پانی

شمشاد

لائبریرین
آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
ہر کوئی در ماندگی میں نالے سے ناچار ہے
(چچا)
 

شمشاد

لائبریرین
مجھ کو وہ دو کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں
زہ۔۔ر کچھ اور س۔۔ہی، آبِ بق۔۔۔ا اور س۔۔۔۔۔۔ہی
(چچا)
 

شمشاد

لائبریرین
زمانہ دیکھ کر ہے دنگ اندازِ قمر نقوی
وہ سج دھج ہے کہ گویا آگ پانی میں لگانی ہے
(سرور)
 

شمشاد

لائبریرین
میں اب بھی گرتے ہوئے پانیوں کی قید میں ہوں
اک آبشار میرے چار سو ابھی تک ہے
(فرحت عباس شاہ)
 

شمشاد

لائبریرین
اُسےجو دھوپ لئےدل کےگاؤں میں اترا
رہٹ سے،چاہَ ، کا پانی پلانے والی ہوں
(نیناں)
 

نوید صادق

محفلین
تم بھی لکھنا تم نے اس شب کتنی بار پیا پانی
تم نے بھی تو چھجّے اوپر دیکھا ہوگا پورا چاند

شاعر: ندا فاضلی
 

نوید صادق

محفلین
میں کمینِ توبہ میں ہوں آپ ، لیکن کیا کروں
منہ میں بھر آتا ہے پانی جام و مینا دیکھ کر

شاعر: شیفتہ
 

شمشاد

لائبریرین
پسِ نگاہ بہت آنسوؤں کا شور ہے رام
کسی جگہ تو یہ پانی ضرور مرنا ہے
(رام ریاض)
 
Top