فرقان احمد

محفلین
راحیل فاروق پیارے بھائی! مجھے پہلے ہی 'شبہ' تھا کہ آپ کسی 'اوپرے' نظریے پر کام میں مصروف ہیں۔ بہرصورت، آپ نے اپنی باتیں کھول کر بیان کی ہیں اور ایسے پیرائے میں کی ہیں کہ دل پر اثر کر گئیں۔ تاہم اس حوالے سے جلد ہی اپنی گزارشات پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ ہمیں تو یہ فخر ہے کہ آپ ایسے اصحاب کے ساتھ مکالمے کا شرف حاصل ہے۔ لیجیے صاحب، فی الوقت رسید حاضر ہے۔
 

محمدظہیر

محفلین
بہت خوب جناب. آپ نے کچھ اس طرح لکھا ہے کہ پڑھتے ہوئے جی رکنے کو نہیں چاہا. مجھ جیسوں کے لیے ادب میں دلچسپی لینے اور سوچنے پر آمادہ کرنے والی تحریر ہے.
 
تعجب خیز اور خوش گوار ردِعمل۔ شکریہ، فاتح بھائی!

چھوٹا غالبؔ بہت اچھے انسان ہیں۔ ان سے کچھ ایسا اختلاف نہیں ہمیں۔ بس وہ غالبؔ کی پرستش میں حد سے گزر جانے کے قائل ہیں جبکہ ہم جیسے آزادوں سے تو خدا کی پرستش بھی کماحقہ نہیں ہوتی!

بے شک!




میرا خیال ہے مجھے کھل کر بات کر لینی چاہیے۔ ورنہ ابہام رہے گا۔
یہ خیال کہ ادب کی معنویت زمان و مکان سے آزاد نہیں، میرے ہاں ایک حادثے کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا جو رفتہ رفتہ مشاہدات و مطالعات کی روشنی میں ترقی پاتا گیا۔ ہوا کچھ یوں کہ دو تین سال ادھر ایک صاحب سے آشنائی ہوئی۔ موصوف بلا کے ذہین، پڑھے لکھے اور لائق شخص تھے۔ وہ ہندوپاک کے چوٹی کے علمائے دین کے شاگرد رہے تھے اور عربی اور فارسی پر غیرمعمولی دستگاہ کے حامل تھے۔ کسی ذہنی و قلبی انقلاب کے نتیجے میں دہریے ہو گئے اور غالباً تاحال سنبھل نہیں پائے۔
صاحبِ مذکور نے ایک دن مجھ سے کہا کہ تم لوگ قرآن کی فصاحت و بلاغت کو معجزہ خیال کرتے ہو۔ قرآن بھی کہتا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت لکھ لاؤ۔ لو، میں سورت لکھ لایا ہوں۔ نظرِ انصاف سے اس کا جائزہ لو اور بتاؤ کہ قرآن بہتر ہے یا میرا کلام؟
پھر وہ تادیر قرآن اور اپنے کلام کا موازنہ و محاکمہ کرتے رہے، اپنی سورت کے محاسن اور قرآن کے معائب گنوایا کیے اور میں چپکا بیٹھا سنا کیا۔
جب خاموش ہوئے تو میں نے کہا کہ بھائی، کچھ عقل کو ہاتھ مارو۔ کچھ ہوش کے ناخن لو۔تم تمام عمر زبان و ادب کے طالبِ علم رہے۔ تمھیں یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ ادب کے موازنے کے پیمانے کیا ہوتے ہیں؟ قرآن جس زمانے میں نازل ہوا وہ ادبیاتِ عرب کا زریں ترین دور تھا۔ ابوجہل جیسے لوگ گھوڑے کو کعبے کے گرد دوڑاتے ہوئے عکاظ کے ادبا کے شہپاروں پر فقط ایک نظر ڈال کر فیصلہ کر دیتے تھے کہ امسال کون فاتح رہا۔ اسی ابوجہل جیسے لوگ گو قرآن کے پیغام کے منکر تھے مگر زبان کے چٹخارے کے لیے اسے چھپ چھپ کر سننے پر مجبور ہو گئے اور یہاں تک عاجز آئے کہ ہمارے نبیﷺ کو جادوگر پکارنے لگے۔ گویا زبان کے ساحروں نے ایک امی کو ساحر قرار دے دیا۔ ایک ایسے شخص کو معجز بیان کہنے کے سوا ان کے پاس چارہ نہ رہا جو بعض روایات کے مطابق اشعار کو صحیح وزن میں پڑھنے پر قادر نہ تھا۔
ہر قوم کا ایک فن ایسا ہوتا ہے جو اسے دیگر اقوامِ عالم سے ممتاز کرتا ہے۔ عربوں کا طرۂِ امتیاز ان کے زبان و ادب تھے۔ پھر اس زبان و ادب کے اکابر زیادہ تر وہ بلغا تھے جو ظہورِ اسلام کے وقت موجود تھے۔ گویا اسلام نے عربوں کو انھی کے فن میں اس کے عروج کے زمانے میں عاجز کیا۔ اب اگر تم کوئی سورت لکھ لائے ہو تو یاد رکھو کہ نہ لسانِ عرب اب ویسی خالص اور فصیح رہی ہے اور نہ وہ اس کے وہ مقتدر بلغا رہ گئے ہیں جو تمھارے کلام کا موازنہ ازروئے انصاف قرآن سے کر سکیں۔ کیا میرے لیے یہ کافی نہیں کہ جب یہ دونوں عوامل موجود تھے تو قرآن ان پر غالب آ گیا تھا؟
تم کیسی بات کر رہے ہو؟ میں عربی کا عالم نہیں۔ معاصر علمائے عرب کو ابوالحکم معروف بہ ابوجہل کی ہمسری کا دعوی نہیں۔ موجودہ عربی عالمگیریت اور تہذیبی نفوذ کے عوامل کے باعث عربِ عاربہ کی زبان کی گرد کو بھی نہیں پا سکتی۔ اور تم آج چلے ہو قرآن کا مقابلہ کرنے؟ باز آ جاؤ۔ اگر بالفرضِ محال تم نے واقعی بہتر کلام کہا بھی ہے تو پھر بھی قرآن معجزہ ہی رہے گا کیونکہ اس نے اپنی فتح ان لوگوں سے منوائی جو خود فاتحِ بلاغت تھے اور ایسے وقت میں منوائی جب اس فن کا طوطی بولتا تھا اور تمھارا کلام جنگل میں ناچنے والے مور سے زیادہ قدر نہ پائے گا کہ تم نے اپنے زمانے اور حالات کے اقتضا کے بالکل خلاف کام کیا۔
---
اسی خیال سے بعد میں میں نے ادبیات کے مطالعے میں عموماً کام لینا شروع کیا۔ مجھے امید ہے اس نظریے کے نشیب و فراز اور مضمرات اب آپ لوگوں پر پوری طرح کھل گئے ہوں گے۔ :):)
ہم آپکی ہر ہر بات سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔۔۔اللہ آپ کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا کرے آمین
 
بہت شکریہ۔ خدا جانے کیسے آپ کے مراسلے کا جواب لکھنے سے چوک گیا۔ آپ سے معافی اور اللہ سے مغفرت کا طالب ہوں!
:):)
اللہ شفا عطا فرمائے۔ صحت روزوں کی وجہ سے خراب ہے یا افطاریوں کی وجہ سے؟
آمین۔ شکریہ
شاید دونوں ہی وجہ سے نہیں۔
موسمی الرجی اور گرمی نے مل کر کچھ کیا ہے، لیکن اب کافی بہتر ہوں
یہ تحریر اسی وقت شائع کر دی جاتی اگر کچھ رکاوٹیں پیدا نہ ہو جاتیں۔ لیکن ایک طرح سے اچھا ہو گیا کہ میری توجہ بٹ گئی اور جذبات کچھ سرد پڑ گئے۔ دوبارہ لکھنے بیٹھا تو شعلوں کی جگہ چنگاریوں نے لے لی تھی۔ :LOL::LOL:
:laughing::laughing::laughing:
 

عبد الرحمن

لائبریرین
راحیل بھائی آپ کی ادب کو نصاب بنانے والی بات نے بہت متاثر کیا۔ چند رٹے رٹائے الفاظ ہیں جنہیں قلم کی نوک سے کاغذ کے سینے پر گھسیٹ گھسیٹ کر مقدمے لکھے جارہے ہیں، تبصرے کیے جارہے ہیں اور بے چارے ادب کے مبتدی اور حقیقی متلاشی انہی کی بنیاد پر زیر نظر کتاب کو "ماسٹر پیس" کا لقب دے دیتے ہیں۔

مشرقی ادب خصوصا اردو ادب کے رو بہ زوال ہونے کی ایک وجہ جو مجھے سمجھ آتی ہے وہ یہ بھی ہے کہ جدید ادب کی ترویج کے لیے ہم ٹیکنالوجی کے میدان میں شرم ناک حد تک پیچھے رہ گئے ہیں۔

نیٹ کا ایک سرسری سا چکر لگالیجے۔ مغربی زبان و ادب کی نشر و اشاعت کے ڈھیروں ادارے آپ کو مفت میں خدمات فراہم کرتے بھی نظر آئیں گے اور معاوضہ کی صورت میں بھی۔ اس کے برعکس ہمارا جو حال ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ نتیجتا ہم ذہنی طور پر اس قدر مفلوج ہوگئے ہیں کہ اپنی زبان میں لکھی گئی چیز میں اپنی زبان نظر ہی نہیں آتی۔

میں دیگر زبانوں کے استعمال کا تو مخالف نہیں۔ مگر ہر چیز اپنے مقام پر ہی جچتی ہے۔

میں یہ بات بڑی شد و مد سے کہتا ہوں کہ جہاں ہر گوشہء زندگی میں ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے، وہاں اردو ادب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بھی دستیاب تمام جدید وسائل کو بروئے کار لانا ازحد ضروری ہے۔

پھر یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ایک طرف تو ہم اردو ادب کو آج کے معاشرے اور آج کی قدروں کے تناظر میں دیکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں لیکن دوسری طرف ادب کے نئے شہسواروں کو ان کی تخلیقات پر اس قدر گرادیتے ہیں کہ وہ دوبارہ کمر کسنے کا حوصلہ ہی نہیں پاتے۔

ان بے پرکی باتوں کو ہرگز ہرگز قابل توجہ نہ سمجھا جائے۔ یہ ایک ایسے شخص کی گفتگو ہے جو خود کو ناخواندہ لوگوں سے بھی نچلے درجہ شمار میں کرتا ہے۔ مجھے نہیں پتہ یہ باتیں آپ کی اس خوب صورت اور چشم کشا تحریر سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔ مگر مجھے یہ سب کہنے کے لیے اس سے بہتر پلیٹ فارم میسر نہیں آیا۔
 

جاسمن

مدیر
بہت اعلیٰ تحریر
ایک منفرد اور مختلف سوچ کا حامل مضمون
تم اُس سے ہٹ کے چلتے ہو جو رستہ عام ہو جائے
میں ادب کی طالبِ علم نہیں ہوں۔ تھوڑا سا پڑھا ہے۔ مجھے آپ کے تقریباََ سب ہی خیالات سے اتفاق ہے۔

پھر کہوں گی کہ غضب کا مضمون ہے۔میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اپنے محسوسات بیان کر سکوں۔۔(سچ سارے الفاظ بچوں کو پڑھاتے ،سمجھاتے،صبح اُٹھاتے،رات سُلاتے،کھانا کھلاتے،نمازیں پڑھاتے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔خرچ ہو جاتے ہیں اور سوچا تھا کہ یہ تحریر اس قابل ہے کہ خوب فرصت سے تبصرہ لکھوں
گی۔۔۔بہت سے فقرے،خیالات بھی ذہن میں تھےلیکن۔۔۔ہک ہا!)
 
Top