ووٹ ڈالنا کیوں ضروری ہے؟ ووٹ کِسے اور کیوں ڈالیں؟

تجمل حسین

محفلین
اِنتخابات میں ووٹ کی شرعی حیثیت کم اَز کم ایک شہادت کی ہے جس کا چھپانا بھی حرام ہے اَور اُس میں جھوٹ بولنا بھی حرام ،اُس پر کوئی معاوضہ لینا بھی حرام، اُس میں محض ایک سیاسی ہار جیت اَور دُنیا کا کھیل سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے۔

آپ جس اُمیدوار کو ووٹ دیتے ہیں
وَمَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّکُنْ لَّہ نَصِیْب مِّنْھَا وَمَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّکُنْ لَّہ کِفْل مِّنْھَا
’’جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے اُس میں اِس کو بھی حصہ ملتا ہے اَور بر ی سفارش کرتا ہے تو اُس کی برائی میں اِس کا بھی حصہ لگتا ہے۔‘‘

اچھی سفارش یہی ہے کہ قابل اَور دیانت دار آدمی کی سفارش کرے جو خلقِ خدا کے حقوق صحیح طور پر اَدا کرے اَور بری سفارش یہ ہے کہ نااہل ،نالائق، فاسق، ظالم کی سفارش کر کے اُس کو خلق ِخدا پر مسلط کرے۔
شرعًا آپ اُس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریہ اَور علم و عمل اَور دیانتداری کی رُو سے اِس کا م کا اَہل اَور دُوسرے اُمیدواروں سے بہتر ہے جس کام کے لیے یہ اِنتخابات ہو رہے ہیں ۔
اِس حقیقت کو سامنے رکھیں تو اِس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں :

  1. آپ کے ووٹ اَور شہادت کے ذریعہ جو نمائندہ کسی اِسمبلی میں پہنچے گا وہ اِس سلسلہ میں جتنے اچھے یا برے اِقدامات کرے گا اُن کی ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوگی۔ آپ بھی اُس کے ثواب یا عذاب میں شریک ہوں گے۔
  2. اِس معاملہ میں یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ شخصی معاملات میں کوئی غلطی بھی ہو جائے تو اُس کا اَثر بھی شخصی اَور محدود ہوتا ہے، ثواب و عذاب بھی محدود۔ قومی اَور مُلکی معاملات سے پوری قوم متاثر ہوتی ہے ، اُس کا اَدنیٰ نقصان بھی بعض اَوقات پوری قوم کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے اِس لیے اِس کا ثواب و عذاب بھی بہت بڑا ہے۔
  3. سچی شہادت کا چھپانا اَزرُوئے قرآن حرام ہے۔
  4. جو اُمیدوار نظامِ اِسلامی کے خلاف کوئی نظریہ رکھتا ہے اُس کو ووٹ دینا ایک جھوٹی شہادت ہے جو گناہ کبیرہ ہے۔
  5. ووٹ کو پیسوں کے معاوضہ میں دینا بدترین قسم کی رشوت ہے اَور چند ٹکوں کی خاطر اِسلام اَور مُلک سے بغاوت ہے

بقلم: حافظ حفیظ الرحمٰن

سائل: اور اگر دونوں امیدوار ایسے ہوں کہ آزمائے بھی جاچکے ہوں اور غلط کاموں میں ملوث بھی ہوں۔ مثلاً چوروں ڈاکوؤں کی مدد، تعمیری کاموں کے لیے ملنے والی رقم کو خود اپنے استعمال میں لانا اور مستحق افراد کے کام نہ کروانا وغیرہ ۔

جواب: نہیں دینا چاہیے.. بلکہ پھر اچھی جماعت بنانے کی تیاری کرنی چاہیے تا کہ لوگوں کو حقوق مل سکیں.

ربط تحریر
 

دیوان

محفلین
ووٹ کی شرعی حیثیت
عام طور پر لوگ ووٹ دینے کو ایک ایسا معاملہ سمجھتے ہیں جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں جس کی وجہ سے وہ کسی احساس ذمہ داری سے بے خبر اس کو استعمال کرتے ہیں۔بلکہ اکثر اوقات ایسے شخص کے حق میں استعمال کرتے ہیں جو فکر آخرت سے بے خبر ہوتا ہے جس کے اثرات اس دنیا میں بھی سب کو بھگتنے پڑتے ہیں اور آخرت میں بھی اس کی جواب دہی کرنے پڑے گی۔اس لیے ضروری ہے کہ ووٹ کی شرعی حیثیت واضح کردی جائے تاکہ ہر ووٹ دینے والا اس کی اہمیت کو سمجھے اور سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کو استعمال کرے۔
شرعی اعتبار سے ووٹ کی تین حیثیتیں ہیں۔
ووٹ کی ایک حیثیت شہادت، یعنی گواہی کی ہے۔ جس شخص کے حق میں انسان ووٹ ڈالتا ہے تو وہ درحقیقت اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ امیدوار دیانت و امانت کے ساتھ اس کام کی قابلیت رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص اس بات کو جانتے ہوئے کہ وہ امیدوار ان اوصاف کا حامل نہیں ہے اور پھر بھی اس کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرتا ہے تو وہ جھوٹی گواہی کا مرتکب ہوا جو گناہ کبیرہ ہے جس کی آخرت میں جوابدہی کرنی ہوگی۔

ووٹ کی دوسری حیثیت سفارش کی ہے۔ یعنی ووٹ دینے والا امیدوار کے حق میں سفارش کرتا ہے کہ اس کی رائے میں یہ امیدوار اس منصب کا اہل ہے۔ اگر سفارش بجا اور ٹھیک ہوئی تو ایسی سفارش کا کرنے والے کو بھی کا اجر ملے گا اور اگر یہ ناجائز ہوئی ہے تو اس کا گناہ سفارش کرنے والے کو بھی ملتا ہے۔اس پہلو سے بھی ووٹ دینے والے کو یہ جان لینا چاہیے کہ اگر اس کا ووٹ کسی نااہل اور بددین کو پڑ گیا تو اس کے ذریعے ہونے والی تمام تر برائیوں میں وہ بھی اس کا شریک سمجھا جائے گا جس کا وہ آخرت میں جواب دہ ہوگا۔

ووٹ کی تیسری حیثیت کسی کو اپنا وکیل بنانے کی ہے۔یعنی ووٹ دینے والا امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے۔لیکن اس وکالت کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کے تمام افراد تک اس کا نفع اور نقصان پہنچتا ہے اس لحاظ سے بھی ووٹ دینے والے کو اپنا وکیل مقرر کرتے ہوئے دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کسی اہل فرد کو یہ منصب سونپ رہا ہے۔ بصورت دیگر اس نااہل کی تمام بداعمالیوں میں وہ بھی اس کا شریک ہوگا۔

ووٹ کا صحیح استعمال آپ کے حق میں اجر و ثواب کا ذریعہ ہے اور اس کا غلط استعمال کرنے کی صورت میں آپ کا منتخب کردہ نااہل نمائندے کے تمام اعمال کے آپ برابر کے ذمہ دار ہیں اور وہ تمام لوگ جن کے حقوق اس نااہل نے ضائع کیے وہ بھی روز قیامت اللہ کے سامنے اس نااہل کو وٹ دینے والے سے اپنے حقوق کے طلب گار ہوں گے۔ اور یہ ایک دو نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں ہوں گے اس لیے اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہر شخص کے لیے لازم ہے اس لیے کہ قیامت کے دن حقوق العباد کا معاملہ بہت سخت ہوگا۔

خلاصہ یہ ہے کہ اپنا ووٹ کسی غلط آدمی کو دینے سے پہلے یہ سوچ لیجیے کہ آپ ایک کبیرہ گناہ میں شریک ہورہے ہیں جس کی جوابدہی آپ کو روز قیامت کرنی ہے۔اسی طرح یہ بھی واضح ہوکہ ووٹ دینا ایک شرعی ذمہ داری ہے اور کسی اہل آدمی کو ووٹ دینے سے گریز کرنا شرعی جرم ہے اور نیک قابل امیدوار کو ووٹ دینے کا فائدہ اس دنیا میں بھی آپ کو ملے گا اور آخرت میں بھی آپ کے لیے اجر کا باعث ہوگا۔

کرنے کا کام
٭ ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ اس مضمون کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائے۔ اس کا ایک طریقہ تو ای میل ہے۔ چنانچہ ہم میں سے ہرشخص کو چاہیے کہ اپنے احباب کو اس پوسٹ کو ای میل کریں۔
٭ اپنے عزیز رشتہ داروں اور دوستوں میں اس کا ذکر کریں۔
٭ جہاں کسی سبب سے ذاتی طور پر پہنچنا ممکن نہ ہو وہاں خط کے ذریعے اس پمفلٹ کو پہنچائیں۔
٭ اپنی ویب سائٹ پر اس کو پوسٹ کریں۔
٭ اپنے محلے کی مساجد کے ائمہ تک اس کو پہنچائیں اور ان سے گزارش کریں کہ وہ حسب موقع ووٹ کے صحیح استعمال کی طرف لوگوں کو متوجہ کریں۔
٭ اپنے علاقے کے باشعور اور ذی اثر لوگوں تک بھی اس کو پہنچائیں۔
٭ اپنے علاقے سے جاری ہونے والے اخبارات تک اس کو پہنچائیں۔
 

سید رافع

محفلین
ووٹ شہادت نہیں حماقت ہے! کیا یوں بھی شہادت دی جا سکتی ہے یا کسی شخص کی سفارش کی جا سکتی ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ جو قرآن ہے وہ قانون ہے لیکن اسکے برخلاف قانون بھی بنا سکتے ہو! جو اس گورکھ دھندے میں پڑا ہلاک ہوا۔ صالح پریشر گروپ ووٹ کا متبادل ہے۔ جو موقع پڑنے پر حقیقی شہادت دے۔ اور عام حالات میں سفارش کرتا رہے۔
 

سید رافع

محفلین
وقت بہت کم ہے اور جو ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے اُس سے فرار ممکن نہیں۔اب فیصلہ ہمارا ہے کہ کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کرآنکھیں موند لیں یا اپنے آپ کو مومن جان کر بےتیغ میدان میں کود پڑیں کہ مرنا مقدر ہے تو کیوں نا کسی کو مار کر مرا جائے،شہادت تو مل ہی جائے گی۔ دونوں باتیں غورطلب ہیں کہ ہم نہ توکبوتر ہیں اورنہ مومن۔ ایک عام انسان،عام عوام ہیں، معمولی پڑھے لکھے یا پھر اُن اسباق کے پڑھے ہوئے جو زندگی نے روح وجسم پر ثبت کیے، بڑے لوگوں کی نظر میں جاہل کہ ہمارے پاس تعلیم نہیں جو شعور عطا کرے، دُنیا کی عظیم قوموں کے سامنے تہذیب واخلاق کی اعلیٰ قدروں سے ماورا بےترتیب لوگوں کا ہجوم۔ان باتوں کو دل پر لے لیا تو واقعی ہم خس وخاشاک ہیں۔

میں اس سے متفق ہوں کہ دنیا جنگ و جدل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ لیکن کیا آپ کسی معصوم کا قتل صحیح جانتیں ہیں؟
 

سید رافع

محفلین
لیکن ہم زندہ ہیں سانس لے رہے ہیں،سوچتے ہیں یہی ہماری بقا کا راز ہے۔
اس بات میں ایک بے سکونی اور غم ہے۔ دیکھیں نہ غم کریں نہ فکر یہ ذہن کو سکیڑ دیتی ہے اور زندگی کے خوشگوار پہلووں کو یکسر نظر انداز کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

بات صرف اپنے آپ کو پہچاننے کی ہے سب سے پہلے عقیدت کی عینک اُتار کر کھلی آنکھوں سے حالات کا جائزہ لیا جائے،تاریخ پر نظر دوڑائی جائے کیونکہ حال میں رہنمائی ماضی سے ہی مل سکتی ہے
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جبگ و جدل مردوں کا شعار رہا ہے اور رہے گا۔ اب عدل کے داعی بن کر جنگ کرنا اچھا ہے۔


اور ماضی یہ بتاتا ہے کہ قیامِ پاکستان سے دو طبقات چلے آرہے ہیں حاکم اور محکوم۔
قیام کائنات اور دنیا کے ازل سے دیکھیں تو ایک حاکم ہوتا ہے اور ایک محکوم۔ اور حاکم متقی ہی ہوتے ہیں۔


حاکم اپنی بات منواتا آیا ہے اور محکوم کبھی اتنی جرات نہیں کر سکا کہ انکار کرے،حاکم نے ہمیشہ دھوکا ہی دیا ہے۔
اگر صحیح بات منوائے تو کیا برا؟


اس لیے اگر آئندہ بھی ایسا ہی ہونا ہے تو کم از کم ایک فیصلہ ہم کر سکتے ہیں کہ اگر جال پرانا ہے تو نئے شکاری کو آزمایا جائے۔
بالکل ایسا نہ سوچیں۔ بلکہ کسی جال میں نہ آئیں۔ اللہ کا رنگ اختیار کریں۔


شاید اُس کے پاس مارنے کے نئے سامان ہوں یا اُمید کی موہوم سی کرن کہ وہ شکاری نہ ہو۔
اللہ بھی دیکھ رہا ہے کہ کون بندی یا بندہ اسکا کام کر رہا ہے۔ سو وہ ہر شکاری سے بچاتا ہے۔


تاریخ میں ہمارے قائد 'قائدِ اعظم محمد علی جناح کی ذات تقویت دیتی ہےکہ قائد وہ ہے جو اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرے۔
قائد اعظم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
 
عمدہ۔۔۔لیکن یہاں تو کوہی بھی امید وار اس قابل نہین ھے کہ اس کے آنے سے اسلام کو طاقت ملے گی۔تو کیا ایسے مین بھی ووٹ کاسٹ کرنا چاہیے؟؟؟
 

سید رافع

محفلین
بسا اوقات چھوٹی برائی کو بڑی برائی پہ ترجیح دینا پڑتی ہے، یہ اسلامی اصولوں میں شامل ہے۔

یوں نہ سوچیں۔ یوں سوچیں کہ آپکی سلامتی، آپکے بیوی بال بچوں کی سلامتی اور آپکے خاندان و شہر کی سلامتی کس میں ہے۔ بات سمجھنا آسان ہو جائے گا۔
 
یوں نہ سوچیں۔ یوں سوچیں کہ آپکی سلامتی، آپکے بیوی بال بچوں کی سلامتی اور آپکے خاندان و شہر کی سلامتی کس میں ہے۔ بات سمجھنا آسان ہو جائے گا۔
جی بس کیا کیجئے، عقل ہو گی تو سوچیں گے، ہم ایسے احمقوں سے آپ توقع نہ رکھیں۔
 
عمدہ۔۔۔لیکن یہاں تو کوہی بھی امید وار اس قابل نہین ھے کہ اس کے آنے سے اسلام کو طاقت ملے گی۔تو کیا ایسے مین بھی ووٹ کاسٹ کرنا چاہیے؟؟؟
جس سے ملک کو زیادہ نقصان ہو اس کا رستہ روک کر بھی آپ اسلام کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
 
Top