واقعہ شق القمراور جدید سائنس

اول تو یہ وضاحت دیگر اراکین کے لیے کردینا ضروری ہے کہ رانا صاحب کے دیے ہوئے روابط کسی اسلامی ویب سائٹ کے نہیں ہیں گو کہ اس ویب سائٹ کا نام اسلام کے نام پر ہی ہے۔۔۔ دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا۔۔۔ ۔

:great:
 

رانا

محفلین
میرے خیال میں ڈارون کی تھیوری پر ایک نیا دھاگہ کھولنا چاہیے۔ وہاں اس پر بہتر انداز میں بحث ہو سکے گی۔
میرا نہیں خیال کہ ایسا دھاگہ ایک دن سے زیادہ اپنے پیروں پہ کھڑا رہ سکے گا کہ اس میں پوسٹ کئے جانے والے نناوے فیصدی مراسلوں کا خلاصہ یہ ہوگا جو شمشاد بھائی نے اپنی اس پوسٹ میں بیان کردیا ہے۔
حیرت ہے لوگ قرآن نہیں پڑھتے اور اگر پڑھتے بھی ہیں تو کیوں ایسی بات کرتے ہیں جو اس سے ٹکراتی ہیں۔

ایسا دھاگہ چند گھنٹوں میں ہی اپنے انجام بخیر کو پہنچ جائے گا اور اسکے مزار کے لئے کتبہ لکھنے کے فرائض بھی آپ کو انجام دینے پڑیں گے۔ کتبے کے لئے یہ شعر بہت مناسب رہے گا:
حسرت ان دھاگوں پہ جو بن بحثے قفلا گئے۔:)
 

شمشاد

لائبریرین
۔۔۔۔۔۔۔۔ ان صفحات میں درج زیل امور کے دلائل قرانی آیات سے پیش کئے گئے ہیں:
- حضرت آدم پہلے انسان نہیں تھے بلکہ پہلے نبی تھے۔ اور ان سے پہلے انسان موجود تھے۔
۔ انسان یکدم پیدا نہیں کیا گیا بلکہ آہستہ آہستہ ارتقائی ادوار سے گزر کر موجودہ حالت کو پہنچا ہے۔
۔ تخلیق انسانی کے بعض بنیادی ادوار کا ذکر قرآن کی روشنی میں کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔

اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں فرمایا دیا ہے کہ ہم نے آدم کو مٹی سے بنایا۔
وہی پہلے انسان تھے، پھر ان کی پسلی سے مائی حوا کو پیدا کیا گیا۔
پھر یہ بھی بتا دیا تھا کہ انہیں کیونکر جنت سے نکالا گیا۔
اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں فرما دیا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام پہلے نبی تھے۔

اب اگر کسی نے اُن آیات سے اپنے مطلب کے تراجم کر لیے ہوں تو الگ بات ہے۔ یا یہ دعوا کیا ہو کہ مجھ پر وحی آئی ہے کہ بات ایسے نہیں ایسے تھی تو بھی اس کی اپنی صوابدید پر۔

وہ قرآن جو اللہ تعالٰی نے اپنے بندے اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا تھا، اس میں ایسی کوئی بات نہیں۔

سوچنے والی بات ہے
th_0026-1.gif
کہ جب انسان پہلے سے موجود تھا تو اللہ تعالٰی کو حضرت آدم کو مٹی سے بنانے کی کیوں ضرورت پڑ گئی تھی؟
th_0026-1.gif
 
۔۔۔۔
بہرحال مجھے امید ہے کہ اختلاف تو آپ کو ضرور ہوگا لیکن جیسا کہ آپ نے کہا کہ صرف معلومات کی غرض سے آپ جاننا چاہ رہے ہیں تو آپ کی یہ تشنگی دور ہوجائے گی۔
نوٹ: ایک بات کا خیال رہے کہ آیت نمبر کا حوالہ اگر چیک کرنا چاہیں تو ہمارے ہاں کیونکہ آیت نمبر بسم اللہ سے شمار ہوتا ہے اسلئے آپ دئیے گئے آیت نمبر سے ایک نمبر پہلے کی آیت دیکھئے گا۔
شکریہ ۔۔۔۔آپ کہنا درست ہے کہ مجھے اختلاف ہے ، لیکن چونکہ بحث نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا اس لیے اسی پر اکتفاء کرونگا کہ معلومات ارسال کرنے کا شکریہ
 
شق القمر معجزہ تھا اور معجزہ کہتے ہیں اسے ہیں کہ جو عقل کو عاجز کر دے۔۔ اگر اللہ کے حکم سے حضورِ پاک کے اشارے پر چاند دو ٹکڑے ہوا تھا تو واپس مل کر ویسا ہی ہوگیا ہوگا۔۔۔ احادیث میں تو ایسا بھی ملتا ہے کہ کچھ درخت اپنی جگہ سے چل کر حضور کے پاس آجاتے تھے۔۔۔ سائنس تو اس کو ثابت کرنے سے ہی قاصر ہے اور نہ ہی اس چیز کی توجیہہ سائنس میں ڈھونڈی جانی چاہیے۔۔۔
متفق ۔ چل کر یا جھک آئے تھے؟
 
اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں فرمایا دیا ہے کہ ہم نے آدم کو مٹی سے بنایا۔
وہی پہلے انسان تھے، پھر ان کی پسلی سے مائی حوا کو پیدا کیا گیا۔
پھر یہ بھی بتا دیا تھا کہ انہیں کیونکر جنت سے نکالا گیا۔
اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں فرما دیا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام پہلے نبی تھے۔
اب اگر کسی نے اُن آیات سے اپنے مطلب کے تراجم کر لیے ہوں تو الگ بات ہے۔ یا یہ دعوا کیا ہو کہ مجھ پر وحی آئی ہے کہ بات ایسے نہیں ایسے تھی تو بھی اس کی اپنی صوابدید پر۔
وہ قرآن جو اللہ تعالٰی نے اپنے بندے اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا تھا، اس میں ایسی کوئی بات نہیں۔
th_0026-1.gif

سوچنے والی بات ہے
th_0026-1.gif
کہ جب انسان پہلے سے موجود تھا تو اللہ تعالٰی کو حضرت آدم کو مٹی سے بنانے کی کیوں ضرورت پڑ گئی تھی؟
کیا مطلب ؟
 

شمشاد

لائبریرین
مطلب یہ کہ قرآن میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام پہلے نبی تھے۔

جبکہ کچھ لوگ حضرت آدم علیہ السلام کو پہلا نبی مانتے ہیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
سورۃ النساء، آیۃ 163

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ۔۔۔۔۔۔۔۔﴿١٦٣
ترجمہ : یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی۔

صحیح بخاری میں حضرت اُنس بن مالک سے حدیث شفاعت کے بارے میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا :

"ان الناس یاتون الی آدم لیشغع لھم فیعتذر الیھم و یقول : ائتوا نوحاً اول رسول بعثہ اللہ" و ذکر تمام الحدیث
ترجمہ : لوگ بروز قیامت حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تاکہ وہ اللہ تعالٰی سے ان کے لیے شفاعت طلب کریں، تو وہ ان لوگوں سے معذرت پیش کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ جاؤ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جو کہ سب سے پہلے رسول ہیں، جنہیں اللہ نے مبعوث فرمایا تھا (یعنی لوگوں کی ہدایت کے لیے دنیا میں بھیجا تھا)۔
 
سورۃ النساء، آیۃ 163

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔﴿١٦٣
ترجمہ : یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی۔

صحیح بخاری میں حضرت اُنس بن مالک سے حدیث شفاعت کے بارے میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا :

"ان الناس یاتون الی آدم لیشغع لھم فیعتذر الیھم و یقول : ائتوا نوحاً اول رسول بعثہ اللہ" و ذکر تمام الحدیث
ترجمہ : لوگ بروز قیامت حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تاکہ وہ اللہ تعالٰی سے ان کے لیے شفاعت طلب کریں، تو وہ ان لوگوں سے معذرت پیش کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ جاؤ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جو کہ سب سے پہلے رسول ہیں، جنہیں اللہ نے مبعوث فرمایا تھا (یعنی لوگوں کی ہدایت کے لیے دنیا میں بھیجا تھا)۔


میں نے بھی یہی سنا ہے کہ پہلے صاحب شرعیت رسول حضرت نوح علیہ السلام تھے ، حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے
اور نبی و رسول میں فرق یہ ہوتا ہے کہ رسول صاحب شرعیت ہوتے ہیں مطلب انکے دورانکے مکان و زمان کے لحاظ سے دین ہوتا ہے ، غالبا کتاب بھی نئی ہوتی الغرض دین پچھلے رسول سے تھوڑی مختلف ہوتی
جبکہ نبی ، رسول کا نائب ہوتا ہے وہ صاحب شرعیت نہیں ہوتا بلکہ اپنے سے پچھلے رسول کے دین کو ہی آگے بڑھاتا ہے ، انہیں قوانین کی اتباع کرتا ہے اور نافذ کرتا ہے اللہ کے حکم سےاس لحاظ سے ہر رسول نبی ہوسکتا ہے ،لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا ، البتہ وحی دونوں پر ہی اترتی ہے ۔۔۔
باقی واللہ اعلم !
نبی کریم صلی اللہ وآلیہ وسلم رسول اور نبی دونوں تھے اور یہ حتمی بات ہے کہ انکے بعد کوئی نبی و رسول نہیں ناہی کوئی نیا دین لے کر آنے والا ۔۔
وہی آخری رسول و نبی تھے ۔۔۔خاتم الانبیاء کروڑوں درود و سلام ان پر ۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
میں نے بھی یہی سنا ہے کہ پہلے صاحب شرعیت رسول حضرت نوح علیہ السلام تھے ، حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے
اور نبی و رسول میں فرق یہ ہوتا ہے کہ رسول صاحب شرعیت ہوتے ہیں مطلب انکے دورانکے مکان و زمان کے لحاظ سے دین ہوتا ہے ، غالبا کتاب بھی نئی ہوتی الغرض دین پچھلے رسول سے تھوڑی مختلف ہوتی
جبکہ نبی ، رسول کا نائب ہوتا ہے وہ صاحب شرعیت نہیں ہوتا بلکہ اپنے سے پچھلے رسول کے دین کو ہی آگے بڑھاتا ہے ، انہیں قوانین کی اتباع کرتا ہے اور نافذ کرتا ہے اللہ کے حکم سےاس لحاظ سے ہر رسول نبی ہوسکتا ہے ،لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا ، البتہ وحی دونوں پر ہی اترتی ہے ۔۔۔
باقی واللہ اعلم !
نبی کریم صلی اللہ وآلیہ وسلم رسول اور نبی دونوں تھے اور یہ حتمی بات ہے کہ انکے بعد کوئی نبی و رسول نہیں ناہی کوئی نیا دین لے کر آنے والا ۔۔
وہی آخری رسول و نبی تھے ۔۔۔ خاتم الانبیاء کروڑوں درود و سلام ان پر ۔۔۔
آپکے کہنے کے مطابق نبی رسول کا نائب ہوتا ہے، تو پھر حضرت آدم علیہ السلام بطور نبی کس رسول کے نائب تھے اور انہوں نے اپنے سے پچھلے کس رسول کے دن کو آگے بڑھایا؟

اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ
ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی۔​

اور وحی رسولوں اور نبیوں کی طرف ہی آتی تھی۔​
 
آپکے کہنے کے مطابق نبی رسول کا نائب ہوتا ہے، تو پھر حضرت آدم علیہ السلام بطور نبی کس رسول کے نائب تھے اور انہوں نے اپنے سے پچھلے کس رسول کے دن کو آگے بڑھایا؟

اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ
ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی۔​

اور وحی رسولوں اور نبیوں کی طرف ہی آتی تھی۔​
حضرت آدم علیہ السلام کسی کے نائب نبی نہ تھے بلکہ پہلے انسان اور نبی تھے ، یہ اعزاز حاصل ہے انکو ، کیونکہ ضروری نہیں کہ نبی کسی کی نیابت ضرور کرے ، کر بھی سکتا ہے جیسا کہ ہارون علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کی کی، اور نہیں بھی جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے معاملے میں ہے ۔۔اور پھی کہیں سے تو آغاز ہونا تھا چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام سے ہؤا
یہ بات مستند حوالے سے معلوم نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام پہلے رسول تھے
وحی انبیاء و رسل دونوں پر آتی رہی ہے
باقی ، واللہ اعلم
 

شمشاد

لائبریرین
میری رائے میں اب اس بات پر مزید بحث نہ کی جائے اور عنوان کی طرف رجوع کیا جائے تو مناسب رہے گا۔
دوسری صورت میں نئی لڑی کھولی جا سکتی ہے۔
 
اور یہ بات کہیں سے بھی ثابت نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام پر بھی وحی آتی تھی۔
نجانے آپ نے یہ بات کہاں سے اخذ کرلی ہے کہ آدم علیہ السلام نبی نہیں تھے۔یہ بالکل بے بنیاد بات ہے اور قرآن پاک کی کافی آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے نبی تھے۔
جہاں تک آپ کا یہ کہنا ہے کہ کہیں سے بھی ثابت نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام پر وحی آتی تھی، یہ بھی بہت عجیب بات کی ہے آپ نے۔ :)
 

شمشاد

لائبریرین
نجانے آپ نے یہ بات کہاں سے اخذ کرلی ہے کہ آدم علیہ السلام نبی نہیں تھے۔یہ بالکل بے بنیاد بات ہے اور قرآن پاک کی کافی آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے نبی تھے۔
جہاں تک آپ کا یہ کہنا ہے کہ کہیں سے بھی ثابت نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام پر وحی آتی تھی، یہ بھی بہت عجیب بات کی ہے آپ نے۔ :)
محمود بھائی آپ نے لکھا کہ قرآن پاک کی کافی آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے نبی تھے، تو برادر ان کافی آیات میں سے چند ایک کا حوالہ عنایت فرمائیں۔​

اور یہ کہ جو عجیب بات میں نے کی ہے اس کی وضاحت فرما دیں۔​

والسلام​
 

شمشاد

لائبریرین
حضرت آدم علیہ السلام کسی کے نائب نبی نہ تھے بلکہ پہلے انسان اور نبی تھے ، یہ اعزاز حاصل ہے انکو ، کیونکہ ضروری نہیں کہ نبی کسی کی نیابت ضرور کرے ، کر بھی سکتا ہے جیسا کہ ہارون علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کی کی، اور نہیں بھی جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے معاملے میں ہے ۔۔اور پھی کہیں سے تو آغاز ہونا تھا چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام سے ہؤا
یہ بات مستند حوالے سے معلوم نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام پہلے رسول تھے
وحی انبیاء و رسل دونوں پر آتی رہی ہے
باقی ، واللہ اعلم
اوپر آپ کہہ رہے تھے کہ نبی رسول کا نائب ہوتا ہے، پھر حضرت علیہ السلام کے معاملے میں ایسا نہیں تھی۔ یہاں کہہ رہے ہیں ضروری نہیں کہ نبی کسی کی نیابت ضرور کرے، پھر حوالہ بھی دے رہے ہیں کہ کر بھی سکتا ہے۔

نیز یہ کہ "میں نے سُنا ہے ۔۔۔۔" اور "غالباً ۔۔۔۔۔" سے کام نہیں چلتا۔ مستند حوالے کی ضرورت ہوتی ہے۔

والسلام
 

شمشاد

لائبریرین
محمود بھائی اراکین کی آسانی کے لیے آیت کا حوالہ اور ترجمہ بھی لکھ دینا تھا ناں۔
 
Top