نعت برائے اصلاح

کاشف اختر

لائبریرین
پہلے نرالی شان کہا تھا

ہے نرالی شان ان کی عظمت کردار کی ۔

شاید یہ چل سکے ؟

فراز عرش ۔
والے شعر میں تو صرف یہ کہنا ہے کہ آپ کی عرش تک رسائی ہے ۔ اس کیلئے کوئی مناسب تجویز ؟؟
میں نے بہت کوشش کی پر اس مضمون کو ادا کرنے سے قاصر ہی رہا ۔ لیکن اب بھی کوشش جاری ہے ۔


دوسرا مصرع ،دوسرے شعر کا تھا ۔ اس لئے مناسبت نہیں ۔
اب ایک بار پھر سے سنوارنے کے بعد مکمل حاضر کرنے کی کوشش کروں گا ۔ ان شاء اللہ ۔
 

کاشف اختر

لائبریرین
السلام علیکم! نعتیہ اشعار قدرے ترمیم کے بعد دوبارہ حاضر ہیں ! اس بات کے مکمل اعتراف کے ساتھ کہ اس سے قبل جو کچھ اساتذہ کی شان میں گستاخی ہوئی ہے وہ میری جہالت و نادانی کا نتیجہ ہے .... اس لئے مجھے نادان سمجھ کر اس بارے معذور سمجھا جائے...... کاش میں نے پہلے مطالعہ کیا ہوتا تو مجھے معلوم ہوتا کہ تشبیہ کے لئے مشبہ و مشبہ بہ کے درمیان قوی علاقات ضروری ہوتے ہیں .....رعایات کا موزوں و مناسب ہونا بھی ضروری ہوتا ہے . بہر حال ! چوں کہ محفل پر سیکھنے سکھانے کا ایک قیمتی سلسلہ جاری ہے اس لئے مجھے اپنی غلطیوں کے اعتراف سے کوئی مانع نھیں ہے !

ع

یہ غلطیاں ہی سنبھلنا تجھے سکھادیں گی

حد امکاں سے پرے تعریف ہے سرکار کی
پھر بھلا کیا ہوسکے مدحت شہ ابرار کی
عرش پر بہر لقاء رب نے بلایا ہو جنہیں
ان کے رتبے تک پہونچ کیا ہوسکے افکار کی
سب فرشتے، عرش وکرسی لوح تک تھے منتظر
دل میں تھی پیغمبروں کے، آزرو دیدار کی
سارے عالم کی چمک ہے، ان کے رخ سے مستعار
ماہ و اختر اک تجلی ہے انہیں انوار کی
ان کی زلف عنبریں تفسیر ہے ' واللیل' کی
ہے قسم کھائی خدا نے تاب ِ زلف ِ یار کی
جس نے دیکھا آپ کو وہ آپ ہی کا ہوگیا
خوبیاں ایسی تھیں ان میں سیرت و کردار کی
ہو مجھے کاشف میسر ان کے در پر حاضری
آرزو اک مختصر سی ہے دل بیمار کی​

 

ابن رضا

لائبریرین
ماشاءاللہ بہت خوب. کچھ گزارشات ذیل میں رقم کر رہا ہوں

حد امکاں سے پرے تعریف ہےسرکار کی
پھر بھلا کیا ہوسکے مدحت شہ ابرار کی
ہو نہیں سکتی بیاں .............

عرش پر بہر لقاء رب نے بلایا ہوجنہیں
ان کے رتبے تک پہونچ کیا ہوسکے افکار کی
لقا تو دیدار کو کہتے ہیں بہرِ لقا چیست؟
پہونچ کو فعول باندھا جاسکتا ہے جبکہ یہاں فعولن غلط ہے.

سب فرشتے، عرش وکرسی لوح تک تھے منتظر
دل میں تھی پیغمبروں کے، آزرودیدار کی
کس کے دیدار کی؟ ؟یہاں ابلاغ نہیں ہو پایا مزید واضح کریں

سارے عالم کی چمک ہے، ان کے رخسے مستعار
ماہ و اختر اک تجلی ہے انہیں انوار کی
ماہ و اختر ہیں تجلی آپ کے انوار کی
لیکن یہاں آپ اور ان کے ضمائر کا مسئلہ ہے


ان کی زلف عنبریں تفسیر ہے ' واللیل' کی
ہے قسم کھائی خدا نے تاب ِ زلف ِ یار کی
دوسرا مصرع شروع میں رواں نہیں

جس نے دیکھا آپ کو وہ آپ ہی کا ہوگیا
خوبیاں ایسی تھیں ان میں سیرت و کردار کی
پہلے میں آپ اور دوسرے میں ان؟؟؟

ہو مجھے کاشف میسر ان کے در پر حاضری
آرزو اک مختصر سی ہے دل بیمار کی
در کی حاضری
آرزو ہے مختصر سی یہ.......
 

کاشف اختر

لائبریرین
لقا تو دیدار کو کہتے ہیں بہرِ لقا چیست؟
پہونچ کو فعول باندھا جاسکتا ہے جبکہ یہاں فعولن غلط ہے.


توجہ اور مفید مشوروں کے لئے بے حد شکریہ !

سر ! دو باتیں سمجھ نہ پایا اس لئے دریافت کررہا ہوں! اول یہ کہ لقا کے معنی ملاقات کے ہیں غالبا ! دوسرے ' پہونچ ' کے فعول یا فعولن باندھنے کا مطلب جبکہ یہاں وزن فاعلاتن فاعلاتن کا ہے

ان کے رتبے + فاعلاتن ...... تک پہونچ کیا + فاعلاتن ؟؟؟
 

کاشف اختر

لائبریرین
تو پھر پہونچ کی بجائے پہنچ لکھیے؛
فا: تک
علا: پہچ
تن: کا

اچھا تو آپ یہ کہنا چاہ رہے تھے ! سر میں کوتاہ فہم ہونے کی وجہ سے سمجھ نہ پایا تھا !

دوسری بات لقا کے اصل معنی ملاقات کے ہیں ! البتہ گوگل پر موجود ڈکشنری میں یہی معنی سب سے آخر مین لکھے ہیں ....... ہاں دیدار وغیرہ اس کے لازمی معنی ہیں چنانچہ اکثر جگہوں پر عربی مین لقاء کے معنی ملاقات کے ہی ہوتے ہین دیدار کے معنی درست نھیں ہوتے جیسے عربی کا شعر ہے

لقاء الناس لایفید شیئا
سوی الھذیان من قیل و قال
فأقلل من لقاءالناس إلا
لأخذالعلم أو إصلاح حال

اور ' بہر ' مکمل ایک لفظ ہے غالباﹰ ........دو لفظوں یعنی بہ اور ہر سے مرکب نھیں ہے......ویسے ڈکشنری مین تو نھیں مل رہا ہے ! لیکن واسطے کے معنی میں مستعمل ہے جیسے



یادِ مژگاں بہ نشتر زارِ صحرائے خیال
چاہیے بہرِ تپش یک دست صد پہلو مجھے

اے عندلیب یک کفِ خس بہرِ آشیاں
طوفانِ آمد آمدِ فصلِ بہار ہے

سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّری
تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
غالب

یہ دعا کی تھی تجھے کن نے کہ بہر قتل میرؔ
محضر خونیں پہ تیرے اک گواہی بھی نہ ہو

لطف کے حرف و سخن پہلے جو تھے بہر فریب
مدتیں جاتی ہیں ان باتوں کا اب مذکور کیا

بہر پرستش پیش صنم ہاتھوں سے قسیس رہباں کے
رشتہ سبحہ تڑاؤں گا زنار گلے سے بندھاؤں گا

اس کی گلی میں صبح دلوں کا شکار تھا
نکلا ہزار ناز سے بہر شکار دل

میر






 

الف عین

لائبریرین
اب ابن رضا کے مشوروں پر بھی رائے دینی پڑے گی۔
شعر 1۔ مدحت کی جاتی ہے، بیان نہیں ہوتی۔ شعر درست تھا
2۔ بہرِ لقا بھی درست ہے۔ پہونچ پہنچ کی ہی پرانی کتابت ہے جو اب بھی اکثر استعمال کی جاتی ہے
3، ابہام ضرور ہے لیکن سمجھ میں آ جاتا ے کہ نعت ہے تو کس کا انتظار ہو گا!
4۔ یہ در اصل ’انہی‘ ہے۔ ان ہی، ضمیر ان سے متعلق نہیں۔
5۔ عدم روانی کی بات درست ہے، لیکن پہلے توقسم کا تلفظ ہی غلط بندھا تھا!
6۔حضور ص کے لئے ان کے غیاب میں بھی احتراماً آپ بولا جاتا ہے۔ اس لئے یہاں تخاطب نہیں ہے۔ بلکہ یوں بھی آپ ص سے مخاطب کرنے کا جواز نہیں۔
7۔ درست ہے اصلاح، مصرع رواں ہو گیا ہے
 

کاشف اختر

لائبریرین
۔حضور ص کے لئے ان کے غیاب میں بھی احتراماً آپ بولا جاتا ہے۔ اس لئے یہاں تخاطب نہیں ہے۔ بلکہ یوں بھی آپ ص سے مخاطب کرنے کا جواز نہیں۔
7۔ درست ہے اصلاح، مصرع رواں ہو گیا

انتشار ضمیر اگر حقیقی ہو تو مضر ہے .....یعنی ایک ہی مصداق کے لئے دو الگ ضمیروں کا استعمال اس طور پر کرنا کہ دونوں لفطا و معنی ًً جدا ہوں ، جبکہ یہاں " آپ " اور " ان " لفظا تو جدا ہیں لیکن نعت میں " آپ " برائے تخاطب نھیں ! برائے غیاب ہی ہے ..... لہذا " آپ " بھی " ان " کی طرح آپ ﷺ کے لئے صیغۂ غائب ہے ....... پس انتشار ِِ ضمیر حقیقی نھیں ! محض لفظی ہے
 

کاشف اختر

لائبریرین
4۔ یہ در اصل ’انہی‘ ہے۔ ان ہی، ضمیر ان سے متعلق نہیں۔


انھیں " غنہ کے ساتھ لکھنا میری غلطی ہے ...... یہاں موقع ' انہی ' کا ہے، جس پر محترم سر یعقوب آسی صاحب نے متنبہ فرمایا تھا ........ لیکن پھر دوبارہ دوران ٹائپ اس کا خیال نہ رہا !
 
Top