ناصر کاظمی :::::: پھر لہُو بول رہا ہے دِل میں :::::: Nasir Kazmi

طارق شاہ

محفلین


غزل
پھر لہُو بول رہا ہے دِل میں
دَم بہ دَم کوئی صدا ہے دِل میں

تاب لائیں گے نہ سُننے والے
آج وہ نغمہ چِھڑا ہے دِل میں

ہاتھ ملتے ہی رہیں گے گُل چِیں
آج وہ پُھول کِھلا ہے دِل میں

دشت بھی دیکھے ، چمن بھی دیکھا
کُچھ عجب آب و ہَوا ہے دِل میں

رنج بھی دیکھے، خوشی بھی دیکھی
آج کُچھ درد نیا ہے دِل میں

چشمِ تر ہی نہیں محوِ تسبیح
خُوں بھی سرگرمِ دُعا ہے دِل میں

پھر کسی یاد نے کروَٹ بدلی
کوئی کانٹا سا چُبھا ہے دِل میں

پھر کسی غم نے پُکارا شاید
کچھ اُجالا سا ہُوا ہے دِل میں

کہیں چہرے ، کہیں آنکھیں، کہیں ہونٹ
اِک صنم خانہ کُھلا ہے دِل میں

اُسے ڈھونڈا ، وہ کہیں بھی نہ مِلا
وہ کہیں بھی نہیں، یا ہے دِل میں

کیوں بھٹکتے پھریں دِل سے باہر
دوستو! شہر بَسا ہے دِل میں

کوئی دیکھے تو دِکھاؤں، ناصؔر
وُسعتِ‌ ارض و سما ہے دِل میں

ناصؔر کاظمی
 

سیما علی

لائبریرین
پھر لہو بول رہا ہے دل میں
دم بدم کوئی صدا ہے دل میں

تاب لائیں گے نہ سننے والے
آج وہ نغمہ چھڑا ہے دل میں

ہاتھ مَلتے ہی رہیں گے گل چیں
آج وہ پھول کھلا ہے دل میں

دشت بھی دیکھے چمن بھی دیکھا
کچھ عجب آب و ہوا ہے دل میں

رنج بھی دیکھے خوشی بھی دیکھی
آج کچھ درد نیا ہے دل میں

چشم تر ہی نہیں محوِ تسبیح
خوں بھی سرگرمِ دعا ہے دل میں

پھر کسی یاد نے کروٹ بدلی
کوئی کانٹا سا چبھا ہے دل میں

پھر کسی غم نے پکارا شاید
کچھ اجالا سا ہوا ہے دل میں

کہیں چہرے کہیں‌ آنکھیں کہیں ہونٹ
اک صنم خانہ کھلا ہے دل میں

اُسے ڈھونڈا وہ کہیں بھی نہ ملا
وہ کہیں بھی نہیں یا ہے دل میں

کیوں بھٹکتے پھریں دل سے باہر
دوستو شہر بسا ہے دل میں

کوئی دیکھے تو دکھاوں ناصر
وسعتِ‌ ارض و سما ہے دل میں
 
Top