہی
اور رہی عذر لنگ ۔۔۔۔۔ تو وہ بھی آپ نے اپنے مراسلہ میں ہی لکھا ہوا ہے ۔۔۔
یہ شاید سنی سنائی کہانیاں ہیں جن کو عقل کی کسوٹی پر پرکھے بغیر دیگر ماورائی و جناتی قصوں کی طرح پھیلا دیا گیا ہے۔
اب حضور میں عینی شاہد کہاں سے لاؤں :)
 

فاتح

لائبریرین
فوری طور پر ایک حوالہ دے رہا ہوں ۔۔۔ تاریخ غور ۔۔۔ میں احمد کافی نامی شاعر کے حالات پڑھیئے جن کے بارے میں صاحب مجمع الفصحا تحریر فرماتے ہیں کہ ان کے قصیدے کے اشعار منصوراوزجندی سے توارد رکھتے ہیں
مزید بھی پیش کرونگا فی الحال اتنا ہی
اور رہی عذر لنگ ۔۔۔ ۔۔ تو وہ بھی آپ نے اپنے مراسلہ میں ہی لکھا ہوا ہے ۔۔۔

اب حضور میں عینی شاہد کہاں سے لاؤں :)
کیا یہی وہ قصیدہ ہے جس کے متعلق آپ نے لکھا کہ کئی سو اشعار کا قصیدہ دو شعرا نے ایک ہی رات میں بغیر ایک بھی حرف کے اختلاف کے لکھا؟
اگر ایسا ہے تو اس کا ثبوت کیا ہے؟ کیا محض اس لیے کہ کسی نے کہہ دیا کہ ایسا ہے تو اسے مان لیا یا کوئی منطقی ثبوت بھی موجود ہیں؟
 

شاکرالقادری

لائبریرین
یہ وہ قصیدہ نہیں ۔۔۔ اور مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت بھی نہیں۔۔۔۔ یہ میں نے اپنے مطالعہ کی بات بتائی ہے۔۔۔ اس کا جب حوالہ ملے گا وہ بھی دے دونگا۔۔۔۔ یہ فوری طور پر دستیاب ہونے والا ایک حوالہ ہے۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی بحث نہیں کرنا مجھے بہت پہلے سے ہی معلوم ہے کہ آپ کسی بات کو سننے کے عادی نہیں ہیں اور اب آپ عذر لنگ تراش رہے ہیں سو میاں فاتح۔۔!
لکم دینکم ولی دین ۔۔۔۔ کیا اس پر ہمارا تنازعہ ختم ہو سکتا ہے؟
 

فاتح

لائبریرین
مجھے آپ سے کوئی بحث نہیں کرنا مجھے بہت پہلے سے ہی معلوم ہے کہ آپ کسی بات کو سننے کے عادی نہیں ہیں اور اب آپ عذر لنگ تراش رہے ہیں
چلو جی قصہ مختصر
جب ہمارے پاس اپنی کسی بات کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا کوئی دلیل نہیں رہ جاتی تو ہم سامنےو الے کو اسی گھسے پٹے جملے سے نواز کے اس کی ذہنی حالت کو مشکوک کہہ دیتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلا :)
زندہ باد شاکر صاحب
جیتے رہیں۔۔۔ آباد رہیں
میرے بولنے سے آپ کو تکلیف ہوئی جس پر معذرت خواہ ہوں۔۔۔ اب آپ بولتے رہیں میں خاموش
 

شاکرالقادری

لائبریرین
نرى أن مقومات الشعر العربي الفصيح أو المُعْرَب كالوزن والقافية وشكل البناء الفني، وما يشاكل ذلك من معانٍ وصور وأخيلة ومشاعر تتوافر في شعر الدوبيت السوداني، وأنه لا اختلاف بينهما إلا في شيءٍ واحد وهو اختلاف شكلي، إذ إن لغة الدوبيت لغة غير مُعْرَبَة، وهذا لا يضيرها كونها لغة شعرية من الطراز الأول، وأن معظم مفرداتها فصيحة بل عريقة في هذه الفصاحة، وأن ما يبدو منها غريباً علينا لا يعدو أن يكون لهجة من اللهجات العربية القديمة، وغنيٌ عن القول إن البيئة التي تخلَّق فيها الشعر المعرب وهي بيئة الجزيرة العربية، تشابه إلى حدٍ كبير بادية السودان التي نبع منها الدوبيت السوداني. وأزعم أن مراحل التطور التي واكبت القصيدة العربية، هي نفسها المراحل التي مر عليها الدوبيت السوداني، وإن كان لا يزال محتفظاً ببنائه الرباعي الغالب وقافيته المتحدة عند كل شطرة، وبنيته الصغيرة التي تعبر عن فكرة معينة أو خاطر عابر، وذلك في غير القصائد والمربوقات والمسادير. وقد لاحظت كما لاحظ غيري من الباحثين، أن كلا الشعرين ولجا ميادين شعرية واحدة، وطرقا أبواباً شعرية واحدة، وأن العوامل والقيم التي مازجت كليهما لا يختلفان، كل ذلك جعل طرق المعاني الواحدة يأتي كثيراً بينهما، وهذا ما يسمى بتوارد الخواطر. والمؤكد أن هذا يتم ويجري بينهما دون أن يعرف ظاهرة السرقات الفنية والأدبية التي برزت في ديوان الفصحى، ولم تبدُ لنا ما بين الشعر المعرب والدوبيت السوداني، وهذا رأيٌ يعززه واقع الحال كالبعد الزماني والمكاني، فكيف يتسنى لشاعر بدوي من أقاصي السودان، أن يطرق معنىً طرقه شاعر جاهلي دون أن تمكنه ثقافته من التعرف على ذلك الشاعر، فضلاً عما قاله من شعر، غير أن يكون هذا مجرد توارد خواطر. وأذكر في هذا الصدد أنني قرأت على الشاعر القومي محمد شريف العباسي أبياتاً من قصيدة للشاعر عمرو بن أبي ربيعة، وعندما وصلت للبيت الذي شبه فيه عمرو مقصودته بدمية الراهب الجميلة التي صورها بجانب المحراب والذي يقول فيه:
دُميةٌ عِندَ رَاهبٍ ذي اجتهادِ صَوَّرُوهَا في جانبِ المحرابِ​
أصيب بدهشة عابرة على إثرها قال لي إن هذا المعنى أصبته في مربع أقول فيه مخاطباً جملي التلب:​
اللَيل أمسى والخَّ۔بْ الدُقَ۔اقْ مَسَّاكْ نَسي۔تْ الرَقلي ولا البيا مَ۔ا خَسَّاكْ سَ۔وِّي تِزِوِّع اللَقَّحْ نَعامُ۔و عَسَاكْ تَدني بَعيدى مِ۔ن تَصويرةَ النُسَّاكْ ولعلنا نلاحظ أن كلا الشاعرين جعلا من الصور التي يضعها الرهبان أو النساك على جدران المعبد أو على جانب المحراب التي توسم بالجمال، محلاً لتشبيه مقصوديتها. ولا شك أن في ذلك توارد خواطر عجيب.​
وتوارد الخواطر الذي نعنيه ما بين الشعر المعرب والدوبيت السوداني، كان محلاً للبحث عند عدد من الباحثين كالشيخ عبد الله عبد الرحمن الضرير في كتابه (العربية في السودان)، والدكتور عبد المجيد عابدين في كتابه (الثقافة العربية في السودان)، والأستاذ عبد الحميد محمد أحمد في كتابه ملامح اللغة العربية في عامية السودان، والشاعر إبراهيم عمر الأمين في كتابه (توارد الخواطر بين الشعر العربي والشعر القومي)، على أن هذا التوارد انتبه إليه في شأن الشعر المعرب قبلهم بقرون عديدة، الشاعر الجاهلي عنترة بن شداد العبسي، عندما قرر أن الشعراء قد يطرقون ذات المعاني، وذلك من خلال ما أورده في صدر بيته الذي ابتدر به معلقته الشهيرة والقائل:​
هل غَادَر الشُعراء من مُتَّرَدَمِ أَم هَلْ عَرفْتَ الدارَ بَعدَ تَوَهُمِ​
وتوارد الخواطر بين الشعر المعرب والدوبيت السواني يقع كثيراً، وله في كافة أبواب الشعر نماذج عديدة، فعندما أشار شاعر عربي قديم إلى سلوك العرب عند الحروب الذي يأبى المباغتة ويأنف من الإغارة ليلاً في قوله:​
دخولُ الفاتحينَ يكونُ صُبحاً ولا تُزجَى مَ۔واكِبَهُم مَسَاءُ​
وجدنا ذات الإشارة في مربع شعري لأحد شعرائنا من أهل الدوبيت، مما يدل على وحدة القيم واتساقها وذلك في قوله:​
بع۔دَ الغيب۔ه تَّ۔بْ ما بِنسَ۔وِّي الغَ۔ارَه بِنَبداه۔ا بالنه۔ار بي نِحاسنَا والنُقَ۔ارَه مَ۔ا بنزِحْ ورا الحَيطَ۔انْ ولا بِنضَ۔ارَى زَي لِصَ المَعيْ۔ز الباطِ۔لْ أَبْ شُمَ۔ارََه ووحدة السلوك بين القدماء من شعراء أهل الجزيرة العربية والمحدثين من أهل بادية السودان، تبدو أكثر وضوحاً في نصين وقع بينهما توارد خواطر، أحدهما للشاعر أبو فراس الحمداني الذي قال فيه:​
إِنا إذا إاشتَدَّ الزم۔انُ ونَ۔ابَ خَطبٌ وادلَهَمْ أَلفيتَ حول بيوتِنا ع۔ددَ الشجاعةَ والك۔رَمْ للقاءِ العِدا بيضُ السيوفِ وللندى حُمرُ النِعَمْ ه۔ذا وه۔ذا دأبنا ي۔ودي دمٌ وي۔راقُ دَّمْ وفي النص لمن نظر إبانة دالة على السلوك عند الحرب والسلوك عند السلام، ففي الحرب يتمسكون بالشجاعة والعزم على قهر العدو، وفي السلم يكرمون الضيف ويحسنون وفادته. وهذا عين ما أشار إليه النص التالي الذي قال به أحد شعرائنا من أهل الدوبيت يقول:​
الداي۔رَ الكَ۔رمْ إي۔انا رَاس۔و وسَ۔دْرُو والضي۔فْ البِج۔ينَا نَعِ۔زو نَرفَ۔عْ قَدْرُو خَ۔لواتَ الض۔يوفْ حَيرَانَا ياكلو ويِقْرُو والبِهبِشنَا ب۔يْ سِنيناتُ۔و بيحفر قَ۔برُوا وفي شأن هذه الحماسة تذكرنا خاتمة المربع الشعري القائل:- فُرسَ۔ان دَار جَعل ديل البِفِِش۔و الوَجْعَه والخَ۔اتي البِجيهُم مَ۔ا بِضوقْ الرَجْعَ۔ة قَ۔۔الوا بْه۔ددونَ۔ا يِِسبِب۔ولنَا الفَ۔زْعَه أَبشِ۔ر يا اللَسدْ كان جَ۔اتْ تَكاتلَكْ ضَبعَه ببيت الشاعر جرير الشهير القائل:-​
زَعَمَ الفَرزدقُ أَن سَيَقْتُلَ مِربَعاً فابشِر بِطولِ سَلامَةٍ يَا مِربَعُ​
والخواطر المتواردة مستمرة ومتزايدة بين الشعر المعرب والدوبيت السوداني، وقد وقعنا حديثاً على معنىً أدركه الشاعر الكبير في موهبته والصغير في سنه الشاب سليمان عجيمي، وهو معنىً سبقة إليه شاعر قديم في بيت شعر يحكي خيبة أمل عميقة وغائرة يقول:​
كُنتُ كالمتمني أَن يَرى فَلقاً مِن الصباحِ فَلما أَن رَآهُ عَمِيْ .. !​
ويقول عجيمي:-​
إِمْتَ۔دَّ البَهي۔مْ مَنَ۔عْ الصَ۔ب۔احْ وشُع۔َاعُ۔۔و لأَنُ۔و مُ۔نايَ ف۔ي نَظ۔رة للتِب۔ر الجَ۔ميل فُقَاعُو قَ۔بلَ الشرقَ۔ه م۔ا اتمتَّعْتَ بالشَتِل البُتَاعْ زُرَاعُو وا أَسف۔اي عَ۔لى بَصَ۔رِي وحَ۔واسِي الضَ۔اعُو ولعل عجمي زاد في المعنى وعمق الخيبة المأساوية عندما أضاف إلى حالة العمى فقد الحواس. وفي الأشعار الحديثة نجد أنواعاً جيدة أفرزها توارد الخواطر بين الدوبيت والشعر المعرب، ونأخذ لذلك مثالاً لما قاله الشاعر البدوي الأسمر الذي أنشأ مربعاً شعرياً يقول فيه:- وَدعتُو الرَزينْ زَرَفَ۔نْ عُيونُو مَدَامِعْ دَافِر صَدرو رُم۔انْ مَطَّعَ۔مْ وط۔الِعْ قُتْ ليها البَرطَمْ المِنْ فَرو بَرقاً شَالِعْ بجيب الغَايب المجروحْ فُؤادو مُوالِعْ وهو مربع يحيل إلينا ذكرى المقطع الشعري الرائع الذي قال به الشاعر الرقيق شفيق الكمالي والقائل:- لا تَقلقي ...​
إِنَّا غَداً سَنلتقي ...​
لا تقلقي إذا ما مرَّ عامٌ ولم نَلتقِ ...​
ففي صَدرِكِ المَرمَري .. رُخامٌ طَري ...​
وكوزا نبيذٍ وتِلا زُهورٍ مِن الزئبقِ ...​
يَحِنُ لَها خَافِقي ...​
فلا تقلقي إذا ما مرَّ عَامٌ ولم نلتَقِ ...​
إذن فكلا الشاعرين راهنا على العودة إلى الحبيبة وأكداها لسبب واحد، وهو الجمال الذي لا يستطيعان أن يغيبا عنه طويلاً.​
وكانت القصيدة العربية التقليدية تنتهج أشكالاً معينة في ديباجتها مهما كان موضوعها مختلفاً، وأغلب ذلك يكون في النسيب وذكر الأطلال ومنازل الأحبة والوقوف والبكاء عليها، والأمثلة في هذا كثيرة ومتعددة، نأخذ منها قول ط۔رفة بن العبد في مطلع معلقته والتي يقول فيها:-​
لخ۔ول۔ةَ أَط۔لالٌ ببرقَ۔ةِ ثَه۔مَد تَلوحُ كَباقي الوَشمِ في ظَاهِر اليَدِ​
وقُ۔وفاً بِها صَحبي ع۔ليَّ مَطِيَهُمْ قَ۔الوا لا تَ۔هلَكْ أَسَ۔ىً وتَجَ۔لَدِ​
وقول إمرؤ القيس الذي إبتدر به معلقته:-​
قِفا نَبكِ مِن ذكرى حبيبٍ ومنزِلِ بسقطِ اللِّوى بين الدَخُولِ فحَومَلِ​
فتُوضح فالمقراة لم يعف رسمها لما نسجتها مِ۔ن جنوبٍ وشمأَلِ​
وهذا التقليد لم يغب عن الدوبيت السوداني، وظهر عند بعض قائليه، فها هو شاعرنا أحمد عوض الكريم أبو سن يُحَيي قلع الهماييب حيث كانت تسكن حبيبته آمنة، ويتذكر تلك الأيام التي جمعته وآمنة والهوى وقال:- يا قَلَعْ الهَمَ۔اييبْ لِيك كُ۔ل سَ۔لاَمنَا يا حليلَكْ قِبيلَ وَكتاً سُكونْ نَاس آمنَه لَيكْ عنينَا فَ۔وق القُود عُدال أَيامنَا فِي۔ك صَبَّحنَا دُورْ الحِشْمَتِنْ مِطَامنَه ويقيني أن أهل الدوبيت الذين طرأت في أشعارهم هذه التقاليد الشعرية، طرأت عن ابتكار ذاتي، وإذا ما صادفت المعاني القديمة لا يكون ذلك سوى خواطر متواردة، إذ لم يكن شاعر الدوبيت بحكم ثقافته المؤطرة والمختلفة والمحدودة بحدود باديته، لينظر أبداً للأوائل من قدماء العرب ليقلدهم أو يأخذ منهم، كما فعل أصحاب الشعر المعرب المحدثين الذين قادتهم ثقافتهم للاطلاع على أشعار من سبقوهم، فنظروا إلى قصائدهم وأخذوا منها الديباجة تقليداً، كشاعرنا محمد سعيد العباسي الذي أبدع وهو يقول في مطلع قصيدته بنو أبي:- قِ۔فوا في رُباً كانت تَحلُ بِها سَلمى​
فإنِي أَرى هِج۔رانَ تِلكَ الرُب۔ا ظُ۔لمَا أُسائِل رَس۔مَ الدارِ أَي۔ن تَ۔رحلوا​
وهَ۔ل أَفصحتْ يوماً لسائِلها العُ۔جمَا على أَن۔ه م۔ا ك۔ادَ يُبقى لمُدنَفٍ​
بُك۔اءُ الحَيا الوسمىِّ رَس۔ماً ولا وسمَا مَن۔ازلُ ك۔انت للب۔دور مَن۔ازِلاً​
فأَضحَتْ لريمِ الوَحشِ مِن بَعدِها تََسمَى وتوارد الخواطر ما بين الشعر العربي القديم والدوبيت السوداني له أسبابه كما ذكرنا، والتي تتمثل في سببين رئيسيين أولهما تراكيب البناء الفني للشعر عندهما ومقاصده الواحدة، والذي تتركز فيه المشاعر التي تستمد قوتها وأنواعها من التقاليد والقيم البدوية المنسقة والمنسجمة التي تشكل بينهما أحاسيس مشتركة، فتبرز في أحيانٍ متعددة صور المعاني وكأنها واحدة، وثانيهما تشابه البيئة الطبيعية، حيث نجد أن أرض الجزيرة العربية وبادية السودان تحملان ملامح مشتركة، ففيهما تبدو الشموس حارقة والأقمار مضيئة والنجوم دالة والسهول ممتدة، وتمرح في وديانها ومرتفعاتها ومنخفضاتها الظباء والغزلان، وتصهل الخيول وترزم الإبل، وتحلق في سمائها الصقور والطيور المغردة، وغير ذلك مما يشكل التشابه البيئي والطبيعي في كليهما، وقد وجدنا مثالاً جيداً أورده الأستاذ الدكتور أحمد إبراهيم أبو سن في كتابه (تاريخ الشكرية ونماذج من شعر البطانة) نستطيع أن نستنبط منه الدلالة التي توضح علاقة السببية التي تجمع بين الشعر المعرب والدوبيت السوداني المتمثلة في الركن الطبيعي الذي ذكرناه في شأن توارد الخواطر، فقد أورد الدكتور أبو سن مقارنة ما بين شاعرنا الحاردلو والشاعر الجاهلي زهير بن أبي سلمى وهما يصفان الصيد في الرحلة والسلوك وغير ذلك بتوارد خواطر يثير الدهشة، حيث أن أول ما يلفت النظر من تشابه في شعرهما هو الإكثار من ذكر المواضع التي ترتادها الظباء، فنجد أن زهيراً ذكر الجواء ويمن والمقادم والحساء وذوهاش وميث عريتنات وذلك في قوله:-​
عَفَا مِنْ آلِ فاطِمةَ الجِواءُ فَيُمْ۔نٌ ف۔المق۔ادمُ فالحِس۔اءُ​
فذو هَاشٍ فَمِيثُ عُرَيتِنَاتٍ عَفَتْها الري۔حُ بَعْدَكِ والسَم۔اءُ​
فَذَرةُ فالجنَابُ ك۔أنَ خُنسَ النِعاجِ الطاوياتِ بِه۔ا المِ۔لاءُ​
كما وجدنا أن الحاردلو ذكر المواضع التي يمر بها الصيد كالقليعة أم غرة وود دعول ومقرح الحربة كما سنرى في مربعيه التاليين:- أَبْ عَ۔رَّاقْ فَتَّقْ قَرنو المِبادرْ شَ۔رَّه والبَاشَنْ۔دِي عَمَّ۔تْ مَهشَشَيبْ الدَرَّه مِ۔ن النقره كُ۔لْ حِينْ عِلِيوْ مِنصَرَّه هَ۔ا الأَيامْ مَحاريها القِليعه أُم غُ۔رَّه​
******​
قَطَعَنْ وَدْدَعُولْ بِج۔رَنْ شَفَاقَه عُدَالْ وخَتَمَنْ مِقْرِحَ الحَربَه الجُبالو طُوَالْ قَلْتْ أُمَ۔ات قُرودْ وَرَدَنُو بيْ القَبَّالْ خِلقَنْ كي۔ف بَرَمولهِنْ دَم۔ير حَبَّالْ وتتضح في الصور الشعرية القادمة لزهير والحاردلو، إدراكهما أن حمار الوحش أو التيس الذي تنعقد له قيادة السرب باعتباره صاحب القوامة على هذه الظباء، بأنه رائد لا يكذب أهله، وهو المدافع عنها وحامي حماها من كل معتد وغادر، لأنه يتقدمها في السير ويحبسها إذا ما استشعر الخطر، حتى ينداح ويتحسس لها في بحث دؤوب مواقع الشراب والكلأ، وفي هذا المعنى يقول زهير بن أبي سلمى:-​
فَلَيسَ بِغافِلٍ عَنها مُضَيعٍ رَعِيَتَهُ إذا غَفَل الرِعَاءُ​
وليس لِحَاقُه كلِحاقِ إِلفٍ ولا كَنَجَائِها م۔نهُ نجاءُ​
وفي هذا المقام يقول الحاردلو:-​
خَلاَّهِ۔نْ ع۔لى رِدْ الصِفَ۔يَّه حُ۔بُوسْ ولِقَى في الدَهْسَريبْ قُمبَارْ وعِرقْ فَقُّوسْ فِ۔ي المخَلُوقَه شِنْ تشبَه مَعِيزْ أُمْ رُوسْ غِ۔ير الفِي وَرِِي۔دِنْ شٌولَقِنْ مَرصُوصْ وبعد أن يطمئن التيس على توافر الماء والكلأ، يعود إلى سربه ليقوده إلى المظاعن التي اكتشفها، وهذه الصور شخصها لنا الحاردلو بقوله:- جَاهِنْ مِنزقِفْ وك۔تاً عِصَير وشَفَ۔افْ وكاسِبِ ليلو بيهِنْ مِنْ صَدَفْ ما بخَافْ دَي۔ل الطَبعَهِنْ دَاي۔مَ الأَبَ۔دْ عُ۔يَّافْ وف۔ي ناي۔طَ السُروجْ لِقْيَنْ بِقيِلاً جَافْ ويقول الحاردلو إن التيس القائد عندما يحس بالخطورة يوقف سربه عن السير، ويذهب وحده ليكتشف الطريق، ثم يعود مهرولاً ويتعجل سربه للنهوض والسير​
خلفه:-​
مِ۔نْ دَعَ۔تْ السَ۔راويلْ قَبَّلنْ دارتَاتْ عَليْ العِشنُوق لِقَنْ زوزايْ وبيْ فَارَّاتْ عَسْكرْ خَ۔افْ عَليهِنْ في ضَرا مَيعَاتْ وجَ۔اهِنْ وعَافَطَنُّو بَعدْ نَه۔ارهِنْ فَاتْ وهذه صورة أعطانا لها زهير من قبل، حيث أوضح لنا أن حمار الوحش يزعج ظباءه ليقودهن، فيرتفع بهن حيناً إلى عوالٍ، وحيناً ينخفض بهن إلى السهوب والفج۔اج حيث يتبين لنا ذلك في قوله:-​
تَربَّعْ صَ۔ارةْ حَتى إذا مَ۔ا فَنَى الدَحلان عَنهُ والإضاءُ​
تَرفَّ۔ع للقِنَ۔انِ وك۔لِ ف۔جٍ طَبَاهُ الرعيُ منهُ والخَ۔لاءُ​
فأَورَدَها حِ۔ياضَ صُنيعَباتٍ فَألفَاهُ۔ن لَيس بِهُ۔ن مَ۔اءُ​
فَشَجَّ بِها الأَماعِزَ فهي تَهوِي هُوِيَّ الدَلوِ أَسلَمَها الرِشَاءُ​
ونلاحظ أن زهيراً قد شبه الظباء وهي تحط من علٍ كدلو الماء وقد انقطع عنه حبل الرشوة فيسقط سريعاً نحو سطح الماء في البئر، وهو تشبيه وقع عليه الحاردلو، غير أنه ألبسه ثوباً آخر حينما شبه الظباء وهي تنحدر من الأعالي انحداراً شديداً، بأوراق الشجر اليابسة التي تغادر أفرعها هاوية في سرعة نحو الأرض، وذلك في قوله:- دَيلْ الدَيِما مِ۔ن رِدْ الأَنيسْ نَاجعَ۔اتْ وكُل حين فوق عليَونْ نَابي مُنجمعَاتْ متماسِكْ سَدُوهِنْ وبيْ الحُدوبْ شَاتَّاتْ جَاهِ۔نْ وَزاع۔لنُوا وجَ۔نُوا مُنحَتَاتْ وعند الشطرة الأخيرة الفائتة يستمر توارد الخواطر ما بين الحاردلو وزهير، إذ إن الشطرة المشار إليها تحمل ذات المعنى الذي حمله بيت زهير القائل:- وإِن مَالاَ لِوَعثٍ خَاذَمتهُ​
بِأل۔واحٍ مَفَاصِلُها ظِم۔اءُ​
وختاماً لهذا القول سأشير إلى سمة فنية مشتركة بين الشعر المعرب والدوبيت السوداني، خاصة عندما يتحدثا عن الظباء التي كثيراً ما تأتي في أشعارهما في محل تشبيه للمحبوبة، على أن ذلك يصيبه أحياناً تداخل مدهش حتى لا نكاد نفرق ما بين الظبية والمحبوبة، لتداخل الصور وتمازج المعاني وكثافة الومضات. وعلى كلٍ يعتبر توارد الخواطر ما بين الشعر المعرب والدوبيت السوداني، إشارة مهمة تدلنا إلى وحدة القيم وتشابه البيئتين وطرائق الإبداع والتفكير عند كل من شعراء الجزيرة العربية من أهل القصيدة المعربة، وشعراء البادية السودانية من أهل الدوبيت. ويمكن للمتلقي أن يستزيد ويستلذ في شأن هذا التشابه المذهل بالرجوع للسفر الرائع الذي أنجزه الدكتور العالم الأستاذ إبراهيم القرشي وهو كتابه ( بين الأميرين الشاعرين إمرئ القيس والحاردلو) ( قصة التشابه المذهل).​
اسعد العباسي​
 

محمد وارث

لائبریرین
اور یہ جوش ملیح آبادی کو کیا ہوا:
مشہور شاعر جوش ملیح آبادی اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں۔

شاعری کے باب میں بعض بزرگوں نے ایک خالص دینی مصلحت کی بناء پر، جسکی شرح کا یہاں موقع نہیں، یہ عجیب کلیہ وضع فرمایا ہے کہ صرف اس موزوں کلام پر شعر کا اطلاق ہوگا جو "بالقصد" کہا گیا ہو، اگر یہ کلیہ تسلیم کر لیا جائے تو چونکہ میں نے آج کی تاریخ تک، ایک مصرع بھی "بالقصد" موزوں کرنے کا ارتکاب نہیں کیا ہے، اس لئے آپ کو اختیارِ کامل حاصل ہے کہ میرے تمام کلام کو شاعری سے کلیۃ خارج فرما کر، میرے غیرِ شاعر ہونے کا اعلان فرما دیں، میں خوش میرا خدا خوش۔ [15]

قبلہ و کعبہ جنابِ شاکر القادری صاحب اس اقتباس کے ساتھ ساتھ اس خاکسار کا ایک جملہ معترضہ بھی تھی ویکیپیڈیا پر علم عروض پر خاکسار کے اس نامکمل مضمون میں۔ میں چاہتا تو جوش کا یہ اقتباس دیتا ہی نہیں کیونکہ یہ میرے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتا لیکن میں نے یہ حوالہ ضرور دیا وہاں کہ علمی بدیانتی نہ ہو لیکن یہ جملہ معترضہ بھی تو لکھنا ضروری تھا :)

لیکن یہ غلط خیال عموماً اس وجہ سے پھیلا ہے کہ "بالقصد" کا مطلب "آورد" سے قریب لیا گیا ہے حالانکہ اس کا مطلب "شعر کی نیت" سے قریب لینا چاہیئے کیونکہ چاہے شاعر کو آمد ہو یا آورد، نیت اسکی شعر کہنے کی ہی ہوتی ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ویسے یہ عرض کر دوں کہ ویکیپیڈیا کے علمِ عروض مضمون کے کافی حوالے یہاں "سند" کے طور پر دیے جا رہے ہیں، یہ خاکسار یہی باتیں اگر یہاں لکھتا تو شاید پڑھی بھی نہ جاتیں، میری محنت سوارت ہوئی :)
 

حسان خان

لائبریرین
وارث بھائی اور فاتح بھائی، جدید مغربی ادب میں جو بے بحر کی مطلقا آزاد شاعری کی جاتی ہے، اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ اسے مغربی دنیا شاعری کے نام سے ہی یاد کرتی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایسی شاعری ہمارے ادبی ذوق اور روایت کا حصہ نہیں۔

ویسے میں بذاتِ خود بے بحر کی شاعری کو ناپسند کرتا ہوں۔
 
Top