٢٨ مئی: یوم تکبیر

ابن آدم

محفلین



EZF9b1MXYAAbJcj
 

ابن آدم

محفلین

جناب ڈاکٹر قدیر کی مختلف مواقع پر مختلف بیانات آپ کی نظر سے لازما گزرے ہوں گے تو اس لئے بیانات سے ہٹ کر ہم بس تاریخ اور حقائق کو دیکھ لیتے ہیں کہ نواز شریف نے لازمی مالیاتی اور اقتصادی پابندیوں کے باوجود دھماکے کا حکم دیا اس کا اقرار کیا.
دوسری مثال پرویز مشرف کی ہے جنھوں نے مالیاتی اور اقتصادی پابندیوں کو دیکھتے ہوئے افغان جنگ میں شامل ایک دھمکی پر ہو گئے.
تیسری مثال عمران خان کی ہے کہ کشمیر ہتھیانے کے بعد صرف ٹویٹ تک بیانات جاری ہوئے اور جو تجارتی پابندیاں لگائی بھی ان کے بارے میں رپورٹس آپ کے سامنے ہی ہے کہ کیسے دوائیوں کو منگوایا گیا اور کچھ کیمیکلز کے بارے میں بھی خبریں ہیں. اسی طرح پھر مالیاتی حالات کے تناظر میں عمران خان آج تک لاک داؤن کے حق میں نہیں اور لاک داؤن ہوتا بھی ہے تو عمران کا بیان اس کے خلاف ہی ہوتا ہے.

تو باقی اپنی پسند ناپسند ایک طرف لیکن حقائق تلخ ہی ہیں باقیوں کے
 

ابن آدم

محفلین
یہاں پر ڈاکٹر قدیر کہہ رہے ہیں کہ تینوں آرمی چیف اس کے بارے میں نیوٹرل تھے اور تمام ذمہ داری نواز شریف کو دے دی تھی.
 

جاسم محمد

محفلین


جناب ڈاکٹر قدیر کی مختلف مواقع پر مختلف بیانات آپ کی نظر سے لازما گزرے ہوں گے تو اس لئے بیانات سے ہٹ کر ہم بس تاریخ اور حقائق کو دیکھ لیتے ہیں کہ نواز شریف نے لازمی مالیاتی اور اقتصادی پابندیوں کے باوجود دھماکے کا حکم دیا اس کا اقرار کیا.
دوسری مثال پرویز مشرف کی ہے جنھوں نے مالیاتی اور اقتصادی پابندیوں کو دیکھتے ہوئے افغان جنگ میں شامل ایک دھمکی پر ہو گئے.
تیسری مثال عمران خان کی ہے کہ کشمیر ہتھیانے کے بعد صرف ٹویٹ تک بیانات جاری ہوئے اور جو تجارتی پابندیاں لگائی بھی ان کے بارے میں رپورٹس آپ کے سامنے ہی ہے کہ کیسے دوائیوں کو منگوایا گیا اور کچھ کیمیکلز کے بارے میں بھی خبریں ہیں. اسی طرح پھر مالیاتی حالات کے تناظر میں عمران خان آج تک لاک داؤن کے حق میں نہیں اور لاک داؤن ہوتا بھی ہے تو عمران کا بیان اس کے خلاف ہی ہوتا ہے.

تو باقی اپنی پسند ناپسند ایک طرف لیکن حقائق تلخ ہی ہیں باقیوں کے
نواز شریف اپنی خوشی سے دھماکوں کا فیصلہ کرتے تو ہم ان کو ضرور کریڈٹ دیتے۔ البتہ یہاں ان کے ساتھیوں کے بیانات سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ ان دھماکوں کے حق میں نہیں تھے۔ البتہ عسکری، میڈیائی اور عوامی دباؤ پر ان کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔ جس کے رد عمل میں امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کردی اور یوں ملک ۱۹۹۸ میں پہلے بار ڈیفالٹ کر گیا۔ انہی دھماکوں کے بعد پاک فوج نے ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی دکھاتے ہوئے کارگل میں ایڈونچر کیا۔ جس کا نتیجہ نواز شریف کو تختہ الٹنے کے ساتھ بھگتنا پڑا۔ سنہ ۲۰۰۰ تک ملک کے معاشی حالات بدستور خراب تھے۔ روپے کی قدر تیزی سے گر رہی تھی۔ ملک کے قرضے کل پیداوار کو چھو رہے تھے۔ عام پاکستانی کتنے سال یہ سب برداشت کرتے؟ آج ۲۰ سال بعد بھی ملک پھر اسی جگہ کھڑا ہے جہاں سنہ ۲۰۰۰ میں نواز شریف نے چھوڑا تھا
145-FEBEF-B12-B-46-CB-8580-E19-D9423-F543.jpg
 
نواز شریف اپنی خوشی سے دھماکوں کا فیصلہ کرتے تو ہم ان کو ضرور کریڈٹ دیتے۔ البتہ یہاں ان کے ساتھیوں کے بیانات سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ ان دھماکوں کے حق میں نہیں تھے۔ البتہ عسکری، میڈیائی اور عوامی دباؤ پر ان کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔
اگر ورلڈ کپ صرف خان صاحب نے جیتا تھا۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
 

جاسم محمد

محفلین
یہاں پر ڈاکٹر قدیر کہہ رہے ہیں کہ تینوں آرمی چیف اس کے بارے میں نیوٹرل تھے اور تمام ذمہ داری نواز شریف کو دے دی تھی.
ایٹم بم اسرائیل کے پاس بھی ۷۰ کی دہائی سے موجود ہے۔ لیکن اس نے آج تک یہ بم پبلک میں کہیں ٹیسٹ کیا نہ اعلان۔ کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ایسا کرنے سے اس کی امداد بند ہو جائے گی اور معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد اس تک پاکستانی ایٹمی تنصیبات موجود ہونے کا پیغام خفیہ ذرائع سے پہنچایا جا سکتا تھا۔ مگر کوڑ مغز نواز شریف نے جوابا ایٹمی دھماکے کرکے غیر دانشمندی سے کام لیا۔
 

جاسم محمد

محفلین
اگر ورلڈ کپ صرف خان صاحب نے جیتا تھا۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
ہم تو کب کی ہمت ہار چکے تھے، کپتان عمران خان خود انجرڈ تھے مگر وہ ہمیں حوصلہ دیتے رہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ہم یہ ورلڈ کپ جیتیں گے: ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے تاثرات
نواز شریف دھماکے کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ فوج، میڈیا اور عوام کے دباؤ پر یہ قدم اٹھایا: ایٹمی سائنسدان و انجینئرز

فرق صاف ظاہر ہے کہ لیڈر کون ہے
 
ایٹم بم اسرائیل کے پاس بھی ۷۰ کی دہائی سے موجود ہے۔ لیکن اس نے آج تک یہ بم پبلک میں کہیں ٹیسٹ کیا نہ اعلان۔ کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ایسا کرنے سے اس کی امداد بند ہو جائے گی اور معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد اس تک پاکستانی ایٹمی تنصیبات موجود ہونے کا پیغام خفیہ ذرائع سے پہنچایا جا سکتا تھا۔ مگر کوڑ مغز نواز شریف نے جوابا ایٹمی دھماکے کرکے غیر دانشمندی سے کام لیا۔
ٹھیک ٹھیک اے بیدار مغز پائین۔ آپ نے ہمیں بتایا بہت شکریہ۔
 

جاسم محمد

محفلین
نواز شریف کا خیال تھا کہ ایٹمی دھماکے کر کے وہ قائد اعظم ثانی بن جائیں گے۔ آنے والی کئی دہائیاں اکیلے ملک پر حکمرانی کریں گے۔ البتہ جب صرف ایک سال بعد فوج نے حکومت کا بوریا بسترا گول کیا تو ان کے حق میں عوام نے ایک گملا بھی نہیں توڑا۔ بالآخر جمہوری انقلابی نواز شریف فوج سے ڈیل کرکے اپنی دو تہائی پارلیمانی اکثریت ایک آمر کے زیر سایہ چھوڑ کر خود جدہ فرار ہو گیا :)
 
آخری تدوین:
Top