پشتو صوتی کلیدی تختہ

فرضی نے 'پشتو کمپیوٹنگ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 24, 2006

  1. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,049
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    آپ پشتو کو روتے ہو ادھر پنجابی کا بھی یہ ہی حال ہے۔عذاب لگتا ہے اسے لکھنا پڑھنا جبکہ بول سب لیتے ہیں۔ اردو بولنے والے بھی اسے سمجھ لیتے ہیں۔ جبکہ اردو بولنا عذاب لگتا ہے۔
    عجیب بات ہے اردو بطور بولی اور علاقائی زبانیں بطور لکھائی پڑھائی کی زبان کے زوال پذیر ہیں‌ کم از کم عام لوگوں میں۔
     
  2. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    دراصل ہم ایسا نظام تعلیم وضع کرنے میں ناکام رہے ہیں جو کہ مادری زبانوں یا علاقائی زبانوں کو زوال سے بچا سکے۔ اس سلسلے میں سندھ نے سب سے بڑا یہ کام کیا ہے کہ انھوں نے سرکاری سکولوں کی سطح پر سندھی زبان کو زندہ رکھا ہے۔ جبکہ باقی صوبے اس معاملے میں کورے کے کورے۔

    یار ویسے کتنے شرم کی بات ہے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ہم لوگ اپنی مادری زبان کو لکھنے اور پڑھنے سے قاصر ہیں۔
     
  3. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,049
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    جی یہ المیہ ہے واقعی۔
    میٹرک میں اختیاری مضمون کی حیثیت دے کر بات ختم ہے ادھر تو پنجابی کے سلسلے میں۔
     
  4. فرضی

    فرضی محفلین

    مراسلے:
    743
    میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کیوں کہ بات لمبی ہوتی جائے گی۔

    شاکر پنجابی کا شاید کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے۔ کیوں کہ شاہ مکھی تو ہوبہو اردو کے رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور تھوڑی سی کوشش سے لکھی اور پڑھی جاسکتی ہے۔۔ میں خود پنجابی بہت اچھے طریقے سے پڑھ لیتا ہوں خاص کر انور مسعود کی مزاحیہ پنجابی شاعری مجھے بہت پسند ہے۔ لیکن پشتو کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ پشتو ایک ڈائیورس زبان ہے اور کئ لہجوں مین بولی جاتی ہے۔ اس کے لکھنے اور پڑھنے کے لیے بھر پور کوشش کرنی پڑتی ہے۔
     
  5. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,669
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    فرضی، اگر محتاط رہ کر بات کی جائے تو اس موضوع پر مفید گفتگو بھی ہو سکتی ہے۔ جہاں پاکستان میں اور شاید انڈیا میں بھی مقامی زبانوں کو اپنی بقا کا مسئلہ ہے، اسی طرح دنیا میں کئی ثقافتیں اور زبانیں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اردو کے متعلق بھی یہی کہا جاتا رہا ہے کہ اسے بھی اپنی بقا کا مسئلہ لاحق ہے۔ دوسری جانب کچھ علاقائی قوم پرست اردو سے بوجوہ نالاں ہیں۔
     
  6. فرضی

    فرضی محفلین

    مراسلے:
    743
    جی بجا فرمایا نبیل بھائی۔ میں نے اپنے بالا خط کو مدون کر دیا ہے۔۔ شاید تھوڑا جذباتی ہو چلا تھا۔
     
  7. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,669
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    فرضی میں آپ کو تو کچھ نہیں کہہ رہا تھا۔ آپ کو پیغام ایڈٹ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ گئی؟

    سندھی، پشتو اور دوسری زبانوں کی میں اپنے طور پر یہی خدمت کر سکتا ہوں کہ ان کے کلیدی تختے اوپن پیڈ میں شامل کرتا رہوں۔ :)

    بہرحال کسی زبان یا کلچر کی بقا کی ضرورت ایک اہم موضوع ہے اور اس پر بات جاری رہنی چاہیے۔
     
  8. فرضی

    فرضی محفلین

    مراسلے:
    743
    میں نہیں چاہتا کہ میری کسی بات سے کسی کو کوئی دکھ پہنچے یا کوئی کنٹروورسی جنم لے۔ بس اسی خیال سے اپنے خط کو مدون کیا ہے۔
    آپ تو ماشاءاللہ بہت کام کر رہے ہیں۔ آپ کے کام کو دیکھ کر دل کو آپ کو ڈھیروں دعائیں دیتا ہے۔
     
  9. وہاب اعجاز خان

    وہاب اعجاز خان محفلین

    مراسلے:
    1,587
    جواب

    میرے خیال میں‌زبان کو اُس وقت نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کبھی ہم کسی زبان کو خاص تحریک یا قوم سے جوڑ دیتے ہیں۔ اردو کے معاملے میں‌ ہندوستان میں جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔ اردو قیام پاکستان کے بعد ہندوستان سے مہاجر بن کر پاکستان آگئی۔ جبکہ تقسیم سے پہلے جب ہندوستان اکثریتی حصہ نہ صرف اردو بولتا تھا بلکہ لکھ اور پڑھ بھی سکتا تھاوہ دیوناگری رسم الخط اور سنسکرت ذدہ ہندی کی طرف متوجہ ہوگیا۔
    پشتو کا معاملہ بھی کچھ اس طرح سے ہے کہ قوم پرستوں نے اس کا ٹھیکہ لے کر اس کو مزید نقصان پہنچایا۔ اور دوسرے صوبوں میں پشتو کی ترویج اور ترقی کے لیے کوشش کرنے والوں کو ہمیشہ قوم پرست اور علیحدگی پسند کے طعنے سننے پڑے۔

    زبان دراصل کسی قوم کی میراث نہیں میرے خیال میں‌یہ اظہار کا اور مافی الضمیر بیان کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کو کسی قوم کے ساتھ وابستہ کرنے سے زبان محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔ اور ایسا کرنا ‌ایک بہت بڑی بے وقوفی ہے۔

    جہاں تک سوال ہے علاقائی زبانیں اردو اور انگریزی کے مقابلے میں زوال پذیر کیوں ہیں۔ تو یار وفاق نے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ تعلیمی سلیبس میں علاقائی زبانوں کو شامل نہ کیا جائے۔ قصور تو ہمارا اپنا ہے۔ ہماری اپنی پنجابی، پشتون، بلوچی صوبائی حکومتوں کا ہے جنہوں نے سنجیدگی سے ان زبانوں کو نصاب کا حصہ بنانے کی کوشش ہی نہیں کی۔کم از کم ہائی لیول تک علاقائی زبان کی تعلیم لازمی قرار دے دی جائے تو ان زبانوں‌کو زوال سے بچانا ممکن ہوسکتا ہے۔
     
  10. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,049
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    پنجابی کا تو پھر بھی کچھ بہتر حال ہے اس میں تو ایم اے تک کی سہولت موجود ہے۔ بےچارے جنوبی پنجاب والے سرائیکی کو روتے ہیں کہ یہ الگ زبان ہے مگر کوئی مانتا نہیں اسے پنجابی ک ایک لہجہ قرار دے کر الگ بٹھا دیتے ہیں۔
    پچھلے دنوں بہاولپور یونیورسٹی نے سرائیکی میں ایم اے کی کلاسیں شروع کیں مگر شروع سے نہ پڑھائے جانے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    یہ سب باتیں مجھے ایک اخباری تحریر سے یاد آگئیں۔ انھوں‌ نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ پنجابی کی طرح سرائیکی کو بھی اختیاری مضمون کی حیثیت سے میڑک سے نصاب میں شامل کیا جائے۔
    پر سنتا کون ہے۔
     
  11. فرضی

    فرضی محفلین

    مراسلے:
    743
    نبیل بھائی مجھے آپکے نئے اوپن پیڈ کا بے چینی سے انتظار ہے۔۔جس میں آپ اضافی اردو کیبورڈ لا آؤٹ اور پشتو سندھی کا فونیٹک کیبورڈ بھی شامل کررہے ہیں۔
    امید ہے جلد توجہ فرمائیں گے۔
     
  12. گل خان

    گل خان محفلین

    مراسلے:
    741
    اتنی اچھی معلومات دینے کا بہت شکریہ۔۔۔۔۔ جناب
     
  13. ابوسیف

    ابوسیف محفلین

    مراسلے:
    1
    السلام علیکم !
    دی گئی لنک پر ناچیز نے جب کلک کیا تو وہ کوئی 4 سھارعد ویب سائٹ کا لنک ہے ۔ جہاں اس فائل کیلئے ڈاؤن لوڈ لنک نہیں ہے بلکہ وہ تو اپنی ہی ویب سائٹ بنانے پر اکاؤنٹ بنوانا چاہتے ہیں ۔ اگر اس کے علاوہ کوئی اور لنک ہو تو براہ کرم عنایت فرمائیں۔
    شکریہ
     
  14. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,059
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    ابو سیف صاحب محفل پر خوش آمدید

    آپ کیا ڈاونلوڈ کرنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کو پشتو صوتی کی بورڈ در کار ہے تو میں لنک دے سکتی ہوں
     
  15. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,577
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    سلام
    پشتو صوتی کی بورڈ چاہئے اگر کسی کے پاس ہے تو ربط عنایت کر دیں۔
     

اس صفحے کی تشہیر