ضمیر جعفری پرانی موٹر از ضمیر جعفری

فرخ منظور نے 'مزاحیہ شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 12, 2009

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    پرانی موٹر

    عجب اک بار سا مردار پہیوں نے اٹھایا ہے
    اسے انساں کی بد بختی نے جانے کب بنایا ہے
    نہ ماڈل ہے نہ باڈی ہے نہ پایہ ہے نہ سایہ ہے
    پرندہ ہے جسے کوئی شکاری مار لایا ہے
    کوئی شے ہے کہ بیّنِ جسم و جاں معلوم ہوتی ہے
    کسی مرحوم موٹر کا دھواں معلوم ہوتی ہے
    طبعیت مستقل رہتی ہے ناساز و علیل اس کی
    اٹی رہتی ہے نہر اس کی ٬ پھٹی رہتی ہے جھیل اس کی
    توانائی قلیل اس کی تو بینائی بخیل اس کی
    کہ اس کو مدتوں سے کھا چکی عمر طویل اس کی
    گریباں چاک انجن یوں پڑا ہے اپنے چھپر میں
    کہ جیسے کوئی کالا مرغ ہو گھی کے کنستر میں
    ولایت سے کسی سرجارج ایلن بی کے ساتھ آئی
    جوانی لٹ گئی تو سندھ میں یہ خوش صفات آئی
    وہاں جب عین اس کے سر پہ تاریخِ وفات آئی
    نہ جانے کیسے ہاتھ آئی مگر پھر اپنے ہات آئی
    ہمارے ملک میں انگریز کے اقبال کی موٹر
    سن اڑتالیس میں پورے اٹھتر سال کی موٹر
    یہ چلتی ہے تو دوطرفہ ندامت ساتھ چلتی ہے
    بھرے بازار کی پوری ملامت ساتھ چلتی ہے
    بہن کی التجا٬ماں کی محبت ساتھ چلتی ہے
    وفائے دوستاں بہرِ مشقت ساتھ چلتی ہے
    بہت کم اس خرابے کو خراب انجن چلاتا ہے
    عموما زورِ دستِ دوستاں ہی کام آتا ہے
    کبھی بیلوں کے پیچھے جوت کر چلوائی جاتی ہے
    کبھی خالی خدا کے نام پر کھچوائی جاتی ہے
    پکڑ کر بھیجی جاتی ہے٬ جکڑ کر لائی جاتی ہے
    وہ کہتے ہیں کہ اس میں پھر بھی موٹر پائی جاتی ہے
    اذیت کو بھی اک نعمت سمجھ کر شادماں ہونا
    تعال اﷲ یوں انساں کا مغلوبِ گماں ہونا
    بہ طرزِ عاشقانہ دوڑ کر٬ بے ہوش ہو جانا
    بہ رنگِ دلبرانہ جھانک کر٬ روپوش ہوجانا
    بزرگوں کی طرح کچھ کھانس کر خاموش ہوجانا
    مسلمانوں کی صورت دفعتا پر جوش ہوجانا
    قدم رکھنے سے پہلے لغزشِ مستانہ رکھتی ہے
    کہ ہر فرلانگ پر اپنا مسافر خانہ رکھتی ہے
    دمِ رفتار دنیا کا عجب نقشا دکھائی دے
    سڑک بیٹھی ہوئی اور آدمی اڑتا دکھائی دے
    نظام زندگی یکسر تہہ و بالا دکھائی دے
    یہ عالم ہو تو اس عالم میں آخر کیا دکھائی دے
    روانی اس کی اک طوفانِ وجد و حال ہے گویا
    کہ جو پرزہ ہے اک بپھرا ہوا قوّال ہے گویا
    شکستہ ساز میں بھی ٬ محشر نغمات رکھتی ہے
    توانائی نہیں رکھتی مگر جذبات رکھتی ہے
    پرانے ماڈلوں میں کوئی اونچی ذات رکھتی ہے
    ابھی پچھلی صدی کے بعض پرزہ جات رکھتی ہے
    غمِ دوراں سے اب تو یہ بھی نوبت آگئی٬ اکثر
    کسی مرغی سے ٹکرائی تو خود چکرا گئی، اکثر
    ہزاروں حادثے دیکھے٬ زمانی بھی مکانی بھی
    بہت سے روگ پالے ہیں زراہِ قدر دانی بھی
    خجل اس سخت جانی پر ہے مرگِ ناگہانی بھی
    خداوندا نہ کوئی چیز ہو٬ اتنی پرانی بھی
    کبھی وقتِ خرام آیا تو ٹائر کا سلام آیا
    تھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا


    سید ضمیر جعفری مرحوم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • زبردست زبردست × 3
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,568
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ فرخ صاحب شیئر کرنے کیلیے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    شکریہ وارث صاحب پسند کرنے کے لئے۔
     
  4. جیا راؤ

    جیا راؤ محفلین

    مراسلے:
    1,888
    واہ۔۔۔ زبردست۔۔!!
    ہمارے سلیبس میں رہ چکی ہے یہ نظم۔۔ :)
    شئیر کرنے کا بہت شکریہ۔۔ :):)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ جیا راؤ۔ کسی زمانے میں کسی نصابی کتاب میں ہی یہ نظم دیکھی تھی پھر بہت عرصے بعد اسکا دیدار دوبارہ نصیب ہوا۔ :)
     
  6. ایم اے راجا

    ایم اے راجا محفلین

    مراسلے:
    3,230
    جھنڈا:
    Pakistan
    واہ بہت خوب، کیا بات تھی ضمیر مرحوم کیا، انتخاب کرنے اور یہاں شیئر کرنے کا شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. مطیع الرحمٰن

    مطیع الرحمٰن محفلین

    مراسلے:
    644
    واہ بھئی! یہ نظم بچپن میں اردو کی کتاب میں پڑھی تھی
    اس کے ساتھ ایک گاڑی کی تصویر بھی تو لگادیں مزا دوبالا ہوجائے گا:applause:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. مطیع الرحمٰن

    مطیع الرحمٰن محفلین

    مراسلے:
    644
    یہ کیسی رہے گی

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ مطیع الرحمٰن صاحب ۔ لیکن کوئی ایسی پرانی موٹر تلاش کیجیے جو چلتی ہوئی دکھائی دے۔ یہ تو لگتا ہے کہ پرانی کار ضرور ہے لیکن اس میں اب موٹر شاید باقی نہیں رہی۔ ;)
     
  10. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    پرانی موٹر

    عجب اک بار سا مردار پہیوں نے اٹھایا ہے
    اسے انساں کی بد بختی نے جانے کب بنایا ہے
    نہ ماڈل ہے نہ باڈی ہے نہ پایہ ہے نہ سایہ ہے
    پرندہ ہے جسے کوئی شکاری مار لایا ہے
    کوئی شے ہے کہ بیّنِ جسم و جاں معلوم ہوتی ہے
    کسی مرحوم موٹر کا دھواں معلوم ہوتی ہے
    طبعیت مستقل رہتی ہے ناساز و علیل اس کی
    اٹی رہتی ہے نہر اس کی، پھٹی رہتی ہے جھیل اس کی
    توانائی قلیل اس کی تو بینائی بخیل اس کی
    کہ اس کو مدتوں سے کھا چکی عمرِ طویل اس کی
    گریباں چاک انجن یوں پڑا ہے اپنے چھپر میں
    کہ جیسے کوئی کالا مرغ ہو گھی کے کنستر میں
    ولایت سے کسی سرجارج ایلن بی کے ساتھ آئی
    جوانی لٹ گئی تو سندھ میں یہ خوش صفات آئی
    وہاں جب عین اس کے سر پہ تاریخِ وفات آئی
    نہ جانے کیسے ہاتھ آئی مگر پھر اپنے ہات آئی
    ہمارے ملک میں انگریز کے اقبال کی موٹر
    سن اڑتالیس میں پورے اٹھتر سال کی موٹر
    یہ چلتی ہے تو دوطرفہ ندامت ساتھ چلتی ہے
    بھرے بازار کی پوری ملامت ساتھ چلتی ہے
    بہن کی التجا، ماں کی محبت ساتھ چلتی ہے
    وفائے دوستاں بہرِ مشقت ساتھ چلتی ہے
    بہت کم اس خرابے کو خراب انجن چلاتا ہے
    عموما زورِ دستِ دوستاں ہی کام آتا ہے
    کبھی بیلوں کے پیچھے جوت کر چلوائی جاتی ہے
    کبھی خالی خدا کے نام پر کھچوائی جاتی ہے
    پکڑ کر بھیجی جاتی ہے، جکڑ کر لائی جاتی ہے
    وہ کہتے ہیں کہ اس میں پھر بھی موٹر پائی جاتی ہے
    اذیت کو بھی اک نعمت سمجھ کر شادماں ہونا
    تعال اﷲ یوں انساں کا مغلوبِ گماں ہونا
    بہ طرزِ عاشقانہ دوڑ کر، بے ہوش ہو جانا
    بہ رنگِ دلبرانہ جھانک کر، روپوش ہوجانا
    بزرگوں کی طرح کچھ کھانس کر خاموش ہوجانا
    مسلمانوں کی صورت دفعتا ًپر جوش ہوجانا
    قدم رکھنے سے پہلے لغزشِ مستانہ رکھتی ہے
    کہ ہر فرلانگ پر اپنا مسافر خانہ رکھتی ہے
    دمِ رفتار دنیا کا عجب نقشا دکھائی دے
    سڑک بیٹھی ہوئی اور آدمی اڑتا دکھائی دے
    نظامِ زندگی یکسر تہہ و بالا دکھائی دے
    یہ عالم ہو تو اس عالم میں آخر کیا دکھائی دے
    روانی اس کی اک طوفانِ وجد و حال ہے گویا
    کہ جو پرزہ ہے اک بپھرا ہوا قوّال ہے گویا
    شکستہ ساز میں بھی، محشرِ نغمات رکھتی ہے
    توانائی نہیں رکھتی مگر جذبات رکھتی ہے
    پرانے ماڈلوں میں کوئی اونچی ذات رکھتی ہے
    ابھی پچھلی صدی کے بعض پرزہ جات رکھتی ہے
    غمِ دوراں سے اب تو یہ بھی نوبت آگئی، اکثر
    کسی مرغی سے ٹکرائی تو خود چکرا گئی، اکثر
    ہزاروں حادثے دیکھے زمانی بھی مکانی بھی
    بہت سے روگ پالے ہیں زراہِ قدر دانی بھی
    خجل اس سخت جانی پر ہے مرگِ ناگہانی بھی
    خداوندا نہ کوئی چیز ہو، اتنی پرانی بھی
    کبھی وقتِ خرام آیا تو ٹائر کا سلام آیا
    تھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا


    سید ضمیر جعفری مرحوم​
     
    • زبردست زبردست × 2
  11. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,729
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    ایک موٹر ذوالفقار علی خان کی تھی کہ بقول جگندر خموشی میں طاق تھی :) اور ایک یہ ہے کہ شکستہ ساز اور محشر نغمات رکھتی ہے ۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,729
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    اس نظم کے کچھ اشعار ہم نے اردو میں آٹھویں جماعت کے کورس میں پڑھے تھے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. امن وسیم

    امن وسیم محفلین

    مراسلے:
    366
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    بچپن کی یاد تازہ ہو گئی۔ اردو کی کتاب میں یہی ایک نظم تھی جس کی وجہ سے اردو اچھی لگے لگی اور شاعری کرنے کا دل کرنے لگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر