پھر سے درپیش ہوا لگتا ہے باہر کا سفر - حیدر قریشی

فاروقی

معطل
پھر سے در پیش ہوا لگتا ہے باہر کا سفر
لہر سی اُٹھنے لگی ہے کوئی نَس کے اندر​

رَس بنایا گیا اس زندگی کو پہلے، پھر
موت کا زہر ملایا گیا رَس کے اندر​

کون انگڑائی سی لیتا ہے نفس کے اندر
لذتِ وصل مہکتی ہے ہوس کے اندر​

پھول نے صرف بکھیری ہے مہک بھینی سی
اصل خوشبو تو وگرنہ ہے سِرَس کے اندر​

قافلے والے بہت خوش تھے دَمِ رخصت تو
سسکیاں کس کی تھیں آوازِ جرس کے اندر​

کُن کا اک لفظ اسیروں پہ کہیں سے اترا
آسماں ہو گئے تخلیق قفس کے اندر​

حیدر اک اور ہی دنیا ہے یہ انٹرنیٹ کی
کیا سے کیا ہو گیا ہوں سات برس کے اندر
حیدر قریشی​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top