نقد و نظر

سید عاطف علی

لائبریرین
یہاں صاحب شعر کی مراد تو غالباً بلندی اور بلندی سے گرنے کے مضمون کی تھی ۔جو ایک انتہائی عمومی اور معنوی وسعت والا مفہوم ہے۔خواہ فضائی بلندی ہو یا مرتبے کی۔
غالباً رضا بھائی کا اشارہ لفظی رعایت کی طرف تھاالبتہ نقصان اورگرنا میں کوئی خاص امتیاز نہیں ایک دوسرے کو محیط ہی ہیں ۔رفتار بھی اسی بلندی کا معنوی پہلو ہو سکتا ہے سو اس سے بھی وہی لطف پیدا ہوتا ۔تاہم شعر میں ایک ہی جہت کا مضمون ہوتا ہے ۔(جو ہےبھی) ۔شاہ جی آپ شاعری میں بھی فزکس لے آئے۔ ویسے قوانین کہیں کے بھی ہوں اکثر منطبق ہو ہی جاتے ہیں۔
اور جہاں تک میری رائے ہے تو پہلا مصرع اور جاندار ہو کر شعر کو کچھ اور بلند کر سکتا ہے کیوں کہ اس میں انداز ذرا سپاٹ سا ہے۔اسے کوئی زاویہ دے کر مضمون سے قدرے زیادہ موافق کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ بحر بھی کافی کھلی کھلی سی ہے۔تاہم یہ میراا خیال ہے محض۔
 

نایاب

لائبریرین
استاد محترم آسی بھائی کی یہ غزل بھی بلاشبہ اچھی ہے مگر کہیں کہیں قاری کو چونکانے کی بجائے الجھا رہی ہے ۔۔۔
جہاں جہاں الجھا میرا خیال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بنا کسی خوف اظہار کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔
بالیقین " علم " کا سفر " جہل " کو زادراہ بناتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
آنا تو انہیں تھا، پہ نہیں آئے تو کیا ہے
اشکوں نے بھگوئے بھی ہیں کچھ سائے تو کیا ہے
کس پہ آنا تھا ۔ ؟ جس پہ نہ آنے پر الجھن ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اشک دامن بھگوتے ہیں ۔ دامن پہ کس کا سایہ ہے ۔ اپنا یا اسکا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
ان سے بھی محبت کا تو انکار نہ ہو گا
اک بات اگر لب پہ نہیں لائے تو کیا ہے
جب سب پہ یہ یقین ہے کہ کوئی بھی محبت کا انکار نہیں کرے گا ۔ تو پھر اظہار سے دامن بچانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
 
یہ دلچسپ اور عمدہ سلسلہ شروع کرنے کے لئے جناب ایوب ناطق صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں ....
زیر بحث غزل ایک بزرگ استاد کی قلمی کاوش هے جس پر مجھ جیسا کم علم طفل _فن شاعری کچھ کہنے سے قاصر هے ....بس آپ صاحبان علم و بصیرت کے تبصروں سے فیض یاب ہو رہا ہوں یہی کافی هے..
 
یہ دلچسپ اور عمدہ سلسلہ شروع کرنے کے لئے جناب ایوب ناطق صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں ....
زیر بحث غزل ایک بزرگ استاد کی قلمی کاوش هے جس پر مجھ جیسا کم علم طفل _فن شاعری کچھ کہنے سے قاصر هے ....بس آپ صاحبان علم و بصیرت کے تبصروں سے فیض یاب ہو رہا ہوں یہی کافی هے..
سلام ہے اس عاجزی کو :)
آپ ہم سے بہتر سخن شناس ہی نہیں پاس ادب میں بھی ہم سے آگے ہیں
ہم تو دریدہ دہن ہیں شعر کو سمجھے بغیر انٹ شنٹ تبصرے کئے جاتے ہیں رئیس امروہی کے بقول
"آج جب میں نئے نئے تنقیدی زاویوں اور نہ جانے کس کس نقطہ نظر سے شعر و ادب پر بہت سے عالم و فاضل نقادوں کے مضامین پڑھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ کس دنیا کی باتیں کرتے ہیں! شعر بھی کوئ سمجھنے، سمجھانے کی چیز ہے؟ وہ تو سمجھی سمجھائ حقیقت کی حیثیت سے نازل ہوا کرتا ہے"
 

نایاب

لائبریرین
محترم جناب ایوب ناطق صاحب نے یہ سلسلہ علم کو عام کرنے کی نیت و خواہش سے شروع کیا ہے ۔ اگر ہم ایسے طفل مکتب اپنے بے تکے سوالات سامنے نہ لائیں گے ۔ تو اساتذہ کیا سمجھا پائیں گے ہمیں ۔۔۔۔؟
جب تک ہم انٹ شنٹ بے تکے سوال نہ اٹھائیں گے ۔اساتذہ سے کیسے فیض پائیں گے ۔۔۔۔؟ سوال چاہے کتنا ہی بے تکا ہو ۔ اعتراض کیسا ہی انٹ شنٹ کیوں نہ ۔ نیت ہی مراد تک پہنچاتی ہے ۔ اساتذہ کے سامنے خاموش بیٹھنا مناسب نہیں علم کے پیاسوں کے لیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
 
محترم جناب ایوب ناطق صاحب نے یہ سلسلہ علم کو عام کرنے کی نیت و خواہش سے شروع کیا ہے ۔ اگر ہم ایسے طفل مکتب اپنے بے تکے سوالات سامنے نہ لائیں گے ۔ تو اساتذہ کیا سمجھا پائیں گے ہمیں ۔۔۔۔؟
جب تک ہم انٹ شنٹ بے تکے سوال نہ اٹھائیں گے ۔اساتذہ سے کیسے فیض پائیں گے ۔۔۔۔؟ سوال چاہے کتنا ہی بے تکا ہو ۔ اعتراض کیسا ہی انٹ شنٹ کیوں نہ ۔ نیت ہی مراد تک پہنچاتی ہے ۔ اساتذہ کے سامنے خاموش بیٹھنا مناسب نہیں علم کے پیاسوں کے لیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
بالکل بھائی جی مجھے آپ سے کُلی اتفاق ہے :)
 

ایوب ناطق

محفلین
کیا قیامت ہے کہ اب اہلِ محلہ تابش
مجھ سے واقف نہیں لیکن مرا گھر جانتے ہیں
بدحواسی ہے نفسانفسی کا عالم ۔۔ نہ کسی کو کسی کی خبر ہے نہ غرض'
سلجھی سلجھی گلیوں میں
الجھے ہوئے پرانے لوگ
اور اس بے یقینی کے ماحول میں دل زدہ ( کسی حد تک مایوس) شاعر کسی چراغ کی جانب پیٹھ کیے یا کسی اداس شام کو کسی شجر کے سایے تلے' کچی مٹی پر بیٹھے' ایک نفسیاتی الجھن میں مبتلا ہے۔۔۔ انگور کٹھے ہیں۔۔۔ صرف ایک بچگانہ سی بات نہیں بلکہ انسان کی مایوسیوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کیفیات اور الجھنوں کے خلاف جنگ کا ایک لا شعوری حربہ ہے-- کوئی نہیں آیا -- احساسِ محرومی ' اور دفاع -- اگر وہ آ بھی جاتا تو کیا ہوتا۔۔۔ اس ردعمل کی کیفیت یا سوچ کو
Defence mechanisms کہتے ہیں۔۔- لیکن بات یہاں مکمل نہیں ہوتی' یہ دفاعی نظام ایک حد پار کر کے خود ایک مسئلے کی شکل اختیار کوتا ہے۔۔ مایوسیاں پر غالب آ جاتی ہے' اور آنسو تمھے نہیں تمھتے' کچی مٹی گیلی ہونے لگتی ہے اور سایے کی نمود مٹی ہی سے تو ہے-- احساس جاگتا ہے ' حواس بھال ہوتے ہیں اور شاعر اس کیفیت کی اہمیت سے بھی انکار کر دیتا ہے۔
جنگ جاری ہے
لاجواب مطلع ہے' حاصلِ غزل' خود کلامی اور رائیگانی کی اس کیفیت کی نظیر-- جب مجید امجد پکار اٹھے تھے
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
قافیے کے حوالے سے بعد میں گفتگو ہو گی

 

ایوب ناطق

محفلین
نایاب صاحب ۔۔۔ کہی آپ بھی ایک نقطہ کو مس نہیں کر رہے۔۔ آپ کے لکھے مطلع میں 'یہ' بجائے 'پہ' کے درج نظر آیا' دیکھ لیجیے ایک نقطہ نے مضمون کو کہاں پہنچا دیا ۔۔
 

نایاب

لائبریرین
نایاب صاحب ۔۔۔ کہی آپ بھی ایک نقطہ کو مس نہیں کر رہے۔۔ آپ کے لکھے مطلع میں 'یہ' بجائے 'پہ' کے درج نظر آیا' دیکھ لیجیے ایک نقطہ نے مضمون کو کہاں پہنچا دیا ۔۔
بہت شکریہ بہت دعائیں محترم بھائی
آپ کے نکتے نے گویا اک جہان معنی واہ کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی درج ذیل مصرع میں " پہ " سے مراد " پر " ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

آنا تو انہیں تھا، پہ نہیں آئے تو کیا ہے
چونکہ "پہ " الجھا رہا تھا اس لیئے اس جملے میں ٹائپو ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔ پے کی بجائے پہ ہی لکھا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب سب پہ یہ یقین ہے کہ کوئی بھی محبت کا انکار نہیں کرے گا ۔ تو پھر اظہار سے دامن بچانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
 
ایوب ناطق صاحب!
لگتا ہے ناقدین نے یا تو دل چسپی ہی نہیں لی یا پھر اس غزل کی چھٹی کرا دی۔
بنی بنائی ریٹنگز کو کلک کرنا تو یہاں مقصود تھا ہی نہیں، یہاں تو گفتگو مقصود تھی؛ ہجے بدل گئے یعنی " مفقود " ہو گئی۔
 

ایوب ناطق

محفلین
استادِ محترم ۔۔۔
محفلین کی آزمائش کا مجھے احساس ہے' خود میں نے ایک کاغذ پر غزل لکھی ہوئی ہے' اپنے الفاظ سو بار دھو کر لکھنے پڑھ رہے ہیں' اتنی قد آور شخصیت کی غزل پر بات کرنا آسان ہرگز نہیں' میرے خیال میں محفلین اور مجھے تھوڑا سا وقت ملنا چائیے ۔۔۔ دوستوں سے بھی گزارش ہے کہ ریٹنگ لگانے کے ساتھ ساتھ کھل کر فن پارے پر بات کرے ۔۔ محترم آسی صاحب نے غزل اسی لئے یہاں پیش کی ہے کہ اس پر کھل کر بات ہو۔
 
میں خاموشی سے بغور مراسلات کا مطالعہ کر رہا ہوں کہ کوئی کھل کر کچھ کہے
برادرم نایاب کی تحریک پر کچھ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں دیکھنا ہے کہ اس سے کہاں تک اتفاق کیا جاتا ہے

آنا تو انہیں تھا، پہ نہیں آئے تو کیا ہے
اشکوں نے بھگوئے بھی ہیں کچھ سائے تو کیا ہے
اس شعر میں خاص بات محسوسات کی ہے جیسے کسی کے آنے کا یقین نہ ہو مگر پھر بھی اپنے آپ کو فریب دیتے ہوئے ہتھیلی پر اشکوں کے دیپ جلا کر انتظار کی اذیت سے گزر رہا ہو اور جب آخری امید بھی ٹوٹ جائے تو اشکوں کے دھندلکے میں سراب کی صورت کچھ سایوں کے علاوہ کچھ نظر نہ آئے اس شعر کو وہ ہی محسوس کر سکتا ہے جوحقیقت میں اس منزل سے گزر چکا ہو
اب احباب اس پر کچھ رائے دیں تو کچھ اور کہوں :)
 

ایوب ناطق

محفلین
خوبصورت منظر کشی کی ہے شعر کے ماحول کی ۔۔ لیکن ان کیفیات کے ساتھ ردیف کی معنوی وضاحت ضروری ہو جاتی ہے خاص کر دوسرے مصرع میں--- جناب سید شہزاد ناصر صاحب
 
خوبصورت منظر کشی کی ہے شعر کے ماحول کی ۔۔ لیکن ان کیفیات کے ساتھ ردیف کی معنوی وضاحت ضروری ہو جاتی ہے خاص کر دوسرے مصرع میں--- جناب سید شہزاد ناصر صاحب
عروض قافیہ اور ردیف کے بارے میں مجھے کچھ علم نہیں :)
 

صائمہ شاہ

محفلین
ایوب ناطق صاحب!
لگتا ہے ناقدین نے یا تو دل چسپی ہی نہیں لی یا پھر اس غزل کی چھٹی کرا دی۔
بنی بنائی ریٹنگز کو کلک کرنا تو یہاں مقصود تھا ہی نہیں، یہاں تو گفتگو مقصود تھی؛ ہجے بدل گئے یعنی " مفقود " ہو گئی۔
چھوٹا منہ بڑی بات اس دھاگے کا آغاز آپ کی غزل سے ہوا اس پر ہم جیسے کم علم کیا کہہ پائیں گے
گو کہ میں عروض کے بارے میں کچھ نہیں جانتی سوائے اس کہ کے بہت مشکل ہیں پھر بھی جانتی ہوں کہ آپ کی غزل میں کوئی تکنیکی خامی نہیں ہو سکتی
اشکوں کا سائے نہ بھگونے کا خیال اچھا لگا

اور اسی مصرعے پر مجھے اپنا ایک شعر یاد آگیا
ایک بارش کا جیسے سایہ تھا
کوئی گیلا نہیں ہوا مجھ میں
 

ایوب ناطق

محفلین
اور جب آخری امید بھی ٹوٹ جائے تو اشکوں کے دھندلکے میں سراب کی صورت کچھ سایوں کے علاوہ کچھ نظر نہ آئے
دریف 'تو کیا ہے' آخری امید کو ٹوٹنے نہیں دے رہی' شاعر نا`امیدی سے امید کی روشنی نہ سہی لیکن What could be the worst ۔۔ سے دلاسے کی فضا بنا رہے ہیں۔
 
دریف 'تو کیا ہے' آخری امید کو ٹوٹنے نہیں دے رہی' شاعر نا`امیدی سے امید کی روشنی نہ سہی لیکن What could be the worst ۔۔ سے دلاسے کی فضا بنا رہے ہیں۔
گویا عدم کے الفاظ میں
کیوں نہ اک جھوٹی تسلّی پہ قناعت کر لیں
لوگ کہتے ہیں عدم ،خواب حسیں ہوتے ہیں
:)
 
Top