وہ اہلِ درد جو غم کو شعار کرتے ہیں ۔ جاوید احمد غامدی

فرخ منظور

لائبریرین
وہ اہلِ درد جو غم کو شعار کرتے ہیں
اُنھی کا اہلِ جہاں اعتبار کرتے ہیں

یہ ایک جان تھی ، دوبھر ہوئی رقیبوں کو
لو آج اِس کو بھی ہم نذرِ یار کرتے ہیں

کسے خبر ہے کہ ہوش و خرد پہ کیا گزرے
وہ اپنی زلف کو پھر تاب دار کرتے ہیں

اگر نہیں گل و لالہ ، سرشک خون تو ہیں
اِنھی سے دشت کو باغ و بہار کرتے ہیں

یہ دور وہ ہے کہ جس کی زباں پہ ہو دشنام
اُسی کو دوش پہ اپنے سوار کرتے ہیں

مقامِ صبر سے وہ بے نوا فقیروں کو
سنا ہے اپنے لیے اختیار کرتے ہیں

یہ خواجگی ہے تو اک دن غریب کی آہیں
وہی کریں گی جو خس میں شرار کرتے ہیں

اُدھر بھی کھینچ بلاتا ہے حسن کا جلوہ
ہم اپنا رخ جو کبھی سوے دار کرتے ہیں

کوئی ہو مانگنے والا کہ چرخِ زیریں پر
وہ روز آ کے یہی انتظار کرتے ہیں

جنھیں خود اپنا زیاں بھی نظر نہیں آتا
اُنھیں اب اہلِ نظر میں شمار کرتے ہیں

نہیں جو خوب اُسے خوب کس طرح کہہ دیں
یہی خطا ہے جو ہم بار بار کرتے ہیں

مرے عزیز ، یہ دنیا بدل نہیں سکتی
اِسی کو اپنے لیے سازگار کرتے ہیں

(جاويد احمد غامدی)
 
یہ جاوید احمد غامدی اصلی والے غامدی صاحب ہیں ؟ امید تو تھی کہ اہلِ علم ہونے کے ناطے شاعری سے کچھ نا کچھ شغف تو ہوگا ۔ (اگر یہ وہی ہیں تو :)) آج غزل بھی پڑھ لی ۔ بہت شکریہ فرخ بھائی شئیر کرنے کا۔
یہ دور وہ ہے کہ جس کی زباں پہ ہو دشنام
اُسی کو دوش پہ اپنے سوار کرتے ہیں
فاعل محذوف ہو تو شعر کا مزہ کرکرا ہو جاتا ہے ۔
مقامِ صبر سے وہ بے نوا فقیروں کو
سنا ہے اپنے لیے اختیار کرتے ہیں
یہ شعر یقیناََ "تفسیر" طلب ہے ۔ اگر یہ مطلب ہے کہ اربابِ اختیار ، اپنے لیے ایسے لوگ ڈھنڈ کر جلو میں رکھتے ہیں جو بے نوا ہوں ۔ تو مقامِ صبر پر کون ہے ؟ مقامِ صبر تو ایک اعلیٰ مقام ہے ۔ اگر اربابِ اختیار وہاں ہیں تو شعر کا مقصد فوت ہے اگر فقیر وہاں ہے تو شعر کا م مفہوم پھر بدل جاتا ہے ۔ اس شعر کو سمجھنے میں مجھے مدد درکار ہے ۔
اُدھر بھی کھینچ بلاتا ہے حسن کا جلوہ
ہم اپنا رخ جو کبھی سوے دار کرتے ہیں
کھینچ بلانا ۔ اردو کا محاورہ ہے ؟ کھینچ لانا تو سنا ہے ۔ اگر کوئی صاحب جانتے ہوں تو مطلع کریں ۔
جنھیں خود اپنا زیاں بھی نظر نہیں آتا
اُنھیں اب اہلِ نظر میں شمار کرتے ہیں
اس شعر میں بھی فاعل محذوف ہے ۔ سمجھ نہیں آرہا کہ "ہم" انہیں اہلِ نظر میں شمار کرتے ہیں یا "آپ" انہیں اہلِ نظر میں شمار کرتے ہیں ۔ "خود" اور "بھی" کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنا زیاں نظر نہ آنا کوتاہی کی علامت ہے ۔ مگر مصرع ثانی میں فاعلِ محذوف نے معاملہ مشکوک کردیا ہے۔ یعنی ایک شخص وسیع القلب ہونے کی دلیل دے رہا ہے کہ ہر چند یہ خامی موجود ہے مگر پھر بھی ہم ایسے افراد کو اہلِ نظر تسلیم کر لیتے ہیں ۔ دو تین یا اس سے بھی زیادہ صورتیں ہو سکتی ہیں ۔
مرے عزیز ، یہ دنیا بدل نہیں سکتی
اِسی کو اپنے لیے سازگار کرتے ہیں

ابہام اس شعر میں بھی اسی نوعیت کا ہے ۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
یہ جاوید احمد غامدی اصلی والے غامدی صاحب ہیں ؟ امید تو تھی کہ اہلِ علم ہونے کے ناطے شاعری سے کچھ نا کچھ شغف تو ہوگا ۔ (اگر یہ وہی ہیں تو :)) آج غزل بھی پڑھ لی ۔ بہت شکریہ فرخ بھائی شئیر کرنے کا۔

فاعل محذوف ہو تو شعر کا مزہ کرکرا ہو جاتا ہے ۔

یہ شعر یقیناََ "تفسیر" طلب ہے ۔ اگر یہ مطلب ہے کہ اربابِ اختیار ، اپنے لیے ایسے لوگ ڈھنڈ کر جلو میں رکھتے ہیں جو بے نوا ہوں ۔ تو مقامِ صبر پر کون ہے ؟ مقامِ صبر تو ایک اعلیٰ مقام ہے ۔ اگر اربابِ اختیار وہاں ہیں تو شعر کا مقصد فوت ہے اگر فقیر وہاں ہے تو شعر کا م مفہوم پھر بدل جاتا ہے ۔ اس شعر کو سمجھنے میں مجھے مدد درکار ہے ۔

کھینچ بلانا ۔ اردو کا محاورہ ہے ؟ کھینچ لانا تو سنا ہے ۔ اگر کوئی صاحب جانتے ہوں تو مطلع کریں ۔

اس شعر میں بھی فاعل محذوف ہے ۔ سمجھ نہیں آرہا کہ "ہم" انہیں اہلِ نظر میں شمار کرتے ہیں یا "آپ" انہیں اہلِ نظر میں شمار کرتے ہیں ۔ "خود" اور "بھی" کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنا زیاں نظر نہ آنا کوتاہی کی علامت ہے ۔ مگر مصرع ثانی میں فاعلِ محذوف نے معاملہ مشکوک کردیا ہے۔ یعنی ایک شخص وسیع القلب ہونے کی دلیل دے رہا ہے کہ ہر چند یہ خامی موجود ہے مگر پھر بھی ہم ایسے افراد کو اہلِ نظر تسلیم کر لیتے ہیں ۔ دو تین یا اس سے بھی زیادہ صورتیں ہو سکتی ہیں ۔


ابہام اس شعر میں بھی اسی نوعیت کا ہے ۔

میرا خیال ہے آپ نے بہت اچھا تجزیہ کیا ہے۔ جاوید احمد غامدی وہی ہیں جو مشہور ہیں۔ میں ان سے چند بار مل بھی چکا ہوں۔ ان کی شاعری یہاں پیش کرنے کا مقصد یہ بھی تھا کہ ان کی شخصیت کے اس رخ سے بھی لوگوں کو واقفیت ہو۔ اس سے پہلے بھی ان کی کچھ غزلیات میں یہاں پیش کر چکا ہوں۔
 
بہت ہی عمدہ جناب فرخ صاحب۔
بہت شکریہ شراکت کا۔
چند اشعار میں واقعی ابلاغ کی کمی کا مسئلہ در پیش ہے۔ لیکن ان کی مناسب تاویل بھی بہر حال ممکن ہے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
معمولی اور اصولی مسائل اپنی جگہ مگر اس کے باوجود اشعار اچھے ہیں ۔
اصلی اور مشہور سے مجھ پر واضح نہیں ہوا ۔
وہ جاوید غامدی صاحب جو اسلامی مذاکروں میں اسلامی سکالر کے طور پر آتے ہیں ؟ فرخ منظور صاحب ؟
 

فرخ منظور

لائبریرین
فاعل محذوف ہو تو شعر کا مزہ کرکرا ہو جاتا ہے ۔
...
اس شعر میں بھی فاعل محذوف ہے ۔ سمجھ نہیں آرہا کہ "ہم" انہیں اہلِ نظر میں شمار کرتے ہیں یا "آپ" انہیں اہلِ نظر میں شمار کرتے ہیں ۔ "خود" اور "بھی" کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنا زیاں نظر نہ آنا کوتاہی کی علامت ہے ۔ مگر مصرع ثانی میں فاعلِ محذوف نے معاملہ مشکوک کردیا ہے۔ یعنی ایک شخص وسیع القلب ہونے کی دلیل دے رہا ہے کہ ہر چند یہ خامی موجود ہے مگر پھر بھی ہم ایسے افراد کو اہلِ نظر تسلیم کر لیتے ہیں ۔ دو تین یا اس سے بھی زیادہ صورتیں ہو سکتی ہیں ۔
...
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں!
اب یہ مت پوچھیے گا کہ کون لڑتے ہیں۔ ہم یا آپ؟ شعر کا مزہ کرکرا ہو جائے گا اور فاعل بھی شاید مزید محذوف رہنے کی ذلت گوارا نہ کرے!
اور شعر دہم میں وسیع القلبی کی تعلی تو یقیناً نہیں، زمانے کی کورسوادی کا شکوہ البتہ ہو سکتا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر نہ غامدی صاحب کی شخصیت پسند ہے نہ ان کے نظم و نثر۔ لیکن آپ نے تو حد کر دی، مرشدی! :messed:
 
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں!
اب یہ مت پوچھیے گا کہ کون لڑتے ہیں۔ ہم یا آپ؟ شعر کا مزہ کرکرا ہو جائے گا اور فاعل بھی شاید مزید محذوف رہنے کی ذلت گوارا نہ کرے!
اور شعر دہم میں وسیع القلبی کی تعلی تو یقیناً نہیں، زمانے کی کورسوادی کا شکوہ البتہ ہو سکتا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر نہ غامدی صاحب کی شخصیت پسند ہے نہ ان کے نظم و نثر۔ لیکن آپ نے تو حد کر دی، مرشدی!

میں آپ کی رائے سے متفق ہوں یا نا ہوں مگر احترام کرتا ہوں۔
میری گزارش غلط بھی ہو سکتی ہے ۔ اور اس سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے ۔ بہرحال جو شعر آپ نے لکھا ہے بلا شبہ اس میں فاعل نہ ہونے سے شعر پر کوئی اثر نہیں پڑتا آپ کی بات بلکل درست ہے ۔

جنھیں خود اپنا زیاں بھی نظر نہیں آتا
اُنھیں اب اہلِ نظر میں شمار کرتے ہیں

غامدی صاحب کے شعر میں مجھے ابہام محسوس ہو تو میں نے بتا دیا ۔ اگر اس سے آپ کی یا کسی بھی اور دوست کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں معذرت چاہتا ہوں
 

سید عاطف علی

لائبریرین
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں!
اب یہ مت پوچھیے گا کہ کون لڑتے ہیں۔ ہم یا آپ؟ شعر کا مزہ کرکرا ہو جائے گا اور فاعل بھی شاید مزید محذوف رہنے کی ذلت گوارا نہ کرے!
اور شعر دہم میں وسیع القلبی کی تعلی تو یقیناً نہیں، زمانے کی کورسوادی کا شکوہ البتہ ہو سکتا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر نہ غامدی صاحب کی شخصیت پسند ہے نہ ان کے نظم و نثر۔ لیکن آپ نے تو حد کر دی، مرشدی! :messed:
پسند ناپسند یا اختلاف توخیراپنی جگہ کہ اس کی کوئی بنیاد ہوتی ہے۔اختلاف تو یقیناً مجھے بھی ہوتا ہے۔البتہ شاعری یا نثر یا کسی اور چیز کو یکسر مردود کردینا صحتمندانہ رویہ کا عکاس نہیں۔ بہر حال اختیار اور رائے اپنا اپنا ۔
 
میں آپ کی رائے سے متفق ہوں یا نا ہوں مگر احترام کرتا ہوں۔
میری گزارش غلط بھی ہو سکتی ہے ۔ اور اس سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے ۔ بہرحال جو شعر آپ نے لکھا ہے بلا شبہ اس میں فاعل نہ ہونے سے شعر پر کوئی اثر نہیں پڑتا آپ کی بات بلکل درست ہے ۔



غامدی صاحب کے شعر میں مجھے ابہام محسوس ہو تو میں نے بتا دیا ۔ اگر اس سے آپ کی یا کسی بھی اور دوست کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں معذرت چاہتا ہوں
دل آزاری کیسی، بندہ پرور؟ یہ تو گپ شپ ہے۔ آپ بھلا کیوں دل دکھائیں گے ہمارا؟ بات چیت سے ذہن کے وہ دریچے وا ہو جاتے ہیں جن پر ہماری کبھی نظر ہی نہیں پڑی ہوتی۔ مجھے آپ کا ناسخؔانہ طرزِ تنقید پیارا لگا۔ تبھی چھیڑ لیا۔ خوش رہیے۔
 
دل آزاری کیسی، بندہ پرور؟ یہ تو گپ شپ ہے۔ آپ بھلا کیوں دل دکھائیں گے ہمارا؟ بات چیت سے ذہن کے وہ دریچے وا ہو جاتے ہیں جن پر ہماری کبھی نظر ہی نہیں پڑی ہوتی۔ مجھے آپ کا ناسخؔانہ طرزِ تنقید پیارا لگا۔ تبھی چھیڑ لیا۔ خوش رہیے

بہت شکریہ راحیل فاروق بھائی ، میں ہر دم ڈرتا ہوں کہ کہیں کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے کسی سے تلخی ہو۔
البتہ دوستانہ انداز میں اختلافِ رائے سے جی خوش ہوتا ہے۔
 
پسند ناپسند یا اختلاف توخیراپنی جگہ کہ اس کی کوئی بنیاد ہوتی ہے۔اختلاف تو یقیناً مجھے بھی ہوتا ہے۔البتہ شاعری یا نثر یا کسی اور چیز کو یکسر مردود کردینا صحتمندانہ رویہ کا عکاس نہیں۔ بہر حال اختیار اور رائے اپنا اپنا ۔
حضرت، مردود تو ہم نے بھی نہیں کیا۔ یکسر نہیں کیا۔ بلکہ یوں ہے کہ غامدی صاحب کے افکار سے متاثر بھی خاصا ہوا ہوں۔ ان کے تبحر پہ رشک بھی آتا ہے۔ بات صرف اتنی سی تھی کہ ان کا طرزِ کلام اور ادبی اسلوب میرے دل کو بھاتا نہیں۔ کوشش کرتا ہوں کہ سننے پڑھنے کی نوبت نہ آئے۔
 
Top