پرائی آگ میں تو نے اسد جلا لیے ہاتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح و تنقید

اسد قریشی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 19, 2012

  1. اسد قریشی

    اسد قریشی محفلین

    مراسلے:
    172
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    پرائی آگ میں تو نے اسد جلا لیے ہاتھ
    ستم ہوا کہ قضا نے بھی پھر اُٹھا لیے ہاتھ
    ہوا نے کیسے چراغوں سے ہیں ملا لیے ہاتھ
    ہمارے گھر کے اندھیروں نے تو جلا لیے ہاتھ
    خوشا نصیب کہا تھا ہمیں کسی نجومی نے
    سو کر رہے ہیں ملامت کہ کیوں دکھا لیے ہاتھ
    ہمی نے اپنے تمام عیب کر دیے عیاں اُس پر
    خود اپنے ہاتھ سے ہم نے مگر کٹالیے ہاتھ
    فلک نہ ہوگا کبھی ہم پہ مہرباں یقیں کر کے
    سیاہ بخت ترے رنگ میں ہی رنگالیے ہاتھ
    قبولیت کا گماں تک نہ تھا مگر تری خاطر
    یونہی دعاکے لیے ہم نے بھی اُٹھا لیے ہاتھ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,682
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ تجرباتی بحر ہے کیا؟ تمام دوسرے مصرع لیکن مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن پر ہی تقطیع ہوتے ہیں۔ پوری گزل بھی کر لیں نا اسی رواں دواں اور مانوس بحر میں۔
    مثلاً
    خوشا نصیب کہا تھا ہمیں کسی نجومی نے
    ہمی نے اپنے تمام سبھی عیب کر دیے تھے عیاں اُس پر(تمام عیب یوں بھی غلط ہے، کہ عیب کی ع گر رہی ہے، بلکہ زیادہ درست یہ ہو کہ م اور ع مل رہے ہیں۔ ’تمامیب‘ تقطہع ہو رہا ہے۔
    قبولیت کا گماں تک نہ تھا مگر تری خاطر پہ تیرے لئے
    لیکن یہ شعر مکمل خارج ہو رہا ہے۔
    فلک نہ ہوگا کبھی ہم پہ مہرباں یقیں کر کے
    سیاہ بخت ترے رنگ میں ہی رنگالیے ہاتھ
    ’یقیں کر کے‘ سمجھ میں نہیں آیا، شاید اس کی جگہ کچھ اور الفاظ ہوں تو درست بحر میں تقطیع ہو جائے۔
    کیا رنگ کا گاف گرا کر تقطیع کر رہے ہو؟
     
  3. اسد قریشی

    اسد قریشی محفلین

    مراسلے:
    172
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    جی اعجاز صاحب، تمام اشعار اس ہی بحر میں ہیں مطلع میں فعلن کی جگہ فعلان استعمال کیا ہے، اور جہاں تک میں نے پڑھا ہے، جناب محمد وارث صاحب اور جناب فاتح الدین دونوں صاحبان نے اس کے استعمال کی تصدیق کی ہے۔آپ کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے کچھ ترامیم کی ہیں دیکھ لیجیئے

    پرائی آگ میں تو نے اسد جلا لیے ہاتھ
    ستم ہوا کہ قضا نے بھی پھر اُٹھا لیے ہاتھ
    ہوا نے کیسے چراغوں سے ہیں ملا لیے ہاتھ
    ہمارے گھر کے اندھیروں نے تو جلا لیے ہاتھ
    خوشا نصیب کہا تھا ہمیں کسی نجومی نے
    سو کر رہے ہیں ملامت کہ کیوں دکھا لیے ہاتھ
    ہمی نے اپنےسبھی عیب کر دیے تھے عیاں
    خود اپنے ہاتھ سے ہم نے مگر کٹالیے ہاتھ
    یقین ہوا کہ فلک ہم پہ مہرباں نہ ہوگا اب
    سیاہ بخت ترے رنگ میں رنگالیے ہاتھ
    قبولیت کا گماں تک نہ تھا پہ تیرے لئے
    یونہی دعاکے لیے ہم نے بھی اُٹھا لیے ہاتھ
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,682
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    فعلان کی اجازت تو ہے اس بحر میں، خود تمہاری ردیف کے ’ہاتھ‘ سارے ’لان‘ ہیں۔ لیکن وہ دو مصرع اب بھی درست تقطیع نہیں ہوتے۔
     
  5. اسد قریشی

    اسد قریشی محفلین

    مراسلے:
    172
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    کون سے والے دو ؟
     
  6. اسد قریشی

    اسد قریشی محفلین

    مراسلے:
    172
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    خوشا نصیب کہا تھا کسی نجومی نے
    سو کر رہے ہیں ملامت کہ کیوں دکھا لیے ہاتھ
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,682
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک تو نجومی والا، جسے اب درست کر دیا گیا ہے، اور دوسرا
    یقین ہوا کہ فلک ہم پہ مہرباں نہ ہوگا اب
    یقیں ہے ہم پہ فلک مہرباں نہ ہوگا کبھی
    کیا جا سکتا ہے
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر