نقوش اقبال از مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ( مکمل صفحات)

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اشتیاق علی

لائبریرین
صفحہ نمبر 153
اور ریب و تشکیک اور بے دینی و الحاد کے جراثیم داخل کر دے جیسا کہ اکبر نے اس نظام تعلیم کی ہلاکت آفرینی کی طرف اشارہ کیا تھا۔
یوں قل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کی فرعون کو کالج کی نہ سوجھی!

دینداروں میں بھی دینی روح کا فقدان
اقبال کا خیال ہے کہ عالم اسلام نیں باطل پسند تحریکیں اپنے اسلام دشمن پروگرام میں بہت بڑی حد تک کامیاب ہوتی رہی ہیں جس کے سبب دینی شعور کی کمی حرارت ایمانی کا ضعف ، غیرت اسلامی کا وقدان اور روح جہاد کی کمیابی عام ہو گئی اور نفع طلبی اور مادہ پرستی کے سیلاب نے عالم اسلام کے جزیرے کو چاروں طرف سے گھیر لیا شاعا بلاد اسلامیہ کے مشاہدہ اور جائزہ کے بعد کہتا ہے کہ میں نے عرب و عجم میں ہر جگہ گھوم پھر کے دیکھا ۔۔۔۔ ابو لہب کے نمائندے تو ہر جگہ نظر آئے لیکن روح محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سرشار لوگ کریت احمر اور عنقا سے بھی زیادہ کم یاب بلکہ نایاب ہیں۔
در عجم گردیدم و ہم در عرب
مصطفے نایاب و ارزاں ابو لہب!
وہ اپنی دوسری نظم میں کہتے ہیں کہ اب بلاد عربیہ میں اس سوزوروں کی فضا نہیں ملتی جس کے لئے عرب ہمیشہ سے ممتاز رہے ہیں ، اور نہ عجم میں وہ رعنائی افکار نظر آتی ہے جو اس کا طرہ امتیاز رہی ہے ، گیسوئے دجلہ و فرات اگرچہ تابدار ہیں اور حق و باطل کا وہی معرکہ برپا ہے ، لیکن قافلہ حجاز میں کوئی حسین رضی اللہ تعالی عنہ نظر نہیں آتا۔
 

اشتیاق علی

لائبریرین
صفحہ نمبر 154
کیا نہیں اور غزنوی کا رگہ حیات میں
بیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات
ذکر عرب کے سوز میں فکر عجم کے ساز میں
نے عربی مشاہدات نے عجمی تخیلات
قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات
(ذوق و شوق)

اقبال مسلمانوں کی زندگی میں اس زوال اور اضحملال کو دیدہ عبرت نگاہ سے دیکھتے اور خون کے آنسو روتے ہیں ، وہ اپنی نظم میں توحید کے علمبردار کی غیرت کو جھنجھوڑتے ہیں ، اور کہتے ہیں "اے اسلامی توحید کے وارث! نہ تیرے پاس وہ کلام ساحر ہے جس سے تو دلوں کو موہ لیتا تھا ، نہ وہ عمل قاہر جس سے سر کشوں کو مسخر کر تا تھا ، کبھی تم وہ تھے کہ تمہاری نگارہ مرد افگن اور صاعقہ فن تھی اور آج نہ تم میں وہ روح ہے، اور نہ وہ جذب و کشش":-
اے لاالہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں
گفتار دلبرانہ کر دار قاہرانہ!
تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے
کھویا گیا ہے تیرا جذب قلندرانہ
(بال جبریل)

دوسری جگہ بڑے حسرت آمیز انداز میں کہتے ہیں کہ مرد مومن کو وہ سجدہ شوق جس سے کبھی روح زمیں و جد میں جھوم اٹھتی تھی اور کبھی اس کی اگر انمائیگی سے کانپ جاتی تھی ، منبر و محراب مدت سے اسی سجدے کو ترس رہے ، اور اسی یاد میں تڑپ رہے ہیں ۔۔۔۔ لیکن خلاف امید مصر و فلسطین میں بھی گوش مشتاق اس اذان کو ترستا ہی رہا ، جس سے پہاڑ بھی لرز اٹھے تھے۔
وہ سجدہ روح زمیں جس سے کانپ جاتی تھی
اسی کو آج ترستے ہیں منبر و محراب
سنی نہ مصر و فلسطین میں وہ اذاں میں نے
دیا تھا جسے پہاڑوں کو رعشہ سیماب
(بال جبریل)

اور کہیں تو ان جیسے رجائی شاعر کو بھی مایوس ہو کر کہنا پڑتا ہے:-
بجھی عشق کی آگ اندھیرہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
 

اشتیاق علی

لائبریرین
صفحہ نمبر 155
تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف
(بال جبریل)

اور کہیں اس کی فلسفیانہ توجیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں میں حسب صادق اور عشق حقیقی کی چنگاریاں باقی ہیں ہیں ، اور ان کے جسم میں خون زندگی بھی نہیں رہ گیا ، وہ لاشہ بے جان بن کر رہ گئے ہیں ، ان کی اجتماعیت کی صفیں درہم برہم ان کے دل ایک دوسرے سے پھرے ہوئے ، ان کے سجدے بے ذوق و شوق بن کر رہ گئے ہیں ، اور یہ سب اس لئے ہے کہ ان میں روح اجتماعی اور قلب کی والہانہ کیفیت نہیں:-
محبت کا جنوں باقی نہیں ہے
مسلمانوں میں خوں باقی نہیں ہے
صفیں کج ، دل پریشان سجدہ بے ذوق
کہ جذب اندروں باقی نہیں ہے

نشاۃ ثانیہ
لیکن اقبال اپنی امید کیشی ، آرزو مربی اور رجائیت کے پیش نظر یہ توقع ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی صدمات اور مصائب اور حوادث و آلام نے اگرچہ عالم اسلامی کو گھیر لیا ہے ، لیکن اس سے وہ بیدار بھی ہو گیا ہے ، اور اس میں نئی زندگی اور تازگی کے آثار پیدا ہو چلے ہیں، وہ اپنی نظم طلوع اسلام میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہیں کہ ستاروں کی کم تابی اس کی دلیل ہے کہ افسون شب ختم پر ہے اور وہ پھٹنے والی ہے ، اور صبح نو اس بات کی دلیل ہے کہ خورشید جہاں تاب نکلنے ہی والا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ حوادث و افکار نے مسلمانوں میں جذبہ اسلامی اور خود شناسی کا ولولہ پیدا کر دیا ہے، اور طوفان کفر نے اس کو اپنے ایمان پر اور مضبوطی سے جما دیا ہے ، اور مشرق میں مغرب کے چیلنج کے اثر سے
 

اشتیاق علی

لائبریرین
صفحہ نمبر 156
شدید رد عمل پیدا ہو چلا ہے ، یہ جوش ایمانی اور محبت اخوانی ابن سینا وفرا رابی اور جدید منطق و عقل کے دائرہ سے باہر ہے۔
اور یہ آثار ایسے ہیں کہ مسلمانوں کو شکوہ ترکمانی ، ذہن ہندی ، نطق اعرابی ، اور ان کی عظمت رفتہ واپس ملنے والی ہے۔
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی!
افق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابی
عروق مردہ مشرق میں خون زندگی دوڑا
سمجھ سکتے ہیں اس راز کو سینا و فارابی
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونیوالا ہے
شکوہ ترکمانی ، ذہن ہندی ، نطق اعرابی

اقبال کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی فطرت سیمابی اور ان کی طبیعت سراپا بے تابی ہے وہ اگ ر آج اس کروٹ ہیں تو کل بیداری کی کروٹ بھی بدلیں گے۔
جدا پا رے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابی

ان کی نگاہ میں سر شک چشم مسلم ، صرف آنسو نہیں بلکہ ابرینساں ہے ، جس سے دریائے خلیل میں لعل و گہر پیدا اور سیراب ہوتے ہیں ، مسلمان ان کی نظر میں خدائے لم یزل کا دست قدرت اور زبان ہے ، اور ستارے بھی اس کے کاررواں کی گرد راہ ہیں ، وہ چونکہ خدا کا آخری پیغام ہے ، اس لئے جاوداں اور ازل ابد پر محیط ہے ، اور اس کی فطرت ، ممکنات زندگی کی امین اور وہ اشیاء کا پاسبان ہے ، اسلام اور زندگی ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں اس لئے مسلمان کی نشاۃ ثانیہ بھی نوشتہ تقدیر ہے۔
ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئی
 

اشتیاق علی

لائبریرین
صفحہ نمبر 157
اقبال مایوس کن مشاہدات اور تجربات کے باوجود ملت اسلامیہ سے کبھی ناامید نہیں ہوئے بلکہ اس کی صلاحیتوں اور اہلیتوں کے پیش نظر یہی کہتے رہے :۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی نکشت ویراں سے
ذرانم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

مسلمان عالم نو کا بانی و معمار !
اقبال کا یہ خیال ان کے ایمان و یقین کے درجہ پر تھا کہ مغربی تہھیب اپنا رول ادا کر چکی اور اس کا وقت پورا اور اس کا ترکش خالی ہو چکا اور اب وہ بڑھاپے کی منزل میں ہے وہ اس پکے ہوئے پھل کی طرح ہے ، جو ٹوٹ کر گرنے والا ہے۔
تاک میں مدت سے بیٹھے ہیں یہودی سود خوار
جنکی روباہی کے آگے ہیچ ہے زور پلنگ
خود بخود گرنے کو ہے پکے ہوئے پھل کی طرح
دیکھئے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ
(بال جبریل)

ان کے خیال میں عالم پیر نزع کے عالم میں ہے اس کی موت یقینی ہے:۔
نہ ایشیا میں نہ یورپ میں سوز و ساز حیات
خود ی کی موت ہے یہ اور وہ ضمیر کی موت
دلوں میں ولولہ انقلاب ہے پیدا
قریب آ گئی شاید جہان پیر کی موت

وہ عالم قدیم جس میں یورپ کے جواری ہارجیت کی بازی لگا رہے ہیں وہ بنیاد ہی سے مٹنے والا ہے ، اور اس کی بنیادوں پر ایک نئی دنیا کی تعمیر ہونے والی ہے ، اقبال کہتے ہیں کہ اس دنیا کی تعمیر بھی وہی کر سکتا ہے، جس نے انسانیت کے لئے دنیا میں بیت الحرام بنایا تھا ، اور ابراہیم علیہ السلام و محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے وارث ہوئے تھے ، اور دنیا کی قیادت کا علم سنبھالا تھا ، اقبال مسلمانوں کو اس بار امانت کے اٹھانے کی دعوت دیتے اور انہیں بیدار و تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں
 

اشتیاق علی

لائبریرین
صفحہ نمبر 158
کبھی مشرق و مغرب کی تباہی کا واسطہ اور کبھی خدا کی قسم دیتے ہیں ، اور کبھی یورپ کے پیدا کردہ عالمی بگاڑ ، فساد اور انتشار کا حوالہ سامنے لاتے ہیں کہ اس نے دنیا کو بجائے امن و عافیت کے گہوارے کے فتنہ و فساد ، مصائب و آلام ، ظلم و ستم ، آہوں اور کراہوں کا جہنم بنا دیا ہے ، جو زمین مسجد کی طرح پاک و مقدس مانی گئی تھی اور جس میں خدا کے ذکر و فکر ، تسبیح و تقدیس حمد و ثنا کی تعلیم دی گئی تھی ، اسے فرنگ نے اپنی بد طینتی سے میخانہ اور قمار گاہ ، درندوں کا بوٹ ، فسق و فجور اور چوروں لٹیروں کی پناء گارہ بنا دیا اس لئے وقت آ گیا ہے کہ بانی بیت الحرام ، اور حامل پیام اسلام پھر عالمی قیادت کے لئے میدان میں آئے اور مغرب کے پیدا کردہ فساد کو صلاح سے ، بگاڑ بو بناؤ سے اور تخریب کو تعمیر سے بدل دے اور قواعد ابراہیمی اور سنت محمدی کے نقشہ کے مطابق دنیا کی تعمیر نو کرے ، اقبال کا لا فانی نغمہ اب فضاؤں میں گونج رہا اور مسلمانوں کو دعوت فکر و عمل دے رہا ہے :۔
ناموس ازل را تو امینی تو امینی
را رائے جہاں را تو یسا ری توئیینی
اے بندہ خاکی تو زمانی تو زمینی
صہبارے یقیں درکش و ازویر گماں خیز
از خواب گراں ، خواب گراں ، خواب گراں خیز
(از خواب گراں خیز!)

فریاد ذرا فرنگ و دلآویزئ افرنگ
فریاد زشیرنیی و پرویزئ افرنگ
عالم ہمہ دیرانہ ز چنگیزئ افرنگ
معمار حرم ! باز بہ تعمیر جہاں خیز !
از خواب گراں ، خواب گراں ، خواب گراں خیز
(از خواب گراں خیز!)
 

اشتیاق علی

لائبریرین
صفحہ نمبر 159

اقبال کا پیغام بلاد عربیہ کے نام
اقبال نے اپنی منتخب نظموں میں سے ایک خاص نظم بلاد عرب اور مت عربیہ کے لئے اپنی نیک خواہشات اور محسوسات کے اظہار کی خاطر لکھی ہے جس میں ان کے فضل و شرف ، اسلام کی علمبرداری اور انسانیت کی دستگیری کا ذکر کیا ہے اور تاریخ کے اس عظیم اور تابناک صبح کی طرف اشارہ کیا ہے ، جو انسانیت کی شب فراق و حرماں کی صبح و صال وسعادت بن گئی ۔
بات سے بات نکلتے ہی اقبال اپنے محبوب خطہ ارض میں پہنچ کر اپنی محبوب شخصیت کو یاد کرنے لگتے ہیں ، جس کے ہاتھوں سے اس امت کی نشاۃ ثانیہ بلکہ انسانیت کی ترقی و نجات اور سعادت کی راہ کھلی۔
یہاں پہنچ کر وہ اپنی طبیعت کے بے روک ٹوک اور قید و بند کے اس کے فطری بہاؤ پر ڈال دیتے اور زمام کار و طاقت و گفتار قلب و روح کے سپرد کر دیتے ہیں اور پھر گل افشانی گفتار کا سماں بندھ جاتا ہے۔
 

اشتیاق علی

لائبریرین
صفحہ نمبر 160
آپ امت عربیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں" اے وہ امت عربیہ! جس کے بیابان و صحرا کے لئے بھی اللہ نے بقائے دوام مقدر کر دیا ہے ، اے وہ عظیم قوم جس کی زبان سے تاریخ نے پہلی بار سنا کہ ، قیصر و کسری کا استبدادی نظام اب ختم ہوا "۔
وہ کونسی قوم ہے جس کے نام پہلے پہل قرآن جیسا مقدس صحیفہ اترا ، وہ کون سی جماعت ہے ، جسے اللہ نے توحید کا راز وار بنایا اور جس نے معبود ان باطل کی خدائی سے علانیہ انکار کر کے ان کی عظمت کا تختہ الٹ دیا ۔ وہ کونسی سرزمین ہے ، جہاں وہ مشعل ہدایت روشن ہوئی جس سے عالم منور ہو گیا ، کیا دنیا تمہارے سوا کسی اور کا نام لے سکتی ہے؟ علم و حکمت اور تمام فضائل اخلاق تمہاری دین ہیں ، اور یہ سب ایک نبی امی (فداہ ابی دامی) کا زندہ معجزہ ہے ، جس نے صحرہ کو چمن زار بنا دیا ، جہاں حریت و مساوات کی ہوا چلی اور جہاں تہذیب نے آنکھیں کھولیں ، جسم بشری بے قلب و روح تھا اسے دل و جاں بخشے گئے ان کے فیض اثر سے اس کے روئے زیبا سے جہالت و جاہلیت کا گرد و غبار چھٹ گیا ، جس کے بعد و روشناس علم ہوا ۔
علوم و فنون زندہ ہوئے اور تہذیب و تمدن نے برگ و بار پیدا کئے ، ان کے حلقہ بگوشوں میں وہ اولو العزم فاتح ، ابطال ، اور قائدین پیدا ہوئے جنہوں نے حق و باطل کی جنگ میں حق و صداقت کو فیصلہ کن کامیابی عط کی ، انہوں نے دنیا کو وہ خدا شناس مجاہد دئیے ، جو دن کو میدان جنگ کے شہسوار اور رات کے اندھیروں میں عابد شب زندہ دار بن کر رہے ، جنہوں نے تلواروں کی چھاؤں میں اذانیں دیں اور عین معرکہ حرب و ضرب

_______________________________________
یہ اس حدیث مشہور کی طرف اشارہ ہے جس میں کہا گیا ہے، اذا ھلک قیصر فلا قیصر بعدہ اذا ھلک کسری فلا کسری بعدہ۔
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
صفھہ نمبر 57 ہیجا ننغ او آہن گداز
دیدہ اواشکبار اندر نماز
دردوعائے نصرت آمیں تیغ اُو​
قاطع نسل سلاطیں اُو​
در جہاں آئین نو آغاز کرو​
مسند اقوام پیشیں در نورد​
از کلید ویں در دنیا کشاد​
ہمچواو بطن ام گیتی نزاد​
در نگاہ اویکے بالا و پست​
باغلام خویش بریک خوان نشت​
در مصاٍفحے پیش آں کردوں سر پر​
دختر سردار طئے آمداسیر​
پارے در زنجیر وہم بے پردہ دید​
چادر خود پیش روئے اوکشید​
آن کہ براعد اور رحمت کشاد​
مکہ را پیغام لا تثریب داد​
ماکہ از قید وطن بیگانہ ایم​
چوں نگہ نورو و چشم و یکیم​
از حجاز و چیں وا ایرا نیم ما​
شبنم یک صبح خند نیم ما​
مست چشم ساقی بطحا سیتم​
در جہاں مثل مے ومینا ستیم​
امیتازات نسب را پاک سوخت​
آتش اوایں خس و خاشاک سوخت​
شور عشقش ور نئے خاموش من​
می تید نغمہ ور آغوش من​
من چہ گوئم از تو لائش کہ حپسیت​
خشک چوپے در فراق او گر یست​
ہستی مسلم تجلی گاہِ اُو​
طورہا بالدز گر و راہِ اُو​
جوں جوًں زندگی کے دن گزرتے گئے ، اقبال کی بنی صلے اللہ علیہ وعلیہ وسلم کے ساتھ والہانہ محبت و الفت بڑھتی ہی گئی ، یہاں تک کہ آخری عمر میں جب بھی ان کی مجلس نبی صلے اللہ علیہ وسلم کا ذکر آتا یا مدینہ منورہ کا تذکرہ ہوتا ، تو اقبال بے قرار ہو جاتے ،​
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
صفحہ نمبر 58
آنکھیں پُر آب ہو جاتیں یہاں تک کہ آنسو رواں ہو جاتے یہی وہ گہری محبت تھی ، جو ان کی زبان سے الہامی شعروں کو جاری کر دیتی تھی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب ہوئے فرماتے :-
مکن رسوا حضور خواجہً مارا
حساب من ز چشم اونہاں گیر
یہ شعر محبت و عقیدت کا کتنا اچھا مظہر ہے ۔ دراصل علامہ اقبال کا یہی وہ ایمان کامل اور حب صادق تھی ، جس نے اقبال کے کلام میں یہ جوش ، یہ ولولہ ، یہ سوز گداز پیدا کر دیا ، اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ دراصل رقت انگیز شعر عمیق فکر ، روشن حکمت ، بلند معنویت ، نمایاں شجاعت ، نادر شخصیت اور عقبریت کا حقیقی منبع و سر چشمہ محبت و یقین ہی ہے اور تاریخ میں جو کچھ بھی انسانی کمالات یا دائمی آثار و نشانات نظر آتے ہیں ،وہ سب کے سب اسی محبت و یقین کے مرہونِ منت ہیں ، اگر کوئی شخصیت یقین و محبت کے جذبہ سے خالی ہو تو پھر وہ صرف گوشت و پوست کی صورت ہے اور اگر پوری امت اس سے خالی ہے ، تو پھر اس کی وقعت بکریوں اور بھیڑوں کے گلے سے زیادہ نہیں، اور اسی طرح اگر کسی کلام میں یقین و محبت کی روح کارفرما نہیں ہے تو پھر وہ ایک مقفیٰٰ اور موزوں کلام تو ہو سکتا ہے لیکن ایک زندہ جاوید کلام نہیں بن سکتا ، اور جب کوئی کتاب اس روح سے خالی ہو تو اس کتاب کی حیثیت مجموعہ اوراق سے زیادہ نہیں ہو گی اور اسی طرح اگر کسی عبادت میں محبت و یقین کا جذبہ شامل نہیں ہے
 

ناعمہ عزیز

لائبریرین
صفحہ نمبر 59
تو پھر وہ ایک بے روھ ڈھانچہ ہے ، عرضکہ پوری زندگی اگر محبت و یقین کے جذبہ سے خالئ ہے تو پھر وہ زندگی زندگی نہیں بلکہ موت ہے اور پھر ایسی زندگی کا کیا ؟ جس میں طبعتیں مردہ و افسردہ ہوں ، نظم و نثر کے سر چشمے خشک ہوں اور زندگی کے شعلے بجھ چکے ہوں ، ایسی حالت میں یقین کامل اور حب صادق ہی حیات انسانی میں جلا پیدا کرتی ہے، اور انسانی زندگی نو رورنگ سے مخمور ہو جاتی ہے ، پھر شستہ ، ہوسوزو پردرد ، روح نواز اور جاں بخش کلام سننے میں آتے ہیں ، خارق عادت شجاعت و قوت دیکھنے میں آتی ہے ، اور علم و ادب کے نقوش زندہ جاوید بن جاتے ہیں ، یہاں تک کہ یہی محبت اگر پانی، مٹی اور اینٹ پتھر میں داخل ہو جائے تو اس کو بھی زندہ جاوید بنا دیتی ہے ، ہمارے سامنے اس کی روشن مثال مسجد قرطبہ ، قصر زہرا اور تاج محل ہیں ،سچ تو یہ ہے کہ محبت و یقین کے بغیر ادب و فن مردہ و افسردہ و ناتمام ہیں :-
نقش ہیں سب نا تمام خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر
بڑی غلط فہمی میں وہ لوگ مبتلا ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اہل علم حضرات اپنی قوتِ علم کثرتِ معلومات اور ذکاوت و ذہانت کی وجہ سے ایک دوسرے سے سبقت لیجاتے ہیں یا ایک دوسرے پر فضیلت سکھتے ہیں اور اسی طرح شعراء کو ان کی فطری قوتِ شاعری لفظوں کا حسنِ انتخاب ، معانی کی بلاغت ، انھیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہے اور امصلحین وقت اور قائدین ملت کی بلندی و پستی موقوف ہے ان کی ذہانت کی تیزی ، خطابت کی بلندی ، سیاسی سوجھ بوجھ اور حکمتِ عملی پر حالانکہ ایسا نہیں ہے ، حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی فضلیت و بلندی کا دار مدار محبت و اخلاص پر ہے ، ان کی سچی محبت
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
161-162


میں نمازِ شوق ادا کی، بطل غیور صلاح الدین کی تلوار اور زاہد کامل بسطامیؒ کی نگاہِ تقوی پناہ۔۔۔۔ دنیا اور آخرت کے لیے شاہ کلید تھی۔
اس کے پیغام کی ہمہ گیری کے نیچے قلب و دماغ اور عقل و روح دونوں جمع ہوجاتے ہیں، رومیؒ کا ذکر اور رازی کا فکر اس کے سائے تلے بہم ہوجاتے ہیں، علم و حکمت دین و شریعت، بادشاہت اور حکومت سب اسی کا طفیل اور الحمرا اور "تاج محل" اسی کا عطیہ اس کی بعثت کا تحفہ اور اس کی عبقری امت کا ہدیہ ہیں، یہ شاندرا اسلامی تہذیب تو اس کے ذوقِ جمال کی ایک ظاہری جھلک ہے۔ اس کے باطنی حسن کا اندازہ تو عارفین و کاملین بھی نہیں لگا سکتے۔
وجود رحمتہ للعالمین سے پہلے انسان ایک مشتِ خاک سے زیادہ حیثیت نہ رکھتا تھا۔ ان کی بعثت نے ایمان و احسان اور علم و عرفان سے اسے آگاہ کیا۔
اے درد دشت تو باقی تاابد
نعرہ لا قیصر و کسریٰ کہ زو؟
رمز الا اللہ کرا آموختند
ایں چراغ اول کجا افروختند
ازوم سیراب آں امی لقب
لال ہست از ریگ صحرائے عرب
حریت پردردہ آغوش اوست
یعنی امروز امم ازدوشِ اوست
ادولے در پیکر آدم نہاد
اونقاب از طلعتِ آدم کشاد!
سطوت بانگ صلوٰت اندر نبرد
قرأت الصفات اندر نبرد!
تیغ ایوبی نطاہ با یزید ؒ !
گنجہائے ہر دوعالم را کلید!
عقل و دل رامستی ازیک جام مے
اختلاط ذکر و فکر روم ورے
علم و حکمت ، شرع و دیں نظمِ امور
اندرونِ سینہ دل ہا ناصبور!
حسن عالم سوز الحمراد تاج
انکہ از قدوسیاں گیرد خراج
ایں ہمہ یک لحظہ از اوقاتِ اوست
یک تجلی از تجلیاتِ اوست
ظاہر ہرش ایں جلوہ ہائے دل افروز
باطنش از عارفاں پنہاں ہنوز
(پس چہ ہایدکرد)
اقبال عربوں کے دو جاہلیت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بعثت محمدی سے پہلے عربوں کا کوئی نظام نہ تھا اور وہ فوضونیت اور انارکی کا شکار تھے، ان کی زندگی جانوروں کی زندگی تھی اور کھانے پینے سے آگے ان کے سامنے زندگی کا کوئی مقصدنہ تھا، ان کی تلوار چمک دار ضرور تھی لیکن جوہر سے خالی اور کند تھی، وہ اسلام سے پہلے اونٹوں کو چراتے تھے لیکن اسلام کے بعد دنیا جہاں بانی ان کے حصہ میں آگئی اور ان کی تکبیر جہاد سے شرق و غرب گونج اٹھے۔
حق ترا براں تراز شمشیر کرد
سارباں را راکب تقدیر کرد
کار خودرا امتاں بروند پیش
توندائی قیمتِ صحرائے خویش!
امتے بودی امم گرویدہ!
بزم خودار خود زہم پاشیدہ
عربوں کی شجاعت اسلامی اور للٰہیت کی مدح کے بعد انہیں یہ منظر غمناک کردیتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ عربوں میں اب نشاط کے بعد پھر جمود و بے حسی، وحدت کی جگہ تفرقہ، قیادت کی بجائے تقلید و پسماندگی پیدا ہوگئی ہے تو وہ انہیں دوستانہ عتاب کے ساتھ مخاطب کرتے اور کہتے ہیں، "تمہارے جمود و خمود پر ایک عالم افسوس کررہا ہے کہ دوسرے قومیں کس طرح تم سے آگے نکل گئیں تم نے اپنے صحرا کی قدر نہیں کی اور کے پیغام کو بھلا دیا۔ تم پہلے ایک ملت ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملت مسلمہ۔۔۔۔۔۔ تھے،
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
163-164


لیکن آج ٹکڑیوں اور گروہوں میں بٹ گئے، پہلے حزب اللہ ہی تمہاری جماعت تھی، لیکن اب تمہاری جماعتیں بے شمار ہیں، عربوں کو معلوم نہیں کہ جو اپنی شخصیت اور حیثیت پر ظلم کرتا ہے اور اعتماد نفس کھو دیتا ہے وہ عالم وجود ہی سے مٹ جاتا ہے اور جو اپنی چھاؤنی سے نکل کر دشمن کی پناہ ڈھونڈتا ہے وہ ذلت و بدبختی اور محرومی و ناکامی کا منہ دیکھتا ہے، عربوں کا شمن ان سے بڑھ کر اور کوئی نہیں انہوں نے خود اپنے ساتھ ناانصافی کی ہے اور روحِ رسولً کو تکلیف دی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روج آج امت عربیہ سے شکوہ سنج اور گلہ گذار ہے:۔
آنچہ تو با خویش کردی کس نکرد
روح پاک مصطفی آمد بدرد!
اے ز افسون فرنگی بی خبر
فتنہ ہا در آستین او نگر!
حکمتش ہر قوم را بے چاره کرد

وحدت اعرابیان صد پاره کرد
تا عرب در حلقہ دامش فتاد
آسماں یک دم اماں اور انداد
شاعرا فرنگ کے مکر و فریب اس کے خطرناک منصوبوں اور ارادوں کو خوب سمجھتا ہے، اس لیے اسے اس نے قریب سے وہ کر دیکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ عربوں کو خوش گمانی میں مبتلا دیکھ کر قدرتی طور پر تکلیف محسوس کرتا ہے اور ان کی اس سادہ لوحی اور زود اعتمادی پر فریاد کرتا ہے کہ وہ انہیں اپنا نجات دہندہ اور مشکل کشا سمجھتے ہیں، وہ انہیں مخاطب کرکے کہتے ہیں۔"نادانو! عقل کے ناخن لو تم فرنگ پر اعتماد کررہے ہو، لیکن اس کے پوشیدہ عزائم کی تمہیں خبر نہیں، تمہیں معلوم نہیں کہ سحر فرنگ نے کتنوں کو مرد بیمار اور مجبور گرفتار بنا کر رکھ دیا ہے تمہیں نظر نہیں آتا کہ افرنگ نے تمہاری وحدت ختم کرکے بیسیوں حکومتیں بنا دیں اور جنگوں میں ان کا کل سرمایہ لوٹ کر ایسا غارت کیا کہ کوئی غمخوار بھی نہیں ملا، اتنا کہنے کے بعد اقبال پھر اپنی فری رجائیت سے کام لیتے ہوئے اور عربوں کو نشاۃ ثانیہ کے لیے ابھارتے ہوئے کہتے ہیں۔
"تمہیں خدا نے جو بصیرت دی ہے اس سے کام لو اور دبی ہوئی چنگاری کو شعلہ جوالہ بنا دو، اپنے اندد عمر بن الخطابؓ کی روح پیدا کرو اور اس راز کو سمجھ لو کہ قوت کا منبع دین و ایمان ہی ہیں، جو مومن کا سرمایہ ہیں، اے صحرا نشینو! جب تک تمہارے دل اسرارِ الہٰیہ کے امین ہیں تمہیں دن کے نگہبان اور دنیا کے پاسبان ہو، تمہاری فطرت خیر و شر کی میزان ہے اور تم روئے زمین کے وارث ازلی ہو جب تمہارا کوکبِ اقبال مطلعِ مشرق سے نمایاں ہوگا تو روشنی ماند پڑ جائے گی۔"
عطر خودرابنگر اے صاحب نظر
در بدن باز آفرین روح عمرؓ!
قوت از جمعیتِ دین مبیں
دین ہمہ عزم است و اخلاص و یقیں
تا ضمیرش روز دان فطرت ست
مرد صحرا پاسبانِ فطرت ست
سادہ طبعش پر عیارٕ زشت و خوب
از طلوعش صد ہزار انجم غروب
عصر حاضر زادہ ایام تست
مستی اوازمے گلفام تست!
شارح اسرار و تو بودہ،
اولیں معمار اوتو بودہ !
تابہ فرزندی گرفت اور افرنگ
شاہدے گروید ے بے ناموس و ننگ
گرچہ شیرین ست و نوشین ست او
کج خرام و شوج بے دین ست او
مردِ صحرا پختہ ترکن خام را
برعیار خود بزن ایام را!
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
165-166


صحرا کی فضائیں تمہارے لیے تنگ ہوسکتی ہیں لیکن اگر تم اپنی خودی کی تعمیر کرتے ہو تو تمہارے وجود کے آفاق بے کراں ہوجائیں گے اور تم آندھی سے زیادہ تند اور سیلاب سے بڑھ کر تیز ہوجاؤ گے اور بازی گاہِ حیات میں تمہارا کوئی مقابل نہ ہوگا۔
اقبال حسرت سے پوچھتے ہیں ہیں آخر کس نے تمہیں زندگی کی دوڑ میں پیچھے کردیا حالانکہ عصر حاضر تمہاری ہی محنتوں کا پھل اور تمہاری دعوت و جہاد کا نتیجہ ہے، زمانے کی اگر باگ جس دن سے تمہارے ہاتھوں سے نکل کر مغرب کی ہاتھوں میں آئی ہے اسی دن سے انسانیت نے اپنا وقار و اعتبار شرف و عزت اور کرامت و افتخار کھو دیا ہے اور منافقت و دین بیزاری اس کا شعار بن گیا ہے۔
اے بادیہ نشیں ! اور اے صحرا نورد! اپنا مقام دیکھ اور رفتار زمانہ کو روک لے، تاریخ کا رخ موڑ دے اور قافلہ بشریت کی اس مقصد اعلیٰ اور منزل آخر کی طرف رہنمائی کر
بگذ راز دشت دور کوہ و دمن
خیمہ را اندر و جودِ خویش زن
طبع از باد بیاباں کردہ تیز
ناقہ را سردہ بمیدانِ ستیز
دانش افرنگیاں تیغے بدوش
در ہلاک نوع انساں سخت کوش
رشتہ سود و زیاں درد ست تست
آبروئے خاوراں درد ست تست
اے امینِ دولت تہذیب و دیں
آں ید بیضا بر آ راز آستیں!
(پس چہ بایدکرد)
اقبال روحِ رسولً سے مخاطب ہوتے ہیں اور امت کی پسماندگی اور زبوں حالی کا رونا روتے اور ایمان کی حرارت، زندگی کی حرکت کی نایابی پر آنسو بہاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام آج وطن میں اجنبی اور پردیسی بن کر رہ گیا ہے، وہ روح محمدً سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں، آپ کی امت کا شیرازہ ابتر اور جمعیت برہم ہوگئی، یہ امتِ مرموم و محروم اب کہاں جائے اور کیا کرے۔۔۔؟ بحر عرب اپنی روانی اور طغیانی اور جوش و خروش کھو چکا ہے اور عرب بھی اپنے سوز دروں سے خالی ہوچکے ہیں، اب میری تسکین و تسلی کی کیا سبیل ہو اور میرے رنج و الم کا مداوا کون کرے۔ زندگی کے طویل سفر میں آپ کی امت کا حدی خواں حیران و سراسیمہ ہے، لیکن مستقبل کی منزل دکھائی نہیں دیتی للہ آپ امت کے حال زار پر نگاہِ کرم فرمائیں اور اس نازک گھڑی میں اس کے دست گیر ہوں
شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر
اب تو ہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے
وہ لذت آشوب نہیں بحرِ عرب میں
پوشیدہ جو ہے مجھے میں وہ طوفاں کدھر جائے
ہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد
اس کوہ و بیاباں سے حدی خوان کدھر جائے
اس راز کو اب فاش کر اے روح محمدً!
آیات الہٰی کا نگہبان کدھر جائے؟
حساس شاعر کو یہ بات سخت ناگوار اور اس کی ناخوشی کا باعث ہے کہ عرب باوجود مسلسل تجربات کے مغربی طاقتوں کو اپنا دوست اور ہمدرد سمجھیں اور ان سے اپنے مسائل و مشکلات کا حال طلب کریں اور خصوصاََ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی امید رکھیں اور اس حقیقت کو نظر انداز کردیں کہ مغربی طاقتوں پر یہودی بری طرح مسلط ہیں اور ان کی سیاسی، اقتصادی اور صحافتی مشنری یہود کے ہاتھ میں ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ جو شعلہ حیات تاریخ میں کبھی بڑی تب و تاب سے سامنے آیا تھا وہ آج بھی عربوں کے اندر موجود ہے اور کسی وقت بھی بھڑک سکتا ہے، مجھے یقین ہے کہ عربوں کی مشکلات کا حال لند اور جنیوا میں نہیں بلکہ ان کی خودی کی تعمیر میں مضمر ہے، اخیر میں شاعر امرائے عرب سے اپنی جرات گفتار کی معذرت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ عربوں سے مجھے امید ہے کہ وہ اس عجمی کی تاب و گفتار کو معاف کریں گے اور
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
167-168
اس عجمی کی حدیث زیر لبی کو اپنے معاملات میں مداخلت نہ سمجھیں گے، اے اہل عرب! تم اس دین کے اولین حقیقت شناس ہو اور یہ بھی جانتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب ابو لہب سے انقطاع ہی پر منحصر ہے اور ایمان و کفر ایک دوسرے کے مقابل ہیں اسی طرح اسلام قومیت، وطنیت اور مادی فلسفوں سے بیزار اور الگ ہے اور عالم عربی سرحدوں اور سر زمینوں کا نام نہیں بلکہ محمد عربی سے انتساب اور اس دین کے تعلق کا دوسرا نام ہے"۔​
کرے یہ کافر ہندی بھی جرات گفتار
اگر نہ ہو امرائے عرب کی بے ادبی
یہ نکتہ پہلے سکھایا گیا کس امت کو
وصالِ مصطفوی، افراق بولہبی
نہیں وجود حدود و ثغور سے اس کا
محمدً عربی سے ہے، عالم عربی!
(امرائے عرب سے)

مسجِد قرطبَہ

؁1933 میں جب اقبال نے مسلمانوں کے فردوسِ گم شدہ ۔۔۔۔۔۔ اندلس ۔۔۔۔۔۔۔ کی زیارت کی تو مسجد قرطبہ میں بھی حاضر ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔یہ حاضری آثار قدیمہ کے کسی شوقین سیاح کی نہ تھی بلکہ ایک مرد مومن اور درد مند و حساس شاعر کی آمد تھی، جو ایمان و عرفان کے اس پیکر جلیل و مظہر کے حضور میں تھی، یہ زیارت ایک عظیم مسلمان کی مسلمانوں کی ایک عظیم یاد گار کے لیے تھی اس کا مقصد اس میراث ایمانی پر انسو بہانا تھا جو عبد الرحمن الداخل اور اس کے ساتھیوں نے یہاں چھوڑی تھی۔
اقبال نے اس تاریخی اور تاریخ ساز مسجد کی ساخت میں بیکراں جذبات، پاکیزہ محبت کے احساسات، فن تعمیر کی عبقریت، اسلامی آرٹ کا اعجاز اور اس کی کرامت، اس کی سادگی و پرکاری جمال کی رعنائی اور حسن کی یکتائی کا بڑی بصیرت سے معاینہ کیا اس منظر عبرت اثر نے مومن شاعر کے نازک جذبات کے تار چھیڑ دئیے جس کے نتیجے میں وہ لافانی نغمہ دنیا نے سنا جسے ہم "مسجد قرطبہ" والی نظم میں گونجتا ہوا پاتے ہیں، اقبال نے
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
159-160

اس عظیم مسجد کو اسلام اور مسلمانوں کی تہذیبی علامت، اشاروں اور رمز (SYMBOL) کی حیثیت سے دیکھا، اس مسجد کے در و دیوار اور نقش و نگار میں انہیں مومن کے اخلاقِ حسنہ اور فضائل و شمائل، عالمی ہمتی و بلند نظری، وسیع القلبی و عالی ظرفی، سادگی اور نیک مزاجی، بلند طبعی و بلند مشربی، اخلاص و للہٰیت، حق پسندی و عزم و ثبات، جرات و بے خوفی، اس کی تواضع او رخود داری اور اس کے جلال و جمال کی تصویر اور اس کا ایک جامع مرقع نظر آیا۔
انہیں مسجد دیکھ کر مسجد کے دہ بانی یاد آئے جن کے ذوق جمال، حسن طبیعت، فن کاری اور صناعی کا یہ مسجد مرصع آئینہ ہے اور پھر ان کے افکار و پیغام کی یاد تازہ ہوگئی جس کے حامل و امین اور داعی و مبلغ تھے، مسجد کے باعظمت و پرشوکت خوش شکل اور قوی ہیکل منارے دیکھ کر وہ اذانین یاد آئیں جو کبھی یہاں کی فضاؤں کو مسحور کرتی تھیں اور جسے لوگ زندگی کے ہنگاموں کے اول و آخر میں ہر روز سنتے تھے، اذانیں اس امت کی انفرادی آواز ہیں، اور اس کے قومی ترانہ (NATIONAL ANTHEM) کی حیثیت رکھتی ہیں، جن کی نظیر نقار خانہ عالم کے کسی صورت و آہنگ نغمہ و موسیقی، اعلان و بیان اور طرزِ اظہار میں نہیں ملتی، اذان جس خطاب عام اور پیغام پر مشتمل ہوتی ہے اس کی مثال دنیا کے کسی فلسفہ و پیام اور مذہب و الہام میں نہیں مل سکتی، ان اذانوں سے کبھی قلبِ کائنات اور روح عالم کانپ اٹھتی تھی اور ایوانِ باطل کے در و بام پر لرزہ طاری ہوجاتا تھا۔
یہی اسلامی اذان تھی جس سے دنیا میں صبح صادق کا اجالہ پھیلا اور چھٹی صدی مسیحی کی گھنگور فضائیں روشن ہو اٹھیں، انہی اذانوں کے طفیل روشنی کی وہ کرنیں پھوٹیں جو تقدیر انسانی کے لیے پیام تجلی بن گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقبال نے ان اذانوں کے تصور میں اس آسمانی پپام اور روحانی ہدایت کو یاد کیا جسے وہ اذانیں آفاقِ عالم تک پہنچاتی تھیں، انہیں اس کے وہ بلیغ معانی یاد آئے ان اذانوں کا مطلب و مفہوم ہیں اور اس تصور سے ان کا عقیدہ اور پختہ ہوا کہ جو قوم اس پیام کی حامل اور اس آفاقی اور ابدی دعوت پر عامل ہوگی وہ بھی اس نظریہ کی طرح زوال اور غیر فانی ہے۔
اس حسین لیکن عبرت انگیز و حسرت خیز منظر تاریخ کی اس یاد گار و شاہکار اور اس عظیم مسجد نے ( جس کا منبر خطبوں سے جس کے صحن و محراب سجدوں سے اور جس کے منارے اذانوں سے صدیوں سے محروم چلے آرہے تھے) اقبال کے دل کا ایک ایک تار چھیڑ دیا اور ان کے غیر مندمل زخموں کو کرید کر اور ہرا کردیا، ان کے احساسات کے سمندر میں ایمان و عرفان ، ذوق و شوق، نغمات و الحان کے ساتھ ہی آلام و احزان کی موجیں اٹھنے اور لہریں بیدار ہونے لگیں اور اس پس منظر میں ان کی عظیم نظم "مسجد قرطبہ" تیار ہوئی جس کا اکثر حصہ قرطبہ میں لکھا گیا اور سر زمین اندلس ہی میں تمام ہوئی۔
اقبال نے اس میں فن و زندگی کے بہت سے نظریات و اقدار سے پردے ہٹائے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ یہ زوال پذیر دنیا فانی ہے اور اس کے ساتھ ہی قوموں کی عظیم یاد گار اور آثار اور انسانی عبقریت کے نقش و نگار اور اس کے شاہکار سب منزل فنا اور عالمِ بے نشانی و گمنامی کی طرف روان ہیں لیکن اس رسم عام سے وہ آثار اور تعمیرات مستثنیٰ ہوتی ہیں جنہیں کسی بندہ ہا خدا، عبدمخلص اور مرد مومن کا دستِ مسیحا اور پنجہ اعجاز نما چھو جاتا ہے، اور وہ اپنے ایمان و زندگی، اپنے مومنانہ جذبات اور
 

اشتیاق علی

لائبریرین
صفحہ نمبر 171
اپنی بقاء سے دوام کے اثر سے ان میں جان ڈالدیتا اور لافانی بنا دیتا ہے ، اپنے عشق و محبت کی قوت و تاثیر سے انہیں زندگی جاوداں عطا کرتا ہے۔
اقبال کی نگاہ میں محبت اصل حیات ہے جس پر موت حرام ہے ، زمانہ کا سیل رواں بہت تندر، دسبک خرام اور تیزگام ہے ، جس کے سامنے کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی ، لیکن عشق و محبت اس کے مقابلے پر آ کھڑے ہوتے ہیں ، اس لئے کہ وہ خود بھی سیلاب ہیں ، اور سیلاب ہی سیلاب کو تھام سکتا ہے ، محبت زمان و مکان کی قیود و رسوم سے بلند ہی نہیں ، بلکہ اس کے امکانات و مضمرات انسانی عقل سے بہت زیادہ ہیں اور اس میں ایسے آنات و ساعات اور زمان و اوقات ہیں ، جس کا کوئی نام و نشان بھی نہیں جانتا ، محبت کی تجلی ، آسمانی رسالتوں ، اخلاقی اور نبوی تصورات سب میں مشترک ہے۔
محبت ہی سے تصویر کائنات میں رنگ و نور اور مرقع عالم میں فرح و سرور کی نمود ہے ، محبت ہی وہ شراب طہور ہے ، جس سے سرشار ہو کر عارف سر مست اور عاشق نغمہ سرا ہواٹھتے ہیں ، محبت کبھی منبر و محراب کی نقیب ، کبھی حکیم نکتہ داں ، کبھی قائد جنگ و جہاد اور کبھی فاتح اقوام و امم بن کر سامنے آتی ہے ، محبت کے ہزاروں رنگ و آہنگ ہیں، محبت ازل کی مسافر ہے ، اس کا مذہب کوچ اور سفر اور سیر و سیاحت ہے ، اور وہ ہر منزل کو چھوڑ کر آگے بڑھ جاتی ہے ، محبت ہی زندگی کی بانسری ہے ، جس سے نغمہ و آہنگ نکل نکل کر عالم کو مسحور و مخمور کئے ہوئے ہیں ، محبت ہی سے دنیا میں

_____________________________
اقبال کا عشق مادہ سے بالکل الگ اور نفسانی شائبہ سے تماتر پاک اور ایمان و شوق اور صالح جذبات کا نام ہے۔
 

اشتیاق علی

لائبریرین
صفحہ نمبر 172
روشنی و گرمی ، حرکت و حرارت ، اور زندگی کی امنگ اور ترنگ ہے:۔
سلسلہ رو زوشب نقش گر حادثات
سلسلہ روز و شب اصل حیات و ممات
سلسلہ روز و شب تارحریر دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات
سلسلہ روز شب ساز ازل کی فغاں
جس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکنات
تجکو پرکھتا ہے یہ مجکو پرکھتا ہے یہ
سلسلہ روز و شب صیرفی کائنات !
تو ہوا گر کم عیار ، میں ہوں اگر کم عیار
موت ہے تیری جرات موت سے میری برات
تیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیا
ایک زمانے کی روجس میں نہ دن ہے نہ رات
آنی وفائی تمام معجزہ ہائے ہنر
کارجہاں بے ثبات کار جہاں بے ثبات!
اول و آخر فنا ، ظاہر و باطن فنا
نقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فنا!
ہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات و دوام
جسکو کیا ہو کسی مرد خدا نے تمام!
مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروع
عشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرام
تندو سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی رو
عشق خود اک سیل ہے ، سیل کو لیتا ہے تھام
عشق کی تقویم میں عصر سواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیں جنکا نہیں کوئی نام
عشق دم جبرئیل ، عشق دل مصطفے
عشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کلام
عشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناک
عشق ہے صہبا ئے خام ، عشق ہے کاس الکرام
عشق فقیہ حرم ، عشق امیر جنود
عشق ہے ابن السبیل اسکے ہزاروں مقام
عشق کی مضراب سے نغمہ تار حیات
عشق سے نور حیات ، عشق سے نار حیات!
اس طویل تمہید کے بعد اقبال مسجد قرطبہ کی طرف متوجہ ہو کر اس سے خطاب کرتے اور کہتے ہیں"اے مسجد عظیم! تو اپنے وجود میں اس پاک محبت ، اور ان شدید جذبات
 

اشتیاق علی

لائبریرین
صفحہ نمبر 173
اور شوق احساسات کی رہین منت ہے ، جو ابدی اور دائمی ہیں ، اس لئے تو بھی دوامی اور لا زوال ہے۔
جوفلسفہ خون جگر سے نہیں لکھا جاتا اور جس آرٹ اور فن میں فنکار کا خون دل شامل نہیں ہوتا اور جس شاہکار کے لئے ادیب و مصور کا موئے قلم روح کی روشنائی میں نہیں ڈوبا ہوتا وہ سطحی مصنوعی اور لفظ و صوت ، رنگ و روغن اور کنکر پتھر کا ایک خالی خولی ڈھانچہ ہوتا ہے ، جس میں نہ جان ہوتی ہے نہ زندگی کی تازگی و رعنائی ، فنی شاہکار گہری محبت ، جذبہ کی گرمی اور خلوص کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ، محبت ہی پتھر کے مجسمہ اور زندہ انسان میں فرق و امتیاز پیدا کرتی ہے ، اور محبت کا جب کوئی قطرہ حیات پتھر پر گر جاتا ہے تو وہ بھی دل کی طرح دھڑکنے اور زندگی کا ثبوت دینے لگتا ہے ، اور جب اس سے انسانی دل بھی خالی ہو تا ہے تو وہ دل دل نہیں پتھر کی سل سمجھا جاتا ہے ، اقبال اثنائے خطاب میں مومن کی عظمت اور اپنی شخصیت کے بارے میں تعارفی انداز میں گریز کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اے مسجد عظیم! ایمان اور ذوق و شوق کی یکسانی اور جذبات کی اطاعت ہم دونوں کا مسل ہے ، اور میرے تیرے درمیان ایک ربط نہاں موجود ہے ، انسان اپنی خلقت میں اگرچہ مشت خاک ہے ، لیکن اس کاد ل رشک عرش و افلاک ہے انسانی دل بھی اشراق نوری اور لذت حضوری سے سرشار رہتا ہے ، ملائکہ دائمی سجدے کے لئے یقینا مشہور ہیں ، لیکن انسانی سجدے کی لذت و حرارت ان کے نصیب میں کہاں؟
اقبال اپنی برہمئیت اور ہندستانیت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کا فرہندی کا یہ ذوق و شوق اور اس کی قلب ماہیت دیکھ کر گہوارہ کفر میں نشوونما
 

اشتیاق علی

لائبریرین
صفحہ نمبر 174
پاکر بھی لب پہ صلاۃ و درود ، اور دل میں تحیہ و سلام کی صدائیں گونج رہی ہیں اور میں عالم مسافرت میں تجھ جیسے غریب الوطن سے مل کر سراپا شوق بن گیا ہوں تیری فطرت اور میری طبیعت میں پوری ایک رنگی اور ہم آہنگی موجود ہے:۔
اے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجود
عشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت وبود
رنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صورت
معجزہ فن کی ہے ، خون جگر سے نمود
قطرہ خون جگر سل کو بناتا ہے دل!
خون جگر سے صدا سوز و سرورہبر ود!
تیری فضا دل میں فورز ، میری نو اسینہ سوز
تجھے دلوں کا حضور مجھے دلوں کی کشود
عرش معلی سے کم سینہ آدم نہیں ،
گرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبود!
پیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیا
اس کو میسر نہیں سوز و گداز سجود !
کافر ہندی ہوں میں دیکھ میرا ذوق و شوق
دل میں صلاۃ و درود ، لب پہ صلوۃ و درود
شوق مری لے میں ہے ، شوق مری نے میں ہے
نغمہ اللہ ہو میری رگ و پے میں ہے!
اس معجزہ فن کو دیکھ کر انہیں وہ مرد مومن و کامل ، اور مثالی انسان (Ideal Man)یاد آ جاتا ہے، جسے اسلام پیدا کرتا ہے ، اور جو اس کے معاشرہ کا ایک فرد ہوتا ہے ، ساتھ ہی وہ عظیم امت ان کے متخیلہ میں ابھرتی ہے ، جس سے ان جیسی مسجدوں کی رونق ہے ،
اقبال کی نظر میں یہ دقیع درفیع مسجد اپنی مجموعی تصویر و تاثیر میں مومن کی تعبیر اور اس کے معنوں کی مادی تفسیر ہے ، جلال و جمال ، پختگی اور مضبوطی ، وسعت و رفعت اور اپنی دلآویزی و رعنائی میں مسلمان کی ہو بہو شبیہ (True Copy) مسجد کے بلند و بالا ستونوں کی ہئیت سے انہیں صحرائے عرب کا وہ نخلستان یاد آتے ہیں، جو اپنی کثرت و رفعت میں اس کی مثال ہیں ، وہ اس کی جالیوں اور جھروکوں میں ایک
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top