پنجاب میں نئے صوبے

پاکستان میں ریاستوں کی تشکیل اور کنفیڈریشن پاکستان کے مسائل کا حل ہے


  • Total voters
    34
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

لالہ رخ

محفلین
ہمارے ملک کا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم صرف ہندوستان سے الگ ہوئے ہیں ہم نے ایک الگ خطہ تو پا لیا اور ایک ملک۔ ملکِ خداداد کے نام سے اس دھرتی پر معرضِ وجود میں بھی آگیا اور ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے لیکن اصل میں ہم نے ایک الگ ملک پا کر بھی ایک ملک نہ بنا سکے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تقسیم کے بعد پاکستان ایک گڑھ ہوتا اس اساس کا جس کی بنیاد پر یہ ملک حاصل کیا گیا، جنگ لڑی گئی، خون کی ہولی کھیلی گئی، پاکستان بننے کے بعد ہم لوگ ایک قوم بنتے، پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی، پٹھان،نہ ہوتے صرف پاکستانی ہوتے، ایک مسلک، ایک زبان ایک جذبہ رکھتے لیکن یہ نہ ہوسکا۔ اردو زبان کو قومی زبان کا درجہ تو دے دیا گیا لیکن آج تک سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہ کرسکی یہ زبان ۔ ہر انسان اپنی زبان، اپنے مسلک، اپنی ذات کے بارے میں سوچتا ہے اور بدقسمتی سے ان سب میں پاکستان کہیں بھی نہیں ہے۔ اور بدقسمتی سے پاکستان دنیا کا شاید واحد ملک ہے تو یتیم ہے، اس کے اپنے ہی اسے نہیں اپناتے۔ میری تو بس یہی خواہش ہے کہ ہمارے نوجوان ÷ شہری اپنی شناخت پہچانہیں بحیثیت پاکستانی اپنی ذمہ داریوں تو سمجھیں تو شاید تقدیر بدلے تقسیم در تقسیم سے کچھ نہیں ہونے والا صاحب!
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ پاکستان 1948ء میں ہی بننا چاہیے تھا اور تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ پہلے پہل پاکستان اور بھارت کے نا م سے دو الگ ممالک 1948ء میں ہی بنائے جانے پر اتفاق ہوا تھا ۔۔۔ بہت سے معاملات، جو بعد میں سنگین صورتِ حال اختیار کر گئے، پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے طے ہو جاتے تو شاید آج ہم بہت سے مسائل کا شکار نہ ہوتے ۔۔۔ آج ہم بے چہرگی کا شکار ہیں ۔۔۔ ہم پینسٹھ برس گزر جانے کے باوجود "شناخت کے بحران" میں مبتلا ہیں ۔۔۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک الم ناک صورتِ حال ہے ۔۔۔
 

قیصرانی

لائبریرین
پنجاب کو توڑ کے نئے صوبے بنانے کے بات جو ہم آج سے کئی سال پہلے کرتے تھے اب پنجاب کے عوام کی آواز بن کر پنجاب کے بچے بچے کی زبان پر ہے۔ جلد یا بدیر یہ تو ہونا ہی ہے۔ خود ن لیگ کے فلاسفر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی جو فوج کے پٹائی بھی کھا چکے ہیں کا فرمانا ہے کہ لاہور کو بھی ایک الگ صوبہ بنایا جائے۔
بہرحال یہ تو ہونا ہی ہے۔
میرا ایک اور رائے ہے کہ پنجاب کی ایک ریاست قائم کی جائے جیسے گلگت بلتستان کی ریاست ہے۔ اور وہاں پر پھر کئی صوبے بنائے جاویں۔ اس ریاست کا ایک منتخب وزیر اعظم بھی ہو۔ اسی طرح کی ریاست صوبوں کو ختم کرتے دوسرے علاقوں میں بھی بنائی جائیں پھر ان ریاستوں کی ایک کنفیڈریشن بنائی جائی جو ریاست ہائے پاکستان کہلائے۔
یہ بات شاید کچھ لوگوں کو دس سال بعد سمجھ ائیے
ایچ اے خان بھائی، سچ سچ بتائیے کہ یہ لکھتے ہوئے کتنی بار ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوئے؟
 

قیصرانی

لائبریرین
امید کرتاہوں کہ سوال سنجیدہ ہے
حالات کو اگر درست سمت میں سمجھا جائے تو بہتری کی امید یہی ہے
مجھے سوال پر کوئی اعتراض نہیں کہ ملک میں دیگر صوبے بھی بننے چاہیئے۔ لیکن آپ کی تجویز سے مجھے وہ پس پردہ چلنے والا کھیل یاد آ گیا ہے جو کبھی کبھی بیرون ملک سے چلتا ہے :)
 
بیٹی اپ کی اس بات میں صرف ماضی کا رونا ہے مثلا
ہمارے ملک کا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم صرف ہندوستان سے الگ ہوئے ہیں ہم نے ایک الگ خطہ تو پا لیا اور ایک ملک۔ ملکِ خداداد کے نام سے اس دھرتی پر معرضِ وجود میں بھی آگیا اور ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے لیکن اصل میں ہم نے ایک الگ ملک پا کر بھی ایک ملک نہ بنا سکے۔


پھر اپ ماضی کی بات کرتے ہوئے کہتی ہیں
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تقسیم کے بعد پاکستان ایک گڑھ ہوتا اس اساس کا جس کی بنیاد پر یہ ملک حاصل کیا گیا، جنگ لڑی گئی، خون کی ہولی کھیلی گئی، پاکستان بننے کے بعد ہم لوگ ایک قوم بنتے، پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی، پٹھان،نہ ہوتے صرف پاکستانی ہوتے، ایک مسلک، ایک زبان ایک جذبہ رکھتے لیکن یہ نہ ہوسکا۔

نہیں ہوسکا تو حل پیش کیجیے۔ کیا حل ہے؟

اردو زبان کو قومی زبان کا درجہ تو دے دیا گیا لیکن آج تک سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہ کرسکی یہ زبان ۔ ہر انسان اپنی زبان، اپنے مسلک، اپنی ذات کے بارے میں سوچتا ہے اور بدقسمتی سے ان سب میں پاکستان کہیں بھی نہیں ہے۔ اور بدقسمتی سے پاکستان دنیا کا شاید واحد ملک ہے تو یتیم ہے، اس کے اپنے ہی اسے نہیں اپناتے۔ میری تو بس یہی خواہش ہے کہ ہمارے نوجوان ÷ شہری اپنی شناخت پہچانہیں بحیثیت پاکستانی اپنی ذمہ داریوں تو سمجھیں تو شاید تقدیر بدلے تقسیم در تقسیم سے کچھ نہیں ہونے والا صاحب!

ہماری خواہش بھی یہی ہے۔ مگر یہ ہوکیسے۔ تقسیم در تقسیم ہوچکی ہے۔ مگر وسائل درست تقسیم نہیں ہوئے۔ اصل مسئلہ انصاف سے وسائل کی تقسیم کا ہی ہے۔ باقی کچھ اور نہیں۔
جب تقسیم درست ہوگی تو لوگ اپس میں نفرتوں کا خاتمہ کرسکیں گے۔ ابھی تو ہمارے وسائل پر جو لوگ قابض ہیں وہ یہ موقع نہیں دے رہے کہ اپنے وسائل خود پیدا کرکے خود استعمال کریں
 
مجھے سوال پر کوئی اعتراض نہیں کہ ملک میں دیگر صوبے بھی بننے چاہیئے۔ لیکن آپ کی تجویز سے مجھے وہ پس پردہ چلنے والا کھیل یاد آ گیا ہے جو کبھی کبھی بیرون ملک سے چلتا ہے :)

درآصل عمران خان کی اس بات پر میں متفق ہوں کہ اگر کوئی اچھا بلدیاتی نظام میسر ہو تو اختیارت گراس روٹ پر مل سکتے ہیں پھر وسائل کی تقسیم کا رونا ختم ہوجائے گا۔ مگر یہ ہونہیں رہا ۔ پاکستان کی بہتری اسی میں ہے کہ عوام کو سہولت ملے۔ مگر یہ مل نہیں رہی۔ اگر نئے صوبے یا کوئی ایسے یونٹز بن جائیں جس سے پاکستان کی سلامتی پر اثر نہ پڑے اور وسائل ہڑپ کرنے والے ہڑپ نہ کرسکیں تو کیا برا ہے؟
 
میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ پاکستان 1948ء میں ہی بننا چاہیے تھا اور تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ پہلے پہل پاکستان اور بھارت کے نا م سے دو الگ ممالک 1948ء میں ہی بنائے جانے پر اتفاق ہوا تھا ۔۔۔ بہت سے معاملات، جو بعد میں سنگین صورتِ حال اختیار کر گئے، پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے طے ہو جاتے تو شاید آج ہم بہت سے مسائل کا شکار نہ ہوتے ۔۔۔ آج ہم بے چہرگی کا شکار ہیں ۔۔۔ ہم پینسٹھ برس گزر جانے کے باوجود "شناخت کے بحران" میں مبتلا ہیں ۔۔۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک الم ناک صورتِ حال ہے ۔۔۔

شناخت کا کوئی بحران نہیں ہے۔ کوئی اپنے اپ کو سرگودھوی کہیے یا لاہوری یا پشاوری۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ ہر کوئی پاکستانی ہے
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے وسائل عوام کو نہیں مل رہے۔ لامحالہ وہ موجودہ حالات، حکومت اور ریاست سے بدظن ہوجاتے ہیں۔ مسئلہ یہی ہے کہ وسائل کی درست تقسیم کا طریقہ کار واضح ہو۔ بلکہ یونٹز یا ان کا مجموعہ اپنے وسائل خود پیدا کرکے خود استعمال کرے۔ اس میں کیا برائی ہے؟
 

سعود الحسن

محفلین
اس طرح دیکھا جائے تو مہاجر بھی ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آئے اُنہوں نے اپنے لئے ایک نئی قومیت کیسے ایجاد کر لی
امرتسر اور دہلی سے آنے والے مہاجرین کو پنجابی ہی کہنا چاہیئے ۔ گجرات سے آنے والے گجراتی وغیرہ وغیرہ


ذرا محنت کر کے قوم یا جذبہ قومیت کی تعریف تو تلاش کیجئے اور اسے یہاں لکھ دیں تو اور اچھا ہے۔
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
شناخت کا کوئی بحران نہیں ہے۔ کوئی اپنے اپ کو سرگودھوی کہیے یا لاہوری یا پشاوری۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ ہر کوئی پاکستانی ہے
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے وسائل عوام کو نہیں مل رہے۔ لامحالہ وہ موجودہ حالات، حکومت اور ریاست سے بدظن ہوجاتے ہیں۔ مسئلہ یہی ہے کہ وسائل کی درست تقسیم کا طریقہ کار واضح ہو۔ بلکہ یونٹز یا ان کا مجموعہ اپنے وسائل خود پیدا کرکے خود استعمال کرے۔ اس میں کیا برائی ہے؟
اس میں کوئی برائی نہیں ہے ۔۔۔ فی الحقیقت کوئی برائی نہیں ہے ۔۔۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہو گا جب تک تمام اکائیوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہو جائے ۔۔۔ اور اعتماد کی فضا تبھی قائم ہو گی جب ان کے مقاصد اور منزل ایک ہو ۔۔۔ یہاں ہم سب کی منزلیں جدا جدا ہیں اور مقاصد الگ الگ ۔۔۔
 

زرقا مفتی

محفلین
ذرا محنت کر کے قوم یا جذبہ قومیت کی تعریف تو تلاش کیجئے اور اسے یہاں لکھ دیں تو اور اچھا ہے۔
محترم پہلے آپ یہ بتایئے مہاجر قومیت کیسے ایجاد ہوئی ؟ ہم تو آج تک یہی سمجھتے آئے ہیں کہ ہجرت کرنے والے ہندوستانی مسلمانوں نے اپنی مرضی سے پاکستانی قوم کا حصہ بننا پسند کیا اس کے لئے آگ اور خون کے دریا پار کئے ۔ اپنا مال اسباب جائیداد حتیٰ کہ عزتیں اور جانیں قربان کیں۔ اس فیصلے کو ہوئے ٦۵ برس ہوگئے ۔ ہر وہ مہاجر جس نے زمینی سرحد پار کے اپنی قومیت بدلی اس کی دو یا تین نئی نسلیں پاکستان میں پیدا ہو ئیں ۔ ایک شخص جس کے دادا یا پردادا نے پاکستانی قومیت اختیار کی وہ آج مہاجر کہلانا کیوں پسند کرتا ہے۔
 
محترم پہلے آپ یہ بتایئے مہاجر قومیت کیسے ایجاد ہوئی ؟ ہم تو آج تک یہی سمجھتے آئے ہیں کہ ہجرت کرنے والے ہندوستانی مسلمانوں نے اپنی مرضی سے پاکستانی قوم کا حصہ بننا پسند کیا اس کے لئے آگ اور خون کے دریا پار کئے ۔ اپنا مال اسباب جائیداد حتیٰ کہ عزتیں اور جانیں قربان کیں۔ اس فیصلے کو ہوئے ٦۵ برس ہوگئے ۔ ہر وہ مہاجر جس نے زمینی سرحد پار کے اپنی قومیت بدلی اس کی دو یا تین نئی نسلیں پاکستان میں پیدا ہو ئیں ۔ ایک شخص جس کے دادا یا پردادا نے پاکستانی قومیت اختیار کی وہ آج مہاجر کہلانا کیوں پسند کرتا ہے۔

پتہ نہیں اپ اس بحث میں کیوں پڑی ہوئی ہیں۔
یہ موضوع بھی نہیں۔
چلیں ایساکرتےہیں کہ ایک مثال لیتے ہیں۔ زرقا مفتی۔ اب اگر کئی لاکھ لوگ اپنے اپ کو" مفتی "کہلانے پر مصر ہوں تو کسی کو کیا اعتراض؟ حالانکہ یہ کئی لاکھ لوگ کوئی فتویٰ جاری نہیں کرتے
 

سعود الحسن

محفلین
محترم پہلے آپ یہ بتایئے مہاجر قومیت کیسے ایجاد ہوئی ؟ ہم تو آج تک یہی سمجھتے آئے ہیں کہ ہجرت کرنے والے ہندوستانی مسلمانوں نے اپنی مرضی سے پاکستانی قوم کا حصہ بننا پسند کیا اس کے لئے آگ اور خون کے دریا پار کئے ۔ اپنا مال اسباب جائیداد حتیٰ کہ عزتیں اور جانیں قربان کیں۔ اس فیصلے کو ہوئے ٦۵ برس ہوگئے ۔ ہر وہ مہاجر جس نے زمینی سرحد پار کے اپنی قومیت بدلی اس کی دو یا تین نئی نسلیں پاکستان میں پیدا ہو ئیں ۔ ایک شخص جس کے دادا یا پردادا نے پاکستانی قومیت اختیار کی وہ آج مہاجر کہلانا کیوں پسند کرتا ہے۔

موضوع تو یہ نہ تھا ، لیکن جواب بھی آپ کے سوال میں ہی موجود ہے یعنی- اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو مہاجر کہلانا پسند کرتے ہیں۔

اس ہی لیے تو کہا تھا کہ قوم یا جذبہ قومیت کی تعریف پڑھ لیں۔

دوسری بات کسی نے ہجرت اس لیے نہ کی تھی کہ پاکستانی قوم کا حصہ بن سکیں کیونکہ ابھی پاکستانی قوم ایجاد ہی نہیں ہوئی تھی، ہجرت تو مسلم قومیت کے جذبہ کے تحت کی گئی تھی۔ مگر صد افسوس کہ ۔۔۔۔۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ پاکستان 1948ء میں ہی بننا چاہیے تھا اور تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ پہلے پہل پاکستان اور بھارت کے نا م سے دو الگ ممالک 1948ء میں ہی بنائے جانے پر اتفاق ہوا تھا ۔۔۔ بہت سے معاملات، جو بعد میں سنگین صورتِ حال اختیار کر گئے، پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے طے ہو جاتے تو شاید آج ہم بہت سے مسائل کا شکار نہ ہوتے ۔۔۔ آج ہم بے چہرگی کا شکار ہیں ۔۔۔ ہم پینسٹھ برس گزر جانے کے باوجود "شناخت کے بحران" میں مبتلا ہیں ۔۔۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک الم ناک صورتِ حال ہے ۔۔۔
اگر ہم بے چہرگی کا شکار ہیں تو صرف اور صرف گندی سیاست کی وجہ ہے اور پاکستان کے دوست نما دشمن لیڈروں کی وجہ سے۔
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
اگر ہم بے چہرگی کا شکار ہیں تو صرف اور صرف گندی سیاست کی وجہ ہے اور پاکستان کے دوست نما دشمن لیڈروں کی وجہ سے۔
گو آپ کی بات سے کسی حد تک متفق ہوں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ شناخت کا بحران تو پاکستان بننے کے فوراَ بعد ہی شروع ہو گیا تھا ۔۔۔ پینسٹھ برس گزرنے کے باوجود بے سمتی ہمارا مقدر ہے ۔۔۔ اور اس بے سمتی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ برصغیر کی تقسیم سے قبل جو "ہوم ورک" ہونا چاہیے تھا، وہ نہ ہو سکا یا یوں کہہ لیجیے کہ ہوم ورک مکمل کرنے کی مہلت ہی نہ دی گئی ۔۔۔
 

قیصرانی

لائبریرین
درآصل عمران خان کی اس بات پر میں متفق ہوں کہ اگر کوئی اچھا بلدیاتی نظام میسر ہو تو اختیارت گراس روٹ پر مل سکتے ہیں پھر وسائل کی تقسیم کا رونا ختم ہوجائے گا۔ مگر یہ ہونہیں رہا ۔ پاکستان کی بہتری اسی میں ہے کہ عوام کو سہولت ملے۔ مگر یہ مل نہیں رہی۔ اگر نئے صوبے یا کوئی ایسے یونٹز بن جائیں جس سے پاکستان کی سلامتی پر اثر نہ پڑے اور وسائل ہڑپ کرنے والے ہڑپ نہ کرسکیں تو کیا برا ہے؟
آپ نے تجویز کو دیکھا ہے جب کہ میں نے تجویز کے مضمرات بھی دیکھے ہیں۔ تجویز پر اگر موجودہ سیاست دانوں نے عمل کرنا ہے تو پھر اسے ایسے ہی رہنے دیا جائے تو بہتر رہے گا۔

آپ کی رائے صائب لیکن اپنی رائے پر قائم رہوں گا
 

لالہ رخ

محفلین
بیٹی اپ کی اس بات میں صرف ماضی کا رونا ہے مثلا


پھر اپ ماضی کی بات کرتے ہوئے کہتی ہیں

نہیں ہوسکا تو حل پیش کیجیے۔ کیا حل ہے؟



ہماری خواہش بھی یہی ہے۔ مگر یہ ہوکیسے۔ تقسیم در تقسیم ہوچکی ہے۔ مگر وسائل درست تقسیم نہیں ہوئے۔ اصل مسئلہ انصاف سے وسائل کی تقسیم کا ہی ہے۔ باقی کچھ اور نہیں۔
جب تقسیم درست ہوگی تو لوگ اپس میں نفرتوں کا خاتمہ کرسکیں گے۔ ابھی تو ہمارے وسائل پر جو لوگ قابض ہیں وہ یہ موقع نہیں دے رہے کہ اپنے وسائل خود پیدا کرکے خود استعمال کریں
جو لوگ آپ کے وسائل پر قابض ہیں وہ عوام کی آپ کی اپنی کوتاہیوں یا کم علمیوں کی وجہ سے ہیں ۔ رہی بات نفرت ختم کرنے کی تو نفرت ختم کرنے کے لیے وسائل پر قابض لوگ بے شک کچھ نہ کریں آپ خود تو دل میں نرم گوشہ پیدا کر کے نفرت کی کڑواہٹ کو کسی حد تک تو کم کر سکتے ہیں آپس میں محبتیں تو ہم نے خود بانٹنی ہیں نا نہ کہ وسائل پر قابض لوگوں نے۔ میں حل کیسے دوں ؟ میں کہاں اس قابل کے مسائل کے حل پیش کرتی پھروں یہ کام تو اس ملک کا ہر شہری اپنے تیئں خود کو ماہر تجزیہ نگار سمجھتے ہوئے روز پیش کرتا ہے بات حل پیش کرنے کی نہیں اس پر عمل درآمد شروع کرنے کی ہے جو کہ ہم میں سے کوئی کرنے کو تیار نہیں۔ خواندہ و ناخواندہ ہر شخص اس ملک میں اپنے اندر ماہر تجزیہ نگار ہے ہر بندے کو مسائل کا بھی پتہ ہے اور حل کا بھی لیکن پھر بھی مسائل کا کوئی حل نہیں ۔ اور ماضی کا رونا اس لیے کیوں کہ ہم اگر اب پھر تقسیم کرتےہیں تو ماضی ہی دہرائیں گے۔
 

زرقا مفتی

محفلین
پتہ نہیں اپ اس بحث میں کیوں پڑی ہوئی ہیں۔
یہ موضوع بھی نہیں۔
چلیں ایساکرتےہیں کہ ایک مثال لیتے ہیں۔ زرقا مفتی۔ اب اگر کئی لاکھ لوگ اپنے اپ کو" مفتی "کہلانے پر مصر ہوں تو کسی کو کیا اعتراض؟ حالانکہ یہ کئی لاکھ لوگ کوئی فتویٰ جاری نہیں کرتے
مفتی ایک خاندانی نام کی حیثیت سے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بحث لا یعنی نہیں ہے ۔ پنجاب کے بعد سندھ کی تقسیم بھی ہوگی اور بنیاد یہی مہاجر قومیت ہو گی
 

زرقا مفتی

محفلین
موضوع تو یہ نہ تھا ، لیکن جواب بھی آپ کے سوال میں ہی موجود ہے یعنی- اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو مہاجر کہلانا پسند کرتے ہیں۔

اس ہی لیے تو کہا تھا کہ قوم یا جذبہ قومیت کی تعریف پڑھ لیں۔

دوسری بات کسی نے ہجرت اس لیے نہ کی تھی کہ پاکستانی قوم کا حصہ بن سکیں کیونکہ ابھی پاکستانی قوم ایجاد ہی نہیں ہوئی تھی، ہجرت تو مسلم قومیت کے جذبہ کے تحت کی گئی تھی۔ مگر صد افسوس کہ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
پاکستانی قوم دو قومی نظریہ کے ساتھ ہی پیدا ہو گئی تھی ۔ اگر مہاجر وں کی نئی نسل مسلم قومیت کو تسلیم کرتے تو پھر سندھی پنجابی پٹھان بلوچی کی تخصیص نہ ہوتی
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
پاکستانی قوم دو قومی نظریہ کے ساتھ ہی پیدا ہو گئی تھی ۔ اگر مہاجر وں کی نئی نسل مسلم قومیت کو تسلیم کرتے تو پھر سندھی پنجابی پٹھان بلوچی کی تخصیص نہ ہوتی
محترمہ! کاش "پاکستانی قوم" "دو قومی نظریہ" کے ساتھ پیدا ہو جاتی ۔۔۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔۔۔ اور جہاں تک مہاجر ہونے کا تعلق ہے تو ہندوستان سے آنے والے خود کو مہاجر کیوں نہ کہیں ۔۔۔ کیا پنجابی، سندھی، بلوچ، کشمیری اور پختون اپنے دائرے سے باہر نکل کر سوچنے پر آمادہ ہوئے ہیں؟ بدقسمتی سے اس کا جواب ہے ، 'نہیں' ۔۔۔ ہم ایک ہجوم ہیں۔۔۔ ہمیں ابھی ایک 'قوم' بننا ہے ۔۔۔ اللہ پاک سے پوری امید ہے کہ ایک نہ ایک دن ہم بھی 'ایک قوم' بن ہی جائیں گے ۔۔۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top