پاک فیکٹ - پاکستانی ذرائع ابلاغ کے تنقيدی جائزے پر مبنی بلاگ

ابوشامل

محفلین
ہاں البتہ یہ مجھے لگ رہا ہے کہ یہ موڈیفائڈ صورت میں ساجد بھائی کے بلاگ پر استعمال ہوتا تھا۔ میرے پاس سادہ کاپی-بلاگر تھیم تھا۔
 

فرضی

محفلین
نہیں نہیں۔۔۔یہ تھیم تو جاری شدہ ہے۔ سامنے پیج پر پڑی ہے اردو ماسٹر کے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جہانزیب نے ایک سائٹ بتائی ہے جو ہماری ارتھیمیا استعمال کر رہی ہے اور وہ بھی انتہائی گھٹیا کام کیلیے۔ اوپر سے ہماری ای میل جو سائیڈبار میں بلاگنگ کے متعلق مدد کے حوالے سے ہے بعینہ موجود ہے۔ لاحول ولا قوۃ
سائٹ دکھانے والی نہیں اور عمار تم جیسے بچوں کیلیے تو بالکل بھی نہیں۔

ساجد بھائی مجھے بتا دیں میں بچہ نہیں ہوں;) اگر یہاں بچوں کے دیکھ لینے کا ڈر ہے تو ذپ ہی کر دیں:)
 
السلام علیکم. تقریبا چار سال پہلے صوبہ سرحد کے بڑے ہسپتال کی گائنی وارڈ میں ہونے والی منفی سرگرمیوں کے بارے میں ناچیز نے ایک سروے رپورٹ لکھ کر ایک قومی اور ایک مقامی اخبار کے چھپنے کےلئے دی لیکن اس کے تین دن بعد وہی سٹوری اسی ہسپتال کے ای ذمہ دار ک افیسر کی ٹیبل پر صرف ایک ہزار روپے کے اشتہار کے بدلے میں رہ گئی جس کی وجہ سے میرا اس شعبے سے چوتھے ستون کا گمان اٹھ گیا. یہ تو صرف ایک واقعہ ہے اور بھی کئی واقعات ناچیز کی قلم سے کاغذ پر تو منتقل ہوگئے لیکن آزاد صحافت کے دعوے دار اس ملک کے کسی اخبار میں نہ چھپ سکے کیوں کے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے اشتہارات میڈیا کے پاوں میں زنجیر سے بھی کہیں بڑھ کر ہیں اور جس دن یہ زنجیر ٹوٹ گئی تب پاکستان کی ترقی کے دن شروع ہوجائیں گے لیکن یہ ناممکن ہے کاش یہ ممکن ہوسکے. آمین
 

خورشیدآزاد

محفلین
واقعی انتہائی اچھے موضوع پر ایک اچھا بلاگ تھا۔۔۔۔۔لیکن بدقسمتی سے ایک اور اردوبلاگ وقت کی کمی کا شکار ہوگیا۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
پاک فیکٹ ابھی تک موجود ہے، اگرچہ ہنوز غیر فعال ہے۔ آج پھر سے کچھ اخباری کالم پڑھ کر ایسے بلاگ کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔
 

ابوشامل

محفلین
اردو بلاگنگ کی مختصر سی دنیا کے بھی چند المیے ہیں جن میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ آمدنی نہ ہونے کے باعث لکھنے والوں کی ترجیحات میں جلد نیچے چلا جاتا ہے اور بالآخر زندگی کے دیگر بکھیڑوں میں الجھنے کے باعث لکھاری بلاگ پر توجہ دینا چھوڑ دیتا ہے۔ نہ آمدنی، نہ تبصرے، نہ ستائش، نہ صلہ تو بیچارہ اپنا قیمتی وقت کیوں ضایع کرے۔ ایسے انگریزی بلاگز بھی دیکھے ہیں جہاں آمدنی تو ایک جانب لیکن ایک اوسط درجے کی پوسٹ کو بھی 5 سے 10 ہزار ویوز مل جاتے ہیں جبکہ اردو میں اس سے کہیں زیادہ معیاری پوسٹ بھی ایک ہزار ویوز کے لیے ترستی ہے، پھر آمدنی بھی ندارد۔

بہت سارے ایسے بلاگز ہیں جو اپنے موضوعات اور تحاریر کے معیار کے حساب سے عمدہ تھے لیکن ہم آج ان سے محروم ہیں مثال کے طور پر 'اردو ماسٹر'۔ ایک شاندار بلاگ بھی وقت کی کمی کا شکار ہوا۔ اگر یہ بلاگر کی آمدنی کا ذریعہ ہوتا تو وہ کہیں نہ کہیں سے وقت ضرور نکال لیتا یا پھر دیگر افراد سے مضامین لکھواتا اور بلاگ کو زندہ رکھتا۔ افسوس :(
 
Top