وہی خدا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر طارق قمر

عمراعظم

محفلین
وہی خدا ہے

نہ مسجدوں میں نہ مندروں میں
نہ منبروں پر نہ سیڑھیوں پر
نہ گنگا جمنا کے ساحلوں پر
کہیں بھی اُس کا پتہ نہیں ہے
خدا نہیں ہے
اگر خدا ہے تو زندگی کو ترستی آنکھوں میں بے یقینی کے خواب کیوں ہیں
مہاجرینِ وفا کے قدموں سے کیوں لپٹتی ہے بے زمینی
مسافرینِ خدا کے حق میں عذاب کیوں ہیں عتاب کیوں ہیں
اگر خدا ہے تو آدمی کے لہو کا سیلاب کیوں رواں ہے
اگر خدا ہے تو شا م وکوفہ میں کیوں اسیروں کا کارواں ہے
اگر خدا ہے تو دستِ سفاک تتلیاں کیوں مسل رہے ہیں
اگر خدا ہے تو کیوں یہ جگنو سیاہ ضمیری کی مٹھیوں میں مچل رہے ہیں
اگر خدا ہے تو حق پرستوں کے حق میں زنجیر کس لئے ہے
اگر خدا ہے تو قید خانے میں ایک بچے کی فغاںِ شبیری کس لئے ہے
اگر خدا ہے تو پھر یہ تعبیرِ خواب کیوں ہے، بندشِ آب کیوں ہے
ہزاروں شمر و یزید اب تک ہمیں ہی کیوں پیاسا مارتے ہیں
لہو کے چڑھتے ہوئے سمندر یہ کس خدا کو پکارتے ہیں
----------------------------------
مگر خدا ہےوہ ایک لمحہ جو عقل و دانش سے ماورا ہے
جسے سمجھنے کی جستجو میں زمانہ صدیاں لگا چُکا ہے
وہ ایک آنسو جو ظلمتوں کا چراغ بن کر کسی کی آنکھوں سے گر پڑا ہے
وہ ایک جذبہ جو زیرِ خنجر بہ شکلِ سجدہ ادا ہوا ہے
بتا رہا ہے،کہیں خدا ہے،یہیں خدا ہے، یقیں خدا ہے
ہے فرق اتنا کہ آج انساں اپنے اندر کی،اپنے باہر کی کربلاؤں سے منحرف ہے
وگرنہ سچ ہے وہ ایک لمحہ جو ہم سے احساس مانگتا ہے
وہی خدا ہے۔۔۔۔ وہی خدا ہے۔


ڈاکٹر طارق قمر
نوٹ:- یہ نظم 2012 میں دبئی کے ایک مشاعرے میں پڑھی گئی۔
 

اوشو

لائبریرین
کربلا کے استعارے میں انسان اور انسانیت کا اچھا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔
خوب
شکریہ عمر اعظم جی
 
Top