1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

جمال احسانی نہ کوئی فال نکالی نہ استخارہ کیا

خبیب احمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 5, 2013

  1. خبیب احمد

    خبیب احمد محفلین

    مراسلے:
    2
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    نہ کوئی فال نکالی نہ استخارہ کیا
    بس اک صبح یونہی خلق سے کنارہ کیا

    نکل پڑیں گے گھروں سے تمام سیارے
    اگر زمین نے ہلکا سا اک اشارہ کیا

    جو دل کے طاق میں تو نے چراغ رکھا تھا
    نہ پوچھ میں نے اسے کس طرح ستارہ کیا

    پرائی آگ کو گھر میں اٹھا کے لے آیا
    یہ کام دل نے بغیر اجرت و خسارہ کیا

    عجب ہے تو کہ تجھے ہجر بھی گراں گزرا
    اور ایک ہم کہ ترا وصل بھی گوارا کیا

    ہمیشہ ہاتھ رہا ہے جمال آنکھوں پر
    کبھی خیال کبھی خواب پر گزارہ کیا
     
    • زبردست زبردست × 7
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,331
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    جو دل کے طاق میں تو نے چراغ رکھا تھا
    نہ پوچھ میں نے اسے کس طرح ستارہ کیا
    بہت عمدہ شراکت خبیب صاحب
    جمال احسانی.....سبحان اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    واہ بہت خُوب - یہ شعر جمال احسانی ہی کہہ سکتے تھے وہ جمال احسانی جنھوں نے ایک صبح خلق سے یوں کنارہ کیا
    کہ زندگی کو ریل کی پیٹری کے سُپرد کردیا
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    سبحان اللہ۔۔۔۔!

    کیا ہی اچھی غزل ہے۔

    حیرت ہے کہ جمال احسانی کی غزل اور ہماری نظروں سے اوجھل رہی۔

    لاجواب ہے یہ غزل۔

    بہت شکریہ خبیب احمد ! :)
     

اس صفحے کی تشہیر