نظر لکھنوی نعت: تضمین: صلی اللہ و علیہ و سلم

دادا مرحوم کی نعتیہ تضمین بر نعت: صلی اللہ و علیہ و سلم

زخمی دل کا پنبۂ مرہم نامِ پاکِ سرورِ عالمؐ
از اعجازِ نامِ مبارک سلسلۂ غم درہم برہم
ذاتِ محمدؐ ذاتِ مکرم اسمِ محمدؐ اسمِ اعظم

صلی اللہ علیہ و سلم صلی اللہ علیہ و سلم

رہبر ہے وہ کل عالم کا منصب اس کا ختمِ نبوت
راہنمائے جادہ و منزل اس کا قرآں اس کی سنت
دین و شریعت دونوں کامل اونچا سب سے اس کا پرچم

صلی اللہ و علیہ و سلم صلی اللہ علیہ و سلم

سبحان اللہ عینِ قرآں سب اس کے اخلاقِ حمیدہ
سب بتلانا نا ممکن ہے پہلو ہیں یہ چیدہ چیدہ
رحم سراپا لہجہ شیریں وعدے پکے باتیں محکم

صلی اللہ و علیہ و سلم صلی اللہ علیہ و سلم

کسریٰ، دارا یا ہو قیصر رعب ہے اس کا سب پہ طاری
فوج نہ لشکر پھر بھی تنہا مدِّ مقابل پر ہے بھاری
سامنے اس کے سر افگندہ اپنے اپنے وقت کے ضیغم

صلی اللہ علیہ و سلم صلی اللہ و علیہ و سلم

فکر میں امت کے مستغرق جاگ رہے ہیں سونا کیسا
اول شب میں لیٹے ہوں گے سوئے ہوں گے جیسا تیسا
وقتِ تہجد صرفِ عبادت لب پہ دعائیں آنکھیں پُر نم

صلی اللہ علیہ و سلم صلی اللہ علیہ و سلم

برپا ہو گاجس دن محشر سارے لرزاں ترساں ہوں گے
دھیان کسی کا کس کو ہو گا ہوش سبھی کے پرّاں ہوں گے
بہرِ شفاعت اٹھیں گے بس رحمتِ عالم سب کے ہمدم

صلی اللہ و علیہ و سلم صلی اللہ علیہ و سلم

زندہ ہیں تو آئےگا پھر حج کا مہینہ ان شاء اللہ
اے دلِ پُر غم جائیں گے ہم شہرِ مدینہ ان شاء اللہ
پیش، نظرؔ جب روضہ ہو گا خوب پڑھیں گے دل سے یہ ہم

صلی اللہ علیہ و سلم صلی اللہ علیہ و سلم


محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
 
Top