پاکستان آئینی اصطلاحات کیٹی - نئے صوبوں کا قیام اور صوبوں کو اختیارات کی منتقلی

سعود الحسن

محفلین
آج کے جنگ کی ایک خبر

آئینی اصلاحات کمیٹی نے مسودہ تیار کرلیا، 16 مارچ کو پارلیمنٹ میں پیش ہوگا اسلام آباد (جنگ نیوز) آئینی اصلاحاتی کمیٹی نے سفارشات کاابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے جسے 16 مارچ تک حتمی شکل دیدی جائیگی‘ صوبوں نے صوبائی خودمختاری کیلئے فیڈرل لیجسلیٹیو لسٹ پر اپنی تجاویز پیش کر دی ہیں۔ چھوٹی جماعتوں نے خارجہ ‘دفاع‘کرنسی اور مواصلات مرکز کے پاس رہنے دینے اور باقی اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ آئینی اصلاحاتی کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رضا ربانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ممبران نے بھی شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں صوبوں کو خودمختاری دینے کے امور پر غور کیا گیا اور تمام جماعتوں کے نمائندوں نے صوبائی خودمختاری پر اصولی اتفاق کیا تاہم اس کی تفصیلات پر اتفاق رائے ہونا ابھی باقی ہے ۔ایم کیو ایم‘ جمعیت علماء اسلام ‘بی این پی (عوامی) ‘جمہوری وطن پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے خارجہ ‘دفاع‘کرنسی اور مواصلات مرکز کو جبکہ باقی اختیارات صوبوں کو دینے کی تجویز دی ۔


اس ہی موضوع پر آج کے جنگ میں ایک کالم

آئینی اصلاحات کی کمیٹی کی خدمت میں گزارشات...عرض حال…نذیر لغاری --جنگ ایک زمانہ تھا جب مختلف براعظموں میں پوری دنیا کو ہلادینے والے واقعات رونما ہورہے تھے۔ امریکہ میں براعظمی افواج کے کمانڈر انچیف جارج واشنگٹن کی قیادت میں جنگ آزادی لڑی جارہی تھی۔ فرانس میں پتھروں کو پیسنے والی انقلاب کی مشین جاگیرداری کے گھن اور گیہوں کو پیس رہی تھی۔ جنوبی ایشیاء میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی افواج پلاسی کے معرکہ میں کامیابی کے بعد میسور میں سلطان فتح علی خان ٹیپو کی افواج سے نبرد آزما تھیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے 4 جولائی 1776ء کو اعلان آزادی کے ساتھ نوآبادیاتی افواج کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی۔ امریکہ ابھی نوآبادی تھا اور نوآبادکار امریکی دولت لوٹ رہے تھے۔ اعلان آزادی سے 8 ماہ قبل 29 نومبر 1775ء کو تھامس جیفرسن نے امریکی نوآبادیاتی ایوان میں تقریر کرتے ہوئے تاریخی جملے کہے تھے۔
”جناب عالی! یقین کیجئے سلطنت برطانیہ میں کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں ہوگا جو مجھ سے زیادہ برطانیہ کے ساتھ یونین ہونے سے محبت کرتا ہو مگر خدا کی قسم جس نے مجھے پیدا کیا میں برطانیہ کی طرف سے عائد کردہ شرائط کے سبب اس کے ساتھ تعلق قائم کرنے پر زندگی پر موت کو ترجیح دوں گا اور جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ محض میرے جذبات نہیں یہ پورے امریکہ کے جذبات ہیں“۔
برطانیہ نے اپنی نوآبادیوں کے حقوق کا اعلان کیا تھا جسے امریکی عوام نے مسترد کردیا تھا۔ برطانوی تجاویز کو مسترد کرنے والوں میں یورپ کے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے نوآبادگاروں کی اکثریت شامل تھی۔ ان تجاویز کے ذریعے برطانیہ کی طرف سے امریکی نوآبادیوں پر شوگر ایکٹ ‘ اسٹیمپ ایکٹ‘ چائے ایکٹ‘ نیویارک کی قانون ساز اسمبلی کو معطل کرنے کا ایکٹ‘ امریکہ میں کوئی جرم کرنے والوں پر برطانیہ میں مقدمہ چلانے کا ایکٹ‘ بوسٹن کی بندرگاہ کا بل اور امریکی ریاست میسا چوسٹس کی حکومت کو قواعد کے مطابق چلانے کا ایکٹ اور دیگر قوانین تشکیل دیئے گئے تھے۔انقلاب فرانس اور امریکی آزادی ایک ہی سال 1789ء کے واقعات ہیں۔ اپریل 1789 ء میں امریکہ آزاد ہوا اور جارج واشنگٹن کی سربراہی میں اس کی پہلی باضابطہ حکومت قائم ہوئی جب کہ مئی میں انقلاب فرانس کا آغاز ہوا۔ جارج واشنگٹن نے ایک فوجی جرنیل کی حیثیت سے جنگ آزادی کی قیادت کی تھی مگر صدر منتخب ہونے سے پہلے انہوں نے فوجی عہدہ چھوڑدیا۔ ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی آزادی سے دو سال قبل ہی جنگ آزادی کی قیادت کرنے والوں نے امریکی آئین مرتب کرلیا تھا۔ پھر جب آزاد حکومت کا قیام عمل میں آیا تو شہری آزادیوں کو یقینی بنانے کے لئے حقوق کا بل لایا گیا ۔ شہری آزادیوں کا یہ بل امریکہ کی ترقی‘ استحکام ‘ خوشحالی اور ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے کے لئے سنگ میل بن گیا۔ امریکی آئین کی پہلی ترمیم ریاست یا ریاستی اداروں کو اختیار ات دینے کے لئے نہیں تھی بلکہ ریاست کے ایک ستون کانگریس پر پابندی لگانے کے لئے تھی۔ گویا کانگریس نے خود اپنے آپ پر بعض پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی آئین کی پہلی ترمیم ایک ہی جملے میں بیان کی گئی ہے‘ مگر یہ عوام کو اس قدر طاقتور بناتی ہے کہ عوام اس ترمیم کے ذریعے ریاستی اداروں سے زیادہ طاقتور بن جاتے ہیں۔ امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے الفاظ کچھ یوں ہیں ۔
”کانگریس مذہب کے (سرکاری حیثیت میں) قیام یا اس پر عمل کرنے پر پابندی یاآزادی اظہار یا پریس یا لوگوں کے پرامن طور پر جمع ہونے اور حکومت کو اپنی شکایات کے ازالے کے لئے پٹیشن دائر کرنے پر پابندی کے سلسلے میں کوئی قانون نہیں بنائے گی“۔اس ترمیم میں امن یا جنگ کی کوئی شرط نہیں‘ خواہ کیسے بھی حالات ہوں‘ کانگریس کسی مذہب کو سرکاری حیثیت نہیں دے سکتی۔ کسی مذہب کی پیروی میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔ کانگریس آزادی اظہار اور پریس کی آزادی پر کوئی قدغن نہیں لگاسکتی۔کانگریس لوگوں کے اجتماع منعقد کرنے اور حکومت کو اپنی شکایات پیش کرنے کے حق پر کوئی پابندی نہیں کرسکتی۔امریکی آئین کی اس پہلی ترمیم کے ذریعے ریاست اپنے اختیارات سے دستبردار ہوئی۔ دنیا کے تمام آئین ساز ادارے ‘ پارلیمان‘ اسمبلیاں اور قانون ساز ادارے ہرطرح کی قانون سازی کرسکتے ہیں۔ دنیا بھر میں مطلق العنان حکمران شاہی فرمان یا مارشل لا کے ضوابط جاری کرسکتے ہیں مگر امریکی کانگریس اس پہلی ترمیم سمیت مجموعی طور پر 10 ترامیم کے ذریعے اپنے اختیارات سے دستبردار ہوئی مثلاً دوسری ترمیم میں کہا گیا ہے کہ عوام کے اسلحہ رکھنے کے حق کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوسکے گی۔
تیسری ترمیم میں کیا گیا ہے کہ کوئی فوجی جنگ یا امن کی حالت میں کسی کے گھر پر قبضہ نہیں کرسکے گا بلکہ وہ قانون کے مطابق گھر حاصل کرے گا۔ چوتھی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کے گھروں اور دستاویزات کی بلاوجہ تلاشی اور اُن پر قبضہ نہیں کیا جاسکے گا۔ کسی معقول وجہ کے بغیر وارنٹ جاری نہیں ہوسکے گا اور وارنٹ کے اجراء سے قبل ایک حلف نامہ دینا ہوگا جس میں گھر اور مطلوبہ دستاویزکی تفصیل دینا ہوگی۔
میں ان 10 ترامیم کی تفصیل بیان کرکے آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ میں آٹھویں اور 10 ویں ترمیم کا حوالے دینا چاہتا ہوں آٹھویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ زیادتی ‘ زور ‘ زبردستی کے لئے کوئی ضمانت حاصل نہیں کی جاسکے گی اور نہ ہی زیادتی کے حامل جرمانے لگائے جاسکیں گے اور نہ ہی ظالمانہ اور غیر معمولی سزائیں دی جاسکیں گی۔10 ویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ امریکی ریاستوں اور امریکی عوام کو حاصل شدہ اختیارات آئین کے ذریعے ریاست ہائے متحدہ کو منتقل نہیں ہوسکیں گی۔ان دنوں سینیٹر میاں رضا ربانی کی سربراہی میں آئینی اصلاحات کی کمیٹی 1973ء کے آئین میں اصلاحات کے لئے مسلسل کام کر رہی ہے۔
مجھے میاں رضا ربانی اور کمیٹی کے دیگر ارکان کی دانش پر کوئی شبہ نہیں مگر میں حقیقت حال ان کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ وہ ضرور جانتے ہوں گے کہ پاکستان کا وفاق ایک غیر منصفانہ ‘ غیر مساویانہ اورغیر حقیقت پسندانہ وفاق ہے۔ اس وفاق کی اکائیاں نہ قومی وحدتیں ہیں اور نہ انتظامی یونٹ ہیں ۔ یہاں پر سرائیکی ‘ پوٹھوہاری‘ اور ہندکو عوام کی اپنی قومی وحدتیں نہیں ہیں، ایک منصفانہ وفاق کے لئے آئین میں ہر قومی وحدت کے لئے ایک یونٹ کی ضمانت دینا ضروری ہے۔ وفاق کو صوبوں‘ یونٹوں اور وحدتوں کا اتحاد مان کر تمام وحدتوں کو مکمل خودمختاری دینے کی ضرورت ہے۔ صوبوں کی تشکیل نو اور صوبوں کو خودمختاری دینے کی ضرورت ہے اگر آج یہ مسائل طے نہیں ہوتے تو پھر شاید انہیں طے کرنے کے لئے وقت کا تعین عوام کی جدوجہد اور ان کی قربانیاں کریں گی۔
جہاں تک دیگر معاملات کا تعلق ہے ان میں میثاق جمہوریت ایک قابل قدر دستاویز ہے۔ آئینی کمیٹی بہت سی تجاویز پر غور کررہی ہوگی، اس کے سامنے دساتیر عالم ہوں گے، اُس کے سامنے میثاق مدینہ سے لے کر جدید دستوری تاریخ کے کئی روشنی کے مینار ہوں گے اور دوسری طرف سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی ان گنت خواہشات ہوں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ میاں رضا ربانی کی کمیٹی کس قدر دانش ‘ حکمت‘ بے خوفی اور کروڑوں عوام کی خواہشات کی آئینہ دار اصلاحات تجویز کرتی ہے۔
 
1973 کے بعد پھر کوئی ایسا متفقہ آئین بن جائے جسے کوئی بدل نہ سکے اور جس میں‌کوئی ایسی گنجائش ہی نہ ہو کہ جس سے کسی آمر کو، کسی عادل کو اور کسی حاکم کو موقع مل سکے کہ وہ ملک کی تقدیر سے کھیل سکے۔ یہی وقت کی ضرورت ہے اور اس سے بہتر موقع پھر کبھی نہیں آئے گا۔
 

شمشاد

لائبریرین
میں تو کہتا ہوں کہ جو چار صوبے ہیں ان کو بھی ختم کر کے ایک ہی صوبہ کر دینا چاہیے۔
 

شمشاد

لائبریرین
مذاق تو بالکل بھی نہیں ہے۔

پہلے ایک ہی پاکستان تھا، مغربی پاکستان، ایک گورنر تھا، اور چند وزیر تھے۔ چینی سوا سے ڈیڑھ روپے اور آٹا ایک روپیہ کلو تھا۔ دودھ دہی اور گھی گوشت وغیرہ کا بھی یہی حال تھا۔

اب چار صوبے چار گورنر، چار وزرائے اعلٰی اور وزیروں کی ظفر موج جن کی تنخواہیں اور الاؤنسز پورے کرنے کے لیے چینی 75 روپے، آٹا دس روپے، دودھ دہی اور گوشت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

اور اتحاد عنقا ہے۔ ہر صوبہ الگ ہونے کی بات کر رہا ہے سوائے پنجاب کے۔ سندھ والے تو پنجاب کے ٹکڑے کرنے کے در پر ہیں۔ یہ نا سمجھ اتنا نہیں سمجھتے پہلے پاکستان کے ٹکڑے کر کے کون سا سکون مل گیا ہے۔ یہ پاکتسان کا تو بالکل نہیں سوچتے اور نہ ہی آنے والی نسلوں کا سوچتے ہیں یہ خود غرض اور لالچی صرف اور صرف اپنی ذات کے متعلق سوچتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ قیامت تک زندہ رہیں گے اور ایسے ہی تندرست اور صحت مند رہیں گے۔ ان کی سوچ پر اللہ نے بھی پردے ڈال دیئے ہیں، یہ پاکستان دشمن اور عوام دشمن لوگ ہیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ اس قسم کے لوگوں سے پاکستان اور پاکستان سے مخلص لوگوں کو ان سے بچائے۔
 

طالوت

محفلین
مذاق تو بالکل بھی نہیں ہے۔

پہلے ایک ہی پاکستان تھا، مغربی پاکستان، ایک گورنر تھا، اور چند وزیر تھے۔ چینی سوا سے ڈیڑھ روپے اور آٹا ایک روپیہ کلو تھا۔ دودھ دہی اور گھی گوشت وغیرہ کا بھی یہی حال تھا۔

اب چار صوبے چار گورنر، چار وزرائے اعلٰی اور وزیروں کی ظفر موج جن کی تنخواہیں اور الاؤنسز پورے کرنے کے لیے چینی 75 روپے، آٹا دس روپے، دودھ دہی اور گوشت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

اور اتحاد عنقا ہے۔ ہر صوبہ الگ ہونے کی بات کر رہا ہے سوائے پنجاب کے۔ سندھ والے تو پنجاب کے ٹکڑے کرنے کے در پر ہیں۔ یہ نا سمجھ اتنا نہیں سمجھتے پہلے پاکستان کے ٹکڑے کر کے کون سا سکون مل گیا ہے۔ یہ پاکتسان کا تو بالکل نہیں سوچتے اور نہ ہی آنے والی نسلوں کا سوچتے ہیں یہ خود غرض اور لالچی صرف اور صرف اپنی ذات کے متعلق سوچتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ قیامت تک زندہ رہیں گے اور ایسے ہی تندرست اور صحت مند رہیں گے۔ ان کی سوچ پر اللہ نے بھی پردے ڈال دیئے ہیں، یہ پاکستان دشمن اور عوام دشمن لوگ ہیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ اس قسم کے لوگوں سے پاکستان اور پاکستان سے مخلص لوگوں کو ان سے بچائے۔

شمشاد بھائی اس کی وضاحت کر دیں اس سے پہلے کہ کوئی طوفان کھڑا ہو ۔
وسلام
 

شمشاد

لائبریرین
جب بھی پنجاب کو توڑنے کی بات ہوتی ہے تو سندھی سے ہی زیادہ آواز اٹھتی ہے کہ پنجاب کو توڑ کر اس کے مزید صوبے بنائے جائیں، جب کہ سرحد اور بلوچستان سے اس قسم کا مطالبہ کبھی سُننے میں نہیں آیا۔
 
جب بھی پنجاب کو توڑنے کی بات ہوتی ہے تو سندھی سے ہی زیادہ آواز اٹھتی ہے کہ پنجاب کو توڑ کر اس کے مزید صوبے بنائے جائیں، جب کہ سرحد اور بلوچستان سے اس قسم کا مطالبہ کبھی سُننے میں نہیں آیا۔

پنجاب کو توڑنے کر دویا دو سے زائد صوبوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ صرف سندھی قوم پرست کرتے ہیں۔
 

آفت

محفلین
میں بھی اس تجویز سے اتفاق کرتی ہوں
جتنے زیادہ صوبے ہوں گے اتنے ہی وزیر اعلٰی صوبائی وزراء گورنرز سیکریٹریز اور ان سب کے پروٹوکول ۔ سب کرپشن کریں گے سب عوام کو لوٹیں گے اور ایک قوم کا خواب مزید دور ہوتا چلا جائے گا ۔
میں تو کہتا ہوں کہ جو چار صوبے ہیں ان کو بھی ختم کر کے ایک ہی صوبہ کر دینا چاہیے۔
 

ظفری

لائبریرین
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں صوبوں کی تقسیم زبان کی بنیادوں پر ہوئی ہے ۔ پانچواں صوبہ بھی بنگال تھا ( جسے مشرقی پاکستان کہا کرتے تھے ) ۔ جب تک آپ اپنی اپنی شناختیں زبان ، نسل اور تہذیبوں کی بنیاد پر کریں گے ۔ وہاں اختلافات ، تعصبات ، نفرتیں اور احساسِ محرومی و برتری کے اثرات تمام قسم کی یکجہتی اور حب الوطنی کو دیمک کی طرح چاٹتے رہیں گے ۔ پہلے آپ اپنا قبلہ درست کریں کہ پنجابی ، پٹھان ، بلوچی ، سندھی یا مہاجر بن کر رہنا ہے ۔ یا پھر ایک پاکستانی کی حیثیت سے اپنی کوئی شناخت دنیا کے سامنے پیش کرنی ہے ۔ جب آپ اس فرق کو ختم کردیں گے تو پھر چاہے آپ ریاست کےانتظامی امور کے طور پر پچاس صوبے بنادیں یا ایک ہی رہیں دیں ۔ اس سے آپ کی اساس قائم رہے گی ۔ اور اختلافات بھی نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے ۔ بصورتِ دیگر خود کو ٹکڑوں میں بانٹ کر آپ ایک قوم کی بنیادی اساس کو ابھار ہی نہیں سکتے ۔
 

سعود الحسن

محفلین


جنگ
آئینی اصلاحات کمیٹی اور سرائیکی صوبہ کا مسئلہ...عرض حال…نذیر لغاری

وفاقی سیاسی نظام میں صوبے، ریاستیں، اکائیاں یا قومی وحدتیں باہمی عمرانی معاہدے کے تحت ایک وفاق کی تشکیل کرتی ہیں اور مذکورہ عمرانی معاہدہ وفاق اور اکائیوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا تعین کرتا ہے۔ وفاقیت کا نظام تاریخی قومی وحدتوں اور سیاسی ضرورتوں کے تحت قائم ہونے والے وفاق کے مابین سیاسی، سماجی، اقتصادی اور آئینی معاملات پر ایک توازن پیدا کرتا ہے۔ ان دنوں یورپ میں وفاقیت کے حامی یورپی یونین میں وفاقی نظام کے ارتقاء کے آرزو مند ہیں۔ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، برازیل، بھارت ، ارجنٹائن اور دیگر ممالک میں ریاستی یکجہتی کے مقاصد کو وفاقی نظام کے تحت حاصل کیا گیا ہے۔
پاکستان کے پڑوسی ممالک میں بھی وفاقی نظام ، قومی وحدتوں اور ریاستی اکائیوں کا اتحاد قائم کرتا ہے۔ پاکستان کے مغرب میں واقع افغانستان میں 33 صوبے یا وفاقی اکائیاں موجود ہیں۔ افغانستان میں رومی، فارسی، پشتو، ازبک اور تاجک زبانیں بولی جاتی ہیں مگر وہاں پر صوبائی انتظامی تقسیم بہت قدیم ہے اور وہاں پر وفاق اور وفاقی اکائیوں کے مابین کوئی بڑا تنازع موجود نہیں۔ ایران میں 23 صوبے ہیں اگرچہ ایران میں آزری، کردش، لوری، کازندرانی ، گیلاکی، بلوچی، عربی اور جدگالی زبانیں بولی جاتی ہیں مگر وہاں پر تاریخی اعتبار سے وفاق اور صوبوں کے مابین اختیارات کے توازن کا کوئی تنازع موجود نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ترکی اور عراق کے کردوں کی قومی آزادی کی جدوجہد کے اثرات ایرانی کردوں میں بھی موجود ہیں اسی طرح پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی قومی جدوجہد کسی حد تک ایرانی بلوچستان کو متاثر کرتی ہے۔
بھارت میں 28 صوبے اور وفاق کے زیر انتظام متعدد علاقے ہیں۔ بھارت میں وفاقیت ارتقاء پذیر سیاسی نظام ہے۔ بھارت میں نسلی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر نئے صوبوں یا ریاستوں کی تشکیل کی آئینی ضمانت موجود ہے۔ اس لئے بھارت میں آزادی کے بعد بھی صوبوں کی تشکیل کا سلسلہ جاری رہا۔ بھارت کے آئین کے آٹھویں شیڈول میں ہندی کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے اور اس کے پہلو بہ پہلو انگریزی بھی موجود ہے مگر ہندی کے ساتھ 21 دوسری زبانوں کو بھی علاقائی زبانیں تسلیم کیا گیا ہے۔ ان 21 زبانوں میں سندھی بھی شامل ہے جو درحقیقت بھارت کی کسی ریاست، صوبے یا کسی علاقے کے زبان نہیں مگر چونکہ شرنارتھیوں (تارکین وطن) کی ایک معقول تعداد سندھی بولتی ہے لہٰذا وہاں سندھی زبان کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔
سری لنکا کا معاملہ عجیب ہے سری لنکا میں دو نسلی اور قومی گروہ آباد ہیں اور دو ہی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ سری لنکا کی 73.9 فیصد آبادی سنہالی بولتی ہے جبکہ وہاں پر 12.6 فیصد مقامی تامل آباد ہیں۔ بھارتی تاملوں کی تعداد 5.2 فیصد ہے یوں سری لنکا میں لگ بھگ 18 فیصد افراد تامل بولتے ہیں۔ سری لنکا میں 7.4 فیصد مسلمان ہیں، مسلمانوں میں تامل اور سنہالی دونوں زبانیں بولنے والے موجود ہیں، سنہالی آبادی بدھ مت کی پیروکار ہے جبکہ تامل اکثریت ہندومت کی پیروی کرتی ہے۔ پاکستان کے کئی اضلاع کا رقبہ سری لنکا کے مجموعی رقبہ کے برابر ہے مگر انتظامی طورپر سری لنکا میں 9 صوبے موجود ہیں۔
پاکستان میں غیر منصفانہ وفاقی نظام پروان چڑھانے کی کوششوں میں آدھا ملک قربان کردیا گیا اور باقی ماندہ ملک پر اس نظام کو مسلط کرکے تاریخی قومی اکائیوں کے مابین فاصلے اور دوریاں پیدا کی جاتی رہی ہیں۔پاکستان کے وفاق میں شامل مختلف اکائیاں اور ان اکائیوں میں شامل مختلف علاقے اپنی الگ الگ تاریخ، تشخص، بودوباش اور مشترکہ معاشی اور اقتصادی مفادات رکھتے ہیں۔ ملتان ڈویژن، ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور سرگودھا ڈویژن کے متعدد اضلاع تاریخی اعتبار سے کبھی پنجاب کا حصہ نہیں رہے۔ جبکہ بہاولپور جنرل یحییٰ خان کے آمرانہ دور سے پہلے تاریخ میں ایک روز کیلئے بھی پنجاب کا حصہ نہیں رہا۔ملتان کو پہلی بار مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بیٹے کھڑک سنگھ کی فوجوں نے جبری قبضے کے ذریعے پنجاب میں شامل کیا۔ قبل ازیں ملتان گزشتہ پانچ ہزار برس کے عرصے میں ایک الگ سیاسی اکائی، قومی وحدت اور تاریخی صوبہ رہا ہے۔
بہاولپور 1748ء سے 1947ء تک دو صدیوں کے عرصے میں ایک الگ ریاست کے طورپر موجود رہا ہے اسی طرح ڈیرہ اسمٰعیل خان کبھی بھی پشتونخواکی سیاسی، ثقافتی اور تہذیبی وحدت کا حصہ نہیں رہا۔1973ء کے آئین کی تشکیل کے بعد پہلی بار ایک سویلین دور میں آئینی اصلاحات پر ہمہ پہلو کام ہورہا ہے ان اصلاحات کے اعلان سے پہلے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت گلگت بلتستان اسمبلی اور الگ حکومت وجود میں لائی جاچکی ہے۔ گورنر، وزیراعلیٰ، کابینہ اور اسمبلی کی منزل حاصل کرلینے کے بعد گلگت، بلتستان کے لوگ ایک الگ مکمل اکائی اور قومی وحدت کی منزل بھی حاصل کرلیں گے۔ مجھے شدید خدشہ ہے کہ آئینی اصلاحات کی کمیٹی نے پاکستان میں صوبوں کی تشکیل نو کے معاملے پر سرے سے غور ہی نہیں کیا ہے۔ ملک کی سیاسی اشرافیہ مخصوص عالمی سیاسی حالات کے نتیجے میں اپنی بے پناہ کمزوریوں کے باوجود اب بھی اس پوزیشن میں ہے کہ وہ پاکستان کو ایک مضبوط، منصفانہ، حقیقت پسندانہ اور قومی امنگوں کا آئینہ دار وفاق بنا سکتی ہے مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ ہماری سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی طرح کج فہم، کوتاہ بین اور تاریخی تقاضوں کے علم سے بے بہرہ ہے۔ ہماری سیاست اور روحانیت کے پیران پیر اور موسیٰ پاک شہید کی درگاہ کے متولی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سرائیکی صوبہ کا حامی ہونے کا دعویٰ کرنے کے ساتھ ہی ایک ہی سانس میں ارشاد فرماتے ہیں کہ سرائیکی صوبے سے پینڈورابکس کھل جائے گا۔ آئینی اصلاحات کا پیکج اسی ماہ آنے والا ہے۔ ہمیں شبہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے معمولی مفادات کی خاطر پاکستان کو ایک منصفانہ وفاق میں تبدیل کرنے کا موقع گنوا دیا جائے گا۔ آئینی کمیٹی بلوچستان کو خصوصی حیثیت دینے پر غور کر رہی ہے اور غالباً بلوچستان کو چند آئینی مراعات بھی مل جائیں گی مگر ان اقدامات سے پاکستان کے وفاق کا بحران حل نہیں ہوگا۔ مخدوم یوسف رضا گیلانی اور میاں رضا ربانی اس حقیقت کو لکھ لیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی سیاسی امانت اپنی تاریخ کے سب سے نازک دور میں داخل ہو چکی ہے۔ سرائیکی وسیب نے 30 سال تک سندھ کی شہادتوں پر آنسو بہائے ہیں۔ مگر اب سرائیکی وسیب ایک اکائی کے طور پر سوچ رہا ہے۔ میں نے مہرے والا ، رکن پور،ڈیرہ اسماعیل خان، بھٹہ واہن، شادن لند اور قلعہ ڈیراور کی چھاؤں میں سرائیکی وسیب کے نئے تیور دیکھے ہیں۔ یہاں کے لوگ اونٹ سے زیادہ پیاس کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں مگر جب بھی ان کے منہ سے چھاگل چھینی جاتی ہے تو یہ غضب ناک ہو جاتے ہیں ۔
 

راشد احمد

محفلین
میں تو کہتا ہوں کہ جو چار صوبے ہیں ان کو بھی ختم کر کے ایک ہی صوبہ کر دینا چاہیے۔

غلط بالکل غلط
اس طرح تو انتظامی لحاظ سے کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوجائے گا اور احساس محرومی مزید بڑھے گی۔
نئے صوبوں کی ضرورت ہے۔ میرے خیال سے نئے صوبے اس طرح بن سکتے ہیں۔

پنجاب تین یا چار صوبوں میں تقسیم ہوسکتا ہے۔

لاہور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، حافظ آباد، نارووال، گجرات، فیصل آباد، سیالکوٹ، اوکاڑہ، قصور، پاک پتن، ساہیوال، چنیوٹ، سرگودھا کو ملا کر ایک صوبہ بنا دیا جائے اس کا دارالحکومت لاہور ہو

خانیوال، ملتان، لودھراں، وہاڑی، میلسی، لیہ، بھکر، جھنگ۔ مفظر گڑھ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کو ایک‌صوبہ بنادیا جائے اور اس کا دارالحکومت ملتان ہو۔

بہاولپور، ڈیرہ غازیخان، بہاول نگر، رحیم یار خان، راجن پور، تھرپارکر کو ایک صوبہ بنادیا جائے اور اس کا دارالحکومت بہاولپور ہو

میانوالی، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک، ٹانک، خوشاب، اٹک، جہلم، چکوال، راوالپنڈی کو ایک صوبہ بنادیا جائے اور اس کا دارالحکومت راوالپنڈی یا اٹک ہو

سرحد میں
ہزارہ ڈویژن کو صوبے کا درجہ دیا جانا چاہئے اور اس کا دارالحکومت مانسہرہ یا ایبٹ آباد ہو۔

مالاکنڈ ڈویژن کو بھی علیحدہ صوبہ بنادیا جائے اور اس کا دارالحکومت سوات ہو
باقی حصہ صوبہ سرحد میں ہی رہے

فاٹا کو بھی علیحدہ صوبہ بنادینا چاہئے

سندھ کے دو یا تین صوبے بنا دینے چاہئے
سندھ میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، خیر پور کو علیحدہ صوبہ بنادینا چاہئے کراچی دارالحکومت ہو۔

بلوچستان کے دو صوبے بن سکتے ہیں

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر پنجاب کے مزید صوبے بن گئے تو دوسرے صوبے پنجاب کو گالیاں دینا یا کوسنا بند کردیں‌گے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ سرائیکی علاقے میں جاگیردار طبقہ کے مزید مضبوط ہونیکا خدشہ ہے جو مستقبل میں مزید پریشانی پیدا کرسکتا ہے اس لئے سرائیکی علاقے کی تقسیم ایسے کی جائے کہ جاگیردار طبقہ حاوی نہ ہوسکے۔
 

شمشاد

لائبریرین
اس کا مطلب ہو کہ ایک پاکستان کے چار صوبوں کی بجائے پندرہ صوبے بنا دیئے جائیں۔ پندرہ گورنر، پندرہ وزراء اعلی، پندرہ سو وزراء الخ ۔۔۔۔۔

پھر صوبوں کی آپ میں چپقلش کہ وہ صوبہ کھا گیا اور یہ کھا گیا۔ پانی کی تقسیم کا مزید مسئلہ، جھنڈے والی گاڑیوں کا ہر صوبے میں جلوس۔

پاکستان پہلے ہی غریب ملک ہے، وہ اتنا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔

میں تو کہتا ہوں کہ ون یونٹ بنا کر ایک گورنر، ایک وزیر اعلٰی اور وزیر بھی اسی مناسبت سے ہوں۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس طرح کتنی بچت ہو گی۔
 

آفت

محفلین
کراچی اور سکھر کو ایک ہی صوبے میں شامل کرنا سمندر کو کوزے میں سمیٹنے جیسا ہے ۔ سکھر سندھ کا پہلا میں شہر ہے تو کراچی بالکل دوسرے اینڈ پر موجود ہے پھر دوسری طرف تھرپارکر سندھ کا حصہ ہے اور بہاولپور سے بہت دور ہے اسے بہاولپور میں کیسے شامل کریں گے ۔ ویسے بھی یہاں تعلقے کو سیاسی بنیادوں پر تقسیم کیا جاتا ہے تو پھر یہ کیا گارنٹی ہے کہ صوبے سیاسی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوں گے؟؟
ون یونٹ کی تجویز غریب پاکستانیوں کے لیے سب سے مناسب تجویز ہے ۔ کم صوبے کم حکومتی اہلکار اور کم کرپشن ۔

لاہور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، حافظ آباد، نارووال، گجرات، فیصل آباد، سیالکوٹ، اوکاڑہ، قصور، پاک پتن، ساہیوال، چنیوٹ، سرگودھا کو ملا کر ایک صوبہ بنا دیا جائے اس کا دارالحکومت لاہور ہو

خانیوال، ملتان، لودھراں، وہاڑی، میلسی، لیہ، بھکر، جھنگ۔ مفظر گڑھ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کو ایک‌صوبہ بنادیا جائے اور اس کا دارالحکومت ملتان ہو۔

بہاولپور، ڈیرہ غازیخان، بہاول نگر، رحیم یار خان، راجن پور، تھرپارکر کو ایک صوبہ بنادیا جائے اور اس کا دارالحکومت بہاولپور ہو

میانوالی، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک، ٹانک، خوشاب، اٹک، جہلم، چکوال، راوالپنڈی کو ایک صوبہ بنادیا جائے اور اس کا دارالحکومت راوالپنڈی یا اٹک ہو

سرحد میں
ہزارہ ڈویژن کو صوبے کا درجہ دیا جانا چاہئے اور اس کا دارالحکومت مانسہرہ یا ایبٹ آباد ہو۔

مالاکنڈ ڈویژن کو بھی علیحدہ صوبہ بنادیا جائے اور اس کا دارالحکومت سوات ہو
باقی حصہ صوبہ سرحد میں ہی رہے

فاٹا کو بھی علیحدہ صوبہ بنادینا چاہئے

سندھ کے دو یا تین صوبے بنا دینے چاہئے
سندھ میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، خیر پور کو علیحدہ صوبہ بنادینا چاہئے کراچی دارالحکومت ہو۔

بلوچستان کے دو صوبے بن سکتے ہیں

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر پنجاب کے مزید صوبے بن گئے تو دوسرے صوبے پنجاب کو گالیاں دینا یا کوسنا بند کردیں‌گے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ سرائیکی علاقے میں جاگیردار طبقہ کے مزید مضبوط ہونیکا خدشہ ہے جو مستقبل میں مزید پریشانی پیدا کرسکتا ہے اس لئے سرائیکی علاقے کی تقسیم ایسے کی جائے کہ جاگیردار طبقہ حاوی نہ ہوسکے۔
 

طالوت

محفلین
اس کا مطلب ہو کہ ایک پاکستان کے چار صوبوں کی بجائے پندرہ صوبے بنا دیئے جائیں۔ پندرہ گورنر، پندرہ وزراء اعلی، پندرہ سو وزراء الخ ۔۔۔۔۔

پھر صوبوں کی آپ میں چپقلش کہ وہ صوبہ کھا گیا اور یہ کھا گیا۔ پانی کی تقسیم کا مزید مسئلہ، جھنڈے والی گاڑیوں کا ہر صوبے میں جلوس۔

پاکستان پہلے ہی غریب ملک ہے، وہ اتنا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔

میں تو کہتا ہوں کہ ون یونٹ بنا کر ایک گورنر، ایک وزیر اعلٰی اور وزیر بھی اسی مناسبت سے ہوں۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس طرح کتنی بچت ہو گی۔

درست ۔
بلکہ راشد نے جو تقسیم پیش کی ہے وہ قریب قریب لسانی بنیادوں پر ہی ہے ۔ اس لئے کوئی اور صوبہ نہیں ۔ بلکہ ان چار کا ایک یونٹ یونٹ کو ضلع یا ڈویژن میں تقسیم کر کے انتظامی معاملات دیکھے جا سکتے ہیں جو وفاق کے زیر انتظام ہوں ۔ مزید صوبوں اور ان میں امن سے رہنے کے لئے ہمیں ابھی اور کئی عشروں کی تربیت کی ضرورت ہے ۔ بہرحال انھیں کتابی باتیں سمجھیں یہ معاملات کم از کم بیس سال ایسے ہی چلنے والے ہیں ۔
وسلام
 

کاشفی

محفلین
کم بچے خوشحال گھرانہ
کم صوبے خوشحال پاکستان:grin:

بحث کا رُخ انوار دوسری طرف مت موڑیں۔۔۔ تعلیم یافتہ بچے جتنے زیادہ ہوں اتنا ہی اچھا ہے۔۔۔ لہذا صوبوں میں تعلیم عام کریں۔۔ خودبخود معاملات درست سمت کی طرف گامزن ہوجائیں گے۔۔۔ آئینی اصطلاحات کمیٹی بھی ججوں اور وکیلوں کی طرح ڈرامہ ہے۔۔۔ عوام کو زیادہ صوبے نہیں چاہیئے۔۔۔ عوام کے مسائل حل ہوجائیں یہی کافی ہے۔۔۔
زیادہ صوبوں سے مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں۔۔ پنجاب سندھ سرحد اور بلوچستان کو توڑ کر زیادہ صوبے بنانے کی بات بھی صحیح نہیں۔۔ وسائل کی مساویانہ تقسیم اور سندھ پنجاب سرحد اور بلوچستان کے وسائل پر سے جاگیرداروں وڈیروں وغیرہ وغیرہ کا ناجائز قبصہ ختم ہو جائے۔۔اور سندھ پنجاب سرحد اور بلوچستان کو مکمل خود مختاری عطا فرما کر وہاں کے منتخب عوامی نمائندوں کے اختیارات میں آئینی طور پر اصول اور حدود متعین کیئے جائیں اور ان کی ذمہ داریوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کیا جائے بغیر کسی اضافی اجرت کے تا کہ وہ مفت کی روٹی مت توڑیں ۔صرف عوام کی بھلائی کے لیئے کام کریں۔
مجھ سے اختلاف بر اختلاف کا حق سب کے پاس با رضا ہے۔۔۔
 
Top