نقش و نگار "Tattoos"

طالوت

محفلین
gang_tattoos.jpg


lion-portrait-tattoo-color-m.jpg


mp_main_wide_TattooConvention.jpg
 

arifkarim

معطل
ماشاءاللہ آپ اس میں کافی انٹرسٹڈ لگتے ہیں۔ کیا آپنے اس قسم کی کوئی تصویر نقش کروائی ہے؟
 

طالوت

محفلین
میرا پسندیدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کچھ زیادہ ہے ذرا مختصر ہونا چاہیے ۔۔
choptat.gif

کندھے کے سامنے والے حصے پر جہاں بازو جا کر جڑتے ہیں ، چھوٹا سا عقاب یا چیتے کے چہرے کا نقش مجھے پسند ہے۔۔ مگر ایسی کوئی تصویر مل نہیں رہی ۔۔
وسلام
 

طالوت

محفلین
جی ضرور لگتے ہوں گے ، مگر مجھے نہیں لگتے اگر مختصر سے اور صرف "بلیک اینڈ وائٹ" ہوں ۔۔
میں سنجیدگی اچھے کاریگر کی تلاش میں ہوں ۔۔
وسلام
 

ف۔قدوسی

محفلین
زیادہ تر مردوں کو اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر میں لڑکی ہوں مجھے نہیں پسند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر ان میں کچھ اچھے ہیں۔۔۔۔
 
السلام علیکم
ذرا اس کا بھی مطالعہ فرمائیں:
سوال: كيا اسلام ميں جلد گودنا حرام ہے ؟ كيا اسلام ميں جلد گودنا حرام ہے، اور كونسى شكل اور نقش گودنا حرام ہے ؟ مجھے علم ہے كہ جسم كو جان بوجھ كر اذيت دينا اسلام ميں حرام ہے، ليكن اگر گودنے سے اذيت نہ ہوتى ہو كيا پھر بھى حرام ہو گا ؟

جواب : الحمد للہ:

الوشم: يعنى گدوانا يہ ہے كہ: جلد ميں سوئى وغيرہ كے ساتھ سوراخ كر كے سرمہ بھرا جائے، اور يہ حرام ہے، چاہے كسى بھى شكل ميں ہو، اور چاہے اذيت و تكليف كا سبب ہو يا اذيت كا باعث نہ بنے؛ كيونكہ يہ اللہ كى پيدا كردہ صورت ميں تبديلى ہے، اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جلد گودنے والى، اور جلد كو گدوانے والى پر لعنت كى ہے.
چنانچہ امام بخارى اور مسلم رحمہما اللہ نے عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے كہ:

" خوبصورتى كے ليے گودنے اور گدوانے، اور ابرو كے بال اكھيڑنے اور دانتوں كو رگڑنے اللہ كى پيدا كردہ صورت كو تبديل كرنے واليوں پر اللہ تعالى كى لعنت ہے "
صحيح بخارى اللباس ( 5587 ) صحيح مسلم اللباس حديث نمبر ( 5538 ).
قرطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
احاديث شاہد ہيں كہ ان سب امور كے مرتكب پر لعنت كى گئى ہے، اور يہ كبيرہ گناہ ميں شامل ہوتے ہيں، اور جس معنى كى بنا پر اس سے منع كيا گيا ہے، اس ميں اختلاف پايا جاتا ہے، ايك قول يہ ہے كہ: يہ باب التدليس ميں سے ہے، اور ايك قول يہ ہے كہ: يہ اللہ تعالى كى پيدا كردہ صورت ميں تبديلى كے باب ميں سے ہے، جيسا كہ عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ كا قول ہے، اور صحيح بھى يہى ہے.
اور يہ پہلا معنى اپنے ضمن ميں ليے ہوئے ہے، پھر يہ بھى كہا گيا ہے كہ: اس سے منع كيا گيا ہے، جو باقى رہے، كيونكہ يہ اللہ تعالى كى پيدا كردہ صورت ميں تغير ہے، ليكن اگر وہ باقى نہ رہے، مثلا سرمہ اور عورتوں كا سرمہ لگا كر زينت اختيار كرنا، علماء كرام نے اس كى اجازت دى ہے.
ديكھيں: تفسير القرطبى ( 5 / 393 ).
اس ليے اگر تو سوال ميں بيان كردہ كا مقصد جسم پر ہميشہ باقى رہنے والا نہيں، تو يہ وشم اور گودنا نہيں، اور نہ ہى اس ميں اللہ كى پيدا كرنا صورت ميں تبديلى ہے.
واللہ اعلم .
 

ف۔قدوسی

محفلین
السلام علیکم
ذرا اس کا بھی مطالعہ فرمائیں:
سوال: كيا اسلام ميں جلد گودنا حرام ہے ؟ كيا اسلام ميں جلد گودنا حرام ہے، اور كونسى شكل اور نقش گودنا حرام ہے ؟ مجھے علم ہے كہ جسم كو جان بوجھ كر اذيت دينا اسلام ميں حرام ہے، ليكن اگر گودنے سے اذيت نہ ہوتى ہو كيا پھر بھى حرام ہو گا ؟

جواب : الحمد للہ:

الوشم: يعنى گدوانا يہ ہے كہ: جلد ميں سوئى وغيرہ كے ساتھ سوراخ كر كے سرمہ بھرا جائے، اور يہ حرام ہے، چاہے كسى بھى شكل ميں ہو، اور چاہے اذيت و تكليف كا سبب ہو يا اذيت كا باعث نہ بنے؛ كيونكہ يہ اللہ كى پيدا كردہ صورت ميں تبديلى ہے، اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جلد گودنے والى، اور جلد كو گدوانے والى پر لعنت كى ہے.
چنانچہ امام بخارى اور مسلم رحمہما اللہ نے عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے كہ:

" خوبصورتى كے ليے گودنے اور گدوانے، اور ابرو كے بال اكھيڑنے اور دانتوں كو رگڑنے اللہ كى پيدا كردہ صورت كو تبديل كرنے واليوں پر اللہ تعالى كى لعنت ہے "
صحيح بخارى اللباس ( 5587 ) صحيح مسلم اللباس حديث نمبر ( 5538 ).
قرطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
احاديث شاہد ہيں كہ ان سب امور كے مرتكب پر لعنت كى گئى ہے، اور يہ كبيرہ گناہ ميں شامل ہوتے ہيں، اور جس معنى كى بنا پر اس سے منع كيا گيا ہے، اس ميں اختلاف پايا جاتا ہے، ايك قول يہ ہے كہ: يہ باب التدليس ميں سے ہے، اور ايك قول يہ ہے كہ: يہ اللہ تعالى كى پيدا كردہ صورت ميں تبديلى كے باب ميں سے ہے، جيسا كہ عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ كا قول ہے، اور صحيح بھى يہى ہے.
اور يہ پہلا معنى اپنے ضمن ميں ليے ہوئے ہے، پھر يہ بھى كہا گيا ہے كہ: اس سے منع كيا گيا ہے، جو باقى رہے، كيونكہ يہ اللہ تعالى كى پيدا كردہ صورت ميں تغير ہے، ليكن اگر وہ باقى نہ رہے، مثلا سرمہ اور عورتوں كا سرمہ لگا كر زينت اختيار كرنا، علماء كرام نے اس كى اجازت دى ہے.
ديكھيں: تفسير القرطبى ( 5 / 393 ).
اس ليے اگر تو سوال ميں بيان كردہ كا مقصد جسم پر ہميشہ باقى رہنے والا نہيں، تو يہ وشم اور گودنا نہيں، اور نہ ہى اس ميں اللہ كى پيدا كرنا صورت ميں تبديلى ہے.
واللہ اعلم .
بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں نے بھی یہ پڑھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

زیک

مسافر
سائنس اور ٹیٹو کے شوقین لوگوں کے سائنس سے متعلقہ ٹیٹوز کی تصاویر کارل زمر اکٹھی کرتا ہے۔ چند تصاویر یہاں پوسٹ کر رہا ہوں۔

thumbs_binary-tattoo-web.jpg


resistor.jpg


thumbs_limulus-web.jpg


thumbs_bugs-etc.jpg


thumbs_homonoculus.jpg
 

طالوت

محفلین
احاديث شاہد ہيں كہ ان سب امور كے مرتكب پر لعنت كى گئى ہے، اور يہ كبيرہ گناہ ميں شامل ہوتے ہيں، اور جس معنى كى بنا پر اس سے منع كيا گيا ہے، اس ميں اختلاف پايا جاتا ہے، ايك قول يہ ہے كہ: يہ باب التدليس ميں سے ہے، اور ايك قول يہ ہے كہ: يہ اللہ تعالى كى پيدا كردہ صورت ميں تبديلى كے باب ميں سے ہے، جيسا كہ عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ كا قول ہے، اور صحيح بھى يہى ہے..
وسلام -- اختلاف دور ہو جائے تو میں اس پر غور کرنے کے لیے تیار ہوں ۔۔
یہ تو بہت بڑا گناہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:eek: چھپڑ دا گواہ ڈڈو
بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں نے بھی یہ پڑھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:idontknow:
طالوت صاحب کو اب"مسلمانوں" نے گھیر لیا ہے۔ بچ کر کہاں جائیں گے؟!:)
لیجیے ایک ہی جملے میں علاج تجویز ہو گیا۔۔
وسلام
 
Top