" پرمیشر سنگھ"اورہجرت کی نفسیات(تجزیاتی مطالعہ )۔۔۔ محمد خرم یاسین

" پرمیشر سنگھ"اورہجرت کی نفسیات(تجزیاتی مطالعہ )۔۔۔ محمد خرم یاسین

احمد ندیم قاسمی اردوادب کے ہمہ جہت اور مشاق ادبامیں شامل رہے۔وہ بیک وقت نہ صرف اچھےافسانہ نگار تھے بل کہ انھوں نےشاعری ، تنقید، ادارت اور صحافت میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ان کے افسانے زندگی کے ترجمان اور حقیقت نگاری کی عمدہ روایت کا مظہر ہیں ۔ انھو ں نے اردو ادب کو سولہ (۱۶)بہترین افسانوی مجموعے دیے جب کہ دس ایسے شعری مجموعے تخلیق کیے جو اپنی مثال آپ ہیں۔ یوں بجا طورپر کہا جاسکتا ہے کہ احمد ندیم قاسمی کی ساری زندگی پرورشِ لوح و قلم ہی سے تعبیر رہی۔ احمد ندیم قاسمی نے اپنے افسانوں میں زندگی کے تلخ و شیریں حقائق سے مواد کشید کیا اور ادب کے سانچے میں ڈھالا ۔ ان کے افسانے جہاں ایک جانب دیہاتی معاشرت کے نمائندگی کرتے ہیں ،وہیں ان میں مابعد جدیدیت ایسے جدید دنیا کے مسائل، ہجر ت کے غم و مصائب، انسانی اقدار کا بحران ،روشن روایات کی پامالی، فکرِ معاش سے جنم لیتی نفسیاتی شکست و ریخت اور جذباتی کشمکش وغیرہ بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ان کے بیش تر افسانوں کا مادہ انسان دوستی سے پھوٹتا ہے اور لاشعوری تعلق امن، رواداری اورعدل و انصاف سے جڑتا ہے۔ان کا ایک ایسا ہی افسانہ " پرمیشر سنگھ" ہے جو ہجرت سے جڑے گہرے غم و اندوہ، تشخص کی تلاش ، انسان دوستی ، مذہب اورمعاشرے کی گہری وابستگی کو ہدفِ تنقید بناتا ہے۔ یہ افسانہ جس کا تعلق برصغیر کی تقسیم سے ہے، اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں بعد از تقسیم کے مسائل کوجغرافیائی حدود سے بلند ہو کر انسانی نفسیاتی سطح پر بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔انھوں نے تقسیم اور اس کے مصائب پر اور بھی افسانے تخلیق کیے ہیں جن میں "نیا فرہاد"، "اندمال"، :"کفن دفن"، "ارتقا"، "تسکین"، "فساد"، "میں انسان ہوں" اور "جب بادل امڈ آئے" شامل ہیں۔

"پرمیشر سنگھ" کا پلاٹ سادہ ہے اور اہم کرداروں میں پرمیشر سنگھ ، اس کی بیگم بنتو، بیٹی امرکور اور مسلمان بچہ اختر شامل ہیں۔تمام کردار شدید ذہنی اضطراب، الجھن اور کرداری دوہریت کا شکار ہیں ۔ تمام تر نفسیاتی الجھنیں چوں کہ ہجرت سے منسلک ہیں اس لیے اس افسانے کے کرداروں کے رویے نفسیات کی رو سے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کے تحت سمجھے جاسکتے ہیں جس میں ذہنی صحت کے مسائل جن میں تناؤ (ٹینشن)دباؤ(ڈپریشن)، غیر ضروری حساسیت، چڑ چڑا پن، بدلہ لینے کے شدید جذبات، غم اور سوگ، ثقافتی شناخت کا بحران یا تشخص کے مسائل اور رویوں کی تبدیلی کا انسلاک کسی ناگوار یا صدماتی واقعے کا تجربہ کرنے یا اسے دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔

پرمیشر سنگھ پاکستان سے ہجرت کر کے بھارتی پہنچنے والے ا ن بد نصیب مہاجرین میں سے ایک ہے جس کا پیارا بیٹا کرتار سنگھ ہجرت کی بھگ دڑمیں بچھڑ چکا ہے جب کہ اختر ان بدنصیب بچوں میں سے ایک ہے جس کے والدین ہجرت کے ہنگاموں میں اس سے بچھڑ چکے ہیں ۔افسانے کا آغاز ہجرت کے خونی مناظر سے ہوتا ہے۔ تتلیوں کا پیچھا کرتا اختر نہ جانے کب پاکستان جانے والے مہاجر قافلے سے بچھڑ چکا ہے جس پر اس کی والدہ ماتم کناں ہے اور سارا منظر ا ٓہوں ،سسکیوں میں رچا بسا ہے۔ اس غیر متوقع صورتِ حال پر اختر کی والدہ کا ناتواں احتجاج ملاحظہ کیجیے جس میں اس کے لاشعورمیں اپنی جان بچانے کا خوف، اس کے فطری مادری جذبہ محبت(Motherhood) پر غالب آجاتا ہے۔والدین عموماً بچوں پر جان نچھاور کرتے ہیں لیکن اختر کی والدہ کو جس صورتِ حال کا شکار دکھایا گیا ہے اس میں انتہا درجے کی بے بسی، خوف اور زندگی بچانے کی امید ہے اس لیے وہ عمومی رویے سے متضاد عمل کرتی ہے۔ وہ موہوم سی امید سے بھی بندھی ہے کہ شاید اختر جلد ہی اسےآن ملے:

’’اختر کی ماں اس تسلی کی لاٹھی تھامے پاکستان کی طرف رینگتی چلی آئی تھی۔آہی رہا ہو گا’’ وہ سوچتی ‘‘کوئی تتلی پکڑنے نکل گیا ہو گا اور پھر ماں کو نہ پا کر رویا ہو گا اور پھر۔ پھر اب کہیں آ ہی رہا ہو گا۔ سمجھ دار ہے پانچ سال سے تو کچھ اوپر ہو چلا ہے۔ آ جائے گا وہاں پاکستان میں ذرا ٹھکانے سے بیٹھوں گی تو ڈھونڈ لوں گی۔ (1)‘‘

بدلے کی آگ میں جلتےپرمیشر سنگھ کو ساتھیوں سمیت مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر لوٹ کھسوٹ اورقتل و غار گری میں مصروف دکھایا گیا ہے۔ ایسے ہی بلوے کے دوران اختر پرمیشر سنگھ اور اس کے ساتھیوں کے قبضے میں آجاتا ہے۔اس نئی صورتِ حال میں پانچ سالہ اخترپرخوف ،بے چینی اور غصے کی ملی جلی کیفیات (Anxiety)حملہ آور ہوتی ہیں جس کےرد عمل میں وہ خود کوپہلے سے زیادہ پر اعتماد ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نفسیات میں یہ کیفیت "کاؤنٹر فوبیا" (counter phobia )کہلاتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی دفاعی طریقہ کار ہے جہاں ایک فرد خو د کو ایسے حالات کے مقابل لاتا ہے یا اپنے خوف کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے اس کے اضطراب میں کمی واقع ہوسکے۔ ملاحظہ کیجیے کس طرح وہ نعرہ تکبیر سے سکھوں کو ڈرانے کی کوشش کرتا ہے اور خود سہم جاتا ہے:

’’وہ جب روتا چلاتا ایک طرف بھاگا جا رہا تھا تو سکھوں نے اسے گھیر لیا تھا اور اختر نے طیش میں آ کر کہا تھا ‘‘میں نعرۂ تکبیر ماروں گا’’ ‘‘(2)

پرمیشر سنگھ کے ساتھی اختر کو قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن اسے اچانک اختر کی صورت میں اپنے بیٹے "کرتاراسنگھ"ہی کی معصومیت اوربھولپن کی جھلک نظر آتی ہے اور وہ دوستوں کو اس کے قتل سےروک دیتا ہے۔ پرمیشر سنگھ کا یہ نفسیاتی مظہر فلیش بلب میموری "Flashbulb Memory"کے تحت سمجھا جاسکتا ہے جس میں ایک شخص غیر متوقع طور پر ماضی کے کسی واقعے کو یاد کرتا ہے ، جو اکثر ایک اہم یا تکلیف دہ تجربے سے جڑا ہوتا ہےاور اس سے اس کا عہد موجود میں طرز عمل متاثر ہوتا ہے۔چناں چہ جب پرمیشر سنگھ کے ساتھی اسے قتل کے ارادے سے بڑھتے ہیں اور ایک ساتھی کرپان نکال کراپنے تئیں مذہبی فریضے کی ادائیگی کی کوشش کرتا ہے توایسے میں پرمیشر سنگھ میں انسانی ہمدردی اور محبت جو کہ نفسیات میں انسان دوستی (Altruism)کہلاتی ہے، کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے اور وہ ساتھیوں سےکہتا ہے :

"مارو نہیں یارو، پرمیشر سنگھ کی آواز میں پکار تھی۔اسے مارو نہیں۔ اتنا سا تو ہے اور اسے بھی تو اسی واہگورو جی نے پیدا کیا ہے جس نے تمھیں اور تمھارے بچوں کو پیدا کیا ہے۔ "(3)

اس پر اختر سے سوال کیا جاتا ہے کہ اسے کس نے پیدا کیا تو وہ کہتا ہے کہ پتہ نہیں، ماں تو کہتی تھی کہ وہ اسے بھوسے کے ڈھیر سے ملا تھا۔ اس پر سکھ قہقہے لگاتے ہیں لیکن پرمیشر سنگھ ایک ذہنی کیفیت سے فوراً دوسری میں چلاجاتا ہے اور اچانک رونے لگتا ہے۔ اسے کرتارا یاد آتا ہے۔

" پرمیشر سنگھ بچوں کی طرح بلبلا کر کچھ یوں رویا کہ دوسرے سکھ بھونچکا سے رہ گئے اور پرمیشر سنگھ رونی آواز میں جیسے بین کرنے لگا۔ ۔ ۔ “سب بچے ایک سے ہوتے ہیں یارو۔ میرا کرتار ابھی تو یہی کہتا تھا ۔" (4)

پرمیشر سنگھ کا یہ نفسیاتی ردِ عمل اس کے مخفی غم کے اظہاریے (Expressive crying) کے مظہر کے طورپر دیکھا جاسکتا ہے جو عین فطری ہے لیکن افسانے میں اس کا موقع محل یکسر مختلف دکھایا گیا ہے۔ یہاں پرمیشر سنگھ کو تشخص کی تلاش ہے۔ وہ جو کر رہا ہے، وہ نہایت کریہہ اور غیر انسانی ہے لیکن اس کی انسان دوستی جلد ہی اس پر غالب آجاتی ہے۔گویا یہ اس کےلاشعور کی شعور پر برتری کی علامت ہے ۔

اس کے پدری محبت کے جذبے(Fatherhood) کا ایک اور نمونہ ملاحظہ کیجیے جس میں اس کے لاشعور میں بسی کرتارے کی یادیں اسے کرداری دوہریت (Duality) سے دوچار کردیتی ہیں۔ وہ لمحہ موجود ہی میں یک دم دوسری شخصیت کا روپ لے لیتا ہے اور حال سے یکسر بےگانہ ہوجاتا ہے۔ گویا اختر کا ملنا، کرتار ے ہی کا ملنا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

’’پرمیشر نے اختر کو یوں جھپٹ کر اٹھا لیا کہ اس کی پگڑی کھل گئی اور کیسوں کی لٹیں لٹکنے لگیں۔ اس نے اختر کو پاگلوں کی طرح چوما۔ اسے اپنے سینے سے بھینچا اور پھر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اور مسکرا مسکرا کر کچھ ایسی باتیں سوچنے لگا جنھوں نے اس کے چہرے کو چمکا دیا ۔۔۔ جھاڑیوں کے ایک جھنڈ میں بندروں کی طرح کودتا اور چھپتا رہا اور اس کے کیس اس کی لپک جھپٹ کا ساتھ دیتے رہے۔ ‘‘(5)

پرمیشر کا یک دم اختر کے ساتھ گھل مل جانا اس کی چھپی انسانیت کو ظاہرکرتا ہے اور نفسیات میں"نفسیاتی تبدیلی"کہلاتا ہے۔ پرمیشر سنگھ اس کے ساتھ مل کر کھیلتا ہے، سینے سے لگا تا ہے، آنسو بہاتا ہے۔ اس کا رویہ نفسیاتی حوالے سے کرتارے کے غم کا کیتھارسز(Catharsis)کے حوالے سے دیکھا جاسکتا ہے۔

پرمیشر سنگھ جولاہورسے اجڑا کر امرترسر آیا ہے، خود کو اس ماحول کا عادی بنانے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔ اسے جو متبادل مکان دیا گیا ہے وہاں پہلے ایک مسلمان خاندان رہ رہا تھا جو اجڑ کر نہ جانے کہاں گیا۔اس مکان میں غیر ضروری حساسیت کی وجہ سے وہ سمعی فریب کاری ( Auditory hallucinations) کا شکار ہوتا ہے اور کچھ ایسا سنتا ہے جو اس کے سوا اورکسی کو سنائی نہیں دیتا۔ اسے مکان میں متعدد بار قرآنِ مجید پڑھنے کی آواز سنائی دیتی ہے ۔اس کے لیے اس مکان کے درو دیوار اور سارا ماحول نیا ہے جس میں وہ بنیادی طورپر اپنا انسلاک (اڈجسٹمنٹ) نہیں کر پارہا۔اس کی سمعی فریب کاری کا احوال ملاحظہ کیجیے:

"وہ اپنی بیوی اور بیٹی سمیت جب اس چار دیواری میں داخل ہوا تھا تو ٹھٹک کر رہ گیا تھا۔ اس کی آنکھیں پتھرا سی گئیں تھیں اور وہ بڑی پر اسرار سرگوشی میں بولا تھا۔"یہاں کوئی چیز قرآن پڑھ رہی ہے۔"(6)

پرمیشر کا یہ ناموجود خوف جو ایک طرح سے اڈجسٹمنٹ فوبیا ہے،اس تک محدود نہیں رہتا بل کہ اس کی بیٹی تک بھی پہنچتاہے۔ وہ خود تو کروٹیں بدل کر سو جاتا لیکن امر کور کو اس خوف سے نیند نہ آتی کہ کوئی غیر مرئی مخلوق اس کے ساتھ ہے۔ یہ تصور اس کے دماغ میں رفتہ رفتہ راسخ ہوجاتا ہے۔ وہ شدید فریبِ نظر (ہیلوسی نیشن) کا شکار ہوجاتی ہے :

"اسے اندھیرے میں بہت سی پرچھائیاں ہر طرف بیٹھی قرآن پڑھتی نظر آتی اور پھر جب ذار سی پو پھوٹتی تو وہ کانوں میں انگلیاں دے لیتی تھی۔ (7)

اس کی اس نفسیاتی حالت درحقیقت اس واقعے سے جڑی دکھائی گئی ہے جس میں اس کی قریبی سہیلی پریم کور کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اور اسے قتل کرکے پھینک دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے اس کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کیے تھے ۔

وہ معاشرہ جہاں مذہب کے نام پر قتل و غار ت گری جاری ہو، وہاں دوسرے مذہب کے کسی شخص کی قبولیت خلافِ توقع ہے لیکن پرمیشر سنگھ کی ذہنی حالت دیکھ کر اس کے ساتھی ، اختر کو اس کے سپرد کردیتے ہیں لیکن ان کے لاشعور میں اجتماعی معاشرتی نفسیات (Social Psychology)اس کے آڑے آتی ہے۔ عدم برداشت، مذہبی منافرت اور رواداری کے خاتمے کے بعدمعاشروں کی ایسی صورتِ حال ہوجانا بعید از امکان نہیں ہوتا۔ اسی لیے سب سے پہلے وہ ننھا بچہ جو ابھی مذہب اور سیاست کو سمجھنے سے قاصر ہے ، اس پرسکھ مت تھو پنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پرمیشر کے دوست اختر کو حوالے کرتے ہوئے ہدایات دیتے ہیں کہ اس کے بال (کیس)بڑھوالے تاکہ کسی کو اس کے مذہب کے بارے میں معلوم نہ ہوسکے یا معاشرہ اس سے خائف دکھائی نہ دے ۔یہ ہی نہیں ، اس معاشرے میں اس کی قبولیت کے لیے سکھ مت کا رہنما گرنتھی اختر کو سکھ بنانے کے سخت احکامات دیتا ہے اور یہ کہہ کر ڈرارا ہے کہ اگر اسے سکھ نہ بنایا گیا تو یہاں اسے اور اس کے خاندان کو نکال باہر کیا جائے گا۔

"گرنتھی جی نے بڑے دبدبے سے کہا" کل سے یہ لڑکا خالصے کی سی پگڑی باندھے گا، کڑا پہنے گا، دھرم شالہ آئے گا اور اسے پرشاد کھلایا جائے گا۔ اس کےکیسوں کو قینچی نہیں چھوئے گی ، چھوگئی تو کل ہی سے یہ گھر خالی کردو۔"(8)

پرمیشر سنگھ کی داخلی کیفیات ، کرب سے دوچار ہیں اور وہ اختر کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرنا چاہتا ، اس کے دل میں ڈر ہے کہ اسی طرح کوئی کرتارے کے ساتھ بھی کر سکتا ہے۔ اسے مسلمان بنا سکتا ہے لیکن معاشرتی بوجھ اس کی ارادے پر غالب آجاتا ہے اور گرنتھی کی دھمکی سے اس کا حوصلہ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ بہرحال وہ اسے ظلم ہی سمجھتا ہے لیکن اس ظلم میں معاشرتی نفسیات کے بوجھ تلے خود بھی شریک ہوجاتا ہے۔

"تم لوگ کتنے ظالم ہو یارو اختر کو کرتارا بناتے ہو۔ اگر ادھر کوئی کرتارے کو اختر بنالے تو ؟ اسے ظالم ہی کہوگے نا۔"(9)

اختر اور پرمیشر جو دونوں بے سہارا ہونے کی وجہ سے نفسیاتی رشتے میں بندھے ہیں ، افساس ناک امر یہ ہے کہ ابتداً پرمیشر کی بیوی اور بیٹی اختر کو نفسیاتی طورپر قبول نہیں کرتی، وہ اختر کو کرتارے کی جگہ دینے سے قاصر ہیں۔ اس کی کرتارے سے مادری محبت کو نفسیاتی مظہر انسلاک (Attachment) کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ نفسیاتی سطح پر پرمیشر سے زیادہ مضبوط ہے اس لیے ابتداًاختر کو کرتارا تسلیم نہیں کرتی ۔ اختر کو گھر لانے پر وہ ایک ہنگامہ کھڑا کردیتی ہے اور کرتارے کے غم میں اختر کو ماردینے تک کا ارادہ رکھتی ہے لیکن پرمیشر ایک مضبوط پہاڑ کی طرح اختر کی حفاظت کرتا ہے اورردعمل میں بیگم کو ماردینے کی بات کرتا ہے جس سے وہ کچھ ڈر جاتی ہے البتہ محلے میں شورمچاکر سب کو پرمیشر کی حرکت سے آگاہ کرتی ہے۔

"میں رات ہی رات جھٹکا کر ڈالوں گی اس کا۔ کاٹ کے پھینک دوں گی ۔ اٹھالایا ہے وہاں سے ۔ لے جا اسے، پھینک دے باہر۔ "تمھیں نہ پھینک دوں باہر؟" اب کے پرمیشر سنگھ بگڑ گیا۔ تمھارا نہ کر ڈالوں جھٹکا ؟ " (10)

محلے کے لوگ بھی اسے ہی سمجھاتےہیں کہ پرمیشر ایک مسلمان کو سکھ بنا کر نیک کام کر رہا ہے، یوں مذہب کے پیچھے انسانیت چھپ جاتی ہے اور اس کے عمل کو مذہب میں رنگ کر قبول کر لیا جاتا ہے۔ معاشرے کی اجتماعی نفسیات ، اس کی بیگم کے دل میں ایک ہلکا سا نرم گوشہ توپیدا کردیتی ہے لیکن ایک ماں کااپنے بچے کو کھو دینے کے بعد کسی دوسرے بچے کو قبو ل کرلینا بہرحال ایک مشکل امر ہے جس کا سامنا پرمیشر کی بیگم اور بیٹی کو کرنا ہی پڑتا ہے۔

کچھ ہی عرصہ میں معصوم اختر کو دھرم شالہ بھیج کر سکھ بنانے کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور اس کے سر پر بندھی پگڑی، ہاتھ کا کڑا، اور بڑھتے بالوں کی وجہ سے وہ کرتارے جیسا ہی دکھنے لگتا ہے۔ اس پرپرمیشر کی بیگم،جو اختر کا جھٹکا کردینے کی فکر میں تھی، اسے بھی پرمیشر کی طرح اختر میں کرتارا نظر آنے لگتا ہے۔ اس کا فطری مامتا کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے اور وہ کرتارے کی یاد میں اختر کو محبت سے دیکھتی ہے۔ یوں اس کی شخصیت بھی دوہرے پن کا شکار ہوتےہوئے انسانیت کے قریب آجاتی ہے۔وہ اختر کے کپڑوں کو دھوتی ہے اور اس کے کیس سنوارتے ہوئے کرتارے کو یاد کرکے روتی ہے ۔ آنسو اس کے دلی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں:

"وہی کانوں کی لووں تک کس کر بندھی ہوئی پگڑی، وہی ہاتھ کا کڑا اور وہی لچھیرا۔۔۔ذرا ادھر آ امر کورے!یہ دیکھ کیس بن رہے ہیں ۔ پھر ایک دن جوڑا بنے گا ، کنگھا لگے گا اور اس کانام رکھاجائے گا کرتار سنگھ۔"(11)

گو کہ پرمیشر اختر سے محبت کا اظہار کرتا ہے لیکن اتنی جلدی اختر نہ تو اسے باپ تسلیم کرتا ہے نہ ہی ہمدرد ، اسے اپنے والدین تک پہنچنے کی جلدی ہے۔ نفسیاتی طور پر اس مظہر کوAttachment Disruption" کے طورپر دیکھا جاسکتا ہے جو کہ اس کی اندرونی شکست و ریخت، جذبات اور تجربات کا حاصل ہے۔ وہ اپنے سامنے سکھوں اور ہندوؤں کی قتل و غارت گری دیکھ چکا ہے اوردل ہی دل میں ان سے شدید خوف زدہ ہے جس کے سبب وہ لوگوں پر اعتبار نہیں کرپاتا ۔اسی لیے وہ نفسیاتی سطح پر تنہائی کے باوجود پرمیشرسنگھ کو سہارا سمجھ کر اس کی جانب راغب نہیں ہوپاتا۔ نتیجتاً پرمیشر ، جو شدید نفسیاتی کرب اور کشمکش سے گزر رہا ہے ، وہ ایک بار پھر سے جذباتی سطح پر ناپختگی کا ثبوت دیتے ہوئے بلک بلک کر رونے لگتا ہے اور اختر کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے سمجھاتا ہے، تسلی دیتا ہے اور واپس اس کے والدین تک پہنچانے کا وعدہ کرتا ہے۔ اس پر اختر راضی ہوجاتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے پرمیشر کے حوالے سے یوں نفسیاتی حقیقت نگاری کی ہے:

" گھٹنوں کے بل اختر کے سامنے بیٹھ گیا۔ بچوں کی طرح یوں سسک سسک کر رونے لگا کہ اس کا نچلا ہونٹ بھی بچوں کی طرح لٹک آیا اور پھر بچوں کی سی روتی آواز میں بولا۔"مجھے معاف کردے اختر، مجھے تمھارے خدا کی قسم میں تمھارا دوست ہوں، تم اکیلے یہاں سے جاؤ گے تو تمھیں کوئی ماردے گا۔پھر تمھاری ماں پاکستان سے آکر مجھے

مار گی۔ میں خود جا کر تمھیں پاکستان چھوڑ آؤں گا۔ سنا؟پھر وہاں اگر تمھیں ایک لڑکا مل جائے نا کرتارا نام کا تو تم اسے ادھر گاؤں میں چھوڑ جانا۔ اچھا؟" (12)

کچھ ہی عرصے میں اختر اور پرمیشر کے خاندان کے درمیان امن قائم ہوجاتا ہے لیکن نہ تو وہ کرتارے کو بھول پاتے ہیں اور نہ ہی اختر اپنے والدین کو۔ اختر کو شدید بخار آتا ہے اس پر بھی پرمیشر اور اس کی بیگم دونوں اس کی خدمت کرتے ہیں لیکن اختر نفسیاتی طورپر پرمیشر ہی سے زیادہ جڑتا ہے۔ افسانے کا ایک نہایت جذباتی اور غیر متوقع منظر اختر اور قرآنِ مجید کی تلاوت کے حوالے سے پیش کیا گیاہے۔ پرمیشر کا خاندان اسلام سے سخت خائف دکھایا گیا ہے اور قرآنِ مجید کی تلاو ت سن کر ان کی جان نکلتی ہے ۔ اختر کو نیند نہ آنے کی وجہ سے وہ اندھیرے میں سورہ اخلاص کی تلاوت کر رہا ہوتا ہے کہ پرمیشر کی آنکھ کھل جاتی ہے، وہ ڈر کے مارے بیوی اور بیٹی کو بھی اٹھادیتا ہے اور جب وہ چیخ مارتی ہے تو اختر کی بھی چیخ نکل جاتی ہے۔بیوی چراغ جلا کر بیٹی کے ساتھ سہم کر اسے ڈرتے ہوئے دیکھتی ہے کہ کہیں وہ جن بھوت تو نہیں۔ ایسے میں جب کہ ایک جانب شدید مذہبی منافرت ہے دوسری جانب پرمیشر سنگھ پدری محبت میں اس قدر گرفتار ہوجاتا ہے کہ وہ ہرشے کو نظر انداز کرکے اختر کو تلاوت سے روکنے کے بجائے اس کی اجازت دیتا ہے اوریہ بھی کہتا ہے کہ جب بھی نیند نہ آئے وہ تلاوت کرکے سو جایا کرے۔

" کیا پڑھ رہے تھے بھلا؟” پرمیشر سنگھ نے پوچھا۔“پڑھوں؟” اختر نے پوچھا۔“ہاں ہاں” پرمیشر سنگھ نے بڑے شوق سے کہا۔اور اختر قُل ہو اللہ اَحَد پڑھنے لگا۔ کُفواً اَحَد پر پہنچ کر اس نے اپنے گریبان میں چھوکی اور پھر پرمیشر سنگھ کی طرف مسکراتے ہوئے بولا۔ ۔ ۔ “تمھارے سینے میں بھی چھو کر دوں؟”“ہاں ہاں” پرمیشر سنگھ نے گریبان کا بٹن کھول دیا اور اختر نے چھو کر دی۔"(13)

افسانے میں پرمیشر کو ایک جگہ بہت خود غرض بھی دکھایا گیا ہے۔ جب فوجیوں کی گاڑی بچھڑنے والے بچوں کو لینے آتے ہیں تو وہ اختر کو چھپا دیتا ہے تاکہ وہ واپس نہ جائے۔ گاؤں میں اور بھی لوگ اس کا ساتھ دیتے ہیں اور فوجیوں کے جانے کے بعد مبارک باد دیتے ہیں لیکن پرمیشر پھر سے پچھتاوا محسوس کرتا ہے ۔ وہ انسانیت اور خود غرضی کے وسط میں کھڑا رہتا ہے اور اس کی خود غرضی اس پر غالب آجاتی ہے۔ اس کے دوہرے رویوں کی ایک جھلک ملاحظہ کیجیے:

"پرمیشر سنگھ لاری کے آنے سے پہلے جو حواس باختہ ہورہا تھا تو اب لاری کے جانے کے بعد لُٹا لُٹا سا لگ رہا تھا۔ "(14)

لیکن یہ خود غرضی ایک پچھتاوا بن کر اس کے ضمیر پر اس قدر بھاری بوجھ ڈال دیتی ہے کہ وہ بالآخر شدید نفسیاتی کشمکش میں مبتلا ہوکر اختر کو اس کے والدین کے پاس واپس بھیجنے کے لیے چل پڑتا ہے۔ فجر کی اذان کے وقت وہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ کر سرحد کے پار دیکھتا ہے، اختر کو پیار کرتا ہے اور اسے دوسری جانب روانہ کردیتا ہے۔ دوسری جانب فوجی اس کے سکھ حلیے کو دیکھ کر سوال جواب کر رہے ہوتے ہیں کہ اس کے سر کی پگڑی کھل جاتی ہے اور کنگھا گر جاتا ہے۔ اختر کے چلانے پر پرمیشر سنگھ اختر کی آوازکے تعاقب میں دوڑتا ہے تو فوجی اسے دشمن وطن سے سرحد میں داخل ہونے کی وجہ سے گولی ماردیتے ہیں جو اس کی ران میں لگتی ہے اور وہ افسوس ناک لہجے میں کہتا ہے:

"سپاہی جب ایک جگہ جا کر رُکے تو پرمیشر سنگھ اپنی ران پر کس کر پٹی باندھ چکا تھا مگر خون اس کی پگڑی کی سیکڑوں پرتوں میں سے بھی پھوٹ آیا۔ اور وہ کہہ رہا تھا۔ ۔ ۔ “مجھے کیوں مارا تم نے، میں تو اختر کے کیس کاٹنا بھول گیا تھا؟ میں اختر کو اس کا دھرم واپس دینے آیا تھا یارو۔"(15)

یوں مجموعی طورپر دیکھا جائے تو یہ افسانہ اختتام پذیر ہوتے ہوئے انسانی رویوں ، ان کے محرکات، ان میں تبدیلی، داخل و خارج کی کشاکش، کرداری دوہریت و انتشاراوراجتماعی معاشرتی نفسیات ایسے مسائل ، پیچیدگیوں اور کشمکش کو ہدف بناتے ہوئے بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے ۔یہ سوالات، لاجواب نہیں بل کہ احمد ندیم قاسمی نے بین السطور کامیابی سے ان کے جوابات بھی مہیا کردیے ہیں جن تک بیدار مغز قارئین ہی پہنچ پاتے ہیں۔

حوالہ جات
"Parameshar Singh" and The Psychology of Migration (Analytical Study). Dr. Muhammad Khurram Yasin
 

الف عین

لائبریرین
حوالے؟ حوالوں کے تحت صرف انگریزی میں اسی مضمون کے ترجمے کا ذکر ہے شاید، یہ بھی نہیں کہ یہ ترجمہ کہاں شائع ہوا تھا؟ اگر یہ حوالہ نمبر ایک تھا تو یہ کہنا بھی غلط ہے کہ متن میں نمبر ایک میں افسانے کا اقتباس ہے!
 
حوالے؟ حوالوں کے تحت صرف انگریزی میں اسی مضمون کے ترجمے کا ذکر ہے شاید، یہ بھی نہیں کہ یہ ترجمہ کہاں شائع ہوا تھا؟ اگر یہ حوالہ نمبر ایک تھا تو یہ کہنا بھی غلط ہے کہ متن میں نمبر ایک میں افسانے کا اقتباس ہے!
حوالے موجود ہیں میں نے دانستہ شامل نہیں کیے۔
 
حوالے؟ حوالوں کے تحت صرف انگریزی میں اسی مضمون کے ترجمے کا ذکر ہے شاید، یہ بھی نہیں کہ یہ ترجمہ کہاں شائع ہوا تھا؟ اگر یہ حوالہ نمبر ایک تھا تو یہ کہنا بھی غلط ہے کہ متن میں نمبر ایک میں افسانے کا اقتباس ہے!
حوالہ جات
احمد ندیم قاسمی، بازارِ حیات، لاہور: مکتبہ اساطیر، 1995، ص:7
ایضاً
ایضاً،ص:8
ایضاً
ایضاً،ص:9
ایضاً، ص:10
ایضاً،ص:11
ایضاً،ص:15
ایضاً،ص:14
ایضاً،ص:13
ایضاً،ص:16
ایضاً،ص:14
ایضاً،ص:19
ایضاً،ص:23
ایضاً،ص:27
Ahmad Nadeem Qasmi, Bazaar-e-Hayat, Lahore: Maktaba-e-Asar, 1995, p. 7
Ibid.
Ibid., p. 8
Ibid.
Ibid., p. 9
Ibid., p. 10
Ibid., p. 11
Ibid., p. 15
Ibid., p. 14
Ibid., p. 13
Ibid., p. 16
Ibid., p. 14
Ibid., p. 19
Ibid., p. 23
Ibid., p. 27
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
خرم بھائی ، دعوتِ نقد و نظر دینے کا شکریہ۔ آپ بہت سنجیدگی سے بہت اعلیٰ تنقیدی کام کررہے ہیں جس کے لیے آپ کا بہت شکریہ ۔ اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ!
پرمیشر سنگھ لڑکپن میں پڑھا تھا ، شاید نصاب میں بھی شامل تھا۔ بیشک یہ افسانہ تقسیمِ ہند کے پس منظر میں لکھی گئی کہانیوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور ناقابلِ فراموش ہے۔ لیکن ایمان کی بات یہ ہے کہ آپ کی تحریر الجھی ہوئی لگی۔ آپ نے کردار نگاری اور واقعات نویسی کے بارے مین بہت اچھے نکات اٹھائے ہیں لیکن پیشکش کچھ غیر مربوط سی ہے۔ آپ نے اپنے نکات کو کہانی کی روانی اور تسلسل کے حساب سے لکھا ہے ۔ میری ناقص رائے میں ان نکات کو تنقیدی عناصر کے حساب سے ترتیب دے کر لکھا جائے تو تحریر کچھ منظم اور مزید مربوط ہوجائے گی۔ قاری کو چھلانگیں لگانا نہیں پڑیں گی۔ یعنی کردار نگاری ، کرداروں کا نفسیاتی جائزہ ، معاشرتی اور مذہبی پہلوؤں پر تبصرہ ، زبان و بیان پر تبصرہ ، کہانی کی بنت اور ہیئت پر تبصرہ وغیرہ۔
آپ نے اپنے نکات کی وجاھت کے لیے افسانے کے جو اقتباسات لیے ہیں انہیں بھی ایک نظر دیکھ لیجئے اور زبان و بیان کے اعتبار سے مدون کرلیجئے۔ مثلاً
اختر کے چلانے پر پرمیشر سنگھ اختر کی آوازکے تعاقب میں دوڑتا ہے تو فوجی اسے دشمن وطن سے سرحد میں داخل ہونے کی وجہ سے گولی ماردیتے ہیں جو اس کی ران میں لگتی ہے اور وہ افسوس ناک لہجے میں کہتا ہے:

"سپاہی جب ایک جگہ جا کر رُکے تو پرمیشر سنگھ اپنی ران پر کس کر پٹی باندھ چکا تھا مگر خون اس کی پگڑی کی سیکڑوں پرتوں میں سے بھی پھوٹ آیا
۔ اور وہ کہہ رہا تھا۔ ۔ ۔ “مجھے کیوں مارا تم نے، میں تو اختر کے کیس کاٹنا بھول گیا تھا؟ میں اختر کو اس کا دھرم واپس دینے آیا تھا یارو۔"(15)
کئی جگہوں پر ٹائپنگ کی گڑبڑ ہے۔مثلاً بلکہ کو ہر جگہ بل کہ لکھا گیا ہے۔

ایک اور بات جو نمایاں طور پر نظر آئی وہ ضرورت سے زیادہ طویل جملوں کا استعمال ہے ۔نثر کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جس قدر مختصر جملے لکھے جائیں بہتر ہے کہ اس سے ابلاغ بڑھ جاتا ہے ۔ جملوں کی غیر ضروری طوالت بات الجھا دیتی ہے ۔ مثلاً یہ جملہ دیکھیے:
تمام تر نفسیاتی الجھنیں چوں کہ ہجرت سے منسلک ہیں اس لیے اس افسانے کے کرداروں کے رویے نفسیات کی رو سے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کے تحت سمجھے جاسکتے ہیں جس میں ذہنی صحت کے مسائل جن میں تناؤ (ٹینشن)دباؤ(ڈپریشن)، غیر ضروری حساسیت، چڑ چڑا پن، بدلہ لینے کے شدید جذبات، غم اور سوگ، ثقافتی شناخت کا بحران یا تشخص کے مسائل اور رویوں کی تبدیلی کا انسلاک کسی ناگوار یا صدماتی واقعے کا تجربہ کرنے یا اسے دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔
اس طویل جملے کو چند چھوٹے جملوں میں توڑ کر ابلاغ کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ وغیرہ۔

ڈاکٹر صاحب، یہ میری ناقص رائے ہے اور میرے محدود فہم پر مبنی ہے۔ امید ہے کہ اس گفتگو سے کوئی مثبت پہلو پیدا ہوگا۔ آپ کی محنت اور سنجیدہ مساعی کی داد نہ دینا نا انصافی ہوگی۔ امید ہے کہ آپ آئندہ بھی اپنی تحاریر سے نوازتے رہیں گے۔
محمد خرم یاسین
 
استاذی مکرم ظہیراحمد ظہیر صاحب !
بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
غالب نے یہ شکایت خاص اِنہی مواقع کے لیے اُٹھارکھی تھی کہ جب خیال افروز تحریروں ،فکرانگیز مراسلات،نکتہ کشا آراء،علم پرور خیالات اورادب نواز مضامین کا سلسلہ چلتے چلتے رک سا جائے اور ناظرین کو اِس توقف کے ہر پل اور ثانیہ میں انتظار کے پہاڑ جیسےوبال کا سامنا رہے پھر دفعتا وہ ًمحبوب و مطلوب و مقصود میسر آجائےجس کی تمنا کی جارہی تھی تب بھی کہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے کا گلہ برقرار رہے تو آپ کا یہ مختصر گو جامع مراسلہ دیکھ کر کچھ یہی حال میرا ہوا اور ہل من مزید کاتقاضابھی برقرار رہا۔۔۔۔۔۔۔اُردُو محفل کے شرکاء پر ازراہِ خداکرم فرمائیں اور انہیں اپنی خوبصورت تحریروں سے محروم نہ کریں کہ:
مدت ہوئی ہے یار کا دیکھے ہوئے جمال
لیکن گئی نہیں میری۔۔۔ خودرفتگی ہنوز
یا
نشانی ہم نے رکھ چھوڑی ہے اِک اگلی بہارا ں کی
بہار آئی گلے میں ڈال لی۔۔۔۔۔ دھجی گریباں کی​
کی جانہ رہے۔۔
 
آخری تدوین:
خرم بھائی ، دعوتِ نقد و نظر دینے کا شکریہ۔ آپ بہت سنجیدگی سے بہت اعلیٰ تنقیدی کام کررہے ہیں جس کے لیے آپ کا بہت شکریہ ۔ اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ!
پرمیشر سنگھ لڑکپن میں پڑھا تھا ، شاید نصاب میں بھی شامل تھا۔ بیشک یہ افسانہ تقسیمِ ہند کے پس منظر میں لکھی گئی کہانیوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور ناقابلِ فراموش ہے۔ لیکن ایمان کی بات یہ ہے کہ آپ کی تحریر الجھی ہوئی لگی۔ آپ نے کردار نگاری اور واقعات نویسی کے بارے مین بہت اچھے نکات اٹھائے ہیں لیکن پیشکش کچھ غیر مربوط سی ہے۔ آپ نے اپنے نکات کو کہانی کی روانی اور تسلسل کے حساب سے لکھا ہے ۔ میری ناقص رائے میں ان نکات کو تنقیدی عناصر کے حساب سے ترتیب دے کر لکھا جائے تو تحریر کچھ منظم اور مزید مربوط ہوجائے گی۔ قاری کو چھلانگیں لگانا نہیں پڑیں گی۔ یعنی کردار نگاری ، کرداروں کا نفسیاتی جائزہ ، معاشرتی اور مذہبی پہلوؤں پر تبصرہ ، زبان و بیان پر تبصرہ ، کہانی کی بنت اور ہیئت پر تبصرہ وغیرہ۔
آپ نے اپنے نکات کی وجاھت کے لیے افسانے کے جو اقتباسات لیے ہیں انہیں بھی ایک نظر دیکھ لیجئے اور زبان و بیان کے اعتبار سے مدون کرلیجئے۔ مثلاً

کئی جگہوں پر ٹائپنگ کی گڑبڑ ہے۔مثلاً بلکہ کو ہر جگہ بل کہ لکھا گیا ہے۔

ایک اور بات جو نمایاں طور پر نظر آئی وہ ضرورت سے زیادہ طویل جملوں کا استعمال ہے ۔نثر کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جس قدر مختصر جملے لکھے جائیں بہتر ہے کہ اس سے ابلاغ بڑھ جاتا ہے ۔ جملوں کی غیر ضروری طوالت بات الجھا دیتی ہے ۔ مثلاً یہ جملہ دیکھیے:

اس طویل جملے کو چند چھوٹے جملوں میں توڑ کر ابلاغ کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ وغیرہ۔

ڈاکٹر صاحب، یہ میری ناقص رائے ہے اور میرے محدود فہم پر مبنی ہے۔ امید ہے کہ اس گفتگو سے کوئی مثبت پہلو پیدا ہوگا۔ آپ کی محنت اور سنجیدہ مساعی کی داد نہ دینا نا انصافی ہوگی۔ امید ہے کہ آپ آئندہ بھی اپنی تحاریر سے نوازتے رہیں گے۔
محمد خرم یاسین
آداب!
نقد و نظر کے لیے بے حد شکریہ!جزاك الله۔
میں کوٸی بھی تحریر بنا فخر و عذر پیش کرتا ہوں اور نقاد کو رد و قبول کاپورا اختیار دیتا ہوں۔ سر دست چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا:
1 .اردو کے تمام مرکب الفاظ کا املا عرصہ دراز سے تبدیل کیا جاچکا ہے اور اب
کیلیے کی جگہ کے لیے
بلکہ کی جگہ بل کہ
کیونکہ کی جگہ کیوں کہ
وغیرہ ہی درست املا ہے۔مفرد الفاظ کا مرکب املا HEC کے نزدیک غلط او ر ناقابل قبول ہے۔ اس لیے مقالہ میں مستعمل الفاظ کا املا غلط نہیں ہے۔
2 . جملے کا اختصار و طوالت کا تعلق چوں کہ اسلوب سے ہے اس لیے اس پر کیا بات کی جاسکتی ہے۔ بہرحال آپ کی رائے قیمتی ہے۔
3 . مقالے میں چوں کہ کردار وں کا نفسیاتی جاٸزہ پیش کیا گیا ہے اس لیے کہانی کے تسلسل سے زیادہ ان کا مختلف اوقات میں رویہ، اس میں تبدیلی اور تعامل کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ایسے میں اصل افسانے سے تحریر کا ربط ہوسکتا ہے تعطل کا شکار لگے، یہ بالکل فطری عمل ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اردو میں نفسیاتی تنقید کے عملی نمونے بہت ہی کم میسر ہیں ;میں بس ناقص کوشش کر رہا ہوں کہ اس سلسلے میں اردو کے دامن کو وسیع کروں تاکہ بعد میں آنےوالے احباب کو ایک بنیاد ملے اور وہ ہم سے بہتر کام کرسکیں۔
 
استاذی مکرم ظہیراحمد ظہیر صاحب !
بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
غالب نے یہ شکایت خاص اِنہی مواقع کے لیے اُٹھارکھی تھی کہ جب خیال افروز تحریروں ،فکرانگیز مراسلات،نکتہ کشا آراء،علم پرور خیالات اورادب نواز مضامین کا سلسلہ چلتے چلتے رک سا جائے اور ناظرین کو اِس توقف کے ہر پل اور ثانیہ میں انتظار کے پہاڑ جیسےوبال کا سامنا رہے پھر دفعتا وہ ًمحبوب و مطلوب و مقصود میسر آجائےجس کی تمنا کی جارہی تھی تب بھی کہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے کا گلہ برقرار رہے تو آپ کا یہ مختصر گو جامع مراسلہ دیکھ کر کچھ یہی حال میرا ہوا اور ہل من مزید کاتقاضابھی برقرار رہا۔۔۔۔۔۔۔اُردُو محفل کے شرکاء پر ازراہِ خداکرم فرمائیں اور انہیں اپنی خوبصورت تحریروں سے محروم نہ کریں کہ:
مدت ہوئی ہے یار کا دیکھے ہوئے جمال
لیکن گئی نہیں میری۔۔۔ خودرفتگی ہنوز
یا
نشانی ہم نے رکھ چھوڑی ہے اِک اگلی بہارا ں کی
بہار آئی گلے میں ڈال لی۔۔۔۔۔ دھجی گریباں کی​
کی جانہ رہے۔۔.

آمین.جزاك الله
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
آداب!
نقد و نظر کے لیے بے حد شکریہ!جزاك الله۔
میں کوٸی بھی تحریر بنا فخر و عذر پیش کرتا ہوں اور نقاد کو رد و قبول کاپورا اختیار دیتا ہوں۔ سر دست چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا:
1 .اردو کے تمام مرکب الفاظ کا املا عرصہ دراز سے تبدیل کیا جاچکا ہے اور اب
کیلیے کی جگہ کے لیے
بلکہ کی جگہ بل کہ
کیونکہ کی جگہ کیوں کہ
وغیرہ ہی درست املا ہے۔مفرد الفاظ کا مرکب املا HEC کے نزدیک غلط او ر ناقابل قبول ہے۔ اس لیے مقالہ میں مستعمل الفاظ کا املا غلط نہیں ہے۔
خرم بھائی ، املا کے بارے میں آپ کا تبصرہ باعثِ حیرت ہوا۔ HEC سے آپ کی مراد غالباً ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان ہے۔ آپ نے جو بات ایچ ای سی سے منسوب کی وہ املا کمیٹی کی سفارشات کے بالکل برعکس ہے۔ جبکہ میری سمجھ کے مطابق تو ایچ ای سی نے املا کمیٹی کی سفارشات کو قبول کیا تھا اور اس کی ترویج کا ذمہ لیا تھا۔ مفرد الفاظ کو ملا کر لکھنے کے قدیم دستور کو ترک کرنا تو بالکل ٹھیک ہے لیکن املا کمیٹی نے لیکن لاحقوں اور سابقوں سے بنے الفاظ کو چلن اور دستور کے مطابق برقرار رکھا تھا۔ اور اس ذیل میں بلکہ ، چونکہ ، چنانچہ ، کیونکہ وغیرہ کو شامل کیا تھا ۔
میں املا کمیٹی کی متعلقہ سفارشات کا ربط یہاں دے رہا ہوں۔ اس میں شق نمبر ۶ کو دیکھ لیجیے ۔ ایک یا دو منٹ لگیں گے ۔ اسے ضرور دیکھ لیجیے۔

اگر ایچ ای سی پاکستان نے املا کے بارے میں کوئی دستاویز جاری کی ہے تو براہِ کرم اس کا ربط عطا کیجیے گا۔ اس کے لیے آپ کا پیشگی شکریہ ۔:)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین

. جملے کا اختصار و طوالت کا تعلق چوں کہ اسلوب سے ہے اس لیے اس پر کیا بات کی جاسکتی ہے۔ بہرحال آپ کی رائے قیمتی ہے​

خرم بھائی ، طویل جملوں کے بارے میں جو بات میں نے لکھی تھی اس میں دراصل اس طرف اشارہ تھا کہ ضرورت سے زیادہ طویل جملہ لکھنے میں عموماً گرامر کی اغلاط در آتی ہیں۔ اس ضمن میں آپ کا جو اقتباس میں نے نقل کیا تھا اسے دیکھ لیجیے۔ اس کی گرامر ٹھیک نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے یہ الجھا ہوا ہے اور اسے کماحقہ سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ میں تفصیلاً لکھ دیتا ہوں تاکہ یہ نکتہ واضح ہوجائے ۔​
تمام تر نفسیاتی الجھنیں چوں کہ ہجرت سے منسلک ہیں اس لیے اس افسانے کے کرداروں کے رویے نفسیات کی رو سے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کے تحت سمجھے جاسکتے ہیں جس میں ذہنی صحت کے مسائل جن میں تناؤ (ٹینشن)دباؤ(ڈپریشن)، غیر ضروری حساسیت، چڑ چڑا پن، بدلہ لینے کے شدید جذبات، غم اور سوگ، ثقافتی شناخت کا بحران یا تشخص کے مسائل اور رویوں کی تبدیلی کا انسلاک کسی ناگوار یا صدماتی واقعے کا تجربہ کرنے یا اسے دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔
آپ کے محولہ بالا طویل جملے میں "جن میں" کا کوئی محل ہی نہیں ہے۔ گرامر کے لحاظ سے اسے یوں ہونا چاہیے۔
"تمام تر نفسیاتی الجھنیں چونکہ ہجرت سے منسلک ہیں اس لیے اس افسانے کے کرداروں کے رویے نفسیات کی رو سے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کے تحت سمجھے جاسکتے ہیں جس میں ذہنی صحت کے مسائل جن میں یعنی تناؤ (ٹینشن)دباؤ(ڈپریشن)، غیر ضروری حساسیت، چڑ چڑا پن، بدلہ لینے کے شدید جذبات، غم اور سوگ، ثقافتی شناخت کا بحران یا تشخص کے مسائل اور رویوں کی تبدیلی کا انسلاک کسی ناگوار یا صدماتی واقعے کا تجربہ کرنے یا اسے دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔"
یا پھر ایک صورت یہ ہے کہ قوسین کا استعمال کیا جائے:
"تمام تر نفسیاتی الجھنیں چوں کہ ہجرت سے منسلک ہیں اس لیے اس افسانے کے کرداروں کے رویے نفسیات کی رو سے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کے تحت سمجھے جاسکتے ہیں جس میں ذہنی صحت کے مسائل (تناؤ یعنی ٹینشن، دباؤ یعنی ڈپریشن، غیر ضروری حساسیت، چڑ چڑا پن، بدلہ لینے کے شدید جذبات، غم اور سوگ، ثقافتی شناخت کا بحران یا تشخص کے مسائل اور رویوں کی تبدیلی کا انسلاک) کسی ناگوار یا صدماتی واقعے کا تجربہ کرنے یا اسے دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔"
امید ہے کہ اب میری بات واضح ہوگئی ہوگی۔​
ڈاکٹر صاحب ، میرا مشاہدہ یہ ہے کہ عام قارئین میں تنقیدی ادب سے نسبتاً عدم دلچسپی کی ایک بڑی وجہ گنجلک زبان و بیان اور غیر معروف/غیر ضروری اصطلاحات کا استعمال ہے۔ آپ بہت اچھا لکھ رہے ہیں اور نئے تنقیدی پہلو اور زاویوں کو اجاگر کرنے کی سنجیدہ مساعی کررہے ہیں۔ یہ بہت اہم اور قابلِ تحسین بات ہے۔ میری ناقص (بے طلب) رائے یہ ہوگی کہ اگر آپ زبان و بیان کو ذرا دلچسپ اور سلیس بنائیں تو آپ کی تحاریر زیادہ مؤثر اور مقبول ہوں گی۔ سلاست اور سادگی کے علاوہ حشو و زوائد سے پرہیز اچھی اور بلیغ نثر کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ شعر ہو یا نثر ، قاری تک ابلاغ اصل کامیابی کی ضمانت ہے۔ اگر آپ میری جرات کا برا نہ مانیں تو محولہ بالا جملے کو یوں بھی لکھا جاسکتا ہے:
تمام نفسیاتی الجھنیں چوںکہ سانحۂ ہجرت کی پیدا کردہ ہیں اس لیے ان کرداروں کے رویے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کے تحت سمجھے جاسکتے ہیں۔ اس نفسیاتی عارضے میں کسی ناخوشگوار واقعے یا صدماتی تجربے سے گزرنے یا اسے دیکھنے کے بعد تناؤ (ٹینشن)، دباؤ(ڈپریشن)، غیر ضروری حساسیت، چڑ چڑا پن، انتقامی جذبات، غم اور سوگ، ثقافتی شناخت کا بحران یا ذاتی تشخص کے مسائل اور رویے میں تبدیلی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
اس کے بعد اگر آپ ضروری سمجھتے ہیں تو انسلاک یا ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں ایک آدھ وضاحتی جملہ اور لکھ سکتے ہیں۔ میری ناقص رائے میں اس طرح بات زیادہ آسانی سے قاری تک پہنچ جاتی ہے ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
استاذی مکرم ظہیراحمد ظہیر صاحب !
بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
غالب نے یہ شکایت خاص اِنہی مواقع کے لیے اُٹھارکھی تھی کہ جب خیال افروز تحریروں ،فکرانگیز مراسلات،نکتہ کشا آراء،علم پرور خیالات اورادب نواز مضامین کا سلسلہ چلتے چلتے رک سا جائے اور ناظرین کو اِس توقف کے ہر پل اور ثانیہ میں انتظار کے پہاڑ جیسےوبال کا سامنا رہے پھر دفعتا وہ ًمحبوب و مطلوب و مقصود میسر آجائےجس کی تمنا کی جارہی تھی تب بھی کہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے کا گلہ برقرار رہے تو آپ کا یہ مختصر گو جامع مراسلہ دیکھ کر کچھ یہی حال میرا ہوا اور ہل من مزید کاتقاضابھی برقرار رہا۔۔۔۔۔۔۔اُردُو محفل کے شرکاء پر ازراہِ خداکرم فرمائیں اور انہیں اپنی خوبصورت تحریروں سے محروم نہ کریں کہ:
مدت ہوئی ہے یار کا دیکھے ہوئے جمال
لیکن گئی نہیں میری۔۔۔ خودرفتگی ہنوز
یا
نشانی ہم نے رکھ چھوڑی ہے اِک اگلی بہارا ں کی
بہار آئی گلے میں ڈال لی۔۔۔۔۔ دھجی گریباں کی​
کی جانہ رہے۔۔
برادرم شکیل ، عزت افزائی اور اس درجہ حسنِ ظن کے لیے آپ کا بہت شکریہ!
شعر وا دب سے مجھے دلی لگاؤ ہے اور ان سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینے کو جی بھی چاہتا ہے لیکن کیا کیجیے کہ احتیاجاتِ حیات کا تقاضا کچھ اور ہے۔ ویسے بھی سنجیدگی سے پڑھنے اور تبصرے لکھنے کو ذہنی فرصت اور وقت درکار ہوتا ہے، سو اس قسم کے مشاغل اور دلچسپیاں ترجیحات کی فہرست میں عموماً نیچے ہی رہتے ہیں۔ کاش دن میں اٹھائیس انتیس گھنٹے ہوتے یا پھر ہفتہ ہی آٹھ دن کا ہوتا۔:)
پچھلے پیر کو یہاں برفانی بارش کی وجہ سے تمام راستے منجمد بلکہ برف پوش ہوگئے اور کاروبارِ زندگی مفلوج ہوگیا ۔ کلینک میں بہت کم مریض آئے تو مجھے کچھ لکھنے لکھانے کا موقع مل گیا ۔ ڈاکٹر خرم یاسین صاحب سنجیدہ کام کررہے ہیں ۔ ایسے کاموں کو سراہنا اور ان پر لکھنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔
 
خرم بھائی ، املا کے بارے میں آپ کا تبصرہ باعثِ حیرت ہوا۔ HEC سے آپ کی مراد غالباً ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان ہے۔ آپ نے جو بات ایچ ای سی سے منسوب کی وہ املا کمیٹی کی سفارشات کے بالکل برعکس ہے۔ جبکہ میری سمجھ کے مطابق تو ایچ ای سی نے املا کمیٹی کی سفارشات کو قبول کیا تھا اور اس کی ترویج کا ذمہ لیا تھا۔ مفرد الفاظ کو ملا کر لکھنے کے قدیم دستور کو ترک کرنا تو بالکل ٹھیک ہے لیکن املا کمیٹی نے لیکن لاحقوں اور سابقوں سے بنے الفاظ کو چلن اور دستور کے مطابق برقرار رکھا تھا۔ اور اس ذیل میں بلکہ ، چونکہ ، چنانچہ ، کیونکہ وغیرہ کو شامل کیا تھا ۔
میں املا کمیٹی کی متعلقہ سفارشات کا ربط یہاں دے رہا ہوں۔ اس میں شق نمبر ۶ کو دیکھ لیجیے ۔ ایک یا دو منٹ لگیں گے ۔ اسے ضرور دیکھ لیجیے۔

اگر ایچ ای سی پاکستان نے املا کے بارے میں کوئی دستاویز جاری کی ہے تو براہِ کرم اس کا ربط عطا کیجیے گا۔ اس کے لیے آپ کا پیشگی شکریہ ۔:)
وعلیکم السلام! جزاک اللہ آپ نے اس حوالے سے وقت نکالا اور تحقیق کی۔ آپ نے جو ربط عنایت کیا ہے وہ فردِ واحد کی رائے کا ہے۔ متفقہ طورپر منظور شدہ سفارشات کو ان شا اللہ تلاش کرکے یہاں اشتراک کردوں گا ۔ سرِ دست گزارش ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کےمظورشدہ تحقیقی و تنقیدی مجلات میں سے کسی بھی مجلے میں ایسے مرکب الفاظ جو مفرد صورت میں اپنا مکمل وجود رکھتے ہوں جن میں کیوں کہ، چوں کہ، بل کہ بھی شامل ہیں، کو مفرد صورت ہی میں لکھا جاتا ہے ۔ آپ مقالے میں اگر ایسا نہیں کرتے تو ایڈیٹر کی کال یا پیغام آجاتا ہے کہ اسے درست کرکے بھیجیں۔ بیشتر نے تو یہ اصول اپنے مجلات کے پہلے صفحے پر باقاعدہ دیا بھی ہوا ہے جس میں میری ناقص یادداشت میں فکر و نظر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، زبان و ادب جی سی یونیورسٹی، تحقیقی جریدہ جی سی ویمن یونیورسٹی وغیرہ ایسے بہت سارے جرائد شامل ہیں۔ یہی اصول اردو املا میں رشید حسن خان نے بھی اپنایا ہے اور تحقیقی مجلات میں لکھنے والوں کے لیے بالکل بھی نیا نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ املا کے اصولوں پر مباحث قائم ہوتے رہتے ہیں، میں نے جن اصولوں کے مطابق تحریر کیا وہ جدید اور بالکل قابلِ قبول اصول ہیں۔ میرے ایک استادِ محترم نے ایک سفارش گزشتہ سال یہ پیش کی تھی کہ ایسے انگلش یا بدیسی زبان کے الفاظ جو وہاں مفرد صورت میں تحریر کیے جاتے ہیں انھیں اردو میں مرکب صورت میں تحریر نہ کیا جائے مثلاً یونی ورسٹی کو یونیورسٹی ہی تحریر کیا جائے اسی طرح سیمی نار کو سیمینار ہی تحریر کیا جائے۔ بہرحال ان کی سفارش جو کہ بہت قابلِ قبول تھی اور میں ذاتی طورپر اس پر عمل پیرا ہوں، کو جامعات کی سطح پر پذیرائی نہیں ملی۔ باقی جملے کی طوالت کے حوالے سے آپ کی رائے قیمتی ہے،جزاک اللہ۔ میرے اسلوب میں جملے رواں اور طویل ہوتے ہیں اور بعض اوقات وقت کی کمی کے باعث بار بار پڑھ نہیں پاتا اس لیے عین ممکن ہے اس میں کچھ جملے مختصر کیے جاسکیں۔ یہ معاملہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کچھ مختصر جملوں کو طویل کیا جاسکتا ہو۔ آپ کی رائے کا بارِ دیگر شکریہ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
وعلیکم السلام! جزاک اللہ آپ نے اس حوالے سے وقت نکالا اور تحقیق کی۔ آپ نے جو ربط عنایت کیا ہے وہ فردِ واحد کی رائے کا ہے۔ متفقہ طورپر منظور شدہ سفارشات کو ان شا اللہ تلاش کرکے یہاں اشتراک کردوں گا ۔
نہیں خرم بھائی ، املا کمیٹی کی سفارشات کسی فردِ واحد کی نہیں بلکہ پاک و ہند کے جید علما اور ماہرینِ لسانیات پر مشتمل ایک بڑی کمیٹی کے سالہا سال کی تحقیق و تدقیق اور مشاورت کا نتیجہ ہے ۔ آپ کو وقت ملے تو املا نامہ کے سرورق پر ایک نظر ڈال لیجئے گا۔ اور اگر ان سفارشات کے پس منظر اور تحقیقی کام کو تفصیل سے جاننے کی خواہش ہو تو املا نامے کے مقدمہ طبع اول اور مقدمہ طبع ثانی کو دیکھ لیجیے گا۔ املا نامہ پہلی دفعہ 1974 اور دوسری مرتبہ 1988 میں شائع ہوا۔
میں آپ کے مطالعے کی سہولت کے لیے اختصار سے کمیٹی کے اراکین کا نام اور اس کام پر نظرِ ثانے کرنے والے محققین کا نام یہاں لکھ دیتا ہوں ۔

اراکین املا کمیٹی
  • ڈاکٹر سید عابد حسین (صدر)
  • رشید حسن خان
  • ڈاکٹر گوپی چند نارنگ (مرتّب)
(اس کمیٹی نے ۱۹۷۳ سے ۱۹۷۴ تک کام کیا اور اس کے جلسوں میں شہباز حسین نے بحیثیت پرنسپل پبلیکیشنز آفیسر شرکت کی)

نظرِ ثانی کمیٹی (توسیع شدہ املا کمیٹی)​

  • ڈاکٹر عبد العلیم (صدر)
  • پروفیسر گیان چند جین
  • ڈاکٹر سید عابد حسین
  • پروفیسر خواجہ احمد فاروقی
  • رشید حسن خان
  • پروفیسر محمّد حسن
  • حیات اللّٰہ انصاری
  • ڈاکٹر خلیق انجم
  • مالک رام
  • سیّد بدر الحسن
  • پروفیسر مسعود حسین خان
  • پروفیسر گوپی چند نارنگ (مرتّب)
(۱۹۷۶ اور ۱۹۷۷ میں اس کمیٹی کے تین اجلاس ہوئے۔ ڈاکٹر شارب ردولوی نے بحیثیت پرنسپل پبلیکیشنز آفیسر اور ابو الفیض سحر نے بحیثیت اسسٹنٹ ڈائریکٹر شرکت کی)

مقدمہ طبع ثانی سے پروفیسر گوپی کی تحریر سے دو اقتباسات بطور نمونہ دیکھیے:

"یہ ایک وقیع کمیٹی کی سفارشات ہیں جن کی حیثیت سنگِ میل کی ہے۔ اور قدم قدم پر رہنمائی کا حق ادا کیا گیا ہے وہاں سخت سے سخت تنقید بھی کی گئی اور بعض سفارشات سے اختلاف کرتے ہوئے ان پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا گیا، بالخصوص مولانا عبد الماجد دریا بادی، ڈاکٹر صفدر آہ، پروفیسر ہارون خان شیروانی، مولانا شہاب مالیر کوٹلوی، سیّد بدر الحسن، حیات اللّٰہ انصاری، پروفیسر گیان چند جین، علی جواد زیدی، سید شہاب الدین دسنوی، ڈاکٹر خلیق انجم، حسن الدین احمد، ڈاکٹر شکیل الرّحمان، ڈاکٹر عبد السّتار دلوی، راج نرائن راز، کرشن موہن، ڈاکٹر عابد پشاوری، ڈاکٹر مرزا خلیل احمد بیگ، ڈاکٹر علیم اللّٰہ حالی، ڈاکٹر سیفی پریمی، رشید نعمانی اور وقار خلیل نے کئی کئی قسطوں میں نہایت بے لاگ تحقیقی تبصرے لکھے اور علمی تجزیے کا حق ادا کیا۔"

"ورکشاپ کے جلسوں کی صدارت شمس الرّحمان فاروقی نے کی۔ اگر وہ دلچسپی نہ لیتے تو یہ کام خدا جانے کب تک سرد خانے کی زینت بنا رہتا۔ انھوں نے اور ڈاکٹر نثار احمد فاروقی نے اہم مشورے دیے۔ رشید حسن خان تمام بحثوں میں شریک ہوئے۔ اُنھیں بعض نکات پر اصرار تھا لیکن کمیٹی نے اُن سے اختلاف کیا۔"
 
نہیں خرم بھائی ، املا کمیٹی کی سفارشات کسی فردِ واحد کی نہیں بلکہ پاک و ہند کے جید علما اور ماہرینِ لسانیات پر مشتمل ایک بڑی کمیٹی کے سالہا سال کی تحقیق و تدقیق اور مشاورت کا نتیجہ ہے ۔ آپ کو وقت ملے تو املا نامہ کے سرورق پر ایک نظر ڈال لیجئے گا۔ اور اگر ان سفارشات کے پس منظر اور تحقیقی کام کو تفصیل سے جاننے کی خواہش ہو تو املا نامے کے مقدمہ طبع اول اور مقدمہ طبع ثانی کو دیکھ لیجیے گا۔ املا نامہ پہلی دفعہ 1974 اور دوسری مرتبہ 1988 میں شائع ہوا۔
میں آپ کے مطالعے کی سہولت کے لیے اختصار سے کمیٹی کے اراکین کا نام اور اس کام پر نظرِ ثانے کرنے والے محققین کا نام یہاں لکھ دیتا ہوں ۔

اراکین املا کمیٹی
  • ڈاکٹر سید عابد حسین (صدر)
  • رشید حسن خان
  • ڈاکٹر گوپی چند نارنگ (مرتّب)
(اس کمیٹی نے ۱۹۷۳ سے ۱۹۷۴ تک کام کیا اور اس کے جلسوں میں شہباز حسین نے بحیثیت پرنسپل پبلیکیشنز آفیسر شرکت کی)

نظرِ ثانی کمیٹی (توسیع شدہ املا کمیٹی)​

  • ڈاکٹر عبد العلیم (صدر)
  • پروفیسر گیان چند جین
  • ڈاکٹر سید عابد حسین
  • پروفیسر خواجہ احمد فاروقی
  • رشید حسن خان
  • پروفیسر محمّد حسن
  • حیات اللّٰہ انصاری
  • ڈاکٹر خلیق انجم
  • مالک رام
  • سیّد بدر الحسن
  • پروفیسر مسعود حسین خان
  • پروفیسر گوپی چند نارنگ (مرتّب)
(۱۹۷۶ اور ۱۹۷۷ میں اس کمیٹی کے تین اجلاس ہوئے۔ ڈاکٹر شارب ردولوی نے بحیثیت پرنسپل پبلیکیشنز آفیسر اور ابو الفیض سحر نے بحیثیت اسسٹنٹ ڈائریکٹر شرکت کی)

مقدمہ طبع ثانی سے پروفیسر گوپی کی تحریر سے دو اقتباسات بطور نمونہ دیکھیے:

"یہ ایک وقیع کمیٹی کی سفارشات ہیں جن کی حیثیت سنگِ میل کی ہے۔ اور قدم قدم پر رہنمائی کا حق ادا کیا گیا ہے وہاں سخت سے سخت تنقید بھی کی گئی اور بعض سفارشات سے اختلاف کرتے ہوئے ان پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا گیا، بالخصوص مولانا عبد الماجد دریا بادی، ڈاکٹر صفدر آہ، پروفیسر ہارون خان شیروانی، مولانا شہاب مالیر کوٹلوی، سیّد بدر الحسن، حیات اللّٰہ انصاری، پروفیسر گیان چند جین، علی جواد زیدی، سید شہاب الدین دسنوی، ڈاکٹر خلیق انجم، حسن الدین احمد، ڈاکٹر شکیل الرّحمان، ڈاکٹر عبد السّتار دلوی، راج نرائن راز، کرشن موہن، ڈاکٹر عابد پشاوری، ڈاکٹر مرزا خلیل احمد بیگ، ڈاکٹر علیم اللّٰہ حالی، ڈاکٹر سیفی پریمی، رشید نعمانی اور وقار خلیل نے کئی کئی قسطوں میں نہایت بے لاگ تحقیقی تبصرے لکھے اور علمی تجزیے کا حق ادا کیا۔"

"ورکشاپ کے جلسوں کی صدارت شمس الرّحمان فاروقی نے کی۔ اگر وہ دلچسپی نہ لیتے تو یہ کام خدا جانے کب تک سرد خانے کی زینت بنا رہتا۔ انھوں نے اور ڈاکٹر نثار احمد فاروقی نے اہم مشورے دیے۔ رشید حسن خان تمام بحثوں میں شریک ہوئے۔ اُنھیں بعض نکات پر اصرار تھا لیکن کمیٹی نے اُن سے اختلاف کیا۔"
توجہ دلانے کا بے حد شکریہ ۔ کچھ مصروف ہوں ، ان شااللہ جوں ہی فرصت میسرہوتی ہےتفصیل سے دیکھتا ہوں ۔ میرے پیشِ نظر بھی کئی حوالے ہیں، ان حوالوں کا آپ کے مہیا کردہ حوالوں سے موازنہ ہوکر ہی کچھ کہا جاسکتا ہے۔ املا نامے میں جس طرح گوپی چند نارنگ صاحب نے انگریزی الفاظ کو اردو میں مفرد صورت میں لکھنے کی بات کی تھی لیکن میرے استادِ محترم نے اس کی خلاف رائے پیش کی تھی، اسی طرح یہاں بھی دیکھنا پڑے گا کہ اردو کے وسیع تر مفاد میں بہترین کیا ہے۔ میں ان شا اللہ دیکھ کر آپ کو پوسٹ ارسال کروں گا۔ جزاک اللہ
سر دست جو کتاب موجود ہے اس میں رشید حسن خان صاحب کی املا نامہ میں انھوں نے احسن مارہروی کی سفارشات، جنھیں غلام مصطفیٰ خان صاحب نے بصد محبت اپنی کتاب علمی نقوش میں نقل کیا ہے، کے حوالے سے بلکہ کو بل کہ لکھنے کی بات کی ہے (ص:32)اور اسی طرح صفحہ 30 پر بھی بالکل کو بال کل لکھنے والوں کے اخلاص پر شک کا اظہار نہیں کیا۔ یہ رشید حسن خان صاحب کی اپنی رائے نہیں لیکن انھوں نے انھیں بہت اہم گردانا ہے۔
رشید حسن خان صاحب ہی کی ایک اور کتاب اردو کیسے لکھیں کے ص: 94 پر انھوں نے بلکہ چونکہ کو توڑ کر لکھنے کی بات کی ہے ۔یقینا ً انھوں نے اپنی کتا ب عبارت کیسے لکھیں میں بھی اس کا اعادہ کیا ہوگا۔ یہی بات جامع القواعد حصہ اول (ڈاکٹر ابوللیث صدیقی)اور حصہ دوم (ڈاکٹر غلام مصطفیٰ ) میں پڑھی تھی، غالباً حصہ اول میں ہے۔
 
آخری تدوین:
Top