وادئ ناران کی سیر

ابو ہاشم

محفلین
'میرے سارے سفر میں سب سے کم خوبصورت سیف الملوک لگی'
جی ایسا ہی ہے ہم نے 18 تا 21 جولائی وادئ کاغان کی سیر کی۔ اس وقت تک جھیل سیف الملوک کے اردگرد برف بہت کم رہ گئی تھی اور جو باقی تھی وہ بہت زیادہ میلی ہو چکی تھی۔ اس وجہ سے جھیل سیف الملوک مرجھائی ہوئی لگ رہی تھی۔ اب تک تو اس کی خوبصورتی مزید کم ہو چکی ہو گی
اور وہ جیپیں! ان کی اتنی بڑی تعداد سے بھی جھیل کا نظارہ خراب ہو گیا ہے خصوصًا پہلی نظر کا جھیل کا منظر۔
 
آخری تدوین:
آپ کی حوصلہ افزائی کے لیے ہم اس لڑی کی نگرانی کا آغاز کیے دیتے ہیں ۔:)

بہت عمدہ اور شاندار مریم بہن ۔

واہ زبردست !
بہت بہت عمدہ تصویر ۔
کچھ کچھ پینٹگ کی مشابہت ہے۔

شکریہ عدنان بھائی! آپ کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہی لڑی آگے بڑھ رہی ہے. :)
 
خوبصورت روداد ۔
ملکہ پربت کے بارے میں ایک چیز مشہور ہے کہ اس کی چوٹی پہ ہروقت بادل کا ایک ٹکڑا موجود رہتا ہے ۔ اس میں کس حد تک صداقت ہے ؟؟
جب مجھے وہاں جانے کا اتفاق ہوا تھا تب سارے دن کے دوران بادل کے کچھ ٹکڑے موجود رہے تھے وہاں ۔
جب تک میں دیکھتی رہی، اس کی چوٹی پر وہ ٹکڑا موجود ہی رہا. تاہم اگر وہ ٹکڑا سب کی آنکھ بچا کے ادھر ادھر ہو جاتا ہو تو کچھ کہا نہی‍ں جا سکتا. :)
 
جی ایسا ہی ہے ہم نے 18 تا 21 جولائی وادئ کاغان کی سیر کی۔ اس وقت تک جھیل سیف الملوک کے اردگرد برف بہت کم رہ گئی تھی اور جو باقی تھی وہ بہت زیادہ میلی ہو چکی تھی۔ اس وجہ سے جھیل سیف الملوک مرجھائی ہوئی لگ رہی تھی۔ اب تک تو اس کی خوبصورتی مزید کم ہو چکی ہو گی
اور وہ جیپیں! ان کی اتنی بڑی تعداد سے بھی جھیل کا نظارہ خراب ہو گیا ہے خصوصًا پہلی نظر کا جھیل کا منظر۔
اصل میں سارے فیلوز ہی یہی کہہ رہے تھے کہ یہ ہے وہ جھیل؟ بچپن سے جس کے قصے سنائے جاتے رہے ہیں اور ہم اتنا مشکل سفر کر کے جس کے لیے آئے ہیں!

وجہ یہ ہے کہ ہم نے لولو سر جھیل کا شفاف پانی دیکھ رکھا تھا اور سیف الملوک کا جتنا نام ہے، ہماری توقعات اس سے بہت ہی زیادہ تھیں. یہی پانی شفاف ہو تو جھیل کا یہی منظر بہترین ہوگا لیکن پانی گدلا ہونے کی وجہ کیا ہے؟
 
یہ ملکہ پربت کیا ہے؟ کہاں ہے؟
جھیل سیف الملوک سے نظر آتی ہے. یہ اس وادی کی بلند ترین چوٹی ہے جس کی اونچائی غالبا سترہ ہزار تین سو ساٹھ فٹ ہے. سیف الملوک سے اس کا فاصلہ لگ بھگ چھے کلومیٹر ہے.
 
آخری تدوین:
سیف الملوک کے متعلق کئی کہانیاں مشہور ہیں. کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سیف الملوک ایک شہزادہ تھا جس پر پری عاشق تھی اور کچھ رات میں اس کے شفاف پانی کے عکس میں چاند ستاروں کے عکس کی خوبصورتی کے متعلق بیان کرتے ہیں.

وہاں کے ایک مقامی بچے سے جس کا گھر جھیل کے ساتھ پہاڑی کے عین اوپر واقع تھا، میں نے پوچھا کہ آپ خوش ہو کہ آپ سیف الملوک پر رہتے ہو؟ اور جوابا نہیں کہتے وقت اس کی آنکھو‍ں میں جتنی بیچارگی تھی، مجھے جھٹ سے یہ خیال آیا کہ پیٹ بھرا ہو تو دنیا کے سب فلسفے اور ساری خوبصورتیاں ذہن میں آتی ہیں.
وہاں کافی قبریں بھی ہیں. غالبا کچھ خاندان مستقل طور پر جھیل پر آباد ہیں اور ان میں سے مرنے والے بھی وہیں دفن کیے جاتے ہیں.
پریاں اترنے کے راز پر سے پردہ فاش کرنے کے متعلق کہا تو جواب ملا کہ یہاں کافی لوگ چلہ کاٹتے ہیں، چالیس روز بعد ان کو نظر آتی ہیں. کچھ زیادہ یقین نہ آیا تو مزید تفتیش کی پھر یہ جواب آیا کہ چاند کی چودھویں رات کو اس کا حسن جوبن پر ہوتا ہے.
 

ام اویس

محفلین
بہت دلچسپ روداد ہے آپ کے سفر کی مریم افتخار
اور تصویریں بھی بہت زبردست دیکھتے ہی میں تو وہاں پہنچ گئی ۔

جھیل سیف الملوک کی خوبصورتی شروع سیزن میں عروج پر ہوتی ہے جب اس پر برف کے بڑے بڑے ٹکرے تیر رہے ہوتے ہیں ۔ اس وقت اس کا پانی شفاف ہوتا ہے اور اس میں برف سے ڈھکے پہاڑوں کا عکس مزید سفیدی دکھاتا ہے پھر بادلوں کا عکس ، بہت خوبصورت رنگ اترے ہوتے ہیں ۔ جوں جوں موسم اپنے اختتام کی طرف بڑھتا ہے گلیشیر پگھلنے کی وجہ پہاڑوں کی مٹی کیچڑ میں بدلتی ہے اور جب جھیل کے پانی میں شامل ہوتی ہے تو پانی گدلا ہوجاتا ہے ۔
شدید گرمی کے موسم میں جوں جوں پہاڑوں سے نیچے آئیں پانی کا رنگ اتنا مٹیالہ ہوجاتا ہے کہ چاکلیٹ ریور میں بدل جاتا ہے ۔
 
ہمارے ہوٹل اور بابو سر ٹاپ کے راستے میں ایک جھیل آئی جس کا نام لولوسر تھا. اس کا پانی اس قدر شفاف تھا اور اس کی خوبصورتی اس قدر جوبن پر تھی کہ ایک لمحہ بھی نظر نہ ہٹتی تھی. تصاویر اس کا حق تو بالکل بھی ادا نہ کر پائیں گی مگر چند ایک حاضر ہیں:
 
آخری تدوین:
Top