پاکستان کی معاشی صورتحال اور کابینہ میں اضافہ

سعود الحسن

محفلین
اطلاع یہ ہے کہ آج 41 نئے وفاقی اور مملکتی وزراء کابینہ میں شامل ہوجائیں گے۔ نئے حلف اٹھانے والوں میں 20 وفاقی وزراء ہوں گے جس کے بعد وفاقی وزراء کی تعداد 33 ہوجائے گی۔ جبکہ 21 وزرائے مملکت بھی حلف اٹھائیں گے۔ کابینہ کی توسیع کے بعد اس کے ارکان کی تعداد 54 ہوجائے گی۔ ایک اور اطلاع کے مطابق ہر وزارت کے لیے ایک عدد پارلیمانی سکریٹری بھی نامزد کیا جارہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک شدید مالی مشکلات کا شکار ہے، یہ اضافہ حیران کن ہے، ایسے وقت میں جبکہ آپ دوسرے ملکوں سے بھیک مانگنے ہر اتر آے ہوں، اور عوام کو مسلسل مشکل حالات اور مشکل فیصلوں کی نوید دے رہے ہوں، ایسے میں کابینہ میں اس طرح کا سیاسی اضافہ عوام اور مملکت کے ساتھ مزاق لگتا ہے، اور معاشی حالات درست کرنے میں حکومت کی غیر سنجیدگی ظاہر کرتا ہے۔ ساتھ ساتھ آپ بین القوامی کمیونٹی اور اداروں کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ ہم ان سے ملنے والی امداد یا قرض کن مدو میں خرچ کرنا چاہتے ہیں۔

اگر حکومت کو مشکل فیصلہ لینے ہیں تو اسے پہلے اس کا نفاز خود پر کرنا پڑے گا، کیا تمام قربانیاں اور مشکل فیصلہ عوام نے ہی بھگتنے ہیں۔ یا یہ سیاستدان بھی کچھ حصہ دالیں گے۔
 

ساجداقبال

محفلین
کابینہ میں اضافہ کر کے ملکی میں بیروزگاری میں خاطر خواہ کمی کی گئی۔ آپ لوگ بھی ہر وقت روتے رہتے ہیں، ”کارمینا“ لیجیے۔
 

دوست

محفلین
وزرائے مملکت وسائل کا ضیاع ہونگے۔ ورنہ آدھے محکمے تو جزوی وزیروں کو بھگت رہے ہیں انھیں بھی تو چلانا ہے۔ لیکن پی پی پی نے اگر متحدہ کو نہیں دینی تو خود بھی نہیں لینی وہ وزارتیں اور چلیں گی وہ پارٹ ٹائم وزیروں‌تلے ہی۔ جبکہ وزرائے مملکت قوم کی روٹی پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے ڈالنا تو لازمی ہے۔ ابھی تو ستر کی امید رکھیے۔
 

زین

لائبریرین
اس میں حیران ہونے کی کیا بات ؟؟؟۔ بلوچستان جیسے غریب صوبے کے45 وزیر ہیں ۔صوبائی اسمبلی 65 ممبرز میں سے 60 سے زائدممبران حکومت میں شامل ہیں اور جو وزیر نہیں انہیں مشیر بنایا گیا ہے ۔
-------------
آج ایم کیو ایم کے وزراء نے حلف نہیں اٹھایا کیونکہ انہیں اپنی مرضی کی وزارتیں‌نہیں دی گئیں۔ ایم کیو ایم خاص طور پر ہائوسنگ کی وزارت مانگ رہی ہیں کیونکہ گزشتہ دور میں‌بھی یہ وزارت ان کے پاس رہی ۔ اس محکمے کے موجودہ وزیر (رحمت اللہ خان کاکڑ )کا تعلق بلوچستان سے ہیں انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم نے اس محکمہ میں کھربوں روپوں کی خورد برد کی ہے
 

طالوت

محفلین
وزیروں کی فوج پھر ان کے چمچے ان کے چمچوں کے چمچے ، اسٹیبلشمنٹ ، فور اسٹار جنرل سب سے زیادہ پاکستان میں ہی پائے جاتے ہیں ۔۔۔
عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والی یہ مخلوق کبھی عوام کو لوٹ کر رفو چکر ہو جاتی ہے کبھی "بلڈی سویلینز" کے القابات سے نوازتی ہے ، نہ عوام کی عزت محفوظ ان کے ہاتھوں ، نہ پیسہ ، نہ زندگی ۔۔۔۔۔ اسلامی دنیا کا المیہ یہی ہے کہ خادم حاکم ہیں اور حاکم خادم سے بھی بد تر
وسلام
 

زینب

محفلین
ابھی تو ایک سال بھی نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔جناب 5 سال پڑے ہیں ابھی ہم نے جھیلنا ہے پی پی کو صبر سے کام لیں
 
Top