نظم ۔۔۔۔۔ اب فرض تو پورا کر لیا ہے

نور وجدان

لائبریرین
اب فرض تو پورا کر لیا ہے
اللہ کو راضی کر لیا ہے
اب کون نماز کیا پڑھے گا
اب کون مجھے کرے تو سجدہ
اب فرض تو پورا کر لیا ہے
اللہ کو راضی کر لیا ہے
کچھ ایسے راضی کر لیا ہے
اللہ کا فرق بھی مٹا کر
بندہ ہی بنا خدا یہاں پہ
مندر ہی بنایا تو نے دل کو
ہاں دل کو صنم خنہ بنا کر
بندے کو سجدہ تو ہی کرتا
تو اب کہ نمازیں اس کی پڑتا
تو اس کے لئے ہی زار روتا


اے رب میں کیا کروں بھی توبہ
مسجود مرا ہوا ہے بندہ
مانگوں بھی تجھی سے تیرا بندہ
ہو میرا جو وضو اسی پہ
ہاں بستے بہت خدا تو دل میں
ان سے تو پیار فرض کیا ہے
جلوہ ترا ان میں ہے نمایاں
ان کو تو راضی کر لیا ہے
اب تجھ کو بھی راضی کر لیا ہے
اب فرض تو پورا کر لیا ہے



اب فرض تو پورا کر لیا ہے
ان کو تو راضی کر لیا ہے
اب مجھ کو بھی راضی کر لیا ہے
اب عشق ادھر سے اٹھا بھی ہے
مانا ہے مجھے تو نے کیا اک
معراج کو عشق جانا ہے کیا
برءت میں توبہ کرلی ہے کیا
اب کیا کوئ نماز پڑتا
اب فرض تو پورا ہو گیا ہے
اب مجھ کو بھی راضی کرلیا ہے
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
یعنی شاعری سیکھنے کا پکا ارادہ کرلیا ہے۔
طوفاں کر رہا ہے میرے عزم کا طواف
دنیا سمجھ رہی ہے کشتی بھنور میں ہے

یا

آسانیوں سے نہ پوچھ منزل کا راستہ
اپنی راہ کے سفر میں پتھر تلاش کر
ذرے سے کائنات کی تفسیر پوچھ لے
قطرے کے وسعتوں میں سمندر تلاش کر
یا
عزئم جن کے اونچے اونچا بخت ہوتا ہے
زمانے میں انہی کا امتحان سخت ہوتا ہے
 

نور وجدان

لائبریرین
طوفاں کر رہا ہے میرے عزم کا طواف
ذرے سے کائنات کی تفسیر پوچھ لے

صرف یہ دو مصرعے مکمل طور پر درست لکھے ہیں۔ :)
جنابا۔۔ یہ اشعار نقل کر دا ہیں ۔۔ اور کسی رسالے سے لئے ہیں شاید آپ ان کو تلاش بھی کر لیں اگر آن نیٹ ہوئے تو۔۔ آپ کا پیغام بہت ہی مفید تر ہے ۔۔ مگر میں اسکو آگے پہچانے سے قاصر ہوں ۔۔ کیونکہ ماخذ رسالہ ۔۔ ورنہ آپ کی اصلاح مفیدُ سے مفید تر ہو جاتی ۔۔ ڈھیر ساری معذرت :):):)
 
Top