پانی کی کوئی شکایت ہے نہ خوراک سے ہے

عرفان سعید نے 'مزاحیہ شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 10, 2018

  1. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,377
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    (پروین شاکر سے معذرت کے ساتھ)

    پانی کی کوئی شکایت ہے نہ خوراک سے ہے
    یہی کیا کم ہے کہ نسبت تری املاک سے ہے

    تجھ کو دفتر میں بھی بھولوں تو روا رکھ مجھ سے
    جھاڑو کا جیسے رویہ خس و خاشاک سے ہے

    دریا کے بیچ چھلانگ لگا تو دی میں نے
    اور مرا سارا بچاؤ کسی تیراک سے ہے

    اتنے دانت ہیں ترے صاف کہ ہوتا ہے گماں
    یہ سفیدی تو کسی اچھی سی مسواک سے ہے

    علم کے موتی بھی اب نیٹ سے پھیلے تو ہیں
    "معجزے کی وہی امید مگر 'چاک 'سے ہے"

    یہ نمی تجھ کو گریبان پہ دِکھتی ہے مرے
    دریا یہ تو مری آنکھوں سے نہیں ناک سے ہے

    اس نے رہتے ہوئے یورپ میں اشارہ کاٹا
    بات کی تو سنا ، وہ بھی ارضِ پاک سے ہے

    صرف اک بار قبا شادی کی پہنی میں نے
    اور مری ساری تھکاوٹ اسی پوشاک سے ہے

    بازی اک شادی کی اور کھیلنا میں چاہتا ہوں
    خوف انجانا ہے اک جو کے تری دھاک سے ہے

    ۔۔۔ عرفان ۔۔۔​
     
    • زبردست زبردست × 3
  2. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,826
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ماشاء اللہ۔
    آج کل تو آمد ہی آمد ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,377
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    بہت شکریہ تابش بھائی
    کل گھر واپس جاتے اور آج آفس آتے ان اشعار کی آمد ہوئی۔ جلدی سے لکھ ڈالا کہ کہیں طاقِ نسیاں کی نذر نہ ہو جائیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر