نظر لکھنوی نعت: محبت سے سرشار ہو کر لکھی ہے ٭ نظرؔ لکھنوی

محبت سے سرشار ہو کر لکھی ہے
بصد شوق سنیے کہ نعتِ نبیؐ ہے

توجہ خصوصی جو اللہ کی ہے
دیارِ نبیؐ میں عجب دلکشی ہے

ضیا گستری ہی ضیا گستری ہے
وہ منظر ہے ہر سو کہ بس دیدنی ہے

وہ ماحولِ روضہ میں خوشبو بسی ہے
کوئی جیسے جنّت کی کھڑکی کھلی ہے

یہ اعزاز و اکرامِ خاکِ مدینہ
جبینِ فلک تک بھی دیکھیں جھکی ہے

کشاں لے چلا سب کو شوقِ زیارت
ہر اک سمت سے ایک دنیا چلی ہے

قدم اُٹھ رہے ہیں ادھر والہانہ
تمنّائے خوابیدہ سب جاگ اٹھی ہے

تصور میں آیا جو گنبد کا نقشہ
فسردہ دلوں پر بہار آ گئی ہے

کلامِ خدا آخری جس پہ اترا
وہی تو رسولِ خدا آخری ہے

ہوا دینِ قیم کا اتمام جس پر
وہ اُمّی لقب ہی ہمارا نبی ہے

حضوری میں اس کی جواں مرد کیسے
ابوبکرؓ و فاروقؓ و عثماںؓ علیؓ ہے

فرشتے کمر بستہ خدمت میں اس کی
وہ ہے کجکلاہی وہ شانِ شہی ہے

وہ فخرِ نبوّت وہ شانِ رسالت
صفِ انبیا و رُسل مقتدی ہے

خدا کا درود و سلامِ محبت
اترتا ہے جس پر ہمارا نبیؐ ہے

نقوشِ قدم کا جو پیرو ہو اس کے
وہی پارسا ہے وہی متّقی ہے

غمِ دل سے مجبور ہوں لب کشا ہوں
بہ حالِ زبوں آپؐ کا امّتی ہے

بھٹکتا ہے صحرائے دنیا میں تنہا
بہر سمت رہزن ہیں فتنہ گری ہے

نگاہوں سے اوجھل حقیقت کی راہیں
بہر گام لغزش وہ تیرہ شبی ہے

بجھا سا ہے ہر دم چراغِ تمنّا
نہ کوئی خوشی ہے نہ دل بستگی ہے

دلوں میں محبت ہے اب کالعدم سی
ہر اک کو ہر اک سے دل آزردگی ہے

پسِ پشت ہے مقصدِ آفرینش
کہ بیگانۂ فرض و امر و نہی ہے

جنابِ خدا میں ہماری سفارش
شہا کیجیے گا کہ موقع ابھی ہے

اسے بھی خدا بار یابِ حرم کر
نظرؔ کی دلی آرزو اب یہی ہے

٭٭٭
محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
 
Top