وہ سراپا سامنے ہے، استعارے مسترد

نیرنگ خیال

لائبریرین
لاجواب !!!!خوب انتخاب۔۔۔ ۔​
وہ سراپا سامنے ہے، استعارے مسترد​
چاند، جگنو، پھول، خوشبو اور ستارے مسترد​
اس کی خوشبو ہمسفر راہِ مسافت میں ہو گر​
خواب، منظر، رہگزر، دریا، شرارے مسترد​
انتخاب کو سراہنے کا شکریہ بھلکڑ میاں۔۔۔۔ :)


بہت عمدہ انتخاب بھیا :)
شاعر کا نام ظفر اقبال ظفر ہے :)
شکریہ غدیر۔۔۔ :) شاعر کا نام بتانے پر اک بار اور :)


وہ سراپا سامنے ہے، استعارے مسترد
چاند، جگنو، پھول، خوشبو اور ستارے مسترد
تذکرہ جن میں نہ ہو ان کے لب و رخسار کا
ضبط وہ ساری کتابیں، وہ شمارے مسترد
واہ۔واہ۔واہ۔۔۔
بہت خوب انتخاب جناب۔۔۔
شکریہ سرکار۔۔۔ :)


واہ واہ واہ

کیا خوب غزل ہے۔ بہت عمدہ ۔۔۔ ۔!

حسنِ ذوق کی داد قبول کیجے۔
آپ درپردہ اپنے ہی حسن ذوق کی داد دے رہے ہیں۔ کہ بقول غدیر زھرا آپ بھی اسے پہلے شریک محفل کر چکے ہیں۔۔۔ ;)


احمد بھیا یہ غزل آپ نے بھی تو شئیر کی تھی بہت عرصہ قبل محفل پر :)
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/ہفتۂ-شعر-و-ادب-غزلیں.24007/page-2#_=_

خوب ربط ڈھونڈا ہے۔ شکریہ :)

نیرنگ خیال صاحب!
ایک اچھے انتخاب پر تشکّر اورداد قبول کیجئے
بہت خوش رہیں :)
شاہ صاحب آپ کے انتخاب کو سراہنے پر شکرگزار ہوں :)


تذکرہ جن میں نہ ہو ان کے لب و رخسار کا
ضبط وہ ساری کتابیں، وہ شمارے مسترد
کشتیِ جاں کا ہے رشتہ جب کسی طوفان سے
سب جزیرے رائیگاں، سارے کنارے مسترد
سبحان اللہ سبحان اللہ​
زبردست انتخاب :)
بہت ہی منفرد کلام بہت لطف آیا پڑھ کر
شریک محفل کرنے کا شکریہ
شاد و آباد رہیں
شکریہ وڈے شاہ جی۔۔۔۔ :)


نین بھائی۔۔۔ کافی قاتل غزل ہے۔
کس کو قتل کر دیا اس نے۔۔۔۔ :p


واہ زبردست جناب چھاگئے آپ - ویسے نامعلوم کی جگہ میرانام لکھ دیں کیونکہ مجھے لگتا ہے یہ کلام میراہے :p
مجھے تو کام بھی آپ کا لگتا ہے۔۔ مگر آپ صرف کلام تک ہی خود کو محدود کر رہے ہیں۔۔۔ :clown:


بہت عمدہ انتخاب نیرنگ
شکریہ عمر بھائی :)


تذکرہ جن میں نہ ہو ان کے لب و رخسار کا
ضبط وہ ساری کتابیں، وہ شمارے مسترد
واہ ! نیرنگ خیال صاحب ، کیا ہی عمدہ کلام شیئر کیا ہے۔ ہمیشہ خوش رہیں۔آمین
شکریہ سر۔۔۔ آپ کو انتخاب پسند آیا۔۔ ہماری وصولی ہوئی۔۔۔ :)


واہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ
کیا خوب غزل ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
شکریہ نایاب بھائی۔۔ پذیرائی انتخاب پر تشکر۔۔۔ :)


ماشاءاللہ بہت خوب غزل شریک محفل کی۔
جزاکم اللہ خیرا۔
ویسے شاعر کا نام ظفر (اقبال ظفر) مقطع میں لکھا ہوا ہے۔:)
جی شاعر کا نام محض "ظفر" ہی مقطع میں لکھا ہے۔ اگر میں لکھ دیتا اور شاعر یہ نہ نکلتا تو۔۔۔۔۔۔ :)
انتخاب کو پسند کرنے کا شکریہ :)


واہ۔ زبردست غزل ہے۔ ردیف بہت خوب ہے اور قوافی پر عبور اور ان کا استعمال بہت اعلیٰ ہے۔ خوش رہیے غزل شریک کرنے پر۔

جی یہ موئے قوافی موافی تو آپ ہی جانیں۔۔۔ ;)
انتخاب کو پسند کرنے کا شکریہ :)
 
وہ سراپا سامنے ہے، استعارے مسترد
چاند، جگنو، پھول، خوشبو اور ستارے مسترد

تذکرہ جن میں نہ ہو ان کے لب و رخسار کا
ضبط وہ ساری کتابیں، وہ شمارے مسترد

کشتیِ جاں کا ہے رشتہ جب کسی طوفان سے
سب جزیرے رائیگاں، سارے کنارے مسترد

اس کی خوشبو ہمسفر راہِ مسافت میں ہو گر
خواب، منظر، رہگزر، دریا، شرارے مسترد

جب کوئی بوئے وفا اُن میں نہیں باقی رہی
ساری سوغاتیں تمھاری، خط تمھارے مسترد

خاک و خوں کا دیکھنا ہی جب مقدر ہے ظفر
زندگی کے رنگ سارے ، سب نظارے مسترد

ظفر اقبال ظفر صاحب کا کلام لاجواب انتخاب
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
انتخاب پسند کرنے پر شکرگزار ہوں۔

میں نیا ہوں ابھی صحیح سے چلانے کا بھی نھیں پتا

نہ ہی فورم کے اصول سے واقف ہوں

آپ سے پرسنل رابطہ کرنا ھے کیا طریقہ ھے
مرحبا۔۔۔ خوش آمدید۔۔۔
اس ربط پر کلک کر کے بائیں جانب نئی لڑی ارسال کریں کا لنک نظر آئے گا۔ وہاں پر اپنا تعارف پیش کر سکتے ہیں۔ ذاتی نوعیت کے مراسلات کے لیے "مکالمات" کی سہولت موجود ہے۔
 
کراچی کے شاعر ہیں شاد مردانوی. انہوں نے اسی زمین میں غزل کہی ہے

ساکھ میری ذات میری ، سب انائیں مسترد
عزتوں کی جو ملیں وہ سب ردائیں مسترد

آخرش مایوس منگتا کہہ کہ یہ واپس ہوا
جو ملیں خیرات میں وہ سب عطائیں مسترد

تم کتابِ زندگی کا آخری جملہ لکھو
نفرتیں سب مسترد اور سب وفائیں مسترد

میں ضمیرِ عصر کا شاہد ہوں میری آنکھ میں
بے لباسی مسترد ، زریں قبائیں مسترد

عشق ہے اور عشق کا آغاز جاں سے جانا ہے
ابتدا کی بات کر بس انتہائیں مسترد

اختیارِ ذات یوں اب آزمایا جائے گا
آج وہ خود بھی ہمیں آکر بلائیں ، مسترد

میں خدائے جذب و مستی میں خدائے درد و غم
خاکپائے اہلِ دل ہوں کہکشائیں مسترد

شاد مردانوی
واہ واہ واہ

کیا خوب غزل ہے۔ بہت عمدہ ۔۔۔۔!

حسنِ ذوق کی داد قبول کیجے۔
ی
وہ سراپا سامنے ہے، استعارے مسترد
چاند، جگنو، پھول، خوشبو اور ستارے مسترد

تذکرہ جن میں نہ ہو ان کے لب و رخسار کا
ضبط وہ ساری کتابیں، وہ شمارے مسترد

کشتیِ جاں کا ہے رشتہ جب کسی طوفان سے
سب جزیرے رائیگاں، سارے کنارے مسترد

اس کی خوشبو ہمسفر راہِ مسافت میں ہو گر
خواب، منظر، رہگزر، دریا، شرارے مسترد

جب کوئی بوئے وفا اُن میں نہیں باقی رہی
ساری سوغاتیں تمھاری، خط تمھارے مسترد

خاک و خوں کا دیکھنا ہی جب مقدر ہے ظفر
زندگی کے رنگ سارے ، سب نظارے مسترد

شاعر: نام معلوم نہیں​
 

سیما علی

لائبریرین
بہترین انتخاب !!شریکِ محفل کرنے پر بےحد مشکور

جب کوئی بوئے وفا اُن میں نہیں باقی رہی
ساری سوغاتیں تمھاری، خط تمھارے مسترد
کیا کہنے ۔۔۔۔۔۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
کراچی کے شاعر ہیں شاد مردانوی. انہوں نے اسی زمین میں غزل کہی ہے

ساکھ میری ذات میری ، سب انائیں مسترد
عزتوں کی جو ملیں وہ سب ردائیں مسترد

آخرش مایوس منگتا کہہ کہ یہ واپس ہوا
جو ملیں خیرات میں وہ سب عطائیں مسترد

تم کتابِ زندگی کا آخری جملہ لکھو
نفرتیں سب مسترد اور سب وفائیں مسترد

میں ضمیرِ عصر کا شاہد ہوں میری آنکھ میں
بے لباسی مسترد ، زریں قبائیں مسترد

عشق ہے اور عشق کا آغاز جاں سے جانا ہے
ابتدا کی بات کر بس انتہائیں مسترد

اختیارِ ذات یوں اب آزمایا جائے گا
آج وہ خود بھی ہمیں آکر بلائیں ، مسترد

میں خدائے جذب و مستی میں خدائے درد و غم
خاکپائے اہلِ دل ہوں کہکشائیں مسترد

شاد مردانوی

ی
محفل میں خوش عام دید بلال صاحب۔۔۔۔
 
Top