پوچھا صدف تو آنکھ جھکا کر دکھا دیا (عدیم ہاشمی)

حسن محمود جماعتی نے 'بزم سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 1, 2016

  1. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,523
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    پوچھا صدف تو آنکھ جھکا کر دکھا دیا
    پوچھا گوہر تو اشک بہا کر دکھا دیا
    پوچھا کہ اتنے پھول بہاروں میں کس طرح
    اس نے عدیم خود کو ہنسا کر دکھا دیا
    پوچھا کہ شب کو چاند نکلتا ہے کس طرح
    رخ سے نقاب اس نے ہٹا کر دکھا دیا
    پوچھا کہ آفتاب کو چھاؤں کبھی ملی
    بالوں کو اس نے رخ پہ گرا کر دکھا دیا
    پوچھا کہاں سے آئی دھنک آسمان پر
    آنچل ہوا میں اس اڑا کر دکھا دیا
    پوچھا کے حوض شب میں کیا غسل نور بھی
    تب اس نے چاندنی میں نہا کر دکھا دیا
    پوچھا کہ مجھ کو وعدہ شکن کہہ دیا ہے کیوں
    اس نے عدیم خط میرا لا کر دکھا دیا
    عدیم ہاشمی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. ارشد حسین شاہ

    ارشد حسین شاہ محفلین

    مراسلے:
    88
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Persnickety
    عمدہ ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. سید اِجلاؔل حسین

    سید اِجلاؔل حسین محفلین

    مراسلے:
    152
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    یہاں گوہر تو نہیں آ سکتا؟ :eyeroll:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,523
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    محترم شاہ جی میں جس کتاب سے پڑھا اور نیٹ سے جہا‎ں سے لی تھی وہاں یہی درج تھا۔ آپ تصحیح فرما دیں۔
     
  5. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,625
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    شاید یہاں گہر آئے گا
     
    • متفق متفق × 2
  6. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,523
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جی تابش بھائی۔ لیکن اس میں تدوین کا آپشن نہیں دے رہا۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر