پوشیدہ سبق

Khursheed

محفلین
میری گذارش ہے کہ اس لڑی میں کوئی واقعہ یا کوئی بات جس نے آپ کو سوچنے پر مجبور کیا ہو شئیر کریں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے میں پی ٹی وی کے ایک ڈرامے کا ذکر کروں گا۔

پی ٹی وی کے پرانے ڈرامے اپنی مثال آپ ہیں۔ چونکہ ایک چینل تھا اس لیے پورے ملک سے ہر فیلڈ میں ماہر افراد چنے جاتے تھے۔ افرا تفری اور جلد بازی نہیں تھی اس لیے بہت محنت کی جاتی تھی۔ سندھی کلچر پر ایک خوبصورت ڈرامہ لگا تھا جس کا نام تھا چھوٹی سی دنیا۔ مزاحیہ انداز میں سنجیدہ معاشرتی مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ایک سین ملاحظہ کریں۔

دیہی بستی کے دو کردار ہیں۔ ایک کا نام صاحب ہے ۔ وہ پڑھا لکھا ہے۔ انگریزی لباس پہنتا ہے۔ انگریزوں کے طور طریقے اور زبان جانتا ہے۔ بستی کے لوگ اس سے بہت متاثر ہیں۔ اس کی بہت عزت کرتے ہیں۔

دوسرے کردارکا نام جانو جرمن ہے وہ فراڈ ہے اور اپنے آپ کو سمجھدار اور پڑھا لکھا ظاہر کرتا ہے۔ یہ صاحب سے جلتا ہے۔ اور اسے نیچا دکھانا چاہتا ہے۔

بستی والوں کی نظروں میں گرانے کے لیے وہ صاحب کو انگریزی بولنے کے مقابلے کا چیلنج کرتا ہے۔ صاحب تیار ہوجاتا ہے۔ بستی کے دو ایماندار معمر بزرگ جج چن لیے جاتے ہیں اور مقابلے کے دن اور وقت کا اعلان کردیا جاتا ہے۔

مقابلے کے دن پنڈال بستی کے لوگوں سے بھرا ہوتا ہے۔ دونوں کرداروں کو باری باری انگریزی بولنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ جانو جرمن جناتی زبان بولتا ہے جو ججوں سمیت کسی کی سمجھ میں نہیں آتی۔ جبکہ صاحب صحیح انگریزی بولتا ہے۔ جن میں سے چند الفاظ ججوں اور گاؤں والوں کی سمجھ میں آجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ گاؤں کے ایک بندے کو کہتا ہے کہ رمضان میرے لیے پانی کا ایک گلاس لاؤ۔

Ramzan, Bring me a glass of water please.​

مقابلے کے اختتام پر ججوں کا فیصلہ یہ تھا۔

صاحب نے انگریزی میں ہماری زبان کی ملاوٹ کی۔ اس نے رمضان اور گلاس جیسے الفاظ ہماری زبان سے شامل کیے۔ جبکہ جانو جرمن نے ہماری زبان سے ایک لفظ بھی نہیں بولا اور خالص انگریزی بولی۔ اس لیے آج کے مقابلے کا فاتح جانو جرمن ہے۔

ڈرامے کے اس سین سے میں نے سیکھا کہ!

۔۔۔ صرف ایمانداری اور خلوص کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ ضروری نہیں کہ درست ہو۔

۔۔۔ ادھورے حقائق کی بنیاد پر درست ٖفیصلہ ممکن نہیں۔

۔۔۔ اگر فیصلہ کرنے والے معاملے کو اچھی طرح نہیں سمجھتے تو فراڈیے ان سے اپنی مرضی کا فیصلہ کروالیتے ہیں۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
اچھی لڑی شروع کی آپ نے۔
اور واقعہ بھی زبردست پیش کیا۔ جب تک معاملے کی صحیح خبر نہ ہو، تب تک درست نتیجے پر پہنچنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہ تو ڈرامے کی بات تھی جو آپ نے بیان کی۔ حقیقی زندگی میں بھی اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ بہت سارے ایسے معاملات جو آپ کے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں ، مگر جب آپ چُپ کی چادر اوڑھ لیں تو اندر سے توڑ ڈالتے ہیں آپ کو۔
اللہ پاک ہمیں معاملات کو صحیح سے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔
 

سیما علی

لائبریرین
ڈرامے کے اس سین سے میں نے سیکھا کہ!

۔۔۔ صرف ایمانداری اور خلوص کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ ضروری نہیں کہ درست ہو۔

۔۔۔ ادھورے حقائق کی بنیاد پر درست ٖفیصلہ ممکن نہیں۔
بہت عمدہ لڑی شروع کی ہے بھیا ۔۔۔بہت بہترین مثال پیش کی ہے روز مرہ زندگی ایسے بےشمار واقعات پیش آتے ہیں ۔یہ ہمارا بہت پسندیدہ ڈرامہ تھا ۔سچ ہے حقیقت کو جاننے کے لئے فیصلہ ناقص ہی ہوگا۔۔۔
 

Khursheed

محفلین
اچھی لڑی شروع کی آپ نے۔
اور واقعہ بھی زبردست پیش کیا۔ جب تک معاملے کی صحیح خبر نہ ہو، تب تک درست نتیجے پر پہنچنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہ تو ڈرامے کی بات تھی جو آپ نے بیان کی۔ حقیقی زندگی میں بھی اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ بہت سارے ایسے معاملات جو آپ کے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں ، مگر جب آپ چُپ کی چادر اوڑھ لیں تو اندر سے توڑ ڈالتے ہیں آپ کو۔
اللہ پاک ہمیں معاملات کو صحیح سے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔
بہت شکریہ!
مزید خوشی ہوگی اگر آپ بھی کچھ شئیر کریں۔
 

Khursheed

محفلین
بہت عمدہ لڑی شروع کی ہے بھیا ۔۔۔بہت بہترین مثال پیش کی ہے روز مرہ زندگی ایسے بےشمار واقعات پیش آتے ہیں ۔یہ ہمارا بہت پسندیدہ ڈرامہ تھا ۔سچ ہے حقیقت کو جاننے کے لئے فیصلہ ناقص ہی ہوگا۔۔۔
آپا شکریہ!
آپ نے تو ایک بھرپور زندگی گذاری ہے۔ اگر اپنے تجربات میں سے کچھ شیئر کریں تو ہم جیسوں کا بھلا ہوگا۔
 

اکمل زیدی

محفلین
بہت عمدہ لڑی اور عمدہ تمثیل۔۔۔شیئرنگ کا سلسلہ تو رہے گا ۔۔۔مگر مقطع کا بند یہ بنا کے جج کا اچھی اہلیت کا ہونا اور معاملہ فہم ہونا اہم ہے ورنہ ۔۔۔کسے وکیل کریں اور کس سے منصفی چاہیں والا معاملہ ہو جائے گا ۔۔۔۔
چلیں یہ لکھتے ہوئے ہمیں بھی ایک واقعہ یاد آگیا پتہ نہیں سنا تھا یا کہیں پڑھا تھا اب یہ فیصلہ آپ پر کے کتنا اس لڑی پر پورا اتر رہا ہے ۔۔۔

ایک قصبے میں کافی ٹائم سے بارش نہیں ہوئی تھی لوگ ترسے ہوئے تھے فال نکلوائی گئی تو معلوم ہوا کہ عنقریب بارش کا امکان ہے مگر کوئی اس میں نہائے نہ ورنہ وہ پاگل ہو جائے گا المختصر بارش ہوئی لوگوں نے بات پر عمل نہیں کیا سب نہا لیے سب پاگل ہو گئے سوائے بادشاہ اور وزیر کے انہوں نے احتیاط کی ۔۔ملک میں بغاوت ہوگئی کے بادشاہ اور وزیر پاگل ہیں انہیں تبدیل کیا جائے مشورہ کیا گیا تو وزیر با تدبیر نے مشورہ دیا کے بادشاہ سلامت بارش کا کچھ پانی ابھی کچھ برتنوں میں باقی ہے تو کیوں نا اس سے استفادہ کیا جائے۔۔۔۔۔۔
 

Khursheed

محفلین
بہت عمدہ لڑی اور عمدہ تمثیل۔۔۔شیئرنگ کا سلسلہ تو رہے گا ۔۔۔مگر مقطع کا بند یہ بنا کے جج کا اچھی اہلیت کا ہونا اور معاملہ فہم ہونا اہم ہے ورنہ ۔۔۔کسے وکیل کریں اور کس سے منصفی چاہیں والا معاملہ ہو جائے گا ۔۔۔۔
چلیں یہ لکھتے ہوئے ہمیں بھی ایک واقعہ یاد آگیا پتہ نہیں سنا تھا یا کہیں پڑھا تھا اب یہ فیصلہ آپ پر کے کتنا اس لڑی پر پورا اتر رہا ہے ۔۔۔

ایک قصبے میں کافی ٹائم سے بارش نہیں ہوئی تھی لوگ ترسے ہوئے تھے فال نکلوائی گئی تو معلوم ہوا کہ عنقریب بارش کا امکان ہے مگر کوئی اس میں نہائے نہ ورنہ وہ پاگل ہو جائے گا المختصر بارش ہوئی لوگوں نے بات پر عمل نہیں کیا سب نہا لیے سب پاگل ہو گئے سوائے بادشاہ اور وزیر کے انہوں نے احتیاط کی ۔۔ملک میں بغاوت ہوگئی کے بادشاہ اور وزیر پاگل ہیں انہیں تبدیل کیا جائے مشورہ کیا گیا تو وزیر با تدبیر نے مشورہ دیا کے بادشاہ سلامت بارش کا کچھ پانی ابھی کچھ برتنوں میں باقی ہے تو کیوں نا اس سے استفادہ کیا جائے۔۔۔۔۔۔
اکمل بھائی! کیا اس کا مطلب ہے کہ اکثریت کی بات درست سمجھی جائے گی؟ یا جیسی رعایا ہوگی ویسا ہی حکمران ہوگا؟
 

اکمل زیدی

محفلین
اکمل بھائی! کیا اس کا مطلب ہے کہ اکثریت کی بات درست سمجھی جائے گی؟ یا جیسی رعایا ہوگی ویسا ہی حکمران ہوگا؟
خورشید بھائی ۔۔۔دونوں باتیں الگ بحث کی متقاضی ہیں ۔۔۔مگر یہ بات ضرور ہے کے تواریخ نے اکثر مقام پر اکثریت کے مقابلے میں اقلیت کو صحیح ثابت کیا ہے باقی جیسی رعایا ہو گی ویسا حکمران والی بات تفصیل طلب ہے سرسری سا جواب نا کافی رہے گا ۔ ۔ مگر پھر بھی ایک بات تو کہونگا کے ظاہر ہے ہمارا طرزِ انتخاب حکومت اکثریت کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔۔۔ تو جیسے اکثریت کا رجحان ہو گا تو حکمران بھی اسی نوعیت کے ہونگے ۔۔۔
 

سید عمران

محفلین
مزید خوشی ہوگی اگر آپ بھی کچھ شئیر کریں۔
آپ نے تو ایک بھرپور زندگی گذاری ہے۔ اگر اپنے تجربات میں سے کچھ شیئر کریں تو ہم جیسوں کا بھلا ہوگا۔
اوہ مائی گاڈ۔۔۔
آپ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ آپ کی اتنی بڑی سیما آپی نے اپنی بھرپور زندگی ایسے نوٹنکی ڈرامے دیکھنے میں گزاری ہے!!!
:eek::eek::eek:
 

Khursheed

محفلین
ایک تمثیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اندھا دھند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​

پرویز ، مختار اور صادق ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں ملازم تھے- پرویز اور مختار چالاک اورموقع پرست تھے-لیکن لوگوں میں گھل مل جاتے اور اپنے آپ کو ان کا ہمدرد بنا کر پیش کرتے تھے- صادق ایک سیدھا سادا، ایماندار اورنفع نقصان کی پرواہ کیے بغیر حق اور سچ کا ساتھ دینے والا آدمی تھا- اس کا ایمان تھا کہ اگر حق کا ساتھ دینا ہو یا باطل کے خلاف لڑنا ہو تو زیادہ سوچ بچار ایمان میں ضعف کی نشانی ہے-
تھوڑا عرصہ پہلے کمپنی نے ایک نیا ملازم رکھا جس کا نام سلیم تھا- سلیم یاروں کی یاری میں خوش رہنے والا اور دوستی نبھانے والا بندہ تھا- پرویز اور مختار دونوں نے اس کے ساتھ اچھے تعلقات بنالیے- سلیم بھی ان کی دوستی میں خوش تھا- ایک دن پرویز اور مختار سلیم کے پاس آئے اور اسے کہا کہ ہمارے پاس پیسے کمانے کا ایک منصوبہ ہے- اس سے ہم بڑی آسانی سے پیسے کما سکتے ہیں-
تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم یعنی پرویز اور مختار کمپنی سے پٹرول، ڈیزل اور گاڑیوں کے سپئیر پارٹس چرُا کے تمہیں دیں گے اور تم انہیں مارکیٹ میں فروخت کردینا- جو رقم ملے گی ہم آپس میں برابر تقسیم کرلیں گے-سلیم طبیعت کے لحاظ سے بُرا نہیں تھا لیکن دوستی کی خاطر اور تھوڑا لالچ میں ان کا ساتھ دینے پر راضی ہوگیا- چوری کا یہ کاروبار بڑی کامیابی سے چلنے لگا-
ایک دن سلیم چوری کا سامان فروخت کرکے آرہا تھا کہ اس کی موٹر سائیکل پھسلی اور سڑک پر گر گئی- ابھی سلیم اٹھنے کی کوشش کررہا تھا کہ ایک بڑا ٹرک اس کے سر سے محض چند انچ کے فاصلے سے بڑی سپیڈ سے گذر گیا- یہ دیکھ کر سلیم کانپ گیا- اُٹھ کے اس نے موٹر سائیکل سیدھی کی اور سوار ہوکے اپنے دوستوں کی طرف چل پڑا- وہاں پہنچ کر اس نے پرویز اور مختار کو سارا واقعہ سنایا اور کہنے لگا کہ آج میں مرتے مرتے بچا ہوں- اس لیے میں آج سے اس کام سے توبہ کرتا ہوں اور آپ سے بھی کہتا ہوں کہ یہ کام چھوڑ دیں- ان دونوں نے بظاہر اس کے ساتھ ہمدردی کی اور اس کی ہاں میں ہاں ملائی لیکن دل سے وہ یہ کام چھوڑنے پر راضی نہیں تھے- کیونکہ اس سے انہیں اچھی خاصی آمدنی ہورہی تھی۔ سلیم چونکہ ان کا رازدار تھا اس لیے دونوں اس سے خطرہ محسوس کرنے لگے- اس خطرے سے پیچھا چھڑانے کے لیے دونوں نے ایک پلان تیار کیا-
وہ دونوں صادق کے پاس گئے- پہلے تو اس کی ایمانداری اور حق پرستی کی تعریف کی- پھر انہوں نے کہا کہ بھائی کمپنی کا مال خورد برد ہو رہا ہے اور کرنے والا سلیم ہے- ہمارے پاس پکے ثبوت ہیں کہ وہ کہاں مال بیچتا ہے- وہ کہنے لگے کہ صادق بھائی ہم سارے کمپنی کے وفادار ہیں- لیکن کمپنی سب سے زیادہ آپ پر بھروسہ کرتی ہے- آپ سے گذارش ہے کہ چونکہ سلیم ہمارا دوست ہے اس لیے ہمارا نام نہ آئے اورآپ کمپنی سے کہیں کہ اس کے خلاف کاروائی کرے-
لو جی صادق صاحب تو برائی کے خلاف لڑتے وقت سوچ بچار کو گناہ سمجھتے تھے اوربرائی کو مٹانے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے- اس لیے وہ کمر کس کے سلیم کے خلاف لڑنے میدان میں اتر آئے- سلیم کو ہر جگہ بدنام کیا گیا اور کمپنی کو شکایت کرکے سلیم کو فوری طور پرکمپنی سے نکالنے کو کہا گیا- ثبوت سلیم کے خلاف تھے اور سلیم چونکہ دوستی کی خاطر جان دینے والا بندہ تھا اس لیے اس نے مختار اور پرویز کا نام بھی زبان پر نہ آنے دیا- نتیجہ پرویز اور مختار کی توقع کے عین مطابق نکلا- سلیم کو کمپنی سے نکال دیا گیا - پرویز اور مختار دوبارہ اپنے نفع بخش کاروبار میں لگ گئے-

----- صادق جیسی اچھی خصوصیات ہوں لیکن عقل اور فہم سے کام نہ لیا جائے اور ان کا اندھا دھند استعمال کیا جائے تو ان اچھی خصوصیات کو برے لوگ اچھے لوگوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں
------سلیم جیسی اچھی خصوصیات بھی عقل اور فہم کے بغیر اندھا دھند استعمال کریں تو خود کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہیں-
------پرویز اور مختار جیسے لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیئے
 
Top