پوشیدہ سبق

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
یہ واقعہ تقریباً آج سے بیس بائیس برس قبل کا ہے۔ میرا ایک دوست ہے۔ وہ انتہائی شریف اور بے ضرر سا انسان ہے۔ ایک مرتبہ میں اس کی دُکان پر گیا، اُس دن اُس کا مزاج بالکل بدلا ہوا تھا۔ میں نے سلام کیا تو اُس نے بے دلی اور دھیمی آواز میں سلام کا جواب دیا۔ اور اپنے چھوٹے بھائی کو کاؤنٹر پر بِٹھا کر چلتا بنا۔ مجھے اُس کے رویے پر غصہ آنے کی بجائے حیرت ہوئی۔ کیونکہ میں نے اسے ایسا رویہ کسی غیر سے بھی روا رکھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ میں نے اس کے چھوٹے بھائی سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے تو وہ کہنے لگا مجھے بھی کچھ علم نہیں ہے۔ بس بھائی نے کسی کو کال کی تو اس کے بعد سے یہی حال ہے۔ میں بھی پھر واپس گھر کی طرف چل دیا۔ ابھی اس واقعہ کو ایک گھنٹہ ہی گزرا ہو گا کہ اس کی کال آئی۔ میں نے اوکے کا بٹن دبایا ہی تھا کہ مسلسل اس کی طرف سے معذرت کی تکرار شروع ہو گئی۔ کہنے لگا یار! میں ذرا ڈسٹرب تھا۔ تو مجھے معاف کر دو۔ میں نے کہا معافی تلافی کو چھوڑو، یہ بتاؤ کہ معاملہ کیا ہے۔ کہنے لگا اگر زحمت نہ ہو تو میری دُکان پر کل صبح تشریف لائیے گا۔ وہیں بیٹھ کر بات کریں گے۔
اگلے دن میں پھر اس کی دُکان پر پہنچا۔ رسمی سلام دعا کے بعد اس نے مجھے بتانا شروع کیا کہ "ماہ رمضان (جس کو گزرے تقریباً تین ماہ ہو چکے تھے) کا ستائیس کا روزہ تھا۔ اور ابھی افطاری سے تقریباً آدھا گھنٹہ رہتا تھا کہ میرے پاس ایک فیملی آئی۔ دیکھنے سے انتہائی سلجھے ہوئے فیملی تھی۔ جن میں ایک مرد اور ایک عورت شاید میاں بیوی ہوں گے۔ اور ایک لڑکی پندرہ سولہ برس کی ہو گی۔ اور ایک لڑکا تقریباً پانچ برس کا تھا۔ مجھے کہنے لگے کہ ہم حضرت سخی سرور رح ( ہمارے شہر ڈیرہ غازی خان سے تقریباً پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر بلوچستان کی طرف جاتے ہوئے) کے مزار پر حاضری کے لیے گئے تھے۔ وہاں ہمارے پیسے کھو گئے۔ اب وہاں سے یہاں شہر تک کسی کی منتیں کر کے پہنچ گئے ہیں۔ لیکن ہمارا گھر اسلام آباد میں ہے۔ ہم نے واپس جانا ہے۔ تو براہِ کرم آپ ہماری مدد فرمائیں۔ ہم اسلام آباد پہنچتے ہی آپ کو پیسے بھجوا دیں گے۔
چونکہ بہت سے فراڈی لوگ مارکیٹ میں گھومتے پھرتے دکھائی دے جاتے ہیں۔ جن کی کہانی بھی اسی قسم کی ہوتی ہے۔ میں نے انہی اندیشوں کے وجہ سے ان سے معذرت کر لی۔ جیسے ہی وہ فیملی جانے لگی۔ اس فیملی کے ہر بڑھتے قدم کے ساتھ ساتھ میرے دل میں جیسے کوئی ضربیں لگا رہا تھا کہ تو نے ان مجبور مسافروں کا لحاظ نہ کیا جس کا حق اللہ نے تیرے مال میں رکھ دیا ہے۔ ماہ رمضان کا لحاظ نہ کیا۔ ستائیسویں روزے کا لحاظ نہ کیا۔ افطاری کا وقت ہونے والا ہے اس کا لحاظ نہ کیا۔ غرض ہر بات میرے نفس پر ایک تازیانے کی طرح پڑ رہی تھی۔ میں انہی سوچوں میں گم تھا اور ان کے قدم بڑھتے جا رہے تھے۔ آخر میں نے تمام اندیشوں کو پسِ پشت ڈالا اور ان کو بلایا۔ چونکہ افطاری کا وقت تقریباً ہونے والا تھا۔ کسی قسم کا شور شرابا نہ تھا۔ وہ میری آواز سن کر پلٹے اور میرے بلانے کا اشارہ پا کر واپس میری دکان پر آ گئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو کتنی رقم درکار ہے تو اس آدمی نے اندازے سے کہا کہ پانچ ہزار سے کام چل جائے گا (تب ڈیرہ غازی خان سے لاہور کی ائیر کنڈیشنڈ بس کی ٹکٹ اڑھائی سو کی آیا کرتی تھی) حالانکہ انہوں نے رقم ضرورت سے زیادہ بتائی تھی لیکن میرے دل کی کیفیت جس وجہ سے بدلی ہوئی تھی۔ میں نے پروا نہ کی۔ آناً فاناً انہیں پیسے دے دئیے۔ اس آدمی نے اپنا موبائل نمبر مجھے دیا اور میرا نمبر لے لیا۔ کہنے لگا کہ ہم گھر واپس پہنچتے ہی آپ کے پیسے واپس بھیج دیں گے۔
میں نے ان سے ایک ماہ تک کوئی رابطہ نہیں کیا کہ ممکن ہے کہ ان کے پاس ابھی پیسے نہیں ہوں گے۔ وہ فرصت سے بھیج دیں گے۔ پھر دوسرے مہینے میں ایک مرتبہ میں نے کال کی تو کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر آج جب میں نے کال کی تو انہوں نے مجھے وہ گالیاں دیں کہ الحفیظ الامان۔ میرے زندہ مردہ کسی رشتے کو انہوں نے نہ بخشا۔ میں نے کال بند کر دی۔ میرے کانوں میں جیسے نے سیسا پگھلا کے ڈال دیا ہو۔ مجھے چکر سے آنے لگے۔ ابھی یہ کیفیت طاری تھی کہ آپ آ پہنچے جس وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے بے اعتنائی برتنی پڑی کیونکہ مجھے خود سے لڑنے کے لیے وقت درکار تھا۔"
میں سوچتا ہوں کہ ایک دھوکے باز کے دھوکے نے ناجانے کتنے ہی حق داروں کا حق مارا۔ اب کسی کو حقیقتاً ضرورت ہو گی تب بھی یہ آدمی کیسے کسی پر اعتبار کر پائے گا۔ اللہ پاک میرے اس دوست کے دل کو مطمئن اور اپنی رضا پر راضی رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ اور اُس دھوکے باز کو بھی اس بات کا ادراک ہو جائے کہ یہ دنیا ایک دھوکے کا گھر ہے۔ اس کا مال و متاع سب دھوکہ ہے۔ اور ایسی روش سے باز رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
 
میری گذارش ہے کہ اس لڑی میں کوئی واقعہ یا کوئی بات جس نے آپ کو سوچنے پر مجبور کیا ہو شئیر کریں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے میں پی ٹی وی کے ایک ڈرامے کا ذکر کروں گا۔

پی ٹی وی کے پرانے ڈرامے اپنی مثال آپ ہیں۔ چونکہ ایک چینل تھا اس لیے پورے ملک سے ہر فیلڈ میں ماہر افراد چنے جاتے تھے۔ افرا تفری اور جلد بازی نہیں تھی اس لیے بہت محنت کی جاتی تھی۔ سندھی کلچر پر ایک خوبصورت ڈرامہ لگا تھا جس کا نام تھا چھوٹی سی دنیا۔ مزاحیہ انداز میں سنجیدہ معاشرتی مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ایک سین ملاحظہ کریں۔

دیہی بستی کے دو کردار ہیں۔ ایک کا نام صاحب ہے ۔ وہ پڑھا لکھا ہے۔ انگریزی لباس پہنتا ہے۔ انگریزوں کے طور طریقے اور زبان جانتا ہے۔ بستی کے لوگ اس سے بہت متاثر ہیں۔ اس کی بہت عزت کرتے ہیں۔

دوسرے کردارکا نام جانو جرمن ہے وہ فراڈ ہے اور اپنے آپ کو سمجھدار اور پڑھا لکھا ظاہر کرتا ہے۔ یہ صاحب سے جلتا ہے۔ اور اسے نیچا دکھانا چاہتا ہے۔

بستی والوں کی نظروں میں گرانے کے لیے وہ صاحب کو انگریزی بولنے کے مقابلے کا چیلنج کرتا ہے۔ صاحب تیار ہوجاتا ہے۔ بستی کے دو ایماندار معمر بزرگ جج چن لیے جاتے ہیں اور مقابلے کے دن اور وقت کا اعلان کردیا جاتا ہے۔

مقابلے کے دن پنڈال بستی کے لوگوں سے بھرا ہوتا ہے۔ دونوں کرداروں کو باری باری انگریزی بولنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ جانو جرمن جناتی زبان بولتا ہے جو ججوں سمیت کسی کی سمجھ میں نہیں آتی۔ جبکہ صاحب صحیح انگریزی بولتا ہے۔ جن میں سے چند الفاظ ججوں اور گاؤں والوں کی سمجھ میں آجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ گاؤں کے ایک بندے کو کہتا ہے کہ رمضان میرے لیے پانی کا ایک گلاس لاؤ۔

Ramzan, Bring me a glass of water please.​

مقابلے کے اختتام پر ججوں کا فیصلہ یہ تھا۔

صاحب نے انگریزی میں ہماری زبان کی ملاوٹ کی۔ اس نے رمضان اور گلاس جیسے الفاظ ہماری زبان سے شامل کیے۔ جبکہ جانو جرمن نے ہماری زبان سے ایک لفظ بھی نہیں بولا اور خالص انگریزی بولی۔ اس لیے آج کے مقابلے کا فاتح جانو جرمن ہے۔

ڈرامے کے اس سین سے میں نے سیکھا کہ!

۔۔۔ صرف ایمانداری اور خلوص کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ ضروری نہیں کہ درست ہو۔

۔۔۔ ادھورے حقائق کی بنیاد پر درست ٖفیصلہ ممکن نہیں۔

۔۔۔ اگر فیصلہ کرنے والے معاملے کو اچھی طرح نہیں سمجھتے تو فراڈیے ان سے اپنی مرضی کا فیصلہ کروالیتے ہیں۔
جی بالکل! اس ڈرامے کا یہی سین پاکستانی سیاست میں چار سال قبل عملی طور پر پیش کیا گیا۔
اس حقیقی ڈرامے کے سین سے ھم نے سیکھا کہ!
۔۔۔ بے ایمانی اور بدنیتی کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ غلط تھا۔ اسی لیے اب اُس فیصلے کو ’’ری ورٹ‘‘ کرنے کی سرگوشیاں کی جا رہی ہیں۔
۔۔۔ ادھورے حقائق کی بنیاد پر غلط فیصلہ کیا گیا۔ اسی لیے ساری قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔
۔۔۔ فیصلہ کرنے والے دانستہ طور پر معاملے کو الجھائیں تو ’’فراڈیے‘‘ ان سے اپنی مرضی کا فیصلہ کروالیتے ہیں۔
 

سیما علی

لائبریرین
ایک دھوکے باز کے دھوکے نے ناجانے کتنے ہی حق داروں کا حق مارا۔ اب کسی کو حقیقتاً ضرورت ہو گی تب بھی یہ آدمی کیسے کسی پر اعتبار کر پائے گا۔
سچ ہے کہ ایک دھوکے با ز پتہ نہیں کتنے حق داروں کا حق مار آتا ہے پر میرا مالک پھر بھی حق داروں کا حق اُن تک پہنچوا ہی دیتا ہے ۔
 

Khursheed

محفلین
میں سوچتا ہوں کہ ایک دھوکے باز کے دھوکے نے ناجانے کتنے ہی حق داروں کا حق مارا۔ اب کسی کو حقیقتاً ضرورت ہو گی تب بھی یہ آدمی کیسے کسی پر اعتبار کر پائے گا۔ اللہ پاک میرے اس دوست کے دل کو مطمئن اور اپنی رضا پر راضی رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ اور اُس دھوکے باز کو بھی اس بات کا ادراک ہو جائے کہ یہ دنیا ایک دھوکے کا گھر ہے۔ اس کا مال و متاع سب دھوکہ ہے۔ اور ایسی روش سے باز رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
جی بھائی!
ہم نے اسی دنیا میں رہنا ہے جتنی احتیاط کرسکتے ہیں کرکے پھر حقداروں کو بھی محروم نہیں کرنااور یہ کوشش کرنی ہے کہ ان تک حق پہنچتا رہے- دھوکہ دینے والوں کا جرم دوگنا ہے جیسے آپ نے بھی کہا کہ ایک تو انہوں نے دھوکے سے رقم ہتھیا لی اور دوسرا اصل حقداروں کو بھی مشکوک بنا دیا- اللہ سب کو ہدایت عطا فرمائے-
 

سیما علی

لائبریرین
جی بھائی!
ہم نے اسی دنیا میں رہنا ہے جتنی احتیاط کرسکتے ہیں کرکے پھر حقداروں کو بھی محروم نہیں کرنااور یہ کوشش کرنی ہے کہ ان تک حق پہنچتا رہے- دھوکہ دینے والوں کا جرم دوگنا ہے جیسے آپ نے بھی کہا کہ ایک تو انہوں نے دھوکے سے رقم ہتھیا لی اور دوسرا اصل حقداروں کو بھی مشکوک بنا دیا- اللہ سب کو ہدایت عطا فرمائے-
آمین الہی آمین
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
جی بھائی!
ہم نے اسی دنیا میں رہنا ہے جتنی احتیاط کرسکتے ہیں کرکے پھر حقداروں کو بھی محروم نہیں کرنااور یہ کوشش کرنی ہے کہ ان تک حق پہنچتا رہے- دھوکہ دینے والوں کا جرم دوگنا ہے جیسے آپ نے بھی کہا کہ ایک تو انہوں نے دھوکے سے رقم ہتھیا لی اور دوسرا اصل حقداروں کو بھی مشکوک بنا دیا- اللہ سب کو ہدایت عطا فرمائے-
آمین
 

Khursheed

محفلین
ایک تمثیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اندھا دھند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​

پرویز ، مختار اور صادق ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں ملازم تھے- پرویز اور مختار چالاک اورموقع پرست تھے-لیکن لوگوں میں گھل مل جاتے اور اپنے آپ کو ان کا ہمدرد بنا کر پیش کرتے تھے- صادق ایک سیدھا سادا، ایماندار اورنفع نقصان کی پرواہ کیے بغیر حق اور سچ کا ساتھ دینے والا آدمی تھا- اس کا ایمان تھا کہ اگر حق کا ساتھ دینا ہو یا باطل کے خلاف لڑنا ہو تو زیادہ سوچ بچار ایمان میں ضعف کی نشانی ہے-
تھوڑا عرصہ پہلے کمپنی نے ایک نیا ملازم رکھا جس کا نام سلیم تھا- سلیم یاروں کی یاری میں خوش رہنے والا اور دوستی نبھانے والا بندہ تھا- پرویز اور مختار دونوں نے اس کے ساتھ اچھے تعلقات بنالیے- سلیم بھی ان کی دوستی میں خوش تھا- ایک دن پرویز اور مختار سلیم کے پاس آئے اور اسے کہا کہ ہمارے پاس پیسے کمانے کا ایک منصوبہ ہے- اس سے ہم بڑی آسانی سے پیسے کما سکتے ہیں-
تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم یعنی پرویز اور مختار کمپنی سے پٹرول، ڈیزل اور گاڑیوں کے سپئیر پارٹس چرُا کے تمہیں دیں گے اور تم انہیں مارکیٹ میں فروخت کردینا- جو رقم ملے گی ہم آپس میں برابر تقسیم کرلیں گے-سلیم طبیعت کے لحاظ سے بُرا نہیں تھا لیکن دوستی کی خاطر اور تھوڑا لالچ میں ان کا ساتھ دینے پر راضی ہوگیا- چوری کا یہ کاروبار بڑی کامیابی سے چلنے لگا-
ایک دن سلیم چوری کا سامان فروخت کرکے آرہا تھا کہ اس کی موٹر سائیکل پھسلی اور سڑک پر گر گئی- ابھی سلیم اٹھنے کی کوشش کررہا تھا کہ ایک بڑا ٹرک اس کے سر سے محض چند انچ کے فاصلے سے بڑی سپیڈ سے گذر گیا- یہ دیکھ کر سلیم کانپ گیا- اُٹھ کے اس نے موٹر سائیکل سیدھی کی اور سوار ہوکے اپنے دوستوں کی طرف چل پڑا- وہاں پہنچ کر اس نے پرویز اور مختار کو سارا واقعہ سنایا اور کہنے لگا کہ آج میں مرتے مرتے بچا ہوں- اس لیے میں آج سے اس کام سے توبہ کرتا ہوں اور آپ سے بھی کہتا ہوں کہ یہ کام چھوڑ دیں- ان دونوں نے بظاہر اس کے ساتھ ہمدردی کی اور اس کی ہاں میں ہاں ملائی لیکن دل سے وہ یہ کام چھوڑنے پر راضی نہیں تھے- کیونکہ اس سے انہیں اچھی خاصی آمدنی ہورہی تھی۔ سلیم چونکہ ان کا رازدار تھا اس لیے دونوں اس سے خطرہ محسوس کرنے لگے- اس خطرے سے پیچھا چھڑانے کے لیے دونوں نے ایک پلان تیار کیا-
وہ دونوں صادق کے پاس گئے- پہلے تو اس کی ایمانداری اور حق پرستی کی تعریف کی- پھر انہوں نے کہا کہ بھائی کمپنی کا مال خورد برد ہو رہا ہے اور کرنے والا سلیم ہے- ہمارے پاس پکے ثبوت ہیں کہ وہ کہاں مال بیچتا ہے- وہ کہنے لگے کہ صادق بھائی ہم سارے کمپنی کے وفادار ہیں- لیکن کمپنی سب سے زیادہ آپ پر بھروسہ کرتی ہے- آپ سے گذارش ہے کہ چونکہ سلیم ہمارا دوست ہے اس لیے ہمارا نام نہ آئے اورآپ کمپنی سے کہیں کہ اس کے خلاف کاروائی کرے-
لو جی صادق صاحب تو برائی کے خلاف لڑتے وقت سوچ بچار کو گناہ سمجھتے تھے اوربرائی کو مٹانے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے- اس لیے وہ کمر کس کے سلیم کے خلاف لڑنے میدان میں اتر آئے- سلیم کو ہر جگہ بدنام کیا گیا اور کمپنی کو شکایت کرکے سلیم کو فوری طور پرکمپنی سے نکالنے کو کہا گیا- ثبوت سلیم کے خلاف تھے اور سلیم چونکہ دوستی کی خاطر جان دینے والا بندہ تھا اس لیے اس نے مختار اور پرویز کا نام بھی زبان پر نہ آنے دیا- نتیجہ پرویز اور مختار کی توقع کے عین مطابق نکلا- سلیم کو کمپنی سے نکال دیا گیا - پرویز اور مختار دوبارہ اپنے نفع بخش کاروبار میں لگ گئے-

----- صادق جیسی اچھی خصوصیات ہوں لیکن عقل اور فہم سے کام نہ لیا جائے اور ان کا اندھا دھند استعمال کیا جائے تو ان اچھی خصوصیات کو برے لوگ اچھے لوگوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں
------سلیم جیسی اچھی خصوصیات بھی عقل اور فہم کے بغیر اندھا دھند استعمال کریں تو خود کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہیں-
------پرویز اور مختار جیسے لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیئے
شکریہ بھائی عبدالرووف!
 

سیما علی

لائبریرین

پردیس ڈرامہ: پردیسیوں کو گھر لوٹنے کی اجازت کیوں نہیں ملتی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

ڈرامہ سیریل پردیس کا ایک سین ہے جس میں مرکزی کردار احسن (سرمد کھوسٹ) اپنے گھر والوں سے کہتے ہیں کہ
’میں نے (مسقط ) واپس جانے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔‘
بشریٰ انصاری، جو اس ڈرامے میں والدہ کا کردار نبھا رہی ہیں، بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں کہ اگر وہ (احسن) بیرون ملک روزگار کے لیے نہیں جائیں گے تو بہن کی شادی اور گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔ اس پر احسن شکوہ کرتے ہیں کہ میرے لیے زیادہ ضروری ہے کہ یہاں اپنے بیوی بچوں کے پاس رہوں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی ہو یہ مجھے منظور نہیں۔
اور دوسری جانب احسن کی اہلیہ زبیدہ ( شائسہ واحدی) ہیں جو صبر کا پیکر بنی دکھائی دیتی ہیں اور چہرے پر گہری اداسی لیے وہ اپنے دونوں بچوں کی پرورش کی کوشش کرتی ہیں۔
یہ کہانی معاشی حالات کی بہتری کے لیے گھر سے نکلنے والے ایک شخص کی ہے جو بھائی بیٹا، شوہر اور باپ ہے اور سب کی توقعات اُس سے الگ الگ ہیں۔ اس کہانی کو پردیسیوں کے نام کیا گیا ہے۔
یہ ڈرامہ ہم نے دو چار قسطیں گذرنے کے بعد سے دیکھنا شروع پھر آخر تک دیکھا بڑا تلخ موضوع ہے !!!ہم سب کے خاندان میں ایسی کہانیاں ہیں ۔۔۔بہت دل دُکھتے ہیں ۔۔۔کہیں بچے اسقدر بگڑ جاتے ہیں کہ سنبھالے نہیں سنبھلتے ۔۔۔کہیں گھر بگڑ جاتے ۔۔۔باہر جانے والے بہنوں کی شادیاں بھائیوں کی اعلیٰ تعلیم کبھی ماں باپ کی اپنے ذمہ داریوں کو بانٹتے ہوئے عمر تمام کرتے اور اصل ورثا گیرے ایریا میں چلے جاتے ہیں ۔۔۔
جوانی میں لوٹنے کی کوشش کرنے پر انھیں گھر والے کہتے ہیں کہ آ جاؤ لیکن دیکھ لو گھر کے معاشی حالات کیا ہیں تم ذمہ دار ہو یہاں مہنگائی ہے تمھارے چھوٹے بہن بھائیوں کی شادی اور تعلیم کے اخراجات ہیں۔اور اپنے بیوی بچے ہیں ۔۔۔
انتہائی احساس اور کڑوا سچ جو ہر دوسرے گھر کا ہے ۔۔۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ایک لمبے عرصے سے ہم میں قناعت پسندی کا فقدان ہے ۔۔ہم نے تھوڑے میں خوش رہنا چھوڑ دیا ہے ۔۔۔خوب سے خوب تر کی تلاش میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں منانا بھول گئے ۔۔۔۔کبھی نہیں سوچتے کہ ہم تو اتنے اپنوں میں خوش نہیں ہوتے تو وہ جو اکیلے کمانے جاتے ہیں وہ تو پردیس کی مشکلیں پہلے ہی جھیلتے ہیں اور وہ بھی غیروں میں تو کم از کم اُنکی مشکلات تو سمجھنے کی کوشش تو کریں ۔۔۔
ڈرامہ حقیقت سے بے حد قریب ہے اس کا اندازہ ہر اُس گھر سے ہوتا ہے جن گھرانوں کے سربراہ پردیس میں ہیں اور اُنکی نصف بہتر کس حال میں ہیں ۔۔۔صرف پیسے ہی ہر چیز کا بدل نہیں ہیں۔ کاش یہ ہمیں سمجھ میں آنے لگے ۔۔۔ 😢😢😢😢😢
 

Khursheed

محفلین

پردیس ڈرامہ: پردیسیوں کو گھر لوٹنے کی اجازت کیوں نہیں ملتی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟


اصل المیہ یہ ہے کہ ایک لمبے عرصے سے ہم میں قناعت پسندی کا فقدان ہے ۔۔ہم نے تھوڑے میں خوش رہنا چھوڑ دیا ہے ۔۔۔خوب سے خوب تر کی تلاش میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں منانا بھول گئے ۔۔۔۔کبھی نہیں سوچتے کہ ہم تو اتنے اپنوں میں خوش نہیں ہوتے تو وہ جو اکیلے کمانے جاتے ہیں وہ تو پردیس کی مشکلیں پہلے ہی جھیلتے ہیں اور وہ بھی غیروں میں تو کم از کم اُنکی مشکلات تو سمجھنے کی کوشش تو کریں ۔۔۔
ڈرامہ حقیقت سے بے حد قریب ہے اس کا اندازہ ہر اُس گھر سے ہوتا ہے جن گھرانوں کے سربراہ پردیس میں ہیں اور اُنکی نصف بہتر کس حال میں ہیں ۔۔۔صرف پیسے ہی ہر چیز کا بدل نہیں ہیں۔ کاش یہ ہمیں سمجھ میں آنے لگے ۔۔۔ 😢😢😢😢😢
جی آپا آپ نے ایک تلخ حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے- یہ رجحان دن بدن بڑھ رہا ہے- اسی موضوع پر ایک اور خوبصورت پاکستانی ڈرامہ میں بھی یوٹیوب پر دیکھ رہا تھا جو رات ہی ختم ہوا ہے ڈرامے کا نام ہے
جیکسن ہائیٹس
 

سیما علی

لائبریرین
جی آپا آپ نے ایک تلخ حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے- یہ رجحان دن بدن بڑھ رہا ہے- اسی موضوع پر ایک اور خوبصورت پاکستانی ڈرامہ میں بھی یوٹیوب پر دیکھ رہا تھا جو رات ہی ختم ہوا ہے ڈرامے کا نام ہے
جیکسن ہائیٹس
یہ نہیں دیکھا سناُ ہے اِ سکے بارے میں کبھی وقت ملا تو دیکھتے ہیں۔۔۔۔
 

Khursheed

محفلین
محترم جناب اشفاق احمد کے پروگرام زاویہ سے اقتباس
منفی سوچ
ایک عورت کسی رہائشی علاقے میں ایک مکان لے کر رہائش پذیر ہوتی ہے- گھرکے مکینوں میں صرف وہ ہے اور اس کا ایک دس بارہ سال کا بچہ- علاقے کے دوسرے مکینوں نے ایک بچے کے ساتھ رہائش پذیر اکیلی عورت کے معمولات کا جائزہ لینا شروع کیا تو مندرجہ ذیل باتیں ان کے علم میں آئیں:
1-عورت جب باہر نکلتی ہے تو نہایت صاف ستھرے کپڑوں میں بہت سی خوشبوئیں لگا کر نکلتی ہے اور سب سے بہت اخلاق سے پیش آتی ہے-
2- گاڑیوں میں مختلف سوٹڈ بوٹڈ لوگ ان سے ملنے آتے ہیں-
3- ایک گاڑی والا جب آتا ہے تو وہ اپنے بچے کو کھیلنے کے لیے باہر بھیج دیتی ہے-
ان معمولات سے لوگوں نے جو نتیجہ اخذ کیا وہ یہ تھا کہ عورت کردار کی مشکوک ہے بلکہ کوئی پیشہ ور ہے جو اس علاقے کی عزت اور غیرت کے لیے خطرہ ہے-
جبکہ اصل صورت حال یہ تھی:

1- وہ ایک مہذب اور بااخلاق عورت تھی جسے ایک بیماری لاحق تھی- اس بیماری میں مریض کے جسم پر زخم ہو جاتے ہیں اوراس کے جسم سے ناگوار بُو آنے لگتی ہے- اس کو چھپانے کے لیے وہ روزانہ کپڑے بدلتی تھی اور خوشبوئیں استعمال کرتی تھی-
2- قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اس کے زمینی جھگڑے چل رہے تھے اس لیے وہ اکیلی رہ رہی تھی
3- ملنے کے لیے آنے والوں میں اس کا مینیجر، اس کا وکیل اور اس کا ڈاکٹر شامل تھے
4- جب ڈاکٹر اسے دیکھنے کے لیے آتا تھا تو وہ بچے کو باہر نکال دیتی تھی تاکہ وہ ماں کی بیماری سے متنفر نہ ہو جائے-

تو اب ہم سوچیں کہ ہم دوسروں کے بارے میں کیسے سوچتے ہیں - بعض اوقات جسے ہماری ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے اپنی منفی سوچ کی وجہ سے ہم اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
اب ہم سوچیں کہ ہم دوسروں کے بارے میں کیسے سوچتے ہیں - بعض اوقات جسے ہماری ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے اپنی منفی سوچ کی وجہ سے ہم اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں
سچ ہے یہ بہت پہلے پڑھا تھا ۔۔۔اشفاق صاحب کی ہر تحریر اور ڈرامہ کسی مثبت پہلو کی طرف اشارا کر تا ہے !
پروردگار اُنکے درجات بلند فرمائے اپنی تحاریر کے ذریعے معاشرے سے منفی سوچ کو کم۔ کرنا اُنکا مقصد ِ حیات رہا ۔۔۔ایک جگہ بابا جی کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جنگل کی برف جارہیے تھے تو ایک جگہ دیکھا کہ آگ لگی ہوے کچھ جھاڑیوں میں اور ایک سانپ زخمی حالت میں پڑا ہے کچھ جل چکا ہے !!!بابا جی اُسے اُٹھا لیتے ہیں کہ اُسے بچایا جائے ساتھی کہتا ہے آپ کیا کر رہے زہریلی شے کو کیا بچانا آپکو نقصان پہنچائے گا پر وہ اُٹھا کے صاف جگہ پر جیسے ہی لاتے ہیں ہوا لگتی ہے اور وہ بہتر ہونا شروع ہوتے ہی بابا جی کو ڈس لیتا ہے !!!ساتھی کہتا ہے بابا جی میں نے کہا تھا یہ ڈسے گا !!!!بابا جی فرماتے ہیں ارے نیک بخت یہ اُس نے شکریہ کہا ہے تو کس خوبصورتی سے بتا یا یہ اُسکا انداز ہے شکریہ کہنے کا !!!!!😇😇
 

Khursheed

محفلین

سیما علی

جی آپا ہم لوگ اکثر اچھی تحریریں پڑھتے ہیں بڑے لوگوں کی باتیں سنتے ہیں واہ واہ کرتے ہیں اور بس- اصل روح کو کم ہی سمجھتے ہیں اور اگر سمجھتے ہیں تو بس چند لمحوں تک اس کا اثر قبول کرتے ہیں اور پھر اپنی روز مرہ زندگی کے معمولات میں ویسے ہی مشغول ہو جاتے ہیں جیسے پہلے تھے -
 

محمداحمد

لائبریرین
محترم جناب اشفاق احمد کے پروگرام زاویہ سے اقتباس
منفی سوچ
ایک عورت کسی رہائشی علاقے میں ایک مکان لے کر رہائش پذیر ہوتی ہے- گھرکے مکینوں میں صرف وہ ہے اور اس کا ایک دس بارہ سال کا بچہ- علاقے کے دوسرے مکینوں نے ایک بچے کے ساتھ رہائش پذیر اکیلی عورت کے معمولات کا جائزہ لینا شروع کیا تو مندرجہ ذیل باتیں ان کے علم میں آئیں:
1-عورت جب باہر نکلتی ہے تو نہایت صاف ستھرے کپڑوں میں بہت سی خوشبوئیں لگا کر نکلتی ہے اور سب سے بہت اخلاق سے پیش آتی ہے-
2- گاڑیوں میں مختلف سوٹڈ بوٹڈ لوگ ان سے ملنے آتے ہیں-
3- ایک گاڑی والا جب آتا ہے تو وہ اپنے بچے کو کھیلنے کے لیے باہر بھیج دیتی ہے-
ان معمولات سے لوگوں نے جو نتیجہ اخذ کیا وہ یہ تھا کہ عورت کردار کی مشکوک ہے بلکہ کوئی پیشہ ور ہے جو اس علاقے کی عزت اور غیرت کے لیے خطرہ ہے-
جبکہ اصل صورت حال یہ تھی:

1- وہ ایک مہذب اور بااخلاق عورت تھی جسے ایک بیماری لاحق تھی- اس بیماری میں مریض کے جسم پر زخم ہو جاتے ہیں اوراس کے جسم سے ناگوار بُو آنے لگتی ہے- اس کو چھپانے کے لیے وہ روزانہ کپڑے بدلتی تھی اور خوشبوئیں استعمال کرتی تھی-
2- قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اس کے زمینی جھگڑے چل رہے تھے اس لیے وہ اکیلی رہ رہی تھی
3- ملنے کے لیے آنے والوں میں اس کا مینیجر، اس کا وکیل اور اس کا ڈاکٹر شامل تھے
4- جب ڈاکٹر اسے دیکھنے کے لیے آتا تھا تو وہ بچے کو باہر نکال دیتی تھی تاکہ وہ ماں کی بیماری سے متنفر نہ ہو جائے-

تو اب ہم سوچیں کہ ہم دوسروں کے بارے میں کیسے سوچتے ہیں - بعض اوقات جسے ہماری ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے اپنی منفی سوچ کی وجہ سے ہم اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں

اسے کہتے ہیں زاویہ نظر۔

شاید اسی لئے اسلام ہمیں بدگمانی سے روکتا ہے۔
 
Top