پاکستان کی چار سرحدیں

زیک

مسافر
اگر اڈہ شہباز خان نامی جگہ کا نام سنا سنا لگ رہا ہے تو شاید علامہ اقبال کا گھر بھی دیکھا ہی ہو۔
یہ اڈہ تو یاد نہیں۔
یہ علاقے قریب قریب ہی ہیں، چھوٹا سا شہر ہے۔ علامہ صاحب کا گھر کشمیری محلہ اور امام صاحب کے علاقہ میں ہے۔ امام صاحب قبرستان ہی میں ان کے والدین کی قبور ہیں۔ یہ محلہ اور قبرستان تیرہویں صدی عیسوی کے ایک صوفی بزرگ امام علی الحق سے منسوب ہے اور آپ کا مزار بھی مرجع خاص و عام ہے۔
یہ نام جانے پہچانے ہیں
 

محمد وارث

لائبریرین
ذرا سوچئیے کہ بھیا حقے کا کش لگاتے اور اقبال فرماتے
"چھڈ وارث ڈنہل تے لیٹر پھڑا"
میں نے ایک دن ایک ضعیف مؤذن صاحب کے حقے سے فرمائش کر کے کش لگا لیا تھا، کئی منٹوں تک دونوں دنیائیں گھومتی نظر آئیں، علامہ صاحب کے حقے کا کش لگا لیتا تو "یا اپنا گریباں چاک یا دامنِ یزداں چاک" والا معاملہ ہو جاتا! :)
 
کیا اسکو ضعیف مؤذن کی صوفیانہ قوتوں پر معمور کیا جائے-جیسا کہ وہ کہتے ہیں ناں کہ "جیسے ہی بابا جی ہمیں گلے لگایا ہماری قسمت ہی بدل گئی- وغیرہ"




میں نے ایک دن ایک ضعیف مؤذن صاحب کے حقے سے فرمائش کر کے کش لگا لیا تھا، کئی منٹوں تک دونوں دنیائیں گھومتی نظر آئیں، علامہ صاحب کے حقے کا کش لگا لیتا تو "یا اپنا گریباں چاک یا دامنِ یزداں چاک" والا معاملہ ہو جاتا! :)
 

محمد وارث

لائبریرین
کیا اسکو ضعیف مؤذن کی صوفیانہ قوتوں پر معمور کیا جائے-جیسا کہ وہ کہتے ہیں ناں کہ "جیسے ہی بابا جی ہمیں گلے لگایا ہماری قسمت ہی بدل گئی- وغیرہ"
اللہ ہی جانے لیکن اتنا میں جانتا ہوں کہ گرمی سردی آندھی طوفان باد و باراں میں سال کے تین سو پینسٹھ دن بلا ناغہ علی الصبح دوپہر شام اور رات پانچ وقت مقررہ وقت پر سالہا سال تک اذان دینے سے کوئی کرامت ملے نہ ملے زندگی میں ایک انتہائی درجے کا ڈسپلن اور نظم ضرور مل جاتا ہے جو انمول ہے۔ پوہ ماگھ (وسط دسمبر تا وسط فروری) کی شدید سرد اور دھندلی صبحیں جب مسجد کے امام صاحب اکثر فجر کی نماز سے چھٹی مار جاتے تھے یہ مؤذن صاحب ضرور حاضر ہوتے تھے، اب ان کا حقہ ہم جیسوں کے ہوش نہ اڑا دے تو اور کیا ہو! :)
 
اللہ ہی جانے لیکن اتنا میں جانتا ہوں کہ گرمی سردی آندھی طوفان باد و باراں میں سال کے تین سو پینسٹھ دن بلا ناغہ علی الصبح دوپہر شام اور رات پانچ وقت مقررہ وقت پر سالہا سال تک اذان دینے سے کوئی کرامت ملے نہ ملے زندگی میں ایک انتہائی درجے کا ڈسپلن اور نظم ضرور مل جاتا ہے جو انمول ہے۔ پوہ ماگھ (وسط دسمبر تا وسط فروری) کی شدید سرد اور دھندلی صبحیں جب مسجد کے امام صاحب اکثر فجر کی نماز سے چھٹی مار جاتے تھے یہ مؤذن صاحب ضرور حاضر ہوتے تھے، اب ان کا حقہ ہم جیسوں کے ہوش نہ اڑا دے تو اور کیا ہو! :)

کسی دور میں ہمارے چچا کا حقہ بھی بہت تیز و ہوش اڑا دینے والا ہوتا تھا- اب تو بات گُڑ کی بجائے چینی ڈالنے پر آ گئی ہے- :)
 
Top